| عنوان: | نعت کا تنقیدی و تخلیقی ڈسکورس |
|---|---|
| تحریر: | مولانا ثاقب قمری مصباحی |
| پیش کش: | مسکان فاطمہ قادریہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
نعت کا تنقیدی و تخلیقی ڈسکورس
لغوی اعتبار سے مدح نبوی میں کہا یا لکھا جانے والا ہر لفظ نعت ہے، خواہ اس کا تعلق نظم کی کسی صنف سخن سے ہو یا نثر کی کسی ہیئت سے۔ لیکن شعری اصطلاح میں نعت وہ صنف سخن ہے، جس میں سرکار علیہ السلام کے محاسن و مناقب، شمائل و فضائل اور تعریف و توصیف پر مشتمل اشعار کہے گئے ہوں۔
تنقید عربی زبان میں باب تفعیل کا مصدر ہے، جس کا معنی ہے کھرے کھوٹے کی پہچان کرنا، یعنی کسی شے کے محاسن و معائب کو ایک دوسرے کے لیے ممیز کر دینا۔
ادبی اصطلاح میں کسی فن پارے کے حسن و قبح پر گفتگو کرنا نقد کہلاتا ہے اور گفتگو کرنے والے کو ناقد، نقاد یا تنقید نگار کہتے ہیں۔ تنقید کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: تنقید برائے تعمیر و توقیر، اور تنقید برائے تضحیک و تحقیر۔
پہلی صورت میں نقاد کی انتقادی کارروائی میں جذبہ اخلاص کی کارفرمائی ہوتی ہے اور وہ ایک باغبان کی طرح تخلیقی چمن کے غیر ضروری برگ و بار کو تراش خراش کر اس کی تزئین و آرائش کا کام کرتا ہے۔ نیز صدق و اخلاص، سنجیدگی و شائستگی، جذبہ ہمدردی اور خوش اسلوبی کے ساتھ وہ فن پارے کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے اور اس کے جمالیاتی کینوس کو مقناطیسی رنگ سے ملمع کرتا ہے، تاکہ شعری البم میں کوئی بوسیدہ اور فرسودہ نقش باقی نہ رہنے پائے۔ اور یہ تمام امور وہ “تنقید برائے تعمیر” کے جذبۂ صالح کے تحت سر انجام دے رہا ہوتا ہے۔
دوسری صورت میں نقاد معاصرانہ چشمک یا ذاتی بغض و عناد کے تحت تخریبی تنقید لکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے اخلاق سوز احوال و کوائف کو کسی بھی طور پر مستحسن نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیوں کہ اس سے نہ صرف تنقید کا مقصد اصلی فوت ہو جائے گا، بلکہ اس سے ادب کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
عصر حاضر میں جہاں دیگر ادبی اصناف سخن پر تنقیدی مباحث معرض وجود میں آ رہے ہیں، وہیں نعتیہ ڈسکورس کو بھی فنی، عروضی، لسانی اور ادبی کسوٹی پر پرکھے جانے کی شعوری کوشش ہو رہی ہے، جو نہ صرف خوش آئند ہے، بلکہ عمود نعت کی پائداری کا منظم اور مستحکم حوالہ ہے۔ ہر چند کہ تنقید نعت کی اصطلاح بہت قدیم نہیں، لیکن اس کی معنویت و افادیت کچھ اس طور پر بھی اہم ہے کہ اس سے بنام عقیدت گندم نما جو فروشوں کی بروقت شناخت ہو سکے گی اور دودھ کی آڑ میں پانی کی تجارت کرنے والوں کو حتی المقدور متنبہ کیا جا سکے گا۔ عمومی تناظر میں بات کی جائے تو لسان و ادب سے لے کر حیات و ممات تک کے تمام تر شعبوں میں کسی نہ کسی طور پر نقد و جرح کی روایت قائم ہے، جب کہ ان میں بہت ساری صورتیں خالص دنیاوی اور عمومی نوعیت کی ہوتی ہیں، جن میں شرعی امور کی پاسداری لازم و ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ اس کے برخلاف نعتیہ شعر کا ایک ایک آہنگ شرعیات و شعریات کا متقاضی اور تقدیسیت و تطہیریت کا طالب ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ہم اس کی لفظیات و اسلوبیات اور