| عنوان: | دکھ انسان کو کیا سکھاتا ہے؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی میں بے شمار لمحات رکھے ہیں، اور انہی لمحات میں سے کبھی خوشی کا لمحہ، کبھی سکون کا لمحہ، کبھی چین کا لمحہ، کبھی آرام ہی آرام ہوتا ہے، اور کبھی اللہ کی طرف سے آزمائش، دکھ، تکلیف کا لمحہ بھی آ جاتا ہے۔ لیکن یہ جتنے بھی لمحات ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایک مستقل طور پر انسان کی زندگی میں نہیں رہتا۔ انسان جب کسی دکھ یا پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے، تو بعض ایسے ہوتے ہیں جو ہار مان جاتے ہیں، اور وہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں ایک چیز کامن ہو گئی ہے کہ کوئی پریشانی یا تکلیف آئے، تو انسان مایوس ہو جاتے ہیں۔ آئیے، اس مضمون میں دیکھتے ہیں، پریشانیاں انسان کو کیا کیا سکھاتی ہیں۔
۱: صبر
دکھ انسان کو سب سے پہلے صبر سکھاتا ہے، کیونکہ مصیبت اور پریشانیوں میں اگر صبر نہ کیا جائے تو انسان کی زندگی برباد ہو سکتی ہے۔ صبر کرنے والوں کے متعلق قرآنِ پاک میں بہترین اور اچھی اچھی خوشخبریاں دی گئی ہیں۔
- وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا ترجمہ: اور جب بنی اسرائیل نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام بنا دیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔ (السجدہ: ۲۴)
- وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ترجمہ: اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا، بدلہ ان کے صبر کا۔ (الاعراف: ۱۳۷)
- وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ترجمہ: اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو۔ (النحل: ۹۶)
- أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا ترجمہ: ان کو ان کا اجر دو بالا دیا جائے گا، بدلہ ان کے صبر کا۔ (القصص: ۵۴)
- إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ترجمہ: صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔ (الزمر: ۱۰)
- وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ترجمہ: صبر کرو، بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (الانفال: ۴۶)
۲: رجوع الی اللہ
اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ انسان جب خوشی کے لمحات گزارتا ہے تو اپنے رب کی یاد سے غافل ہو چکا ہوتا ہے، لیکن جب دکھ، تکلیف اور پریشانی آتی ہے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (ترجمہ: تو تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا)۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اطاعت سے یاد کرنے والوں کو اپنی مغفرت کے ساتھ، شکر کے ساتھ یاد کرنے والوں کو اپنی نعمت کے ساتھ، اور محبت کے ساتھ یاد کرنے والوں کو اپنے قرب کے ساتھ یاد فرماتا ہے۔ مزید فرمایا: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو چین ملتا ہے)۔
۳: اصل رشتوں کی معرفت
یہ سب انسان کو اُس وقت سمجھ آتا ہے جب وہ پریشانی، مشکل، دکھ اور تکلیف میں ہوتا ہے۔ اُس وقت اُس کے لیے اصل رشتوں کی پہچان کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ کون اپنا ہے اور کون بیگانہ ہے۔ اسی کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس کے ساتھ اپنی خفیہ باتیں شیئر کی جائیں اور کس سے چھپائی جائیں۔
۴: زندگی کی حقیقت
پریشانی انسان کو زندگی کی حقیقت بتاتی ہے۔ دنیا میں ایسا نہیں کہ ہمیشہ خوشی ہی خوشی کا ماحول ہو، بلکہ یہاں خوشی بھی ہے اور غم بھی۔ اس سے یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ جب زندگی کی حقیقت فانی ہے تو ہمیں آخرت کی تیاری کرنی چاہیے، جہاں دھوکہ نہیں بلکہ انصاف ہی انصاف ہوگا۔
۵: دوسروں کے درد کا احساس
انسان جب خود مشکل اور پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کو دوسروں کے درد کا احساس ہوتا ہے۔ جب وہ کسی کو مصیبت میں دیکھتا ہے تو اس کی مدد کرنے کے لئے چلا جاتا ہے، اور اس کے قلب میں درد ابھرتا ہے۔ اور مسلمان کی مدد کرنا کارِ ثواب ہے۔
۶: مضبوطی پیدا کرتا ہے
انسان کو جب کسی سے دھوکا، پریشانی، دکھ یا تکلیف ملتی ہے تو وہ سوچتا ہے کہ مجھے کچھ کرنا چاہیے، میں کچھ نہ کر سکا۔ اب وقت ہے کہ میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوں اور اپنے آپ کو مضبوط بناؤں۔ یعنی وہ زندگی کو پرکھنا شروع کر دیتا ہے کہ زندگی کس طرح گزارنی ہے۔
۷: غرور ختم کرتا ہے
جب انسان دکھ اور پریشانی میں آتا ہے اور لاچار ہو جاتا ہے تو تب اسے سمجھ میں آتا ہے کہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ اس طرح سے اس کے اندر جتنے بھی غرور کی باتیں ہوتی ہیں وہ سب ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں، اور یہ ایک طرف سے غرور سے پاک و صاف ہو جاتا ہے۔
۸: کامیابی کی قدر
اگر یہی انسان کامیابی کو محنت، دکھ، تکلیف اور پریشانی کے بعد حاصل کرے تو وہ اس کی قدر کرتا ہے اور اسے سنبھال کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور حقیقتاً کامیاب وہی شخص ہے جو اپنی کامیابی کی قدر کرے۔
۹: سوچ میں تبدیلی
دکھ اور تکلیف انسان کی سوچ میں تغیر و تبدل پیدا کرتے ہیں، اور انسان کو سوچنے کا اندازہ ہوتا ہے۔ جیسے سوچ کے ذریعے گناہ بھی ہو سکتا ہے اور ثواب بھی، دکھ انسان کو مثبت راہ پر ڈالتا ہے۔
۱۰: وقت کی اہمیت
وقت کی اہمیت کو انسان عام طور پر پریشانی کے بعد ہی سمجھتے ہیں، اور یہ بڑی اور بہترین چیز ہے کہ انسان وقت کی اہمیت کو سمجھے۔ جو وقت کو برباد کرتا ہے وہ ناکام ہوتا ہے، جبکہ وقت کو کام میں لانے والا ترقی کرتا ہے۔
حاصلِ کلام
حاصلِ کلام یہ ہوا کہ دکھ، تکلیف اور پریشانی انسان کو کمزور بنانے کے لیے نہیں بلکہ انسان کو مضبوط بنانے کے لیے آتے ہیں، اور انسان کو اس سے کئی طرح کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اس لیے دکھ کو کوئی برا بھلا نہ کہے اور نہ ہی اسے برا جانے، بلکہ یہ انسان کو مضبوط بنانے اور کامیابی کی راہ دکھانے کے لیے آتا ہے۔ دکھ اور پریشانی میں اپنی زندگی کی کامیابی کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔
