| عنوان: | جان ہے عشقِ مصطفیٰ ﷺ |
|---|---|
| تحریر: | سائرہ الطاف کشمیر |
جان ہے عشقِ مصطفیٰ روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ، نازِ دوا اٹھائے کیوں
یہ شعر اپنے اندر عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مکمل دنیا سموئے ہوئے ہے۔ شاعر نہایت خوبصورت انداز میں یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ انسان کی اصل زندگی، اس کا سکون، اس کی روح کی تازگی اور دل کا اطمینان عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں پوشیدہ ہے۔ جب کسی دل میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جگہ بنا لیتی ہے تو پھر وہ دل دنیا کی آلائشوں سے پاک ہونے لگتا ہے۔ اس کی سوچ بدل جاتی ہے، اس کے اعمال سنور جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں نور ہی نور آ جاتا ہے۔ یہی عشق ایمان کی روح ہے، یہی بندگی کی مٹھاس ہے اور یہی وہ کیفیت ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے۔
عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم محض زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی ایسی کیفیت ہے جو انسان کے ظاہر و باطن دونوں کو بدل دیتی ہے۔ جب محبت سچی ہو تو انسان اپنے محبوب کی ہر ادا کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان یہ ہے کہ وہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کا زیور بناتا ہے۔ اس کی گفتگو میں نرمی آتی ہے، اس کے اخلاق میں حسن پیدا ہوتا ہے، وہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، معاف کرنا سیکھتا ہے اور ہر حال میں صبر و شکر اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے سامنے اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا ہے، اور وہ جانتا ہے کہ کامیابی اسی راستے میں ہے۔
شعر کا دوسرا مصرعہ نہایت گہرا مفہوم رکھتا ہے: ”جس کو ہو درد کا مزہ، نازِ دوا اٹھائے کیوں“
یہاں درد سے مراد عشق کا درد ہے، وہ درد جو انسان کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں بے قرار رکھتا ہے۔ یہ درد عام دنیاوی تکلیفوں کی طرح نہیں ہوتا بلکہ یہ تو روح کی زندگی ہے۔ یہی درد عاشق کے دل کو زندہ رکھتا ہے، اسی سے آنکھیں نم ہوتی ہیں، اور اسی سے دل کو سکون نصیب ہوتا ہے۔ جب کسی کو اس درد کی لذت مل جائے تو پھر دنیا کی ظاہری راحتیں اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ اصل راحت اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا ہو جانے میں ہے۔
عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر وہ لمحہ قیمتی ہوتا ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد شامل ہو۔ وہ درود شریف پڑھ کر سکون محسوس کرتا ہے، نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سن کر دل کو تازگی ملتی ہے، اور سیرتِ طیبہ کا مطالعہ اس کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اولیاء و صلحاء نے عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایمان کی جان قرار دیا۔ ان کے نزدیک دل کی حقیقی زندگی اسی محبت میں تھی۔ وہ دنیا کی آسائشوں سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کو قیمتی سمجھتے تھے۔
تاریخِ اسلام اس عشق کی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اپنے گھر بار چھوڑ دیے، تکلیفیں برداشت کیں، بھوک و پیاس جھیلی، مگر محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کبھی کمی نہ آنے دی۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو گرم ریت پر لٹایا گیا، مگر زبان پر ”احد، احد“ ہی جاری رہا۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے ظلم برداشت کیا مگر عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کو سکھایا کہ سچی محبت قربانی مانگتی ہے، اور جو اس راہ میں ثابت قدم رہے وہی کامیاب ہوئے۔
آج کے دور میں بھی ہمیں اسی عشق کی ضرورت ہے۔ ہم محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر تو بہت کرتے ہیں مگر اس کے تقاضوں کو بھول جاتے ہیں۔ عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو سنت کے مطابق ڈھالیں۔ ہم سچ بولیں، وعدے پورے کریں، امانت میں خیانت نہ کریں، والدین کی خدمت کریں، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام کریں، اور معاشرے میں بھلائی پھیلانے والے بنیں۔ یہی وہ اعمال ہیں جو محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی ثبوت ہیں۔
اگر ہمارے دلوں میں واقعی عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہو جائے تو ہماری زندگیوں کے اندھیرے ختم ہو سکتے ہیں۔ نفرتوں کی جگہ محبت آ سکتی ہے، غرور کی جگہ عاجزی، اور بے سکونی کی جگہ اطمینان پیدا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف عبادت کا درس نہیں دیتے بلکہ انسانیت، محبت، رحم اور اخلاق کی بھی کامل تعلیم دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے روشن فرمائے، اس محبت کو ہمارے ایمان کی طاقت بنا دے، اور ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اطاعت نصیب فرمائے۔ اللہ ہمیں وہ درد عطا کرے جو بندے کو اپنے رب کے قریب کر دیتا ہے، وہ محبت عطا کرے جو زندگی کو سنوار دیتی ہے، اور وہ وفا عطا کرے جو ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب بنا دے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جسے عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزہ مل جائے، پھر اسے دنیا کی کسی جھوٹی راحت، کسی سہارے اور کسی دوا کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس کے لیے یہی عشق اس کی جان بھی ہے، اس کا سکون بھی اور اس کا ایمان بھی。
