| عنوان: | چاند رات کی خوشی اور غفلت کے میدان کا توازن |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ ام الورع ایوبی |
| پیش کش: | ندائے قلم ایوبیہ اکیڈمی للبنات |
رمضان کی آخری شام جب آسمان پر باریک سا چاند نظر آتا ہے تو دل میں ایک خاموش سی خوشی اترتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ایک مہینے کی عبادت کا سفر مکمل ہو گیا ہو۔ تھکن کے ساتھ ایک سکون بھی ہوتا ہے، اور آنکھوں میں عید کی صبح کا انتظار۔ گھروں میں ہلکی سی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے، بچے بار بار آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور دل شکر کے جذبات سے بھرنے لگتا ہے۔ یہ صرف چاند کا دکھائی دینا نہیں بلکہ قبولیت کی امید کا لمحہ ہوتا ہے۔
چاند رات کی رونق سادہ مگر خوبصورت ہوتی ہے۔ گھر صاف کیے جاتے ہیں، نئے کپڑے نکالے جاتے ہیں، مہندی کی خوشبو پھیلتی ہے، بازار روشن ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف خوشی کا احساس ہوتا ہے، لوگ ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھتے ہیں، دلوں میں عید کی خوشی جاگتی ہے۔ سارا ماحول جیسے تازہ ہو جاتا ہے۔
لیکن اسی خوشی کے ساتھ ایک آزمائش بھی چلتی ہے۔ چاند رات گویا دو میدانوں کے درمیان کھڑی ہے: ایک طرف خوشی کا میدان اور دوسری طرف غفلت کا میدان۔ اب یہ ہماری مرضی ہوتی ہے کہ ہم کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ خوشی اچھی ہے، مگر اگر وہ حد سے بڑھ جائے تو دل کی نرمی کم ہونے لگتی ہے۔
چاند رات شکر گزاری کا وقت ہے۔ یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رمضان کی عبادت ہماری اپنی طاقت سے نہیں بلکہ اللہ کی توفیق سے تھی۔ اگر اس رات چند لمحے دعا میں گزر جائیں، اس طرح کہ زبان پر شکر ہو اور دل میں عاجزی ہو تو یہ خوشی اور بھی خوبصورت بن جاتی ہے۔
اسلام ہمیں خوش رہنے سے نہیں روکتا، بلکہ سکھاتا ہے کہ خوشی میں بھی اعتدال ہونا چاہیے۔ اچھے کپڑے پہننا، بچوں کو خوش کرنا، گھر والوں کے ساتھ بیٹھنا سب اچھی باتیں ہیں، لیکن اگر یہی مصروفیت ہمیں نماز سے دور کر دے تو سمجھ لینا چاہیے کہ کہیں نہ کہیں توازن کمزور پڑ رہا ہے۔
غفلت ہمیشہ شور سے نہیں آتی، وہ آہستہ آہستہ دل میں جگہ بناتی ہے اور دل کو مصروف کر دیتی ہے۔ یعنی غیر ضروری خرچ، دیر تک جاگنا، بے مقصد مصروفیات اور وقت کا ضیاع؛ یہ سب چیزیں انسان کو اصل مقصد سے دور کر دیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ خوشی اور عبادت ایک ساتھ رہیں۔
توازن قائم کرنا مشکل نہیں، بس نیت صاف ہو، وقت کی قدر ہو، اور دل میں شکر ہو۔ اگر اپنی خوشی میں کسی غریب کو بھی یاد کر لیا جائے تو عید کی مسرت اور بڑھ جاتی ہے۔ دوسروں کی خوشی میں اپنی خوشی شامل کرنا ہی اصل خوبصورتی ہے۔
چاند رات دل کا آئینہ ہے۔ اگر دل بیدار ہو تو ہر رونق اچھی لگتی ہے اور اگر دل غافل ہو تو روشنی بھی خالی محسوس ہوتی ہے۔ یہی رات ہمیں سکھاتی ہے کہ خوشی اور ذمہ داری ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ یوں چاند رات صرف ایک تہوار نہیں رہتی بلکہ ایک لمحہ بن جاتی ہے، اپنے دل کو سنوارنے کا، اپنے رب کا شکر ادا کرنے کا اور خوشی کو اسلامی طرز پر منانے کا، جب مسکراہٹ کے ساتھ شکر اور مصروفیت کے ساتھ یادِ الٰہی ہو۔
اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ چاند رات ہم سب کے دل میں سکون اور گھر میں خوشی اور زندگی میں برکت لے کر آئے۔ دل ہمیشہ نرم اور شکر گزار رہے، عبادت قبول ہو، اور ہر لمحہ یادِ الٰہی کے ساتھ گزرے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
