| عنوان: | ڈاکٹر ساحل سہسرامی! بحیثیت مصنف و محقق (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا طفیل احمد مصباحی |
| پیش کش: | نازیہ فاطمہ |
آبروئے علم و حکمت، نازشِ قرطاس و قلم محققِ عصر مفتیِ دوراں حضرت علام مفتی ڈاکٹر ارشاد احمد ساحل سہسرامی مصباحی علیہ الرحمہ کا تعلق اس زرخیز علمی و ادبی اور روحانی خطے سے تھا، جس کے بارے میں آج بھی کہا جاتا ہے کہ ”سہسرام کے کنکر پتھر بھی شاعری کرتے ہیں“۔ تاریخِ رجالِ سہسرام کا مطالعہ کرنے والا اس دعویٰ کی ضرور تائید و توثیق کرے گا۔
اربابِ شریعت و طریقت، فقیہانِ حرم، اصحابِ علم و تحقیق، علما و مشائخ اور شعرا و ادبا کا علمی قافلہ ہر دور میں اس سرزمین پر موجود رہا ہے، گزشتہ ایک صدی کے اندر وہاں سے حضرت علامہ فرخند علی فرحت سہسرامی، علامہ مفتی صدیق صادق سہسرامی ممدوح حافظِ ملت، محدث سہسرام حضرت علامہ مفتی ضیاء الحسن ضیاء، حضرت علامہ کامل سہسرامی علیہم الرحمہ جیسی وہ نامور علمی و روحانی ہستیاں نمودار ہوئی ہیں جن کی دینی، ملی اور علمی و ادبی خدمات سے آج بھی سہسرام کی دھرتی لالہ زار اور رشکِ شیراز بنی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر ساحل سہسرامی نے اپنی علمی و تحقیقی کتاب ”مولانا سید غیاث الدین حسن شریفی: حیات اور شاعری“ کے آغاز میں لکھا ہے کہ سہسرام کی عظمت کے لیے شیر شاہ سوری کی نسبت ہی کافی ہے لیکن یہ قدرت کے دیگر انعامات سے بھی مالا مال ہے، میں سہسرام کو آثارِ قدیمہ کی جنت ”People Shahabad Land“ کہتا ہوں تو ممتاز صوفی شاعر اور عالم مولانا محمد عثمان عرفان مہاجر مکی اسے ”ریاضِ جنت“ سے تشبیہ دیتے ہیں، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
الشهسرام بلدة من بلاد الهند من مضافات البهار لا ريب أن الشهسرام من روضات الجنات ذوات العيون الجاريات والجبال الراسيات والأشجار الخضرات، معدن الأولياء، مخزن العلماء.
یعنی سہسرام مضافاتِ بہار میں ہندوستان کا ایک ممتاز شہر ہے جو بلاشبہ باغاتِ جنت کا نمونہ ہے، جہاں دلکش چشمے بہتے ہیں، پہاڑوں کی بلند و بالا چوٹیاں ہیں، ہرے بھرے درخت ہیں، سہسرام اولیا کی کان اور علما کا مخزن ہے۔ [ماہنامہ خوشبو، سہسرام جولائی 1980ء، ص: 25]
اس مدینۃ الاولیا اور معدن العلما کو رضا علی عابدی شیروں کے ساتھ ساتھ ”شعروں کی سرزمین“ کہتے ہیں، انہیں یہاں کے سنگریزے بھی گنگناتے سنائی دیتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اس شہر کی ٹھیکری بھی بولتی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ برا نہیں بولتی، سہسرام والے اچھے شعر کہتے ہیں، وہ شاعری کی جدید روایتوں سے کٹے ہوئے نہیں، اس کا احساس مجھے اس شام اس شعری نشست میں پیدا ہوا اور بنارس سے بھی بڑے اچھے اچھے شعر سنے تو ویرانوں میں پھولوں کے کھلنے کا گمان ہوا... یہ سہسرام تو ہے جہاں بان بھٹ نے کادمبری لکھی تھی، یہ پھگوا، چیتا، کجری اور بارہ ماسہ کی سرزمین ہے۔ بدلتے موسموں نے یہاں اشعار کو نئی نئی تانیں اور بدلتے وقتوں نے نئے نئے معنی عطا کیے ہیں۔ [جرنیلی سڑک، رضا علی عابدی، کراچی پاکستان، ص: 279-280]
