Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ابتری سے بلندی تک کا ایک درخشاں سفر

ابتری سے بلندی تک کا ایک درخشاں سفر
عنوان: ابتری سے بلندی تک کا ایک درخشاں سفر
تحریر: محمد احسان مصطفیٰ

ایک طالبِ علم جب مدرسہ، جامعہ یا اسکول میں قدم رکھتا ہے تو اکثر علم و حکمت سے عاری، عقل و بصیرت سے پیدل اور دنیا کی رنگینیوں میں گم ہوتا ہے۔ کبھی کبھار ایسے بچے بھی مدرسے میں داخلہ لیتے ہیں جو اپنے شہر کے بدمعاش، والدین کے نافرمان اور محلے کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوتے ہیں۔ والدین ان کی شرارتوں سے دوچار رہتے ہیں، ہر لمحہ فکر و تشویش کے سائے ان کے دلوں پر چھائے رہتے ہیں، اور گھر کا ماحول اضطراب کی لہروں میں ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

چنانچہ اسی طرح کا واقعہ میری نگاہ سے گزرا جو شخص؛ مذکور صفات سے متصف تھا لہذا ایسے حالات میں ایک نوجوان نے ان کے والد کو مشورہ دیا کہ اس لڑکے کو کسی پاکیزہ اور پُرسکون مدرسے میں داخل کر دیا جائے، جہاں علم کی روشنی، ادب کی خوشبو اور صالحین کی صحبت اس کی بھٹکی ہوئی طبیعت کو سکون اور ہدایت کی روشنی میں بدل دے۔ چنانچہ چند ہی دنوں بعد والدین اسے مدرسے کے سپرد کر دیتے ہیں، جہاں قرآن و حدیث کی نورانی تعلیم اور تربیت کی لطیف فضا اس کا استقبال کرتی ہے۔

لیکن ابتدا میں وہی پرانی بے سمتی اور شرارت اس کے ساتھ ہوتی ہے، مگر مدرسے کا پاکیزہ ماحول، بالخصوص اساتذہ کا وقار اور شفقت، اس کی تپتی ہوئی طبیعت پر ٹھنڈی گھٹاؤں کی طرح برسنے لگتی ہے۔ وقت کی پابندی، ذکر و تلاوت، درسِ قرآن و حدیث اور اساتذہ کی حکیمانہ نصیحتیں اس کے دل میں ایک ایسی لطیف جنبش پیدا کر دیتی ہیں کہ گویا اس کی سوئی ہوئی انسانیت جاگنے لگتی ہے۔

اساتذہ کبھی اسے فولاد کی طرح سخت لہجے میں روکتے ہیں، کبھی گلاب کے پھولوں کی طرح نرمی سے سمجھاتے ہیں، اور کبھی اپنے کردار کی خوشبو سے اس کے دل کی چٹیل زمین کو ایسی زرخیزی عطا کرتے ہیں کہ اس کے اندر کی سخت مٹی آہستہ آہستہ نرم پڑنے لگتی ہے۔ اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ لوگ اس پر سختی کرنے نہیں، بلکہ اسے سنوارنے آئے ہیں، جیسے ماہر سنگ تراش پتھر کو تراش کر گوہرِ نایاب بنا دیتا ہے۔

یوں اس کی شخصیت میں آہستہ آہستہ تبدیلی کے آثار نمودار ہوتے ہیں۔ وقت گزرتا جاتا ہے، اور اسی کے ساتھ اس کا دل علم کے نور سے معمور ہونے لگتا ہے، طبیعت میں ٹھہراؤ اور وقار پیدا ہوتا ہے، اور عبادت اس کے شب و روز کو نورانیت سے سرشار کر دیتی ہے۔ جو لڑکا کبھی شہر میں بدنامی کا استعارہ سمجھا جاتا تھا، وہی لڑکا آج والدین کی تربیت، اساتذہ کی شفقت اور شبانہ روز محنت کے باعث باطن کی اصلاح اور کردار کی روشنی کا چراغ بن جاتا ہے۔

چند روز قبل جب اسے دیکھا تو والدین کی مسکراہٹ اس بات کی گواہی دے رہی تھی؛ کہ ان کا بچہ تاریکیوں سے نکل کر روشنی کے منور راستے پر گامزن فرسا ہو چکا ہے۔ یہ منظر اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ جب استاذ کی صحبت، علم کی روشنی اور والدین کی دعائیں شامل ہو جائیں تو بھٹکا ہوا انسان بھی سیدھے راستے پر آ جاتا ہے۔

اساتذہ اور والدین کا ادب کریں

یہ تمام روشنی اور تبدیلی اساتذہ کی شفقت، حکمت بھری نصیحت اور رہنمائی کا ثمرہ ہے۔ یہی وہ قوتیں ہیں جو طالبِ علم کی زندگی کو نہ صرف ایک علم کے نور سے منور کرتی ہیں بلکہ اس کے کردار کو تراش کر اسے اخلاق و وقار کی بنیادوں پر استوار کر دیتی ہیں اور زندگی کے درست راستے دکھاتی ہیں۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ اساتذہ وہ ستون ہیں جن کی اہمیت محض علم تک محدود نہیں، بلکہ وہ شخصیت سازی، اخلاق بیداری اور حقیقی تربیت کے مینار ہیں۔

جو طالبِ علم ان کے ادب، محبت اور احترام کا پاس رکھتا ہے، وہ علم و عمل کی برکتوں سے مالا مال ہوتا ہے اور روحانی سکون کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے، اور جو ان کی حرمت و عظمت کو نظر انداز کرتا ہے، وہ چاہے علم کی وسعتوں میں کیوں نہ آگے بڑھ جائے، اس کے دل میں ہمیشہ ایک خالی پن اور بے سکونی باقی رہتی ہے۔

آخر میں یہ عرض ہے کہ کبھی بھی اساتذہ اور والدین کا ادب اپنے ہاتھوں سے نہ جانے دیں، نہ ہی ان سے اونچی آواز میں بات کریں، اور نہ ہی علم کے زعم میں یہ سمجھیں کہ آپ ان سے بڑھ گئے ہیں، کیونکہ علم اگر ادب سے خالی ہو تو وہ نور نہیں بلکہ غرور بن جاتا ہے، جو انسان کو عروج سے زوال کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اساتذہ اور والدین کا با ادب شاگرد بنائے۔ آمين يا رب العالمين۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!