محاسن و معائب پر گفتگو کرنے سے کتراتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم نعتیہ شعر کہتے ہوئے ایک ایک لفظ کے صوری اور معنوی زاویوں کو خوب اچھی طرح پرکھ لیں، لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا؛ کیوں کہ لوگوں پر شہرت و ناموری کا ایسا بھوت سوار ہے کہ علم و ادب سے کورے لوگ دنیائے شاعری میں راتوں رات پاپولر ہونے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ظاہری بات ہے کہ اس کے لیے کوئی جادو کی چھڑی تو ہے نہیں کہ ادھر چمکائی اور اُدھر اشعار کے الہام شروع ہو گئے۔ اس کے لیے مشق و مزاولت، مطالعہ و مشاہدہ، علم و ادب اور سب سے بڑھ کر وفور عشق کا سرمایہ درکار ہے، جس کے بغیر تخلیق نعت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
میری نظر میں تنقید نعت کو شجر ممنوعہ سمجھے جانے کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں: اول تو یہ کہ تنقید کی صحیح معرفت نہ ہونے کے باعث اسے طنز یا اس جیسے دوسرے الفاظ کا مترادف سمجھا جائے، جس میں مثبت معنی کی بہ نسبت منفی معنی غالب ہو۔ دوم یہ کہ عقیدت کے نام پر تخلیق کا ایک ایسا غیر مستحکم ڈھانچہ تیار کیا جائے، جو انتقادی کارروائی کا متحمل نہ ہو۔
اول الذکر صورت انسان کی نادانستگی پر دال ہے، جبکہ مؤخر الذکر صورت میں انسان اپنی تخلیق کے عیوب و نقائص کے محاسبے سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتا ہے، جو نہ صرف مذموم عمل ہے، بلکہ تخلیقی ارتقا کے حوالے سے انسداد راہ کا بھی باعث ہے۔
نعتیہ تنقید صرف یہ نہیں کہ وزن کی پیمائش کر لی جائے یا ردیف و قوافی کا نبھاؤ دیکھ لیا جائے، بلکہ اس کے لیے متن، عروض، آہنگ، صحت لفظ، مصوتے، مضمون، معانی، اسلوب، جذب و کیف، عشق نبوی اور علوم شریعت و معرفت جیسی کئی اور اہم چیزیں ہیں، جو تجزیاتی اسباب و عوامل ہونے کے باعث تنقیحی گفتگو کا تقاضا کرتی ہیں۔ لہٰذا نقد و نظر کے ان تمام بیانیوں پر قدرت کے بغیر نہ تو تنقید، تنقید ہو سکتی ہے، اور نہ ہی نعت فہمی کا کوئی اعلیٰ منصب حاصل ہو سکتا ہے۔
تخلیق نعت کے حوالے سے اردو زبان کا یہ سرمایہ اعزاز و افتخار ہے کہ آج بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ نعتیں اس زبان میں کہی جا رہی ہیں، لیکن نعتیہ مضامین و موضوعات کے ان گنت پہلو اب بھی ایسے ہیں، جن پر ہنوز کوئی سنجیدہ گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ نعت میں تمدیحی عنصر کی اہمیت کا انکار نہیں، لیکن حالات حاضرہ کے جبری تقاضے ہم سے کچھ اور کہتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمدیحی اظہارئیے کو جمال محمدی کے ساتھ ساتھ شمائل نبوی، اسوہ حسنہ، سیر و تواریخ اور قرآن و احادیث کے ضروری احکامات سے مربوط کریں، کیوں کہ اس کے بغیر نعت گوئی کی ماہیت و معنویت کا صحیح ادراک و ابلاغ ممکن نہیں۔ موجودہ اردو نعت گوئی کو ہم دو خانوں میں بانٹ سکتے ہیں: (۱) عقیدت محض (۲) عقیدت و ادب۔
