| عنوان: | ڈاکٹر ساحل سہسرامی! بحیثیت مصنف و محقق (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا طفیل احمد مصباحی |
| پیش کش: | نازیہ فاطمہ |
ایک محقق کو مندرجہ ذیل اوصاف و شرائط کا حامل ہونا چاہیے: (۱) حق گوئی (۲) بے تعصبی و غیر جانب داری (۳) محقق ہٹ دھرم اور ضدی نہ ہو (۴) تحقیق کا مقصد کوئی مادی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو (۵) تحقیق کی طرف رغبت اور ولولہ ہو (۶) مزاج میں ڈٹ کر محنت کرنے کا جذبہ ہو (۷) مزاج میں سیمابیت، بے صبری اور عجلت نہ ہو (۸) محقق کے مزاج میں اعتدال و توازن ہو (۹) اس کے اندر علم کا غرور نہ ہو، بلکہ منکسر المزاج ہو (۱۰) اخلاقی جرات کا حامل ہو (۱۱) مزاج میں تقلیدی رجحان نہ ہو، کیونکہ دین و مذہب میں تقلید جائز ہے اور تحقیق کی شریعت میں تقلید حرام (۱۲) محقق ضعیف الاعتقاد نہ ہو۔ اساطیر، توہمات، خرافات اور فوق الفطرت جیسے امور سے باہر نکلنے کی ہمت رکھتا ہو (۱۳) استفہامی مزاج رکھتا ہو یعنی وہ مشکک ہو۔ یعنی ہر چیز میں شک اور بحث و کرید کرنے والا ہو (۱۴) اس کے مزاج میں سائنس دانوں جیسی قطعیت ہو (۱۵) بے ترتیب مواد کو منظم کرنے اور ایک منطقی و فلسفی کی طرح اصول و حوالہ جات کو پرکھ کر استخراجِ نتائج کی اس کے اندر صلاحیت ہو (۱۶) قوی الحافظہ ہو (۱۷) سکون و اطمینان کے ساتھ ذہن و دماغ کو کام (تحقیق) پر مرکوز رکھنے والا ہو (۱۸) غیر معلوم اشیا کو معلوم کرنے کی لگن اور کرید ہو (۱۹) اردو کے علاوہ دوسری زبانوں سے بھی واقفیت حاصل ہو (۲۰) محقق تاریخی شعور رکھتا ہو تاکہ ماضی کے علمی و ادبی ذخیروں سے خاطر خواہ استفادہ کر سکے (۲۱) علومِ سماجیات و نفسیات سے واقفیت ہو تو مفید ہے (۲۲) ادبی علوم سے واقفیت ضروری ہے۔ ان میں عروض، تاریخ گوئی، علمِ بیان اور علمِ قافیہ وغیرہ آتے ہیں۔ (۲۳) محقق کو کسی حد تک نقاد کی صفات سے بھی متصف ہونا چاہیے۔ [تحقیق کا فن، ص: 51-53، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی]
ڈاکٹر ساحل سہسرامی کا تعلق ”سندی تحقیق“ اور ”غیر سندی تحقیق“ دونوں سے تھا۔ آپ نے سندی تحقیق بھی کی ہے اور غیر سندی تحقیق میں بھی اپنے علم و تحقیق کا جوہر دکھایا ہے۔ امام المنطق حضرت علامہ فضلِ حق خیر آبادی کی فکر و شخصیت پر آپ نے بزبانِ عربی تحقیقی مقالہ قلم بند کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یہ آپ کی سندی تحقیق ہے اور جہاں تک غیر سندی تحقیق کی بات ہے تو اس سلسلے میں آپ کی یہ چند کتابیں مثلاً: (۱) شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیرِ قرآن: ایک تنقیدی و تحقیقی جائزہ (۲) مولانا سید غیاث الدین حسن شریفی: حیات اور شاعری (۳) صادق سہسرامی: حیات اور شاعری (۴) منبع الانساب... خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ ایک محقق کے جو اوصاف اوپر بیان ہوئے، ساحل صاحب ان میں سے بیشتر اوصاف سے متصف تھے، آپ نے صحتِ متن کی بھی تحقیق کی ہے اور مصنف یا شاعر کی سوانحِ حیات اور حالاتِ زندگی کی بھی تحقیق فرمائی ہے۔ غرض کہ جس زاویۂ نظر سے دیکھا جائے، آپ ایک عظیم محقق کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ اسی طرح آپ کے عظیم مصنف ہونے کے لیے یہی شہادت کافی ہے کہ آپ نے مختلف دینی و علمی اور تحقیقی و ادبی موضوعات پر پچاس سے زائد کتابیں لکھ کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔ ساحل سہسرامی کی مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتابوں کی فہرست طویل ہے۔
