| عنوان: | حقوق انسانی اور تعلیمات محسن انسانیت |
|---|---|
| تحریر: | محمد کمال الدین اشرفی مصباحی |
| پیش کش: | انس احمد خان العطاری |
حقوق انسانی (Human Rights) کی تعلیم کم و بیش دنیا کے تمام مذاہب میں دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وقت، حالات اور زمانے کے اعتبار سے جن انبیائے کرام اور مرسلین عظام کو انسانوں کی ہدایت کے لیے منتخب فرمایا، انھیں کتابوں اور صحیفوں کی شکل میں رہنما اصول بھی بتائے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد تمام مذاہب اور ان کی کتابیں منسوخ ہو گئیں۔ اب قیامت تک کوئی نبی اور رسول پیدا نہیں ہوگا۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ہمیں ایسی تعلیمات دیں جو قیامت تک کے لوگوں کی ہدایت اور بدلتے حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ آپ ﷺ نے جہاں اپنی امت کو اللہ رب العزت کی عبادت کا حکم دیا وہیں مخلوق خدا کے ساتھ بہتر سلوک، اچھے برتاؤ اور عمدہ اخلاق کی بھی تعلیم دی۔ رحمت دو عالم ﷺ نے حقوق انسانی پر جتنا زور دیا ہے اور اس کی تفصیلی صورت بتائی ہے، دنیا کے کسی اور مذہب میں انسانوں کے حقوق پر اتنا زور اور اس کی اتنی تفصیل نہیں ملتی۔
آج دنیا کے پاس حقوق انسانی کی جو کچھ بھی پونجی پائی جاتی ہے وہ سب صدقہ ہے محسن انسانیت مصطفیٰ جان رحمت ﷺ کی نورانی تعلیمات و ہدایات کا جن کو رب کائنات نے سارے عالم کے لیے ہادی اور رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ پیغمبر اسلام ﷺ معلم کائنات اور ہادی عالم تھے اور آپ نے اپنی پوری زندگی میں اس منصبی فریضہ کو خوب خوب انجام بھی دیا۔ اپنے اصحاب کو ہر گام پر ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کرنے کا درس دیا اور یہی نہیں کہ صرف درس دیا بلکہ خود بھی آپ نے ہر چھوٹے بڑے کے حقوق کی رعایت بھی فرمائی اور ہر شخص کے ساتھ غیر جانب دارانہ سلوک فرما کر عدل و مساوات کا بہترین نمونہ پیش کیا۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی بعثت سے قبل مشرق وسطیٰ، عراق، فلسطین، شام، برصغیر، یونان، روم اور یورپ میں طاقت وروں کو تمام حقوق حاصل تھے اور ان ہی کے مفاد کے پیش نظر تمام طرح کے قوانین اور اصول و ضوابط بنائے جاتے تھے، کمزوروں، غلاموں، مظلوموں اور زیر دستوں کی کوئی شنوائی نہیں تھی۔ انسانیت گمراہی اور تاریکی کی اتھاہ گہرائیوں میں گم تھی کسی کی عزت و آبرو محفوظ نہیں تھی، خوف، دہشت، استحصال، خون ریزی، ظلم و ستم اور قبائلی و ملکی جنگوں کا سلسلہ جاری تھا۔ رومی و ایرانی اقتدار کے پائے تلے زندہ رہنے والے انسان حیوانوں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور تھے، کسان ظالمانہ ٹیکس سے، غلام جانوروں کی طرح رات و دن کی محنت اور غریب و مقہور عوام امراء کی عیاشیوں سے پریشان تھے۔ ایسے مکدر ماحول میں پیغمبر اسلام ﷺ نے انسانی مساوات کا پیغام دیا۔ غلاموں کو معاشرے میں باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا، انسان پر انسان کے خون کو حرام اور ایک انسان کو دوسرے انسان کا بھائی قرار دیا۔ امن و شانتی اور پر سکون و خوش گوار کا ایک ایسا نظام قائم کیا جہاں ایک طرف پر امن، پر عظمت اور فکری طور پر آزاد معاشرے کی تخلیق ہوئی، وہیں دوسری طرف قوم، نسل، مذہب اور رنگ کے لوگوں کو یکساں حقوق بھی حاصل ہوئے، جس کی وجہ سے معاشرے میں امن و امان قائم ہوا، اخوت و بھائی چارگی کا ماحول پیدا ہوا۔ ایک دوسرے کے درمیان الفت و محبت قائم ہوئی۔
اجتماعی حقوق کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ نے انفرادی حقوق کی بھی تعلیم دی چنانچہ والدین کے حقوق خصوصی طور پر والدہ، زوجین کے حقوق، اولاد، بیوی، بیوہ، خواتین کے حقوق، افراد معاشرہ کا ایک دوسرے پر حقوق، رشتہ داروں، ہمسائے اور پڑوسیوں، یتیموں، بے سہاروں، مقروضوں، مسافروں، بیماروں، مہمانوں، غریبوں، محتاجوں، غلاموں، مزدوروں، گھریلو خدام، اسلامی بھائیوں، غیر مسلموں اور قیدیوں کے حقوق کی طرف بھی پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے بھر پور توجہ دلائی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن کا قاضی (Governor) بنا کر بھیجا تو انھیں خصوصی ہدایتیں دیں اور فرمایا:
