| عنوان: | تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن مسلمانوں کی مائیں ہیں |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن مسلمانوں کی مائیں ہیں
مذہبِ اسلام نے جن مقدس اور پاکیزہ ہستیوں کو امتِ مسلمہ کے لیے نمونہ بنایا، ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کا مقام نہایت بلند اور عظیم ہے۔ خداوند متعال نے قرآنِ مجید میں انہیں ”أمهات المؤمنين“ یعنی ایمان والوں کی مائیں قرار دیا۔ یہ ایسا عظیم اعزاز ہے جو دنیا کی کسی عورت کو حاصل نہیں ہوا۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن پاکدامنی، تقویٰ، علم، عبادت، صبر اور اخلاص کا روشن مینار ہیں۔ ان کی محبت، ادب اور تعظیم ہر مسلمان پر لازم ہے۔
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن قرآنِ پاک کی روشنی میں
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡؕ [الأحزاب: 6]
ترجمہ کنزالایمان: یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں۔
”صراط الجنان“ میں اسی آیت کریمہ کے تحت مرقوم ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کو مومنوں کی مائیں فرمایا گیا، لہٰذا أمهات المؤمنين کا تعظیم و حرمت میں اور ان سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہونے میں وہی حکم ہے جو سگی ماں کا ہے جبکہ اس کے علاوہ دوسرے احکام میں جیسے وراثت اور پردہ وغیرہ، ان کا وہی حکم ہے جو اجنبی عورتوں کا ہے یعنی ان سے پردہ بھی کیا جائے گا اور عام مسلمانوں کی وراثت میں وہ بطورِ ماں شریک نہ ہوں گی، نیز امہات المومنین کی بیٹیوں کو مومنین کی بہنیں اور ان کے بھائیوں اور بہنوں کو مومنین کے ماموں، خالہ نہ کہا جائے گا۔[بغوي، الأحزاب، تحت الآية: 6، ج: 3, ص: 437, ملخصاً]
یہ حکم حضورِ پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کے لیے ہے جن سے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نکاح فرمایا، چاہے حضورِ انور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ان کا انتقال ہوا ہو یا حضورِ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بعد انہوں نے وفات پائی ہو۔ یہ سب کی سب امت کی مائیں ہیں اور ہر امتی کے لیے اس کی حقیقی ماں سے بڑھ کر لائقِ تعظیم اور واجب الاحترام ہیں۔[زرقاني علي المواهب، المقصد الثاني، الفصل الثالث في ذكر أزواجه الطاهرات... إلخ، ج: 4, ص: 356-357,]
اُمَّہاتُ المؤمنین ہونے کا مطلب
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو ”ماں“ قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ:
- تمام مسلمان ان کا ادب و احترام کریں۔
- ان کے بارے میں بدگمانی یا بے ادبی سے بچیں۔
- ان کی پاکیزگی اور عظمت پر کامل ایمان رکھیں۔
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ان سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔
- البتہ یہ ”ماں“ ہونا نسبی نہیں بلکہ دینی اور روحانی حیثیت سے ہے۔
ازواجِ مطہرات کا پاکیزہ مقام
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نہایت پاکیزہ اور مقدس خواتین تھیں۔ خداوند متعال نے ان کی شان میں فرمایا:
اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيرًا [الأحزاب: 33]
ترجمہ کنزالایمان: اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔
یہ آیت ازواجِ مطہرات کی عظمت اور پاکیزگی کی واضح دلیل ہے۔
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کا مختصر تعارف
- حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ اور اسلام قبول کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔ آپ نے ہر مشکل وقت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ سے بے حد محبت تھی۔
- حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہا نہایت سادہ، عبادت گزار اور سخی خاتون تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتیں۔
- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہا علم و فضل میں سب سے ممتاز تھیں۔ ہزاروں احادیث آپ سے مروی ہیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مسائلِ دین میں آپ رضی اللہ عنہا کی طرف رجوع فرماتے تھے۔
- حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما آپ رضی اللہ عنہما قرآنِ کریم کی حفاظت کرنے والی عظیم خاتون تھیں۔ قرآن کا جمع شدہ نسخہ ایک مدت تک آپ رضی اللہ عنہا ہی کے پاس محفوظ رہا۔
- حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہا غریبوں اور مسکینوں پر بہت رحم کرنے والی تھیں، اسی لیے ”أم المساكين“ کہلاتی تھیں۔
- حضرت اُمِّ سلمہ بنت ابو امیہ رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہا نہایت عقلمند اور دانا تھیں۔ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر آپ رضی اللہ عنہا کے مشورے نے مسلمانوں کی بڑی رہنمائی کی۔
- حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہا عبادت گزار اور صدقہ کرنے والی خاتون تھیں۔ اپنے ہاتھ سے محنت کر کے غریبوں پر خرچ کرتی تھیں۔
- حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہا کے نکاح کی برکت سے بہت سے قیدی آزاد ہوئے اور ایک بڑی قوم کو اسلام کی نعمت نصیب ہوئی۔
- حضرت اُمِّ حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام کی خاطر سخت تکلیفیں برداشت کیں اور حبشہ کی ہجرت بھی فرمائی۔
- حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہا نہایت بااخلاق، بردبار اور صابر خاتون تھیں۔
- حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہا آخری زوجۂ مطہرہ ہیں جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فرمایا۔ آپ عبادت اور تقویٰ میں مشہور تھیں۔
ازواجِ مطہرات کی سیرت سے سبق
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ ان کی زندگیوں سے ہمیں: صبر و تحمل، عبادت و ریاضت، علمِ دین، حیا و پاکدامنی، شوہر کی اطاعت، سادگی، سخاوت اور تقویٰ جیسے عظیم اوصاف سیکھنے کو ملتے ہیں۔
ازواجِ مطہرات سے محبت ایمان کا حصہ ہے
اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ تمام ازواجِ مطہرات سے محبت رکھیں۔ ان کی شان میں گستاخی کرنا یا ان پر اعتراض کرنا سخت گناہ اور ایمان کے لیے خطرناک ہے۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور بزرگانِ دین رحمہم اللہ ہمیشہ ان کا ادب کرتے اور ان کے فضائل بیان فرماتے تھے۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا
موجودہ دور میں ہماری ذمہ داری
آج کے دور میں جب اسلامی اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں، مسلمان خواتین کو چاہیے کہ ازواجِ مطہرات کی پاکیزہ زندگیوں کو اپنا نمونہ بنائیں۔ ان کی سادگی، حیا، عبادت اور اخلاق کو اپنانے میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
لب لباب
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اسلام کی عظیم اور مقدس ہستیاں ہیں۔ خداوند نے انہیں ایمان والوں کی مائیں قرار دے کر ہمیشہ کے لیے عزت و عظمت عطا فرمائی۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان کی محبت اپنے دل میں رکھے، ان کا ادب کرے اور ان کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل کرے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں أمهات المؤمنين رضی اللہ عنہن کی سچی محبت، ادب اور ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمين بجاه النبي الأمين صلی اللہ علیہ وسلم