مندرجہ ذیل کتابیں آپ کے علم و تحقیق اور فکر و بصیرت کی منہ بولتی تصویر ہیں:
- شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیرِ قرآن: ایک تنقیدی و تحقیقی جائزہ
- خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا سید غیاث الدین حسن شریفی رضوی: حیات اور شاعری
- منبع الانساب ترجمہ و تحقیق و تحشیہ
- خواجہ ہند کی صوفیانہ شاعری
- صادق سہسرامی: حیات اور شاعری
- حضرت مخدوم سمنانی کے علمی آثار
- قطب الاقطاب دیوان محمد رشید مصطفیٰ عثمانی: حیات و افکار
- متنبی: ایک خصوصی مطالعہ
- حافظِ ملت
- شارحِ بخاری
- حکیم الاسلام مفتی مظفر احمد قادری برکاتی: حیات و خدمات
- عرفانِ عرب
- دائرۂ قادریہ بلگرام شریف
- مساهمة العلامة فضل حق خير آبادي في الدراسات الإسلامية والفلسفية (عربی زبان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی گئی پی ایچ ڈی کا علمی و تحقیقی مقالہ)
- جمالیات اور قرآنِ حکیم
- فنِ ترجمہ اور قرآنی تراجم
- امامِ اعظم اور علمِ حدیث
- فقہ و افتا اور اس کے تقاضے
- تصوف: چند وضاحتیں
- وہابیہ کی کفری عبارتوں کی تاویلات: ایک تنقیدی جائزہ
- مسلمانوں کی علمی معیشت ہندوستانی تناظر میں
- مسلمانوں کے زوال کا نقطۂ آغاز ہندوستانی تناظر میں
- تحفۂ حجاز
- مجموعۂ اوراد و وظائفِ قادریہ
- سلاسلِ صوفیہ، تاریخِ ولادتِ نبوی
- کاشف الاستار، سند السعادات فی حسن خاتمۃ السادات نظم اللہ لی فی نسب آل علاء الدین العالی / صغروی ساداتِ بلگرام
- سلاسل الانوار فی سیر الاخیار
- وفیات الاعلام (زیرِ تکمیل)
- اسد العارفین حضرت سید شاہ عینی مارہروی
- النور والبهاء في أسانيد الحديث وسلاسل الأولياء
- فتاویٰ ملک العلما (ترتیب و تدوین)
- وجود العاشقین
- مقالاتِ شارحِ بخاری
- معارفِ سراجِ ملت
- حسام الحرمین اور بہار کے علما و مشائخ
- مخدومِ جہاں اور امام احمد رضا
- شدھی تحریک اور صدر الافاضل
- موجِ ساحل (شعری مجموعہ) [فروغِ رضویات میں فرزندانِ اشرف کی خدمات، ص: 17]
تلاش و جستجو اور تحقیق و تفحص ان کی سیمابی شخصیت اور بے چین طبیعت کا جزوِ لاینفک ہے۔ متعدد قلمی نسخہ جات اور متون کی آپ نے تحقیق کی اور ترجمہ و تحشیہ کے زیور سے ان کو آراستہ کیا۔ منبع الانساب اور وجود العاشقین کی تحقیق و تدوین اور ترجمہ و تحشیہ آپ کا عظیم الشان علمی کارنامہ ہے، آپ نے زندگی بھر علم و ادب اور تحقیق و جستجو کا بازار گرم کیے رکھا، جیسا کہ ماقبل میں بیان ہوا کہ آپ کے جملہ کتب و رسائل اور گراں قدر مضامین و مقالات میں تحقیقی رنگ غالب ہے۔ ایک عظیم عالم و مفتی، مدرس و مفکر، قادر الکلام شاعر اور ادیب و مصنف کے علاوہ ایک ”عظیم محقق“ کی حیثیت سے ہندوستان کی علمی و ادبی تاریخ میں آپ کا نام روشن اور زندہ و پائندہ رہے گا۔
