Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

باطنی امراض - تعارف و علاج (قسط: سوم)

باطنی امراض - تعارف و علاج (قسط: سوم)
عنوان: باطنی امراض - تعارف و علاج (قسط: سوم)
تحریر: مفتی محمد افتخار الحسن قادری امجدی، بجنوری
پیش کش: عالیہ فاطمہ انیسی (مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد)

ریاکاری کی تعریف

اللہ کی رضا کے علاوہ کسی اور نیت سے عبادت کرنا، مثلاً تاکہ لوگ اس کی عبادت پر آگاہ ہو کر اس کو مال و منال سے نوازیں یا لوگ اس کے قصیدے پڑھیں یا اس کو عزت والا سمجھیں۔

ریاکاری قرآن کی روشنی میں

وَالَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ وَمَنْ يَكُنِ الشَّيْطَانُ لَهُ قَرِينًا فَسَاءَ قَرِينًا

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا تو کتنا برا مصاحب ہے۔ (سورۃ النساء: ۳۸)

ریاکاری حدیث کی روشنی میں

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللّٰهُ بِهِ۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شہرت کا طالب ہو اللہ تعالیٰ اس کی بدنیتی قیامت کے دن سب کو سنا دے گا، اور جو کوئی لوگوں کو دکھانے کے لئے نیک عمل کرے گا اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کو سب لوگوں کو دکھلا دے گا۔“ (صحیح البخاری، ۶۴۹۹)

ریاکاری کے علاج کے طریقے

  1. اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کیجئے۔
  2. ریاکاری کی تباہ کاری کو پیشِ نگاہ رکھے۔
  3. اسبابِ ریاکاری کا خاتمہ کیجئے۔
  4. اخلاص پیدا کیجیے کیونکہ یہ ریاکاری کی ضد ہے۔
  5. عمل کے آغاز میں نیت خالص کیجیے۔
  6. دورانِ عبادت آنے والے وساوسِ شیطانی کو دور کیجیے ۔
  7. خلوت و جلوت میں عمل یکساں کیجی
  8. نیکیوں کو مخفی رکھئے۔

سوءِ ظن (بدگمانی)

یہ بھی ایک باطنی بیماری ہے، اسلام میں اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بدگمانی کی پہچان اور علاج کے چند طریقے نذرِ قارئین ہیں تاکہ اس سے بچنا آسان ہو جائے۔

بدگمانی کی تعریف

وہ گمان جو دل میں جم جائے اور دوسرے پر برائی کا حکم لگائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو! بے شک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے۔ (سورۃ الحجرات: ۱۲)

حدیث شریف

إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان خون کی طرح انسان کے بدن میں دوڑتا رہتا ہے، مجھے خطرہ ہوا کہ شیطان تمہارے دلوں میں بدگمانی نہ ڈال دے۔ (صحیح البخاری: ۲۰۳۵)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَهَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا۔

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں، لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کے پیچھے نہ پڑو، آپس میں حسد نہ کرو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، بغض نہ رکھو، بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔“ (صحیح البخاری: ۱۰۶۴)

حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ کا فرمان: گمانوں سے بچو

امام اہل سنت سیدی سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے ملفوظات کے دوسرے حصہ صفحہ نمبر ۲۲۲ پر نقل ہے کہ ایک مرتبہ امام جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک گدڑی پہنے ہوئے مدینہ منورہ سے کعبہ معظمہ کو تشریف لے جا رہے تھے اور ہاتھ میں صرف ایک تاملوٹ (ٹین کا برتن) تھا۔ حضرت شفیق بلخی علیہ الرحمہ نے دیکھا تو دل میں خیال آیا کہ یہ فقیر اوروں پر اپنا بوجھ ڈالنا چاہتا ہے۔ یہ وسوسۂ شیطانی آنا تھا کہ امام جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شفیق! بدگمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔“ نام بتانے اور دل میں آنے والے وسوسے پر آگاہی سے نہایت عقیدت ہوئی اور امام کے ساتھ ہو لئے۔ راستے میں ایک ٹیلے پر پہنچے، امام نے اس ٹیلے سے تھوڑا ریت لے کر ٹین کے برتن میں گھول کر پی لیا اور حضرت شفیق بلخی کو پینے کا حکم فرمایا۔ انہیں انکار کا چارہ نہ تھا، لہٰذا حضرت شفیق بلخی نے بھی پی لیا تو ایسے لذیذ خوشبودار ستو تھے کہ عمر بھر نہ دیکھے نہ سنے۔

بدگمانی کی ہلاکت خیزیوں سے بچنے کے چند علاج

  1. اپنے مسلمان بھائیوں کی خوبیوں پر نظر رکھیں۔
  2. اپنے آپ کو نیکی پر ثابت قدم رکھیں۔
  3. بتقاضائے بشریٰ اگر کسی مسلمان کے متعلق دل میں برا گمان آئے تو اس کو دل میں بالکل جگہ نہ دیں، فوراً تعوذ پڑھ کر جھٹک دیں۔

حرصِ مذموم

باطنی بیماریوں میں سے ایک اہم بیماری حرص یعنی لالچ ہے، جو کہ اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ بہت کم ایسے خوش نصیب لوگ ہیں جو اس بیماری سے محفوظ ہیں۔ کسی چیز سے جی نہ بھرنے اور ہمیشہ زیادتی کی خواہش رکھنے کو حرص یعنی لالچ کہتے ہیں، اور حرص رکھنے والے کو حریص یعنی لالچی کہتے ہیں۔

آیتِ مبارکہ

وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ ۗ وَاللّٰهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ

ترجمۂ کنز الایمان: اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں اور مشرکوں سے، ایک کو تمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جیے اور وہ اسے عذاب سے دور نہ کرے گا اتنی عمر دیا جانا، اور اللہ ان کے کوتک دیکھ رہا ہے۔ (سورۃ البقرہ: ۹۶)

حدیثِ مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيَنْقُصُ الْعَمَلُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ۔

ترجمہ: صحابیِ رسول حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صاحبِ لولاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ”زمانہ قریب ہوتا جائے گا، اور عمل کم ہوتا جائے گا، اور لالچ دلوں میں ڈال دیا جائے گا۔“ (صحیح البخاری، رقم: ۷۰۶۱)

حدیث شریف

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَسَتَكُونُ نَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔

ترجمہ: نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم حکومت کا لالچ کرو گے اور یہ قیامت کے دن تمہارے لئے باعثِ ندامت ہوگی۔“ (صحیح البخاری: ۷۱۴۸)

حرصِ مذموم کا علاج

  1. گناہوں کی معرفت حاصل کر کے ان سے بچے۔
  2. اللہ کا خوف دل میں بسائے۔
  3. برے خاتمے اور برے انجام سے بے خوف نہ رہے۔

ربِ ذوالجلال سے دعا ہے مولیٰ تعالیٰ اپنے پیارے حبیبِ پاک کے طفیل ظاہری و باطنی بیماریوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!