| عنوان: | قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
یہ میگزین کی خوش قسمتی ہے یا حسنِ اتفاق؟
ماہِ اپریل 2018ء کا شمارہ جلد چہارم کا پہلا شمارہ ہے۔ یہ میگزین کی خوش قسمتی ہے یا حسنِ اتفاق کہ جلد چہارم کے شمارہ اول اور ماہِ معراج النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مابین زمانی مطابقت آگئی۔ بفضلہ تعالی مضمون حاضر بھی ایسا کہ اگر بندگانِ خداوندِ قدوس اس پر عمل پیرا ہو جائیں تو نہ جانے کتنوں کی قسمت سنور جائے، ساتھ میں راقم و منتظمین کی بھی۔
دراصل مندرجہ ذیل مضمون محقق علی الاطلاق، مجدد صدی یازدہم حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی (958ھ-1052ھ) قدس سرہ العزیز کا ہے۔ میری حیثیت محض ناقل و ترجمان کی ہے۔ مجھ میں اتنی قوت بھی نہیں کہ ایسا بدیع المثال مضمون لکھ سکوں۔
ہاں، جا بجا تسہیل و توضیح کی کوشش کی ہے: اللهم تقبل مني قبولا حسنا: آمين
میں نے محدثِ گرامی کے مضامین سے قابلِ فہم اور فائدہ بخش مشمولات کو اردو قالب میں منتقل کر کے سنی بھائیوں کو پیش کر دیا ہے، تاکہ عمل آوری کی کوشش ہو۔ امیدِ واثق کہ عشاقِ حبیبِ کبریا عليه التحية والثناء اس کے مفاہیم و مطالب کو اپنے قلب و جگر میں محفوظ کر لیں گے۔ إن شاء الله تعالى اس مضمون کے ذریعہ خلقِ کثیر کا باطن عشقِ نبوی کی شعاعوں سے منور اور قلب خوشبوئے مصطفوی سے معطر ہو جائے گا۔
اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے مومن بھائی پڑھیں، اور اپنے آپ کو حرمِ پاک نبوی کے قریب لے جانے کی کوشش کریں۔ تمہارا قالب کہیں بھی رہے، لازم ہے کہ تمہارا قلب حرم مدینہ میں گشت لگاتا رہے۔ یہی حبِ صادق کی نشانی، الفتِ کامل کی علامت اور عشقِ دائم کی پہچان ہے۔
میں نے اردو زبان میں مقاصد و مطالب کو نقش بر قرطاس کر دیا ہے۔ قارئین مفہوم و مراد کو سمجھنے کے لیے میری تحریر پڑھ لیں اور اثر آفرینی کے لیے اصل کتاب ”مدارج النبوۃ“ (جلد دوم: تکملہ) کی عبارت پڑھ لیں۔ چونکہ شیخ محقق قدس سرہ العزیز عاشقِ رسول تھے، اس لیے ان کے قول و فعل میں یکسانیت ہے، بایں سبب ان کی عبارتوں کے اثرات طالبِ صادق پر ظاہر ہوں گے، اور میں تفہیم عبارات کے لیے وسیلہ بنا تو إن شاء الله تعالى اجر و ثواب اور حسنات و برکات سے مجھے بھی سرفراز کیا جائے گا، اور میں طالب و منتظر بھی ہوں، کیونکہ اہل کرم سے ہی کرم کی آس لگائی جاتی ہے۔
سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ جس کو کہیں سے کچھ ملتا ہے، وہ ادھر متوجہ ہو جاتا ہے، اور دربارِ خدا اور رسول (عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم) سے تو سب کو سب کچھ ملتا ہے، پھر اعراض و انحراف اور روگردانی کا سبب کیا ہے؟ آؤ! کریموں کی بارگاہ میں!!!