تحقیق (Research) جو دراصل غیر معلوم حقائق کو سامنے لانے اور معلوم حقائق کو دلائل و شواہد کی روشنی میں پرکھنے کا نام ہے، اس عمل میں علامہ موصوف طاق تھے۔ راقم الحروف کی محدود معلومات کے مطابق اکیسویں صدی عیسوی کے طبقہ علما میں ایسا دیدہ ور محقق و مصنف نظر نہیں آتا۔ سید محمد اشرف قادری برکاتی (انکم ٹیکس کمشنر خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف) آپ کے تحقیقی کارناموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ”عزیزم علامہ ساحل سہسرامی (علیگ) زمانے کی گرد میں روپوش شخصیات کو تسلسل کے ساتھ منظرِ عام پر لانے میں مصروف ہیں۔ انہیں اپنے مذہب، مسلک اور مشرب سے عقیدت کی حد تک لگاؤ ہے، قادریت کے دلدادہ، برکاتیت کے فدائی، اعلیٰ حضرت کے شیدائی اور شیر شاہ سوری کے گہرے نیاز مند ہیں، ان عالی نسبتوں سے وابستہ ہر شے انہیں اپنی سمت کھینچتی ہے اور اس جذب و کشش کو وہ اعتبار دیتے رہتے ہیں۔“ [صادق سہسرامی: حیات اور شاعری کی پشت پر مندرج عبارت]
ڈاکٹر ساحل سہسرامی سے متعلق اہلِ علم کے تاثرات
ڈاکٹر ساحل سہسرامی اتنے بڑے عالم و مفتی اور محقق و مصنف تھے کہ اکابر علما و مشائخ اور دانشورانِ ملت نے آپ کے فضل و کمال کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ شہزادہ ملک العلما پروفیسر مختار الدین آرزو (علی گڑھ) تحریر فرماتے ہیں: ”ساحل سہسرامی کی تلاش و جستجو اور ان کا ذوق و شوق دیکھ کر ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے، مجھے یقین ہے کہ ان کا علمی سفر جاری رہا تو ان شاء اللہ ایک دن اہم سنی مصنفین میں ان کا شمار ہوگا۔“ پروفیسر مختار الدین آرزو کی یہ پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی اور دنیا نے دیکھا کہ ساحل سہسرامی کتنے عظیم مصنف و محقق بن کر علمی و تحقیقی دنیا میں اپنی شناخت بنائی۔ سچ پوچھیے تو ڈاکٹر ساحل سہسرامی ”سنی بریلوی مصنفین“ میں ایک نمایاں حیثیت کے مالک تھے، انہوں نے اپنی پچاس سالہ زندگی (ولادت: 19 ستمبر 1973ء / وفات: جولائی 2024ء) میں درس و تدریس، فتویٰ نویسی، تصنیف و تالیف اور تحقیق و تنقید کی دنیا میں سند باد جہازی کی طرح کام کیا ہے اور علم و تحقیق کے بہت سارے مخفی جزیروں کو ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
صاحب زادہ سید وجاہت رسول قادری (صدر ادارہ تحقیقات امام احمد رضا، کراچی) نے ساحل سہسرامی کی علمی فضیلتوں اور تحریری خوبیوں کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ”ساحل سہسرامی صاحب ایک اچھے قلم کار اور ادیب و شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ فتویٰ نویسی کا ذوق اور تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں تحقیقی اور مدلل ہوتی ہیں۔ زبان و بیان میں سلاست و روانی ہے۔ قلم سیال ہے۔ انہیں علمی نظم و ضبط کے ساتھ گفتگو کرنے کا ڈھنگ آتا ہے۔ شعر و ادب کے ساتھ ساتھ سوانحی ادب کا بھی ستھرا ذوق رکھتے ہیں۔“
پروفیسر سید جمال الدین اسلم (علی گڑھ) کے بقول: ”عزیزم مولانا ارشاد احمد رضوی مصباحی ساحل سہسرامی (علیگ) جس موضوع پر بھی لکھتے ہیں، خوب لکھتے ہیں، مستقل موضوعات کی تلاش میں رہتے ہیں اور جب کوئی موضوع مل جاتا ہے تو تحقیق کا حق ادا کر دیتے ہیں۔“
کہتے ہیں کہ ایک محقق کو اپنی ملکی و مادری زبان کے علاوہ دیگر زبانوں کا بھی عالم ہونا چاہیے اور ایک اسلامی اردو محقق کے لیے عربی و فارسی زبان کا علم تو نہایت ضروری ہے۔ ڈاکٹر ساحل سہسرام اردو، عربی اور فارسی زبان و ادب کے رمز آشنا عالم و فاضل تھے۔ حضرت علامہ فضلِ حق خیر آبادی کی فکر و شخصیت پر بزبانِ عربی ان کا تحریر کردہ مبسوط علمی و تحقیقی مقالہ (پی ایچ ڈی) ان کی عربی دانی کی واضح مثال ہے۔ ”عرفانِ عرب“ اور ”منبع الانساب“ کا کامیاب اردو ترجمہ بھی ان کی عربی و فارسی دانی کا واضح ثبوت ہے۔