”اے معاذ! میں تمھیں ہدایت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو، عہد و پیمان کو پورا کرو، امانت ادا کرو، خیانت چھوڑ دو، پڑوسیوں کی حفاظت کرو، یتیموں پر رحم کرو، نرم گفتگو کرو، سلام کو پھیلاؤ، اچھے کام کرو، امیدیں کم رکھو، حساب سے ڈرو، تواضع کرو، کسی شریف اور برد بار انسان کو گالی دینے یا سچے انسان کو جھٹلانے سے پرہیز کرو۔ کسی گناہ گار سے کوئی تعلق نہ رکھو، انصاف پسند حاکم کی نافرمانی نہ کرو، زمین میں فتنہ و فساد نہ پھیلاؤ، میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ پتھر، درخت یا مٹی پر سے گزرتے ہوئے اللہ سے ڈرو، ہر گناہ پر توبہ کرو، اگر گناہ پوشیدہ ہو تو پوشیدہ اور اعلانیہ ہو تو اعلانیہ توبہ کرو۔“ [جامع ترمذی، كتاب البر والصلة]
پیغمبر اسلام ﷺ کی مذکورہ تعلیمات میں حقوق انسانی کے ساتھ ساتھ حیوانات، جمادات اور نباتات کے حقوق کا وہ چارٹر موجود ہے، جو آج کی دنیا کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے اور ان تعلیمات پر عمل کر کے ہر ایک کے حقوق کی ادائیگی کا فریضہ بہتر طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ زندگی کے آخری حصے میں حجۃ الوداع کے موقع سے تو پیغمبر اسلام ﷺ نے عدل و مساوات کا پورے عالم کو جو درس دیا وہ ہم سب کی ہدایت کے لیے ایک گوہر نایاب ہے۔ آپ نے فرمایا:
”اے لوگو! خبردار ہو جاؤ کہ تمھارا رب ایک ہے اور بے شک تمھارا باپ ایک ہے، نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر فضیلت حاصل ہے سوائے تقویٰ کے، تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے۔“ [مسند احمد بن حنبل]
پیغمبر اسلام ﷺ نے حقوق انسانی کا ایک ایسا جامع تصور اس موقع پر پیش کیا، جس کی روشنی میں اکناف عالم کو منور اور امن عالم کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ آپ نے اس خطبے میں انسان کے ہر طبقہ کی ہدایت کے لیے ایسے اصول و ضوابط مقرر فرما دیے جن پر عمل پیرا ہو کر آج ایک صالح معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
ذیل میں حقوق انسانی کے متعلق پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیمات کے کچھ نمونے معتبر کتابوں کے حوالے سے پیش کیے جاتے ہیں:
عام انسانی حقوق
معلم اخلاق و انسانیت پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی حیات ظاہری کے آخری ایام میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اعلان عام کا حکم دیا کہ مسجد میں جمع ہو جائیں تا کہ کچھ نصیحت کروں، حسب اعلان لوگ جمع ہو گئے، پھر آپ نے ممبر پر جلوہ فگن ہو کر ایک فصیح و بلیغ خطبہ کے بعد یہ اعلان فرمایا کہ ”جس شخص کا مجھ پر کوئی حق ہو وہ مجھ سے لے لے تا کہ روز قیامت وہ میرا دامن نہ تھامے۔“ ایک موقع پر پیغمبر اسلام ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی کے متعلق برا گمان کرنے سے بچو کہ یہ بہت بری بات ہے، نہ کسی کی ٹوہ میں لگو، اور نہ عیب جوئی کرو، نہ ایک دوسرے پر فخر کرو، اور نہ باہم بغض و حسد کرو، اور نہ ہی دشمنی رکھو اور اے اللہ کے بندو! تم سب بھائی بھائی بن جاؤ۔“ [صحیح مسلم، ج: 2، ص: 31]
والدین کے حقوق
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں برکت دے اور اس کا رزق بڑھا دے تو اس کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اپنے رشتہ داروں سے تعلق قائم رکھے۔“ [در منثور، ج: 3، ص: 173]
ایک دوسری حدیث میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے دو عالم ﷺ نے فرمایا: ”تمام گناہوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے لیکن جو شخص اپنے ماں باپ کی نافرمانی اور دل آزاری کرے اس کو آخرت سے قبل ہی اس دنیا میں طرح طرح کی بلا و مصیبت میں گرفتار کر دیتا ہے۔“ [مشکوۃ شریف، ص: 441، باب البر والصلة]
بچوں کے حقوق