ڈاکٹر ساحل سہسرامی اسی وادیِ علم و حکمت اور مرکزِ شعر و سخن (سہسرام) کے ایک نامور سپوت تھے جو پوری زندگی سراپا حرکت و عمل بنے رہے اور اپنے عزمِ جواں کی ٹھوکروں سے صحرا کو گلزار بناتے رہے۔ موصوف اپنے ننھے سے وجود میں شاہین کا حوصلہ رکھتے تھے اور نت نئے آفاق کی تلاش میں ہمیشہ سرگرداں و کوشاں رہا کرتے تھے۔ ڈاکٹر ساحل سہسرامی متعدد علمی خوبیوں کے مالک تھے، شخصِ واحد میں بیک وقت اتنی ساری خوبیوں کا اجتماع بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
عالم و فاضل، مفتی، مدرس، مفکر، محقق، ادیب، شاعر، ناقد اور محض رسمی ٹائٹل نہیں بلکہ ان کی علمی و عملی زندگی میں ان کے بے شمار شواہد موجود ہیں۔ اس مختصر تحریر میں بحیثیت مصنف و محقق ان کا مختصر تعارف پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساحل سہسرامی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے نامور مصباحی عالمِ دین تھے، اپنے وطن سہسرام کی مشہور دانش گاہ دار العلوم خیر یہ نظامیہ میں ناظرہ اور ثانیہ تک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 29 جولائی 1986ء کو جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں داخلہ لیا اور وہاں کے جید اساتذہ سے مروجہ علوم و فنون کی تحصیل کر کے 1993ء میں سندِ فضیلت حاصل کی۔ فراغت کے بعد شارحِ بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی کی خصوصی نگرانی میں ”تخصص فی الفقہ“ کا کورس مکمل کیا، فراغت کے بعد تقریباً آٹھ سال تک مادرِ علمی جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں درس و تدریس اور فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دی۔
راقم الحروف جس وقت جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں زیرِ تعلیم تھا، اس وقت آپ کے درجنوں تلامذہ وہاں زیرِ تعلیم تھے، وہ ڈاکٹر ساحل سہسرامی کی علمی فضیلتوں سے متعلق بہت ساری باتیں بتایا کرتے تھے۔ آپ درسِ نظامی کی چھوٹی بڑی کتابیں پورے عالمانہ طمطراق کے ساتھ پڑھایا کرتے اور طلبہ آپ کی درس گاہ سے مطمئن ہو کر لوٹتے تھے۔ جامعہ اشرفیہ میں درس و تدریس کے علاوہ فقہ و افتا کی خدمت بھی آپ سے متعلق تھی، اشرفیہ جیسے باوقار ادارے میں آپ نے ایک ہزار فتاویٰ تحریر کیے، جن پر حضور شارحِ بخاری کی تصدیقات موجود ہیں۔
جب آپ اشرفیہ میں مدرس و مفتی کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے تھے، اس وقت اساتذہ و طلبہ میں آپ کے علم و فضل کا بڑا چرچا تھا۔ شارحِ بخاری کے بڑے محبوب اور منظورِ نظر تلمیذ تھے، اسی طرح محدثِ جلیل حضرت علامہ عبد الشکور مصباحی (سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مبارک پور) سے بھی آپ نے خوب خوب اکتسابِ فیض کیا تھا۔ علامہ عبد الشکور مصباحی آپ کے علم و فضل کو سراہا کرتے اور فرماتے کہ ساحل سہسرامی بڑے کام کے آدمی ہیں۔ اسی طرح ساحل سہسرامی فرمایا کرتے کہ جب تک شارحِ بخاری اشرفیہ میں ہیں، میں یہاں ہوں، اس کے بعد مجھے یہاں سے رخصت کر دیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا۔ وجہ جو بھی رہی ہو لیکن ساحل سہسرامی ہر جہت سے اشرفیہ جیسے باوقار ادارے کی زینت بنائے جانے کے لائق استاذ تھے، ایک کامیاب استاذ، با صلاحیت مدرس اور قابل مفتی کی ساری خصوصیات آپ میں موجود تھیں۔ بالعموم علمی طبقے میں دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
