Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

گناہوں کی نحوست اور ہلاکت

گناہوں کی نحوست اور ہلاکت
عنوان: گناہوں کی نحوست اور ہلاکت
تحریر: محمد حشیم الدین قادری
پیش کش: مغل توقیر عطاری

ان دنوں وطنِ عزیز بھارت میں قومِ مسلم انتہائی اضطراب کا شکار ہے۔ حکومت کے مسلسل اقلیت مخالف قوانین نافذ کرنے کی وجہ سے لوگ اپنی شہریت سلب کیے جانے کے خوف سے ہراساں ہیں، لوگ اپنوں سے بچھڑنے کے خوف میں مبتلا تقریباً ملک بھر کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں اقلیت مخالف قوانین کی مخالفت میں احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ تو وطنِ عزیز کے حالاتِ حاضرہ کی مختصر عکاسی ہے۔ اگر عالمی پیمانے پر قومِ مسلم کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ تصویر بھی سامنے ظاہر ہوتی ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں قومِ مسلم طرح طرح کے مصائب اور مشکلات کا شکار ہے۔ اس مضمون میں ہم ان اسباب میں سے ایک سبب پر روشنی ڈالیں گے جن کی وجہ سے قومِ مسلم مصائب اور مشکلات کا شکار ہے۔

اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ

ترجمہ: تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اُس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا ہے اور بہت کچھ تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ (سورۃ الشوریٰ، آیت ۳۰)

اس آیت کے تحت مفسرین لکھتے ہیں: اس آیت میں ان مکلف مومنین سے خطاب ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثر اُن کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں، ان تکلیفوں کو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کا کفارہ کر دیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے۔ تفسیر روح البیان میں منقول ہے کہ انسان کی ہر مصیبت کا سبب اس کا خود کردہ گناہ ہے، کم از کم کسی نیکی سے کوتاہی بھی مصیبت کا سبب بن جاتی ہے۔ (تفسیر روح البیان تحت سورۃ الشوریٰ، آیت ۳۰)

اہلِ علم پر واضح ہے کہ بنی اسرائیل بلند مراتب پر فائز ہونے کے بعد جن وجوہات کی بنا پر ذلت و غربت کی گہری کھائی میں گرے، کاش اُن وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے عبرت اور نصیحت کے لئے ایک مرتبہ مسلمان بھی اپنے اعمال و افعال کا جائزہ لے لیں اور اپنے ماضی و حال کا مشاہدہ کریں کہ جب تک مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پیروی کو اپنا سب سے اہم مقصد بنائے رکھا، تب تک دنیا کے کونے کونے میں ان کے نام کا ڈنکا بجتا رہا۔ پھر جب سے انہوں نے سرکشی والا راستہ اختیار کیا تب سے دنیا بھر میں جو ذلت و رسوائی مسلمانوں کی ہوئی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

احادیث کی روشنی میں گناہوں کے اثرات

  • حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضورِ پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔" (ترمذی، کتاب التفسیر)
  • حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لکڑی کی خراش لگنا، قدم کا ٹھوکر کھانا، رگ کا پھڑکنا کسی گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔" (کنز العمال)
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور کفارہ کے لئے اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے تاکہ اس سے اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔" (ابن کثیر تحت سورۃ الشوریٰ)
  • سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بندہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔" (ابن ماجہ، کتاب الفتن)

دل پر گناہوں کا اثر

اللہ عزوجل کا فرمان ہے:

كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ

ترجمہ: کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔ (المطففین: ۱۴)

حضرت شیخ ابوطالب مکی رحمۃ اللہ علیہ اس تفسیر میں فرماتے ہیں: منقول ہے کہ یہاں زنگ سے مراد گناہ پر گناہ کرنا ہے یہاں تک کہ دل سیاہ ہو جائیں اور ایمان حجاب تلے ہو جائے کہ نہ کسی نیکی کو نیکی جانے، نہ کسی گناہ کو گناہ سمجھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے، جب وہ اس گناہ سے باز آ جاتا ہے اور توبہ و استغفار کر لیتا ہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگر وہ پھر گناہ کرتا ہے تو وہ نقطہ بڑھتا ہے یہاں تک کہ پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔" (ترمذی)

نتیجہ و خلاصہ

مذکورہ تمام آیات و روایات سے یہ بات صاف ہو گئی کہ تمام طرح کے مشکلات و مصائب ہمارے اعمالِ بد کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں خود کو اور قوم کے تمام افراد کو اللہ و رسول کی نافرمانی سے دور رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور گزشتہ گناہوں سے سچی توبہ کر کے نیکی کے راستے پر گامزن ہونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں انہیں رات میں بارش سے سیراب کروں گا، دن میں اس پر سورج طلوع کروں گا اور انہیں کڑک کی آواز تک نہیں سناؤں گا۔" (مسند امام احمد)

اللہ رسول کی اطاعت خوشحالی لاتی ہے اور اللہ رسول کی نافرمانی بدحالی لاتی ہے۔ اللہ عزوجل اپنے حبیبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت عطا فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!