پیغمبر اسلام ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی کے یہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو خدائے تعالیٰ اس کے یہاں رحمت کے فرشتوں کو بھیجتا ہے جو آکر یہ کہتے ہیں اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو، اور وہ فرشتے اُس لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں یہ کمزور جان جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خدا اس کی مدد کرے گا۔“ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی لڑکیوں کی پیدائش کے ذریعہ آزمایا جائے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کر کے آزمائش میں کامیاب ہو تو یہ لڑکیاں اُس کے لیے قیامت کے روز جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی۔“ [مشکوۃ شریف]
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کی لڑکی ہو اور اس کو وہ زندہ درگور نہ کرے اور اُس پر اپنے لڑکے کو بھی ترجیح نہ دے تو اللہ تعالیٰ اُس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔“ [سنن ابو داؤد شریف]
یتیموں کے حقوق
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں کا بہترین گھر وہ ہے جس گھر میں یتیم ہو اور اُس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے اور مسلمانوں کا سب سے برا گھر وہ ہے جس گھر میں یتیم رہے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کا برتاؤ کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجہ]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقائے دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو کوئی یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرے گا اور وہ صرف رضائے الہی کے لیے ایسا کرے گا تو اپنے شفقت والے ہاتھ کے بال کے برابر ثواب پائے گا اور جو یتیم بچوں کے ساتھ بھلائی کرے گا وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔“ [جامع ترمذی شریف]
عورتوں کے حقوق
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں بہتر انسان وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں بہتر ہو اور میں خود بھی اپنے اہل و عیال کے حق میں بہتر ہوں۔“ [جامع ترمذی شریف]
ایک دوسری روایت میں ہے پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! سنو عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ وہ تمھارے پاس قیدی کے درجہ میں ہیں، ان کے ساتھ سختی صرف اُسی وقت روا ہے جب کہ اُن کی طرف سے کھلی نافرمانی ظاہر ہو، تو اگر وہ ایسا کریں تو اُن سے خواب گاہوں میں قطع تعلق کر لو اور اُن کو اتنا ہی مارو جو زخمی کرنے والی نہ ہو پھر اگر وہ تمھارا حکم مانیں تو اُن کو ستانے کا راستہ مت تلاش کرو، سنو: کچھ حقوق تمھارے اُن پر ہیں اور کچھ حقوق اُن کے تم پر ہیں۔“ [جامع ترمذی شریف، ج: 1، ص: 220]
بیواؤں اور مسکینوں کے حقوق
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیوہ اور مسکین کے حق میں جدوجہد کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جو راہ خدا میں دوڑ دھوپ کرتا ہے۔“ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا: ”وہ اُس شخص کی طرح ہے جو مسلسل خدا کی یاد میں کھڑا رہتا ہے اور لگاتار روزے رکھتا ہے۔“ [صحیح مسلم شریف]
پڑوسیوں کے حقوق
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تمھیں معلوم ہے کہ پڑوسی کا حق کیا ہے؟ اُن کا حق یہ ہے کہ جب وہ تم سے مدد مانگے اُس کی مدد کرو، قرض مانگے قرض دو، محتاج ہو تو اسے عطا کرو، جب بیمار ہو تو عیادت کو جاؤ، اسے خیر پہنچے تو مبارک بادی پیش کرو، اُسے مصیبت پہنچے تو اُس کی مدد کرو، مر جائے تو اُس کے جنازے میں شرکت کرو، بغیر اس کی اجازت کے اپنی عمارت بلند نہ کرو کہ تم اُس کی ہوا روک دو، اپنی ہانڈی سے اسے ایذا نہ دو مگر اس میں سے کچھ اُسے بھی دو، میوہ خریدو تو اُسے ہدیہ کرو اور اگر ایسا نہ کر سکو تو اسے پوشیدہ طور پر لاؤ، اور تمھارے بچے اُسے لے کر باہر نہ نکلیں کہ پڑوسی کے بچوں کو تکلیف ہوگی، قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے پورے طور پر پڑوسی کا حق ادا کرنے والے بہت کم لوگ ہیں، وہی ہیں جن پر اللہ کی رحمت ہے۔“ [سنن بیہقی شریف]
