Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ سبائیہ

فرقہ سبائیہ
عنوان: فرقہ سبائیہ
تحریر: ابو احمد محمد انس رضا قادری
پیش کش: عبدالصمد قادری

امت مسلمہ میں فرقہ واریت کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں سب سے پہلے سبائیوں کا فتنہ پیدا ہوا جس کا بانی عبداللہ بن سبا یہودی تھا، جو اسلام میں فتنہ انگیزی کی غرض سے بظاہر مسلمان ہو گیا تھا۔ اسے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے استحقاقِ خلافت کے متعلق کچھ کہنے کی جرات تو نہیں ہوئی، البتہ ان کے نظم و نسق کے خلاف نقطہ چینی اور سیاسی تحریک اس یہودی نے مصر و عراق کے نو مسلموں کی مدد سے شروع کر دی۔

ان سبائی باغیوں نے مدینہ منورہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کا محاصرہ کیا اور اس شورش کے نتیجے میں بالآخر 18 ذی الحجہ 35 ھ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ ان باغیوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔

آپ کی مظلومانہ شہادت کے بعد انصار و مہاجرین کے متفقہ انتخاب سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو سبائی باغیوں کا یہ گروہ بھی ان سے بیعت لینے میں پیش پیش تھا۔

ادھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جب خونِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے قصاص کا مطالبہ کیا اور مجرموں کو خود سزا دینے کی غرض سے خلیفۂ وقت سے علیحدہ ہو کر نہ صرف یہ کہ ملک شام میں اپنی الگ حکومت قائم کر لی، بلکہ اس تنازع کے نتیجے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان اس قدر اختلاف اور بگاڑ پیدا ہو گیا کہ بالآخر دونوں کے لشکر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو گئے۔

اس طرح جنگ جمل اور جنگ صفین میں مسلمانوں کے آپس میں ٹکرا جانے سے بڑا خون خرابہ ہوا تھا۔ آخر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کو اس مسئلے میں ثالث بنانے کا فیصلہ ہوا۔

سبائی گروہ جو کہ فتنہ انگیز تھا، مسلمانوں میں باہم صلح و صفائی ان یہود فطرت لوگوں کو پسند نہیں تھی۔ اس لیے انہوں نے تحکیم کے اس فعل کے خلاف حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بھرپور مخالفت کی اور ان کی اطاعت سے خارج ہو کر ایک علیحدہ گروہ بنا لیا، اس لیے اس کا نام خارجی پڑ گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اللہ کو چھوڑ کر ایک انسان کا حکم مانا ہے اور یہ امر قرآن مجید کی اس آیت کی رو سے شرک ہے:

أفغير الله أبتغي حكما

ترجمہ کنز الایمان: تو اللہ کے سوا میں کسی اور کا فیصلہ چاہوں۔

اور مشرک کی اطاعت جائز نہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک ہر کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے اور وہ سدا دوزخ میں رہے گا۔

سبائیوں کا ایک بڑا گروہ جو حرورا کے مقام پر حضرت علی کی اطاعت سے خارج ہو گیا تھا، اسی کی مناسبت سے وہ حروری خارجی کہلایا، اور باقی سبائی جو حضرت علی کے لشکر میں رہے، شیعانِ علی کے نام سے موسوم ہوئے۔ انہوں نے خارجیوں کے برعکس، آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں غلو اختیار کر کے الوہیت کا مرتبہ دے دیا، اسی طرح شیعہ مذہب کا ظہور ہوا۔

چنانچہ جماعت صحابہ سے الگ ہو کر دو گمراہ فرقے وجود میں آ گئے۔ اسی طرح صحابہ کرام کے دور میں منکرین تقدیر کا بھی وجود ملتا ہے۔

یعنی فرقہ واریت حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام علیہم رضوان کے دور میں ہو چکی تھی اور صحابہ کرام نے ان گمراہوں کی مذمت کی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!