علامہ ڈاکٹر ساحل سہسرامی دینی و عصری علوم کے ممتاز اسکالر تھے، وہ جہاں جامعہ اشرفیہ مبارک پور جیسی عظیم اور مرکزی درس گاہ کے سند یافتہ عالم و مفتی تھے، وہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسی مشہور دانش گاہ کے مایہ ناز اسکالر تھے۔ جامعہ اشرفیہ میں درس و تدریس اور فقہ و افتا کے فرائض انجام دینے کے بعد آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تشریف لے گئے اور وہاں سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد 2010ء میں بنگلور تشریف لے گئے، وہاں سے آئی ای ایل ٹی ایس (IELTS) یعنی International English Language Testing System کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد کسی ادارے سے منسلک ہو گئے۔ کچھ سال اندور (ایم پی) میں رہے، اس کے بعد عروس البلاد (ممبئی) میں تشریف لے گئے، ہمارے یہاں اہلِ علم اور با صلاحیت افراد کی قدردانی کم ہے، ساحل صاحب کو کسی ایک جگہ سکون سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے بعد اگر ان کو کوئی مضبوط پلیٹ فارم مل گیا ہوتا تو وہ اپنے علم و تحقیق کا خاطر خواہ استعمال کر کے عظیم پیمانے پر دین و دانش کی خدمت انجام دیتے۔ مگر ہماری جماعتی بے حسی نے ایسے قیمتی ہیرے کی بالکل قدر نہیں کی، آپ ایک عرصہ تک خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف سے شائع ہونے والے سالنامہ ”اہل سنت کی آواز“ کے معاون مدیر بھی رہے۔ اپنی ذہانت و طباعی، فضل و کمال اور علمی رسوخ کے سبب پروفیسر سید امین میاں برکاتی دام ظلہ العالی اور خانوادہ برکاتیہ کے دوسرے بزرگوں کے منظورِ نظر رہے۔ آپ تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی الحاج محمد اختر رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے مرید و خلیفہ تھے۔ حضور احسن العلماء مارہروی علیہ الرحمہ سے بیعتِ طلب کا شرف حاصل تھا۔ حضور تاج الشریعہ کے علاوہ مخدومِ ملت حضرت مولانا سید اویس مصطفیٰ واسطی بلگرامی دام ظلہ العالی سے بھی خلافت حاصل تھی۔
ڈاکٹر ساحل سہسرامی کی علمی و ادبی اور تحقیقی و تصنیفی خدمات
اکیسویں صدی کے ہندوستان نے جن نامور مصنفین اور دیدہ ور محققین کو وجود بخشا ہے، ڈاکٹر ساحل سہسرامی ان میں سے ایک تھے، بحیثیت مصنف و محقق ان کی حیثیت مسلم ہے۔ مصنف ہونا اور ہے اور محقق ہونا اور۔ اللہ رب العزت نے ساحل صاحب کو علم و فضل، ذہانت و فطانت اور شعور و دانائی کے ساتھ تصنیف و تحقیق کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا، آپ نرے مصنف نہیں بلکہ ”محقق مصنف“ تھے۔ آپ کی جملہ نگارشات تحقیقی شان رکھتی ہیں۔ تحقیق و تصنیف کے علاوہ آپ تنقید و تدوین اور تقدیم و ترجمہ نگاری کے فن سے بھی آگاہ تھے۔ تنقید نگاری و مقدمہ نگاری میں آپ کو کمال حاصل تھا۔ ”صادق سہسرامی! حیات اور شاعری“ میں آپ کی تنقیدی مہارت پوری طرح نکھر کر سامنے آتی ہے۔
