Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

رخ مصطفی

رخ مصطفی
عنوان: رخ مصطفی
تحریر: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

انسان جب کسی سے محبت کرتا ہے تو عام طور پر دو چیزیں دیکھ کر محبت کرتا ہے:

  1. کامیابی۔
  2. خوبصورتی۔

جس انسان کو بھی دنیا میں کامیاب مانا جائے، اور جو خوبصورتی میں سب سے آگے ہو، لوگ اسی سے عام طور پر محبت کرتے ہیں۔

اب اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھیں تو ہمیں وہ عظیم ہستی نظر آتی ہے جن کی کامیابی دنیا و آخرت میں بے مثال ہے، اور جن کے چہرے کا حسن ایسا کہ کائنات میں کوئی مثال نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیاں ایسی ہیں کہ دشمن بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کی شان ایسی ہے کہ قرآن مجید نے فرمایا: وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخِ انور کا حسن ایسا تھا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے فرمایا:

وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقْص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دُھواں نہیں

بہر حال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر خوبی میں یکتا ہیں جیسے تاج الشریعہ نے فرمایا:

مصطفائے ذاتِ یکتا آپ ہیں
یک نے جس کو یک بنایا آپ ہیں

آپ جیسا کوئی ہو سکتا نہیں
اپنی ہر خوبی میں تنہا آپ ہیں

لہٰذا اب میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخِ انور کے ذکر کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

چہرۂ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

سب سے پہلے معلوم ہونا چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رخِ انور کیسا تھا؟ مصطفی جانِ رحمت، شفیعِ امت، مخزنِ جود و سخاوت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا رخِ انور جمالِ الہی کا آئینہ اور انوار و تجلیات کا مظہر تھا، پُر گوشت اور کسی قدر گول تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھتے ہی حضرت سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہہ اٹھے کہ ”یہ دَروغ گو (یعنی جھوٹے) کا چہرہ نہیں“ اور ایمان لے آئے۔ [ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب ماجاء فی قیام اللیل، ج: 2، ص: 127، حدیث: 1334]

قرآن مجید میں رخِ مصطفی

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ بارک وسلم کے چہرۂ انور کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پاکیزہ کلام میں ذکر فرمایا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے:

وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى

ہم اس آیتِ کریمہ کا مطلب امام احمد رضا خان کے اس شعر سے سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت امامِ عشق و محبت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:

ہے کلامِ الہی میں شمس الضحیٰ تیرے چہرے نور فزا کی قسم
قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زلفِ دوتا کی قسم

یعنی امام احمد رضا خان فرما رہے ہیں کہ اے میرے آقا! اے میرے سردار! میرے نور والے آقا! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قرآن کریم میں وَالشَّمْسِ وَالضُّحَى فرما کر خدا تبارک و تعالیٰ نے آپ کے رخِ انور کی قسم یاد فرمائی اور وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى فرما کر آپ کی کنڈل والی سیاہ زلفوں کی قسم یاد فرمائی، گویا اگر دن منور و روشن ہے تو چہرۂ مصطفیٰ سے اور اگر رات سیاہ ہے تو زلفِ دوتا سے۔

حسنِ یوسف اور حسنِ مصطفی

نبی اکرم نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چہرے کے حسن و جمال کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر چیز کو پیدا فرما کر اس کو حسن بخشا، پھر پوری کائنات کے حسن سے زیادہ حسن حضرت یوسف علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمایا۔ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے حسن و جمال کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جب عورتوں نے مصر میں حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے حسن و جمال کو دیکھا تو بے خودی کے عالم میں انھوں نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کاٹ لیں، اس واقعے کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا ہے:

فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ [یوسف: 31]

ترجمۂ کنز الایمان: جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنسِ بشر سے نہیں، یہ تو نہیں مگر کوئی معزز فرشتہ۔

اس آیتِ کریمہ کے تحت مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: چونکہ انھوں نے اس جمالِ عالم افروز کے ساتھ نبوت و رسالت کے انوار اور عاجزی و انکساری کے آثار اور شاہانہ ہیبت و اقتدار اور لذیذ کھانوں اور خوبصورت چہروں کی طرف سے بے نیازی کی شان دیکھی، تعجب میں آ گئیں اور آپ کی عظمت و ہیبت دلوں میں بھر گئی اور حسن و جمال نے ایسا وارفتہ کیا کہ ان عورتوں کو خود فراموشی ہو گئی اور دل حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ایسے مشغول ہوئے کہ ہاتھ کاٹنے کی تکلیف کا اصلاً (یعنی بالکل) احساس نہ ہوا۔ [خزائن العرفان، یوسف، تحت الآیۃ: 31]