یارب تو کریمی و رسولِ ما کریم
صد شکر کہ ہستیم میانِ دو کریم
بندے بلائے آئے ہیں ”جاءوك“ ہے گواہ
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز نے حبِ نبوی کی ترغیب کے ساتھ ہمہ وقت تصورِ مصطفوی میں مستغرق رہنے کی تعلیم دی ہے۔ عشقِ نبوی کے اسباب و علل کے بیان میں انھوں نے رقم فرمایا کہ مخلوقاتِ الہی میں وہی ذاتِ اقدس ایسی ہے کہ جن سے لازمی طور پر محبت کی جانی چاہیے۔ مختلف قسم کی نعمتوں کے حصول کے لیے دربارِ اعظم میں مختلف کیفیتوں کے ساتھ حاضری منقول ہوئی ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے مدارج النبوۃ (جلد دوم: بتکملہ) میں دربارِ اعظم کی دائمی حاضری اور ربط و تعلق کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں: تعلق صوری اور تعلق معنوی، پھر شیخ محدث دہلوی نے ہر ایک قسم کی دو قسم بتائی۔ اس طرح کل چار قسمیں ہو گئیں۔ چاروں قسموں کا تعارف منقوشہ ذیل ہے۔
- تعلق صوری کی قسم اول: کمالِ اتباع پر استقامت اور قول و فعل میں کتاب و سنت کے امر و نہی پر مواظبت، حضراتِ ائمہ اربعہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے معتقدات کا اعتقاد، عزائمِ امور کے فعل پر اعتماد اور رخصتوں سے اجتناب۔
- تعلق صوری کی قسم دوم: اتباعِ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قوی محبت کے ساتھ، تاکہ محبت کا ذوق اپنے تمام وجود میں محسوس کرے۔
- تعلق معنوی کی قسم اول: حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صورت مبارکہ کا ذہن میں دائمی استحضار۔
- تعلق معنوی کی قسم دوم: حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کا ظاہر و باطن میں کامل استحضار (مع شرائط و تفصیل)۔
حضرت شیخ محقق عليه الرحمة والرضوان نے چاروں قسموں کی شرطیں بھی بیان فرمائی ہیں۔ اگر شرط کو ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا تو فائدہ تامہ کی امید نہیں۔ ذیل میں چاروں قسموں کی تفصیل و شرائط مرقوم ہیں۔ قارئین ان اقسامِ چہارگانہ کو بار بار پڑھیں۔ جو آپ کی طبعی کیفیت کے موافق ہو، اس کو اختیار کر لیں، اور شرط کا بھی مکمل لحاظ رکھیں۔
دراصل مشائخ عظام اسی قسم کی تربیت فرما کر اپنے حاضر باشوں کو لعل و گہر بنا دیتے، اور دنیا ان کے شاگردوں کی مثال پیش کرنے سے عاجز رہ جاتی۔ عہدِ حاضر میں ساری قوت علم یعنی تعلیم و تعلم پر صرف کی جاتی ہے، عمل کی کوشش کچھ کم ہوتی ہے۔
حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری رضی اللہ تعالی عنہ کی درسگاہ سے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی عليه الرحمة والرضوان جیسے شاگرد ظاہر ہوئے۔ آج کی درسگاہوں میں کوئی بختیار کاکی کے مماثل نہیں، کیونکہ ان میں کوئی مربی و معلم حضرت خواجہ غریب نواز عليه الرحمة والرضوان کی طرح نہیں۔ میں اپنے قارئین کو حضرت شیخ محقق دہلوی قدس سرہ العزیز کی تربیت کی جانب اس لیے مائل کر رہا ہوں کہ شیخ محقق نے اس جانب عام دعوت دی ہے، اور شرطوں کو بیان فرما دیا ہے۔ إن شاء الله تعالى شرائطِ مذکورہ کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہم آگے بڑھیں گے، اور رب تعالی سے توفیق و مدد کے طلبگار ہوں گے۔ ذیل میں شیخ محقق کی عبارتوں کے عام فہم خلاصے رقم کیے جا رہے ہیں۔ عمل آوری کی نیت شاملِ مطالعہ ہو تو خیرِ کثیر کی امیدِ قوی ہے۔ اگر عقل و خرد ہے تو آؤ، مدینہ چلیں: والله الهادي وهو الموفق۔
دربارِ اعظم میں دائمی حاضری
(شیخ محقق کی عبارتوں کے خلاصے)
- حضورِ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمام مخلوق کے لیے ابتدائے وجود اور ظہور میں واسطہ ہیں۔ اسی طرح انتہائے امر یعنی جنت میں اقامت کے لیے بھی واسطہ ہیں، لہٰذا بندوں کے وجود اور ہر موجود کے وجود کے لیے ازل و ابد اور اول اور آخر میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سوا کوئی دوسرا موجودات میں واسطہ اور وسیلہ نہیں: اللهم صل على محمد وعلى آل سيدنا محمد وبارك وسلم۔ پس اے طالبِ صادق! تم پر لازم و واجب ہے کہ اس بارگاہِ فیض بخش سے متعلق ہو جاؤ، اور ان کے درِ اقدس کے ہو کر بیٹھ جاؤ، تاکہ دونوں طرف اور دونوں جانب سے لگاؤ حاصل ہو۔
- تمام نعمتوں کے حصول میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وسیلہ ہونے کے سبب اولیائے کاملین رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ نفوس قدسیہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ سے متعلق ہو جاتے ہیں، اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے درِ اقدس پر جبہ سائی کرتے رہتے ہیں، اور یہی طریقہ ہمیشہ اہلِ کمال کا رہا ہے۔ حق تعالی جس کو کامل بنانے کا ارادہ فرماتا ہے، اور جس کو مرتبہ بلند تک رسائی عطا فرمانا چاہتا ہے، اسے اس کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔
- جب تم نے اس مفہوم کو جان لیا اور پہچان لیا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے تصور کو لازم کر لو، اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے درِ اقدس پر پڑے رہنے کو واجب بنا لو۔ اب اگر تم یہ کہو کہ اس تعلق کی کیفیت اور اس بارگاہِ عظیم کی ملازمت نہیں پا سکتے تو ہم اسے کیونکر حاصل کریں تو جان لینا چاہیے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے تعلق رکھنے کی دو قسمیں ہیں: تعلق صوری اور تعلق معنوی، پھر ہر ایک کی دو قسمیں ہیں، یعنی کل چار اقسام۔ [ماہنامہ: عشق نبوی کے آداب و وسائل، ص: 45]
( جاری...)
