| عنوان: | سیزر : معنی و مفہوم ، تاریخی حقائق اور موجودہ حالات |
|---|---|
| تحریر: | عطاء الرحمن نوری |
| پیش کش: | ناہد فاطمہ قادریہ محتشمیہ |
سیزیرین سیکشن یا 'سی سیکشن' ایک جراحی کا عمل ہے۔ اس آپریشن کو 'سیزر' کہنے کی وجہ یہ ہے کہ روم کے بادشاہ کے یہاں بچے کی ولادت کی خوشخبری آئی، نجومیوں نے پہلے ہی بیٹے کے آنے کی خبر دے دی تھی۔ زچگی کے وقت ماں کے کولہے کی ہڈی تنگ ہونے کی وجہ سے بچہ نارمل ڈیلیور نہ ہو پایا۔ درد کی شدت سے ملکہ کی حالت تشویشناک ہوئی تو بادشاہ کے حکم پر دائیوں نے خنجر سے ملکہ کا پیٹ چاک کر کے زندہ بچہ باہر نکال لیا۔ اس طرح سیزر کی پیدائش کا ذریعہ بننے والا طریقہ کار دنیا کی ان گنت ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کا سبب بن گیا۔ اس طریقے کو جولیس سیزر (Julius Caesar) کے نام کی مناسبت سے 'سیزر' کہا جانے لگا۔
دنیا میں پہلا سیزیرین جو ریکارڈ پر ہے وہ 320 قبل مسیح میں ہندوستان کے موریا شہنشاہ بندوسرا کی پیدائش کا ہے، جس کی ماں نے زہر پی لیا تھا اور چانکیا نے خنجر کا استعمال کر کے بچہ نکالا تھا۔
سی سیکشن آپریشن کی وجوہات
سیزر میں کم از کم دو زندگیاں (ماں اور بچہ) شامل ہوتی ہیں، جس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
- ماں کی وجوہات: کم عمری یا ضعیفی، کولہے کی ہڈی کا تنگ ہونا، انتہائی ہائی بلڈ پریشر (دورے پڑنا)، پچھلے آپریشنز، آنول (Placenta) کا آگے آنا، یا ماں کی خواہش۔
- بچے کی وجوہات: بچے کا الٹا، ترچھا یا ٹیڑھا ہونا، دھڑکن کا غیر متوازن ہونا، رحم میں پاخانہ کر دینا، ضرورت سے زیادہ بڑا سائز (جیسے شوگر کے مریضوں میں)، یا بچے کا چہرہ سامنے ہونا۔
- دیگر وجوہات: تھیلی میں پانی کا کم یا زیادہ ہونا، بچے کی گردن میں نال لپٹ جانا، خون کا زیادہ ضائع ہونا، یا ڈاکٹری صلاحیت پر عدم اعتماد و قانونی تحفظ کا ڈر۔
موجودہ حالات اور معاشرتی پہلو
مذکورہ طبی اسباب کی موجودگی میں سیزر ہونا لازمی امر سمجھا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ آج کل روپیوں کی ہوس نے ڈاکٹروں کو اندھا کر دیا ہے۔ کئی ایسے شواہد موجود ہیں جہاں نارمل ڈیلیوری ممکن ہونے کے باوجود محض زیادہ پیسوں کی لالچ میں مریضوں کو ڈرا دھمکا کر سیزر کیا جاتا ہے۔ زچہ یا بچہ کی جان کو خطرہ بتا کر پہلے سے ہی ایک 'ڈس کلیمر' فارم پر دستخط کروائے جاتے ہیں تاکہ کسی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
خلاصہ اور اپیل
راقم خود گیارہ سالوں سے فارماسسٹ کے فرائض انجام دے رہا ہے اور اس شعبے کے پیچ و خم سے بخوبی واقف ہے۔ میں اربابِ علم، اہل سیاست اور سماجی حلقوں سے گزارش کرتا ہوں کہ:
- ایسے ڈاکٹروں کی منصوبہ بند طریقے سے جانچ کروائی جائے۔
- انسانیت کو نقصان پہنچانے والے لالچی اور مفاد پرست اسپتالوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔
- جن مریضوں کے ساتھ ایسی گھناؤنی سازش ہوئی ہے، وہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی ڈاکو صفت ڈاکٹروں کو بے نقاب کریں۔
- علمائے کرام اپنے خطابات میں عوام کی رہنمائی کریں اور ڈاکٹروں کی اصلاح کی کوشش کریں۔
[ماخوذ از: ماہنامہ کنز الایمان، نومبر 2019ء، ص 55]