یہ تو حضرت سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے حسن و جمال کا عالم تھا کہ جنھیں دیکھ کر مصر کی عورتوں نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کاٹ لیں، تو حسن و جمال کے شاہکار، حبیبِ پروردگار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حسن و جمال کا کیا عالم ہوگا کہ جس کا حسن حضرت سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے حسن و جمال سے بڑھ کر حسین و جمیل ہے! اسی لیے تو بریلی کے امام، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:

حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زناں
سر کٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردانِ عرب

خوشنودی کو پہچان لیتے

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرۂ انور کی مثال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی گفتگو میں ایسے دیتے کہ گویا چاند اپنی پوری آب و تاب (چمک دمک) سے روشن ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا چہرہ جب خوشی سے دمکتا تو صحابہ کرام اس نورانی تجلّی سے آپ کی خوشنودی کو پہچان لیتے۔ چنانچہ

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ، قَالَ: فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ آللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ، وَكَانَ رَسُولُ آللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ، وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ. [البخاري في الصحيح، كتاب المناقب، باب صفة النبي صلى الله عليه وسلم، ج: 3، ص: 1305، الرقم: 3363]

ترجمہ: حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: (توبہ قبول ہونے کے بعد) جب میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا چہرۂ انور خوشی سے جگمگا رہا تھا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب خوش ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا چہرۂ مبارک یوں نور بار ہو جاتا جیسے وہ چاند کا ٹکڑا ہے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرۂ انور کے چمکنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خوش ہونے کو جان جاتے تھے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے

کیا چہرۂ انور تلوار کی طرح تھا؟

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جمالِ مبارک کا عالم یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے حسن و جمال کی تعریف کرتے ہوئے الفاظ ڈھونڈنے لگتے۔

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سُئِلَ الْبَرَاءُ أَكَانَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ؟ قَالَ: لَا بَلْ مِثْلَ الْقَمَرِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ. [البخاري في الصحيح، كتاب المناقب، باب صفة النبي صلى الله عليه وسلم، ج: 3، ص: 1304، الرقم: 3359]

ترجمہ: حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا چہرۂ انور تلوار کی طرح (چمک دار) تھا؟ انھوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ چاند کی طرح (روشن) تھا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ بارک وسلم کا سایہ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج کی دھوپ میں کھڑے ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور سورج کی روشنی پر غالب آ جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چراغ کے اجالے میں کھڑے ہوتے تھے چراغ کی روشنی پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا نور غالب آ جاتا تھا۔ [سیرۃ النبی، ج: 2، ص: 584]

حضرت سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے حضور نبی پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چاندنی رات میں دیکھا، میں کبھی چاند کی طرف دیکھتا اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے چہرۂ انور کو دیکھتا تو مجھے آپ کا چہرہ چاند سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آتا تھا۔ [ترمذی، کتاب الادب، باب ما جاء فی الرخصۃ...الخ، ج: 4، ص: 370، حدیث: 2820]

اور ام المؤمنین حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور خوش رنگ تھے۔ جس نے بھی آپ کی تعریف و توصیف بیان کی اس نے آپ کو چودھویں کے چاند سے تشبیہ دی ہے، پسینہ مبارک کی بوند آپ کے چہرۂ انور پر چمکدار موتی کی طرح معلوم ہوتی تھی۔ [دلائل النبوة لأبي نعيم، الفصل الثلاثون في ذكر موازاة...الخ، القول فيما أوتي يوسف عليه السلام، ص: 360]

چاند سے تشبیہ دینے میں کیا حکمت...؟

حضور اکرم نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے حسن و جمال سے متعلق صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے دلنشین فرامین سن کر یقیناً عاشقانِ رسول کے دل خوشی سے جھوم اترے ہوں گے۔ بیان کردہ روایتوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چہرے کو چاند سے تشبیہ دی، حالانکہ سورج کی روشنی چاند سے زیادہ ہوتی ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ سورج سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چہرے کو تشبیہ دیتے، لیکن چاند سے تشبیہ دی، اس میں کیا حکمت ہے؟ اس کی حکمت یہ ہے کہ چاند روئے زمین کو اپنی تابانیوں سے بھر دیتا ہے اور دیکھنے والوں کو اس سے انسیت حاصل ہوتی ہے اور بغیر کسی تکلیف کے اس پر نظریں جمانا ممکن ہوتا ہے، جبکہ سورج میں یہ سب ممکن نہیں کیونکہ اسے دیکھنے سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ [شرح المواهب، المقصد الثالث فيما فضله الله تعالى به، الفصل الاول في كمال خلقته...الخ، ج: 5، ص: 257]

امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
بے پردہ جب وہ رخ ہوا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