خیر الاذکیا حضرت علامہ محمد احمد مصباحی (ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارک پور) فرماتے ہیں: ”موصوف (ساحل سہسرامی) عربی و فارسی کی مہارت کے ساتھ کتبِ تصوف کا بھی خاصا مطالعہ رکھتے ہیں۔“
سراج الفقہا مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی (صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور) کے بقول: ”مولانا ساحل سہسرامی ایک اچھے قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ فتویٰ نویسی کا ذوق اور تجربہ بھی رکھتے ہیں۔“
حضرت علامہ مفتی محمد مطیع الرحمن مضطر رضوی پورنوی دام ظلہ فرماتے ہیں: ”عزیز القدر فاضل گرامی مولانا ارشاد احمد رضوی مصباحی ساحل سہسرامی (علیگ) ایک با صلاحیت مصباحی عالمِ دین ہیں۔“
حضرت مولانا یٰسین اختر مصباحی کہتے ہیں: ”مولانا ساحل سہسرامی مصباحی (علیگ) اپنے دورِ طالب علمی سے مطالعہ و تحقیق اور تحریر کا اچھا ذوق رکھتے ہیں۔“ [صادق سہسرامی: حیات اور شاعری سے ماخوذ]
پیر زادہ اقبال احمد فاروقی (ایڈیٹر ماہنامہ جہانِ رضا لاہور) ڈاکٹر ساحل سہسرامی کی علمی و ادبی فضیلت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”علامہ ساحل سہسرامی (علیگ) مصباحی فاضل اور اہلِ سنت کے معروف اور جوان اسکالر ہیں۔ احقر سے دیرینہ علمی اور مراسلاتی رابطے ہیں، آپ کے قیمتی مضامین ”ماہنامہ جہانِ رضا لاہور“ کے صفحات کی زینت بن چکے ہیں اور اس فاضلِ اہلِ سنت کی پھولوں میں گھری ہوئی باتوں سے قارئینِ جہانِ رضا فیضیاب ہوتے رہے ہیں۔ آپ نے جب امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ممتاز خلیفہ ملک العلما حضرت علامہ شاہ ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ کے فتاویٰ مرتب کیے اور اس پر بہت وقیع اور فاضلانہ مقدمہ لکھا تو اہلِ نظر چونک پڑے اور اس جوہرِ قابل کی خداداد صلاحیتوں کو سراہا۔ خود راقم الحروف نے اپنے مکتبہ نبویہ لاہور سے ”فتاویٰ ملک العلما“ شائع کی جو پاکستان میں بھی ہاتھوں ہاتھ لی گئی۔ اب تک تین مکتبے پاکستان میں ”فتاویٰ ملک العلما“ شائع کر چکے ہیں۔ اہلِ سنت کے اس فاضل کی تازہ علمی کاوش ”منبع الانساب مترجم“ دیکھ کر راقم الحروف بہت مسرور ہوا اور دل سے دعائیں نکلیں۔“ [ابتدائیہ منبع الانساب مترجم، ص: 16]
فروری 2010ء تک آپ کی چھوٹی بڑی کل کتابوں کی تعداد پینتیس (35) پہنچ چکی تھی اور سالِ رواں 2024ء تک یہ تعداد پچاس (50) سے متجاوز ہو چکی تھی۔ اس جہت سے دیکھا جائے تو اپنی مختصر عمر کے لحاظ سے نہ صرف مصباحی علما بلکہ جملہ علما و مشائخِ اہلِ سنت میں آپ سب سے زیادہ کتابیں تصنیف کرنے والے عالم و مصنف تھے۔ اپنی تمام تر علمی و ادبی بالا دستیوں کے باوجود سہسرام کی سرزمین شاید ہی اب ایسا کثیر التصانیف عالم و محقق پیدا کر سکے۔ عمر نے وفا نہ کی اور بہت جلد آپ ہمیں داغِ مفارقت دے گئے، اگر مزید کچھ سال یا اپنی عمرِ طبعی تک بقیدِ حیات رہتے تو کوئی بعید نہیں کہ آپ کی تصانیف کی تعداد سو تک پہنچ جاتی لیکن ”مَرْضِيُّ مَوْلَى أَزْ هَمَه أَوْلَى“ بہت جلد جنت الفردوس کی طرف رختِ سفر باندھ گئے۔ اللہ رب العالمین آپ کی دینی و ملی اور علمی و تصنیفی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام بخشے۔ آمین۔
[ماہنامہ سُنی دنیا، ص: 48 تا 53]