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ”مومن ایسا نہیں ہوتا کہ خود تو پیٹ بھر کھائے اور اُس کا پڑوسی جو اُس کے پہلو میں رہتا ہے بھوکا رہے۔“ [مشکوۃ شریف]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر! جب تو شوربا پکائے تو کچھ پانی زیادہ کر دے اور اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری کر۔“ [صحیح مسلم شریف]
غلاموں کے حقوق
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی میرا بندہ یا میری بندی نہ کہے کہ تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمھاری عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں۔“ [صحیح بخاری، ص: 637]
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آقائے دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”غلام اپنے آقا کو میرا مولیٰ نہ کہے کہ ہمارا مولیٰ اللہ عزوجل ہے۔“ [صحیح بخاری]
مزدوروں کے حقوق
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رحمت دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلا شبہ تمھارے بھائی تمھارے غلام ہیں، اللہ تعالیٰ نے اُن کو تمھارے زیر دست کر رکھا ہے، پس جس کسی کا بھائی اُس کے ماتحت ہو اسے وہ کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہ پہنائے جو خود پہنتا ہے، ان پر کام کا اتنا بوجھ نہ ڈالے کہ وہ اُٹھا نہ سکیں، اگر اُن کی طاقت سے زیادہ ان کو کام دو تو اُس کے پورا کرنے میں اُس کی مدد کرو۔“ [صحیح بخاری شریف، كتاب العتق]
ایک موقع سے آقائے دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو کوئی کسی مزدور کو مزدوری پر رکھے تو چاہیے کہ اُس کی مزدوری کو پیشگی بتا دے۔“ [مسند احمد بن حنبل، ج: 3، ص: 59]
ایک دوسری روایت میں ہے آقائے دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ: ”مزدور کو اُس کی مزدوری دے دو اس سے پہلے کہ اس کا پسینہ خشک ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجہ، ج: 2، ص: 817]
ضعیفوں کے حقوق
حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ”کمزوروں اور زیر دستوں کے معاملے میں میرا تعاون کرو ان ہی کے سبب مدد اور رزق ملتا ہے۔“ [صحیح بخاری شریف]
معذوروں کے حقوق
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قدرت کا قلم تین آدمیوں سے اُٹھا لیا گیا ہے:
- دیوانہ جب تک اُسے افاقہ نہ آجائے۔
- بچہ جب تک بلوغ کی عمر کو نہ پہنچے۔
- سونے والا جب تک بیدار نہ ہو جائے۔“
پیغمبر اسلام ﷺ نے حقوق انسانی کے تعلق سے دنیائے انسانیت کو جو ہدایات اور تعلیمات دی ہیں اُن کا یہ ایک مختصر خاکہ ہے جن کی شرح و بسط کے لیے دفتر کی ضرورت ہے۔
حاصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے ایک متمدن اور پر امن معاشرہ کی تشکیل اور عظمت انسانیت کے فروغ کے لیے ان کے انفرادی اور اجتماعی حقوق کا جس قدر پاس و لحاظ فرمایا ہے اور اُس کی تعلیم دی ہے اُس کی مثال مشکل سے دنیا کے کسی اور مذہب میں مل سکتی ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے اسلام کی اتنی واضح اور صاف و شفاف تعلیمات کے باوجود آج کچھ متعصب افراد اسلام کی تعلیمات کو علاحدگی پسند، تشدد پسند تعلیمات کا نام دیتے ہیں، اور اس مذہب مہذب کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
متعصبین و مخالفین اسلام، پیغمبر اسلام ﷺ کی ان تعلیمات کی روشنی میں آنکھوں سے عصبیت و مخالفت کی عینک اتار کر دیکھ لیں کہ جو مذہب انسانی حقوق کا اس قدر علمبردار ہو وہ بھلا دہشت گردی جیسے جرائم کو کیسے فروغ دے سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو پیغمبر اسلام کی ان نورانی تعلیمات اور پاکیزہ ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق بخشے اور آپ کی مقدس زندگی کو ہمارے لیے مشعل راہ بنائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین۔
[ماہنامہ کنز الایمان دہلی، دسمبر 2013، ص: 16]
