| عنوان: | نفاق اعتقادی و عملی کی تباہی قرآن و حدیث کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | شکیل احمد رامپوری |
| پیش کش: | ام حبیبہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
خلوص و للہیت اور بے لوث جیسے الفاظ بڑی معنویت اور اہمیت و واقعیت کے حامل ہیں۔ انسانی زندگی کے جملہ شعبہ جات میں ہر ایک اپنے کارکنان میں ان خوبیوں کا وجود چاہتا ہے۔
ارباب علم و دانش بخوبی جانتے ہیں کہ جس عمل میں خلوص وللہیت کا عنصر پایا جائے وہ پائیدار اور لائق اعتبار عوام و خواص اور عند اللہ اجر و ثواب کا مستحق ہوا کرتا ہے۔ چونکہ اس میں دورنگی نہیں پائی جاتی، پیش نظر عنوان کا مطلب بھی سمجھ میں آگیا ہے کیونکہ اشیاء اپنے اضداد سے پہچانی جاتی ہیں۔
نفاق کا مطلب وہ عمل جس میں دورنگی پائی جائے اور وہ “یک در گیر محکم گیر” کا عکاس نہ ہو، نفاق جس میں زبان و دل دونوں میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی بلکہ ہر ایک دوسرے کے خلاف ناطق ہو۔
نفاق کی دو قسمیں ہیں:
-
نفاق اعتقادی
-
نفاق عملی
آئندہ سطور میں بالاختصار ان دونوں کے تعلق سے گفتگو کریں گے۔
منافق کی دو قسمیں ہیں:
-
منافق اعتقادی
-
منافق عملی
قرآن وحدیث میں ان کو پورے طور سے ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ بقرہ کی تیرہ آیتیں
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
منافقین فی الاعتقاد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ یہ تیرہ آیتیں ان منافقین کے حق میں نازل ہوئیں جو باطن میں کافر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے “وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ” (وہ ایمان والے نہیں) فرما کر یہ بتادیا کہ صرف کلمہ پڑھنا، اسلام کا مدعی ہونا، نماز، روزہ ادا کرنا مؤمن ہونے کے لیے کافی نہیں، جب تک دل میں تصدیق نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جتنے فرقے ایمان کا دعوی کرتے ہیں اور کفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب کا یہی حکم ہے کہ کافر خارج از اسلام ہے، شرع میں ایسوں کو منافق کہتے ہیں، ان کا ضرر کھلے کافروں سے زیادہ ہے۔ اور سورۂ نساء کی آیت میں فرمایا گیا:
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا
یعنی بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقے میں ہیں اور ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔ منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کر کے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا ہوا ہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ استہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے اور ایک مکمل سورۃ جس کا نام ہی “سورۃ المنافقون” ہے، اس میں فرمایا:
إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ. اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ. ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ.
جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بے شک یقینا اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرا لیا تو اللہ کی راہ سے روکا بے شک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو اُن کے دلوں پر مہر کر دی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے۔
ان تمام آیات بینات سے یہ واضح ہوا کہ منافق فی الاعتقاد کی سب سے بڑی تباہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا بلکہ جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں رہے گا اور متعدد احادیث بھی اس کی تباہی پر ناطق ہیں۔
(١)۔
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ اللَّهُ الْمَلَكَ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ. فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: منی کا قطرہ چالیس دن عورت کے رحم میں نطفہ رہتا ہے پھر چالیس دن بستہ خون رہتا ہے، پھر چالیس دن گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالی ایک فرشتہ کو اس میں روح پھونکنے کا حکم دیتا ہے اور اس کو چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے، اس کی روزی، اس کی موت کا وقت، اس کا عمل، وہ شقی ہے یا سعید تو اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے کوئی وہ ہے جو جنتیوں جیسے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر نوشتہ سبقت کر جاتا ہے تو وہ جہنمیوں جیسے کام کرنے لگتا ہے تو وہ جہنمی ہو جاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ منافق فی الاعتقاد اگرچہ پوری زندگی اپنی زبان سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا رہے اور زبان سے صرف اقرار کلمہ توحید کا کرتا رہے لیکن اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
(۲)۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تُخَادِعِ اللَّهَ فَإِنَّهُ مَنْ يُخَادِعِ اللَّهَ يَخْدَعْهُ اللَّهُ وَنَفْسَهُ يَخْدَعُ لَوْ يَشْعُرُ.
