Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ خارجیہ (قسط: دوم)

فرقہ خارجیہ (قسط: دوم)
عنوان: فرقہ خارجیہ (قسط: دوم)
تحریر: ابو احمد محمد انس رضا قادری
پیش کش: رئیس الدین عطاری ناگوری
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضانِ رضا، کچامن، راجستھان

خوارج کے تقویٰ اور ظاہری عبادت کا یہ عالم تھا کہ جنگِ نہروان سے قبل وہ ساری رات عبادت کرتے اور ایک دوسرے کو جنت کی بشارتیں دیتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کے صحابہ و تابعین ان کی ظاہری ریاضت دیکھ کر ان پر تلوار چلانے میں ہچکچاتے تھے، لیکن حق و باطل کے معرکے میں امیر المومنین نے حکمِ الٰہی کے تحت ان سے جنگ کی۔ آپ نے ان کے قتل سے پہلے صحابہ کا شبہ دور کرنے کے لیے فرمایا کہ ان میں ایک ایسا شخص ملے گا جس کے ہاتھ عورت کی چھاتی کے مشابہ ہوں گے (ذوالثدیہ)۔ تلاش کرنے پر وہ لاشوں کے نیچے سے نکلا، جس سے رسول اللہ ﷺ کی غیبی خبر کی تصدیق ہوئی اور لشکر کے دلوں سے یہ شبہ دور ہو گیا کہ وہ غلطی پر ہیں۔

فتنہ پروری اور ابنِ ملجم کا کردار

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ لوگ ختم نہیں ہوں گے، بلکہ ان کی نسلیں چلتی رہیں گی اور ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔ ان ہی کی ایک کڑی عبدالرحمن بن ملجم خارجی تھا، جس نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو شہید کیا۔ اس شخص کا حال یہ تھا کہ شہادت کے بعد بھی اس کے ماتھے پر سجدے کا نشان تھا اور وہ حالتِ سزا میں بھی قرآنِ پاک کی تلاوت کرتا رہا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف ظاہری عبادات (نماز و تلاوت) نجات کا ذریعہ نہیں، جب تک عقیدہ درست نہ ہو۔

موجودہ وہابیت اور خارجی عقائد

مضمون نگار کے مطابق موجودہ وہابی گروہ انہی خارجیوں کی جدید شکل ہے۔ ان کی چند علامات یہ ہیں:

  • تعظیمِ نبوی و اولیاء کا انکار: وہ نبی کریم ﷺ اور اولیاءِ کرام کے نام کے ساتھ کلماتِ تعظیم استعمال کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔ اسماعیل دہلوی نے اپنی کتاب 'تقویۃ الایمان' میں حضور ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخانہ عبارات لکھیں۔
  • اختیارِ مصطفیٰ ﷺ کا انکار: یہ لوگ حضور ﷺ سے ہر قسم کے اختیار اور تصرف کی نفی کرتے ہیں، جبکہ قرآن و حدیث میں آپ ﷺ کو خزانوں کی کنجیاں عطا ہونے کا ذکر کثرت سے موجود ہے۔
  • امتِ مسلمہ کو مشرک قرار دینا: ان کا سب سے خطرناک عقیدہ یہ ہے کہ جو ان کے مسلک پر نہیں، وہ کافر و مشرک ہے۔ انہوں نے پیروں، پیغمبروں اور صوفیاء سے توسل کرنے والوں کو 'جھوٹے مسلمان' اور 'مشرک' قرار دیا ہے۔

خوارج کے بنیادی عقائد

تاریخی طور پر خوارج کا عقیدہ تھا کہ:

  • تمام مسلمان (جو ان کے ساتھ نہیں) کافر ہیں۔
  • ان سے نکاح، رشتہ داری اور میراث کا لین دین حرام ہے۔
  • گناہِ کبیرہ کرنے والا مشرک ہے اور جو ان کے اس عقیدے کا مخالف ہو، وہ واجب القتل ہے۔

اس تحریر سے واضح ہوتا ہے کہ خوارج کا طرزِ عمل ہمیشہ سے تکفیری رہا ہے، اور وہ اپنے سخت گیر عقائد کی وجہ سے پوری امتِ مسلمہ کے لیے فتنہ بنے رہے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!