یعنی امام احمد رضا خان اس شعر میں فرما رہے ہیں کہ سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوا اور سارے جہاں کو روشن کر دیا، چاند بھی اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ چمکا اور ساری دنیا کو نور کا ٹکڑا بنا دیا، مگر جب چہرۂ مصطفیٰ سے نقاب اٹھا تو دونوں نے شرمندہ ہو کر منہ چھپا لیا اور محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کےحسن و جمال کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم کر لیا۔

بڑا ہی مبارک چہرہ ہے اور بڑا ہی حسین

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رخِ انور کا دیدار ایک ایسا روحانی منظر ہوتا کہ دیکھنے والے دیہاتی سادہ دل لوگ بھی آپ کے رخِ زیبا کو دیکھ کر بے اختیار ہو جاتے۔ کسی وضاحت کی حاجت نہ رہتی، بس چہرۂ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جھلک ہی زبانِ حال سے اعلان کرتی کہ یہ چہرہ جھوٹا نہیں ہے بلکہ برکتوں والا ہے۔

عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو السَّهْمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ النَّاسُ، قَالَ: فَتَجِيءُ الْأَعْرَابُ، فَإِذَا رَأَوْا وَجْهَهُ قَالُوا: هَذَا وَجْهٌ مُبَارَكٌ. [أبو داود في السنن، كتاب المناسک، باب في المواقيت، ج: 2، ص: 144، الرقم: 1742]

ترجمہ: حضرت حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں منٰی یا عرفات کے مقام پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہِ (بے کس پناہ) میں حاضر ہوا اور (دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کے لیے لوگ جوق در جوق آ رہے ہیں۔ پس میں نے مشاہدہ کیا کہ دیہاتی آتے اور جب وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرۂ اقدس کی زیارت کرتے تو بے ساختہ پکار اٹھتے کہ یہ بڑا ہی مبارک چہرہ ہے۔

عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الْوَضَاءةِ، أَبْلَجَ الْوَجْهِ، حَسَنَ الْخَلَقِ، لَمْ تُعِبْهُ ثَجَلَةٌ، وَلَمْ تَزْرِ بِهِ صَعَلَةٌ، وَسِيمٌ قَسِيمٌ. [الحاکم في المستدرک، ج: 3، ص: 10، 11، الرقم: 4274]

ترجمہ: حضرت امِ معبد بیان فرماتی ہیں: میں نے ایک ایسا شخص دیکھا جس کا حسن نمایاں اور چہرہ نہایت ہشاش بشاش (اور خوبصورت) تھا اور خوبصورت خلقت والے تھے۔ نہ رنگ کی زیادہ سفیدی انھیں معیوب بنا رہی تھی اور نہ گردن اور سر کا پتلا ہونا ان میں نقص پیدا کر رہا تھا۔ بہت خوبرو اور حسین تھے۔

اور حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ہر حسین چیز دیکھی ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے زیادہ حسین و جمیل میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ [سبل الهدى والرشاد، جماع ابواب صفة جسده..الخ، الباب الاول في حسنه صلى الله عليه وسلم، ج: 7، ص: 2]

نبی ہونے پر دلیل

حضور اکرم نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا چہرہ اس قدر حسین و جمیل تھا کہ اگر نبی ہونے کی کوئی اور نشانی آپ میں نہ ہوتی تب بھی آپ کے چہرے ہی سے اندازہ لگ جاتا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نبی ہیں۔ چنانچہ

حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ میں روشن نشانیاں (دیگر معجزات) نہ بھی ہوتیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا چہرۂ انور ہی آپ کے نبی ہونے کی خبر دے دیتا۔ [سبل الہدی والرشاد، ج: 1، ص: 531، ماخوذاً]

چہرۂ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب و محبت

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ، وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ. [الشمائل المحمدية، باب ما جاء في خلق رسول الله، الحدیث: 6، 10، ص: 19، 20، 24، ملتقطاً]

یعنی جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو اچانک دیکھتا وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے رعب داب سے ڈر جاتا اور جو پہچاننے کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے ملتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا تھا۔

سوئی مل گئی

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جھلک اندھیری راتوں کو نور سے منور کر دیتی ہے۔ آئیے سنیں، امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہی ہیں جس میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی نورانیت کا عملی جلوہ ظاہر ہوا:

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میں کپڑے سی رہی تھی، میرے ہاتھ سے سوئی گر پڑی، میں نے تلاش کیا مگر وہ نہ ملی، حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اندر تشریف لے آئے، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چہرۂ انور سے نکلنے والی شعاع کے اجالے میں میں نے سوئی تلاش کر لی۔ [ابن عساکر]

یہ صرف ایک مثال ہے اس نور کی جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے جاری ہوتا تھا۔ یہ صرف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا تجربہ نہیں، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نور تمام جہانوں کو روشن کرنے والا ہے۔

چمک تجھ سے پاتے ہیںسب پانے والے
مرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے

عاشقوں کی زبان سے حسنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

عربی زبان میں بھی حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کو بیان کرنے والوں نے آپ کے اوصاف کو انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔

