Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ خارجیہ (قسط: اول)

فرقہ خارجیہ (قسط: اول)
عنوان: فرقہ خارجیہ (قسط: اول)
تحریر: ابو احمد محمد انس رضا قادری
پیش کش: رئیس الدین عطاری ناگوری
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضانِ رضا، کچامن، راجستھان

علامہ ابنِ جوزی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”تلبیسِ ابلیس“ میں لکھتے ہیں کہ خوارج میں سب سے اول اور سب سے بدتر 'ذوالخویصرہ تمیمی' تھا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مالِ غنیمت صحابہ میں تقسیم فرمایا، تو یہ شخص آیا اور نہایت گستاخی سے کہا: ”یا رسول اللہ! اللہ سے ڈرو، یعنی انصاف کرو!“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں زمین والوں میں اللہ سے تقویٰ کرنے میں سب سے بڑھ کر لائق نہیں ہوں؟“

فتنے کا آغاز اور خارجیوں کا کردار

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت پیش گوئی فرمائی تھی کہ: ”اس شخص کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جو قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے اس طرح خارج ہو جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔“ یہی ذوالخویصرہ تمیمی پہلا خارجی تھا، اور اسی کے پیروکار وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف نہروان کے مقام پر جنگ کی تھی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ پر الزام اور مناظرہ

خارجیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس لیے مشرک قرار دیا کہ آپ نے جنگِ صفین کے بعد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو 'حکم' (ثالث) بنایا تھا۔ ان کا باطل استدلال یہ تھا کہ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ (حکم صرف اللہ کا ہے)۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے مناظرہ کیا اور قرآنِ پاک کی آیت (سورۃ النساء: ۳۵) پیش کر کے ثابت کیا کہ غیرِ خدا کو ثالث بنانا جائز ہے، جس کے نتیجے میں دو ہزار خارجی توبہ کر کے واپس پلٹ آئے، جبکہ باقی اپنی گمراہی پر قائم رہے اور قتل ہوئے۔

موجودہ وہابیت اور خارجی ذہنیت

مضمون نگار کے مطابق موجودہ وہابی گروہ انہی خارجیوں کی نسل ہے۔ جس طرح خارجی صحابہ کرام کو مشرک ٹھہراتے تھے، اسی طرح موجودہ وہابی بھی امتِ مسلمہ کو بات بات پر 'شرک' کا فتویٰ دیتے ہیں۔ ان کی پہچان کے متعلق بخاری شریف کی حدیث میں واضح ہے کہ:

”تم ان کی نمازوں، روزوں اور اعمال کے سامنے اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے، یہ قرآن پڑھیں گے جو ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، اور یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“

اس تحریر سے واضح ہوتا ہے کہ یہ گروہ اپنی عبادت کے زعم اور تکبر کی وجہ سے صراطِ مستقیم سے بھٹک گیا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!