Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

نبی کریم ﷺ کے قدم مبارک

نبی کریم ﷺ کے قدم مبارک
عنوان: نبی کریم ﷺ کے قدم مبارک
تحریر: محمد توصیف رضا عطاری

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت حسین و جمیل بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ہر عضو باکمال، بابرکت، بارونق اور سراپا نور و رحمت ہے۔ انھیں مبارک اعضاء میں سے ایک قدمِ مبارک بھی ہے، جو بے شمار برکتوں اور معجزات کا مظہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمِ مبارک سے کئی معجزات ظاہر ہوئے جن کو دیکھ کر کئی خوش قسمت افراد ایمان بھی لائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانِ قدم آج بھی مختلف مقامات پر موجود ہیں، جن سے لوگ آج بھی برکت حاصل کرتے ہیں۔

حقیر راقم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کی ہیئت، معجزات، اور آپ کے قدم مبارک سے متعلق بزرگانِ دین کے اقوال ذکر کرنے کا شرف حاصل کر رہا ہے، تاکہ قارئین کے دلوں میں ادب و محبت کے جذبات پیدا ہوں، اور علم و معرفت میں اضافہ ہو۔

قدم مبارک احادیث کی روشنی میں

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس قدم چوڑے پُر گوشت، ایڑیاں کم گوشت والی، تلوا اونچا جو زمین میں نہ لگتا تھا، دونوں پنڈلیاں قدرے پتلی اور صاف و شفاف، پاؤں کی نرمی اور نزاکت کا یہ عالم تھا کہ ان پر پانی ذرا بھی نہیں ٹھہرتا۔

سب سے زیادہ حسین قدم مبارک

حضرت عبد اللہ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: كان أحسن البشر قدما. [شرح الزرقانی علی المواہب، ج:، ص: 485] یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سب سے زیادہ حسین تھے۔

سب سے زیادہ تیز چلنے والے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چلنے کی رفتار دوسروں سے کہیں زیادہ تھی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

وما رأيت أحدا أسرع في مشيه من رسول الله صلى الله عليه وسلم كأنما الأرض تطوى له إنا لنجهد أنفسنا وإنه لغير مكترث. [مشکوۃ المصابیح، باب اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ح: 5795]

یعنی میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تیز چلنے والا کسی کو نہ دیکھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے یوں لگتا گویا زمین آپ کے لیے لپیٹی جا رہی ہے ہم آپ کے ساتھ دوڑا کرتے اور آپ آسانی سے بے تکلف چلتے پھر بھی آپ آگے ہی رہتے۔

  1. حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحت کی دعا کر کے اپنا پاؤں مبارک ان کو مارا اس کے بعد وہ بیماری ساری عمر کے لیے ختم ہو گئی۔ [دلائل النبوۃ ابو نعیم، ص: 450]

معجزۂ قدم مبارک

  1. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے سراپا معجزہ بنا کر بھیجا تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ کی ذاتِ گرامی سے جس قدر معجزات صادر ہوئے کسی اور سے نہ ہوئے اور آپ کی ذاتِ گرامی تو بڑی بات ہو گئی بلکہ آپ کے جسمِ اطہر کے عضو عضو اور جزء جزء سے معجزات کا صدور ہوا۔

قدم مبارک سے شفا

روایت میں ہے: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحت کی دعا کر کے اپنا پاؤں مبارک ان کو مارا اس کے بعد وہ بیماری ساری عمر کے لیے ختم ہو گئی۔ [دلائل النبوۃ ابو نعیم، ص: 450]

قدم ناز کے ٹھوکر سے پانی ابل پڑا

حدیثِ پاک میں ہے کہ حضور علیہ السلام ایک مرتبہ عرفہ سے تین میل دور اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ مقام ذی المجاز میں تھے کہ ابو طالب کو پیاس لگی اور انھوں نے حضور سے عرض کیا۔ فضرب بقدمه الأرض فخرج الماء فقال اشرب. [زرقانی، ج: 7، ص: 39] یعنی آپ نے قدم مبارک زمین پر مارا پانی کا چشمہ جاری ہو گیا، آپ نے چچا سے فرمایا پی لیں۔

پتھر پر نقشِ پا

چنانچہ آپ کے قدم مبارک اگرچہ نرم و نازک تھے لیکن جب آپ پتھر پر قدمِ ناز رکھتے تو پتھر آپ کے قدمِ ناز کے نقش کو بڑے ناز سے اپنے سینہ میں محفوظ کر لیتا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: إنه عليه السلام كان إذا مشى على الصخر غاصت قدماه فيه. [زرقانی، ج: 7، ص: 197] یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت پتھر پر بھی چلتے تو وہ نرم ہو جاتا اور نشانِ قدم اس پر لگ جاتا۔

عقلی دلیل

بعض لوگ، اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ پتھر پہ نشانِ قدم کیسے لگ سکتا ہے حالاں کہ مقامِ ابراہیم کے بارے میں مفسرین نے دیکھا ہے اور لاکھوں زائرین گواہ ہیں کہ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم کا نشان موجود ہے [تفسیر کبیر، ابن جریر عن ابن عباس] جب خلیل اللہ کے لیے مانا جا سکتا ہے تو حبیب اللہ کے لیے انکار کی کیا وجہ ہے؟ ریت پر تو ہم بھی قدم رکھیں تو نشان پڑ جاتا ہے حضور علیہ السلام نرم کو نرم کرنے نہیں بلکہ پتھروں کو نرم کرنے آئے ہیں۔

ہم نے پھولوں کو چھوا مرجھا کے کانٹے ہو گئے
اس نے کانٹوں پر قدم رکھا گلستاں کر دیا

اور یہ بھی یاد رہے کہ جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قدم لگیں وہ جگہ مرکزِ تجلی بنے، جہاں خلیل اللہ علیہ السلام کے قدم لگیں وہ جگہ مصلیٰ بنے اور جہاں حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم لگیں وہ جگہ عرشِ معلی بنے۔

آسماں گر تیرے تلوؤں کا نظارہ کرتا
روز اک چاند تصدق میں اتارا کرتا

[شان مصطفیٰ بزبان مصطفیٰ، ص: 553، 554]

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سیِّدِ عالم
اُس خاک پہ قرباں دلِ شیدا ہے ہمارا

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف قدمِ ناز کا یہ عالم ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا تبار کا عالم کیا ہوگا۔ نہایت مختصر میں راقم نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمِ ناز کے بارے میں لکھا ورنہ آپ کے قدمِ ناز پر مکمل رسالہ معرضِ وجود میں لایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمِ ناز کی برکتوں سے ہمیں مالا مال فرمائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمِ مبارک کے صدقے ہم سب کی مغفرت عطا فرمائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!