نَبِيُّ جَمَالٍ كُلُّ مَا فِيهِ مُعْجِزٌ
مِنَ الْحُسْنِ لَكِنْ وَجْهُهُ الْآيَةُ الْكُبْرَى

يُنَادِي بِلَالُ الْخَالِ فِي صَحْنِ خَدِّهِ
يُطَالِعُ مِنْ لَأْلَاءِ غُرَّتِهِ الْفَجْرَا

یعنی حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم حسن و جمال کے بھی نبی ہیں، یوں تو ان کی ہر ہر چیز حسن کا معجزہ ہے لیکن خاص کر ان کا چہرہ تو آیتِ کبریٰ یعنی بہت بڑا معجزہ ہے، ان کے رخسار کے صحن میں ان کے تل کا بلال ان کی روشن پیشانی کی چمک سے صبحِ صادق کو دیکھ کر اذان کہا کرتا تھا۔

شاعرِ رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے حسن و جمال کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وَأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي
وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ

خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِنْ كُلِّ عَيْبٍ
كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ

[شرح ديوان حسان بن ثابت الأنصاري، ص: 22]

ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ زاہدہ عابدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

فَلَوْ سَمِعُوا فِي مِصْرَ أَوْصَافَ خَدِّهِ
لَمَا بَذَلُوا فِي سَوْمِ يُوسُفَ مِنْ نَقْدِ

ترجمہ: اگر مصر والے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک رخسار کی خوبیاں سن لیتے تو حضرت سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی قیمت لگانے میں مال و دولت نہ بہاتے۔

لَوَاحِي زُلَيْخَا لَوْ رَأَيْنَ جَبِينَهُ
لَآثَرْنَ بِالْقَطْعِ الْقُلُوبَ عَلَى الْأَيْدِي

ترجمہ: اگر زلیخا کو ملامت کرنے والی عورتیں آپ صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم کی نورانی پیشانی کی زیارت کر لیتیں تو ہاتھوں کے بجائے اپنے دل کاٹنے کو ترجیح دیتیں‌۔

تیرا مسندِ ناز ہے عرشِ بریں تیرا محرمِ راز ہے روحِ امیں
تو ہی سرورِ ہر دو جہاں ہے شہا تیرا مثل نہیں ہے خدا کی قسم

یعنی اے میرے عظمت و شان والے نبی! آپ کی عظمتوں کا کون اندازہ لگا سکتا ہے کہ عرشِ معلیٰ تو آپ کے ناز و ادا سے بیٹھنے کی جگہ ہے اور جبرائیلِ امین آپ کے ہمراہ ہمراز و وزیر ہیں اور آپ دونوں جہانوں کے بادشاہ ہیں، میں کیا کیا عرض کروں، میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قسم! آپ جیسا کوئی نہیں۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مسرور ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور آئینے کی طرح ہو جاتا، گویا کہ دیواروں کا وجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور میں نظر آتا تھا۔

یاد رکھیں! صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کو چاند سے تشبیہ دی، وہ آپ کا کامل اور حقیقی حسن نہیں تھا؛ اگر آپ کا کامل حسن و جمال پوری شان کے ساتھ ظاہر ہو جاتا، تو انسانی آنکھیں اس جلال و جمال کا سامنا کرنے کی طاقت نہ رکھتیں اور دیکھنے والے اپنی آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھتے۔

جیسا کہ علامہ زرقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدنا امام قرطبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا تمام تر حسن و جمال ہم پر ظاہر نہیں ہوا، اگر آپ کا کامل حسن ظاہر ہو جاتا تو ہماری آنکھیں اس جلوۂ زیبا کو دیکھنے کی تاب نہ لاتیں“۔ [شرح المواهب، المقصد الثالث فيما فضله الله تعالى به، الفصل الاول في كمال خلقته...الخ، ج: 5، ص: 241]

ایک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو

حضورِ اقدس نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کے حسن و جمال اور اوصاف و کمالات کو بیان کرنے کا حق ہم ہرگز ادا نہیں کر سکتے۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکرِ مبارک کی برکت حاصل کرنے کے لیے میں نے آپ کے چہرۂ انور کے حسن و جمال کو بیان کرنے کی جسارت (ہمت) کی ہے۔ قلم کی روشنائی ختم ہو سکتی ہے، کاغذ کے اوراق مٹ سکتے ہیں، سمندروں کا پانی خشک ہو سکتا ہے، مگر مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ اقدس کے حسن و جمال کی حقیقت کبھی مکمل بیان نہیں ہو سکتی؛ اگر سمندر کو سیاہی بنا کر اور درختوں کے قلم بنا کر بھی لکھنے بیٹھا جائے تو آپ کے حسن و جمال کی تعریف کا حق ادا نہ ہو سکے گا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!