اسی طرح ”فتاویٰ ملک العلما“ اور ”منبع الانساب“ کا بیش قیمت مقدمہ پڑھ کر بابائے اردو مولوی عبد الحق اور مولانا حبیب الرحمن شروانی (رفیقِ خاص علامہ سید سلیمان اشرف بہاری) کی تقدیم نگاری کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ آپ کی وقیع اور فکر انگیز مقدمہ نویسی اور تراجم نگاری پر مدلل اور مبسوط مقالہ قلم بند کیا جا سکتا ہے اور آپ کی ہمہ جہت دینی، علمی، تصنیفی و تحقیقی خدمات پر ایم فل یا پی ایچ ڈی کی جا سکتی ہے۔
زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے ہم ان کی تصنیفی اور تحقیقی حیثیت پر گفتگو کرتے ہیں۔ تحقیق، سچ یا حقیقت کی دریافت کا عمل ہے، ڈاکٹر سید عبد اللہ کے بقول: ”تحقیق کے لغوی معنی کسی شے کی حقیقت کا اثبات ہے، اصطلاحاً یہ ایک ایسے طرزِ مطالعہ کا نام ہے، جس میں موجودہ مواد کے صحیح یا غلط ہونے کو بعض مسلمات کی روشنی میں پرکھا جاتا ہے۔“
قاضی عبد الودود کہتے ہیں: ”تحقیق کسی امر کو اس کی اصلی شکل میں دیکھنے کی کوشش ہے۔“ تحقیق کو آسانی کے لیے عام طور پر دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اول: سندی تحقیق، دوم: غیر سندی تحقیق۔ سندی تحقیق وہ ہے جو کسی سند حاصل کرنے کے لیے کی جائے، غیر سندی تحقیق وہ ہے جس کا مقصد سند حاصل کرنا نہ ہو۔ دونوں قسم کی تحقیق کا مقصد حقائق کی تلاش اور ان کی کھوج کرنا ہوتا ہے، لیکن پہلی قسم کی تحقیق (سندی) پابند اور دوسری قسم کی تحقیق (غیر سندی) غیر پابند ہوتی ہے۔ سندی تحقیق میں محقق کی غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کو سند مل جائے (جیسا کہ عصری جامعات اور یونیورسٹیوں میں کسی بھی موضوع پر تحقیق کر کے سند حاصل کی جاتی ہے) سندی تحقیق میں محقق زیادہ کھل کر رائیں نہیں دیتا اور نہ ہی زیادہ اختلافی بحثوں میں پڑتا ہے۔ لیکن غیر سندی تحقیق جسے ”غیر پابند“ کہا گیا ہے، وہ زیادہ تر آزاد اور غیر جانب دار ہوتی ہے، اس میں محقق بغیر کسی خوف کے اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے اور اپنے جمع کیے ہوئے مواد کے پیشِ نظر نتیجے اخذ کرتا ہے۔
موضوع کے اعتبار سے تحقیق کی چار قسمیں ہیں:
- صحتِ متن کی تحقیق و تدوین۔
- مصنف یا شاعر کی سوانح اور حالاتِ زندگی کی تحقیق۔
- لسانی حقیقتوں کی کھوج، جس میں قدیم زبان، محاورات، عروض اور رسم الخط وغیرہ شامل ہے۔
- معلوم شدہ حقائق یا اصولوں کی تجدید کرنا اور نئے انداز سے پیش کرنا، اس میں یعنی تحقیق کی مذکورہ اقسامِ اربعہ میں بعض کا تعلق صرف تحقیق سے ہے اور بعض کا تحقیق اور تنقید دونوں سے یکساں طور پر منسلک ہے۔ مثلاً: صحتِ متن کی تحقیق یا سوانحی حالات کی تلاش اور لسانی حقیقتوں کی جستجو کا براہِ راست کوئی تعلق تنقید سے نہیں ہے لیکن معلوم شدہ حقائق یا اصولوں کی تجدید، بغیر تنقید کے ممکن نہیں ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بقیہ چیزوں کا تنقید سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، تنقیدی شعور کے بغیر تحقیق کا کسی صحیح نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے، اس طرح تنقید و تحقیق میں ایک ربط لازمی ہمیشہ سے جاری رہا ہے۔ [جدید اردو تنقید: اصول و نظریات، ص: 419-420، ناشر: اتر پردیش اردو اکیڈمی لکھنؤ]
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