ملک کے دینی اجلاس میں پڑھے جانے والے بیشتر کلام کو پہلی صورت کی مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، جن میں سنجیدگی، شائستگی، فکری بالیدگی، حسن تفکر، رنگ تغزل، فصاحت و بلاغت اور معیاری لفظیات و اسلوبیات کا افسوس ناک حد تک فقدان رہتا ہے۔ وہ عقیدت کے نام پر محض قافیہ پیمائی کر رہے ہوتے ہیں، جس میں نہ تو ادبی چاشنی ہوتی ہے اور نہ ہی فنی لذت کا دور دور تک نام و نشان ہوتا ہے۔ ایسے لوگ نعت گوئی یا نعت خوانی کی آڑ میں لوگوں کے جذبات کو مشتعل کر کے یا تو داد و تحسین لوٹنا چاہتے ہیں یا مال و متاع کے خواہاں ہوتے ہیں۔ نعت گوئی کے نام پر تک بندیوں کے فروغ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمیں کسی ایسی فکری و فنی کسوٹی کا صحیح علم نہیں، جس کے تناظر میں نعوت نبوی کا معیار متعین کیا جا سکے۔ یا علم ہے بھی تو ہم اس پر سنجیدگی سے غور و خوض کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ وقتی طور پر اگر عروضی و لسانی پیچ و خم سے آگے کی بات کی جائے تو بعض اوقات پروگرامی گویوں کے شعر، شرعی حدود کو بھی پامال کر جاتے ہیں لیکن مجال ہے کہ اسٹیج پر (الا ماشاء اللہ) کوئی اس کی سرزنش کر دے۔
دوسری صورت میں عقیدت کے ساتھ ساتھ ادبی لوازمات اور اس کے تقاضوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ یعنی شعر میں پروئے جانے والے ہر ہر لفظ کی مختلف زاویوں سے جانچ ہوتی ہے کہ کہیں اس میں کوئی ایسا پہلو تو نہیں جو از روئے شریعت و شعریت قابل گرفت ہو۔ ظاہری بات ہے کہ اس صورت حال میں انتہائی جگر کاوی و ذہن سوزی کی ضرورت ہوتی ہے اور لفظوں کی بندش سے لے کر استعارات و کنایات اور تلمیحات و تشبیہات تک، نیز فصاحت و بلاغت کے التزام سے لے کر صنائع و بدائع کے اہتمام تک ہر ایک چیز میں فنی چابک دستی اور ادبی ہنر کاری کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اور یہ کوئی آسان کام نہیں۔ لہٰذا اس نوعیت کی نعت گوئی کے لیے وفور شوق اور متاع عشق کے ساتھ ساتھ انسان کے لیے کثیر المطالعہ اور وسیع المشاہدہ ہونا ضروری ہے۔ صرف ردیف سمجھ لینے یا قافیہ نبھا لینے سے شاعری اور بالخصوص نعت گوئی کا حق ادا نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے مسلسل مشق و ریاضت، جہد و لگن، محنت و مشقت اور سعی پیہم دکھانی پڑتی ہے، تب کہیں جا کر نعت گوئی کا کوئی اعلیٰ منصب حاصل ہوتا ہے۔
میرے کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نعت گوئی میں لسانی پرکاری اور ادبی جمالیات ہی سب کچھ ہے، لیکن جب ہم صنف نعت کو دیگر اصناف سخن کے شانہ بہ شانہ رکھنے کی بات کرتے ہیں تو ضمناً ان تمام چیزوں کا تذکرہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ محاسن شعری، معنوی تہ داری، لفظی فصاحت، فکری ترفع، اور تقدیسی بنت کاری کے بغیر ایسی شاعری منصہ شہود پر نہیں آسکتی، جس پر ادبی و فنی لحاظ سے بڑی شاعری کا اطلاق ہو سکے۔ تنقیدی لائحہ عمل کی تشکیل کے بغیر نعتیہ ادب کا نہ تو فروغ ہو سکتا ہے اور نہ اس کی ارتقائی تحصیل کی تجسیم عمل میں آسکتی ہے۔ کیوں کہ دنیاوی اصول ہے کہ سونے کو اس کی قدر و قیمت تبھی ملتی ہے، جب سنار اسے اپنی کسوٹی پر رکھ کر اس کے بے لوث ہونے کا اطمینان کلی حاصل کر لیتا ہے۔ بعینہٖ یہی مثال ہیرے کی ہے کہ جب تک جوہری اس کو اپنی ناقدانہ نظر سے گزار نہیں لیتا، اس کی حیثیت محض دو کوڑی کی ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں انتقادی اہمیت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی شدید ضرورت ہے۔
