| عنوان: | فرقہ نیچریہ |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نیچری مذہب: آغاز و انجام
سر سید احمد خان (۱۸۱۷ء-۱۸۹۸ء) بانی مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ) نے ایک جدید مذہب کی بنیاد ڈالی جو نیچری مذہب کے نام سے مشہور ہے۔ وہ اسلامی عقائد کا تقابل سائنسی تحقیقات سے کرتا۔ اسلام کا جو عقیدہ سائنس کے خلاف ہوتا، اس عقیدہ کو تاویل کا نشانہ بنا کر اسے سائنس کے مطابق کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس نظریہ کا صریح مطلب یہی ہوا کہ سائنس پر ایمان لایا جائے اور عقائدِ اسلامیہ کو توڑ مروڑ کر سائنسی تحقیقات کے مطابق کر لیا جائے، حالاں کہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں، کیوں کہ سائنس کی بنیاد انسانی تجربات پر ہے اور انسانی تجربات ترقی پذیر اور تغیر پذیر ہوتے ہیں، نیز ہر ایک انسان کا تجربہ یکساں نہیں ہوتا ہے، جب کہ اسلامی عقائد کی بنیاد فرامینِ الٰہیہ و ارشاداتِ نبویہ ہیں۔
کلامِ الٰہی میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا ہے اور حدیثِ نبوی بھی وحیِ غیر متلو ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے:
لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ
ترجمہ: اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ (کنزالایمان، سورہ یونس: ۶۴)
حضورِ اقدس خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں قرآنِ مقدس کا ارشاد ہے:
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى
ترجمہ: اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے۔ وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے۔ (کنزالایمان، سورہ نجم: ۳-۴)
حضورِ اقدس حبیبِ کبریا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قولِ مبارک وحیِ الٰہی ہے، اسی لیے احادیثِ نبویہ کو وحیِ غیر متلو کہا جاتا ہے۔ احادیثِ نبویہ قرآنِ مقدس کی تفسیر ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے قرآنِ عظیم کی تفسیر حضور اقدس نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی گئی۔
اسلام اور سائنس
اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت قدس سرہ العزیز علومِ شرعیہ میں مہارتِ تامہ کے ساتھ علومِ عقلیہ میں بھی درجۂ اجتہاد پر فائز تھے، لیکن وہ سر سید احمد خان علی گڑھی کی طرح علومِ عقلیہ سے مرعوب نہ ہوئے انہوں نے ایک سائنسی سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا:
”سائنس یوں مسلمان نہ ہوگی کہ اسلامی مسائل کو تاویلات دور از کار کر کے سائنس کے مطابق کر دیا جائے۔ یوں تو معاذ اللہ اسلام نے سائنس قبول کی، نہ کہ سائنس نے اسلام۔ وہ مسلمان ہوگی تو یوں کہ جتنے اسلامی مسائل سے اسے خلاف ہے، سب میں اسلامی مسئلہ روشن کیا جائے۔ دلائلِ سائنس کو مردود و پامال کر دیا جائے۔ جا بجا سائنس ہی کے اقوال سے اسلامی مسئلہ کا اثبات ہو۔ سائنس کا ابطال و اسکات ہو۔“ (نزولِ آیاتِ فرقان بسکونِ زمین و آسمان، فتاویٰ رضویہ، جلد دوازدہم، ص ۲۸۸، رضا اکیڈمی ممبئی)
سر سید احمد خان سال ۱۲۸۳ھ مطابق ۱۸۶۶ء میں انگلینڈ گیا۔ انگریزوں کی تہذیب و تمدن، طرزِ زندگی و ثقافت اور عادات و اطوار کو دیکھا، پرکھا۔ ۱۲۸۷ھ مطابق ۱۸۷۰ء میں انڈیا واپس آیا اور ایک نیا مذہب ایجاد کیا۔ اس مذہب کو وہ ٹھیٹھ اسلام کہتا تھا۔ اس جدید مذہب کی شہرت ”نیچری مذہب“ سے ہوئی۔ عہدِ حاضر میں شاید ہی کوئی نیچری مذہب پر ہو۔
نیچری مذہب کے عقائدِ باطلہ
سر سید کا دستِ راست اور اس کا سوانح نگار مشہور شاعر الطاف حسین حالی پانی پتی (۱۸۳۷ء۔۱۹۱۴ء) ہے۔ اس نے حیاتِ جاوید حصہ دوم (ص ۲۵۶-۲۶۳) میں سر سید کے عقائد کا تذکرہ کیا ہے۔ ان میں سے چند عقائد درج ذیل ہیں، تاکہ نیچری مذہب کی حقیقت واضح ہو جائے:
- اجماع حجتِ شرعی نہیں ہے۔
- قیاسِ ائمہ حجتِ شرعی نہیں ہے۔
- تقلیدِ ائمہ واجب نہیں ہے۔
- شیطان یا ابلیس کا نام جو قرآن میں آیا ہے، اس سے کوئی ہستی مراد نہیں، بلکہ انسان کے نفسِ امارہ یا قوتِ بہیمیہ کا نام ابلیس ہے۔
- نصاریٰ نے جن چڑیوں کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا ہو، مسلمانوں کو ان کا کھانا حلال ہے۔
- معراج خواہ مکہ معظمہ سے مسجدِ اقصیٰ تک ہو، یا مسجدِ اقصیٰ سے آسمانوں تک، بہر حال بیداری میں نہیں، بلکہ خواب میں ہوئی ہے اور یوں ہی شقِ صدر بھی خواب ہی میں ہوا ہے۔
- فرشتوں کا کوئی الگ وجود نہیں ہے، بلکہ برق کی قوتِ جذب و رفع، پہاڑوں کی صلابت، پانی کا سیلان، درختوں کا نمو وغیرہ جیسی قوتوں کا نام فرشتہ ہے۔
- حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام، فرشتے اور ابلیس کا جو قصہ قرآنِ مجید میں بیان ہوا تو ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا، بلکہ یہ ایک مثال ہے جس کے پیرائے میں انسان کی فطرت، جذبات اور اس کی قوتِ بہیمیہ بیان کی گئی ہے۔
- قرآنِ مجید میں حضور اقدس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معجزہ کے صادر ہونے کا ذکر نہیں ہے۔
- مرنے کے بعد اٹھنا، حساب و کتاب، میزان، پل صراط، جنت و دوزخ وغیرہ وغیرہ سب مجاز پر محمول ہیں، نہ کہ حقیقت پر۔
- اللہ تعالیٰ کا دیدار دنیا یا آخرت میں، نہ ان ظاہری آنکھوں سے ممکن، نہ دل کی آنکھوں سے۔
- قرآنِ مجید میں جو جنگِ بدر و حنین کے بیان میں فرشتوں کی مدد کا ذکر کیا گیا، اس سے ان لڑائیوں میں فرشتوں کا آنا ثابت نہیں ہوتا۔ (نیچری فرشتوں کا وجود نہیں مانتا ہے)
- چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا جو قرآن میں بیان ہوئی ہے، لازمی نہیں ہے۔
ماخوذ از: حیاتِ جاوید: حصہ دوم: ص ۲۵۶-۲۶۳ / سوانحِ اعلیٰ حضرت: ص ۵۳ / عہدِ حاضر کے بد مذہب فرقے، ص ۳۷ تا ۳۹
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَآلِهِ الْعَظِيمِ