اپنے اعتقاد باطل میں جو اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں، ان سے فرمایا گیا: اللہ تبارک و تعالی کو فریب مت دو کیونکہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اپنے اعتقاد باطل کے اعتبار سے فریب دینا چاہتا ہے تو اللہ تعالی اسے غافل کر کے مارتا ہے اور در حقیقت وہ انسان اپنے آپ کو فریب دیتا ہے اگر وہ غور کر لے۔
اس سے معلوم ہوا کہ منافق اپنے مکر وفریب کی بنیاد پر جہنمی ہے اور اس کے مکر و فریب کا وبال اسی پر لوٹتا ہے کیونکہ لوگوں کے محاورات سے ہے:
مَنْ خَدَعَ مَنْ لَا يُخْدَعُ فَإِنَّمَا يَخْدَعُ نَفْسَهُ.
جو اس کو دھوکہ دے جس کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا تو وہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے۔
یہ بات صحیح ہے کیونکہ دھوکہ اس کو دیا جاتا ہے جسے بواطن کا علم نہ ہو اور جو بواطن کو جانتا ہے تو اس کو دھوکہ دینا اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے۔
اس بات سے یہ نتیجہ بھی نکلا کہ منافقین کو اللہ کی معرفت حاصل نہیں ہوتی کیونکہ اگر انہیں اللہ کی معرفت حاصل ہوئی ہوتی تو انہیں یہ بھی پتا ہو جاتا کہ اس کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔
مذکورہ آیات بینات و احادیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ منافقین فی الاعتقاد یہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو جہاد سے روکتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے روکتے تھے، طرح طرح کے وسوسے اور شبہے ڈال کر۔ قرآن کریم میں ان منافقین کو دشمن کہا گیا ہے اور ان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ.
وہ دشمن ہیں، ان سے بچتے رہو۔
کیونکہ یہ مسلمانوں سے دل میں شدید عداوت رکھتے ہیں اور کفار کے پاس یہاں کی خبریں پہنچاتے ہیں، ان کے جاسوس ہیں، اس کے علاوہ بہت ساری احادیث بھی منافقین فی الاعتقاد کی مذمت میں آئی ہیں جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔
منافق عملی:
عمل میں نفاق کرنے والوں کو بھی قرآن کریم میں اس نفاق سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ. [سورۃ الصف: 2]
یہ آیت ان منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو مسلمانوں سے جھوٹا مدد کا وعدہ کرتے تھے یعنی جن کا اعتقاد درست تھا لیکن وہ اپنے عمل سے نفاق کرتے تھے تو آیت کریمہ میں بتلایا گیا قول و عمل میں موافقت رہنی چاہیے اور مخالفت یہ ممنوعات سے ہے اور نہی یہ تحریم پر دلالت کرتی ہے۔ لہذا نفاق فی العمل یہ منہی عنہ ہونے کی وجہ سے حرام ٹھہرا اور حرام کا ارتکاب موجب عذاب جحیم ہوتا ہے۔
لہذا منافق فی العمل بھی اپنے اس نفاق کی وجہ سے کچھ مدت کے لیے جہنم میں ڈالا جائے گا۔
اور ایک حدیث شریف میں یوں آیا ہے:
ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ. [أَوْ كَمَا قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ]
یعنی تین باتیں جس میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا: جب بولے گا جھوٹ بولے گا، جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے گا اور جب وعدہ کرے گا تو اس کا خلاف کرے گا۔
اس حدیث میں منافق کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں وہ نفاق عملی کی ہیں۔ یعنی ان تین باتوں کا عادی منافق فی العمل ہوتا ہے۔ تو جھوٹ بولنا، امانت میں خیانت کرنا اور وعدہ خلافی کرنا یہ بڑے گناہوں میں سے ہے اور ان کا ارتکاب دوزخ میں دخول کا سبب ہے اور مرتکب جہنم کے عذاب کا مستحق ہوگا۔
اللہ تعالی ہم سب کو خلوص کے ساتھ اعمال صالحہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ واکرم التسلیم۔ [حوالہ: ماہنامہ جامعة الرضا، ماہ صفر المظفر ١٤٤٣ھ ص: ٢۵]
