| عنوان: | نبی اکرم ﷺ کی دعوت کا اسلوب |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری زید شرفہ |
| پیش کش: | محمد اکرم رضا رضوی شراوستی |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
فقد قال الله تعالى:
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ [النحل: 125]
ترجمہ: ”اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ حکمت اور اچھی نصیحت سے اور ان کے بہترین طریقے پر بحث کرو“۔
نبی اکرم ﷺ اعلانِ نبوت کے بعد مکہ معظمہ میں تیرہ سال دعوتِ اسلام میں مصروف رہے، اس عرصے میں تقریباً ایک سو افراد حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ سرورِ عالم ﷺ نے ان کی سیرت کی اس طرح تعمیر فرمائی کہ ان میں سے ہر فرد یگانۂ روزگار بنا، یہ حضرات مہاجرین کے محترم لقب کے ساتھ ملقب ہوئے۔ ہجرت کے بعد حضور ﷺ سے براہِ راست اکتسابِ فیض کرنے والے خوش قسمت حضرات صحابۂ کرام کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی، مدینہ منورہ کے خوش بخت صحابۂ کرام انصار کہلاتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں چار کارنامے نہایت نمایاں نظر آتے ہیں:
- دنیا کے سامنے دینِ اسلام پیش کیا جو دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی ضمانت ہے۔
- نئی حکومت تشکیل دی۔
- عرب کے مختلف قبائل کو ایک امت اور ایک قوم بنا دیا۔
- ایک ایسا قانون نافذ کیا جس کے سامنے تمام قوم نے سرِ تسلیم خم کیا۔
یہ وہ کارنامے ہیں جنہیں انجام دینے کے لیے صدیوں کی ضرورت تھی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے کے تین صدیوں بعد مسیحیت اس قابل ہو سکی کہ اپنا تحفظ کر سکے۔ نبی اکرم ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے نئی حکومتیں قائم ہوتی رہیں، لیکن یہ حکومتیں ایسی قوموں میں قائم ہوتی رہیں جن میں پہلے سے بادشاہت کا نظام چلا آ رہا تھا، ان میں کسی نئی حکومت کا قائم ہو جانا کوئی عجیب بات نہ تھی، لیکن عربوں میں باقاعدہ حکومت قائم نہ تھی، ان میں حکومت کے شعبے مختلف لوگوں میں بٹے ہوئے تھے، ایسی قوم میں مضبوط حکومت کا قائم کرنا ایسا واقعہ ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
عرب قوم مختلف اور متصادم قبیلوں میں بٹی ہوئی تھی، ان قبائل کو ایک قوم کی صورت میں ڈھال دینے کے لیے طویل عرصے کی ضرورت تھی تب جا کر ان میں اجتماعیت پیدا ہو سکتی تھی، انہیں چند سالوں میں ایک قوم بنا دینا بھی تاریخ کا نادر واقعہ ہے۔
پھر اس قوم میں ۲۳ سال کے مختصر عرصے میں ایسے قانون کا نافذ کر دینا جو نہ صرف اس قوم کی ضروریات کو پورا کرتا ہو بلکہ اس کی ترقی کا ضامن ہو اور پوری قوم کا بغیر کسی اختلاف کے اس قانون پر عمل پیرا ہو جانا بھی ایسا واقعہ ہے جس کی مثال پوری دنیا میں پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہ عظیم الشان کارنامے اس امر کی دلیل ہیں کہ انہیں انجام دینے والا اللہ تعالیٰ کا نبی اور رسولِ برحق ہے، ان کارناموں نے دنیا بھر کے مفکرین اور دانشوروں کو حیرت میں مبتلا کیا ہوا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ایک ہستی نے مختصر ترین دور میں اتنا بڑا انقلاب کیونکر برپا کر دیا؟
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید اپنے نبی رسولِ مکرم ﷺ کے شاملِ حال تھی اور یہ سب کچھ نبی اکرم ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی معجزانہ تاثیر کا نتیجہ ہے۔ یوں تو انبیاء و مرسلین جسمانی، روحانی اور اخلاقی اعتبار سے بہترین صفات کے حامل تھے، تاہم رسول ہونے کے لیے چار اوصاف بنیادی حیثیت رکھتے ہیں:
- کامل مکمل صداقت: یعنی ہر حال میں سچ کہنا، وعدہ ہو یا وعید ہو، خبر ہو یا کسی سوال کا جواب، سنجیدگی سے گفتگو کی گئی ہو یا مزاح سے، اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا ہر قول معیارِ صداقت پر پورا اترتا ہے اور واقعے کے مطابق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کے کسی بھی قول یا بیان میں جھوٹ کا پہلو پایا جاتا ہو تو لوگ اس پر اعتماد ہی نہیں کریں گے، اور رسالت کی بنیاد ہی منہدم ہو جائے گی۔
- قول و فعل کی مطابقت: یعنی رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے جو احکام بیان کرتے ہیں وہ خود ان تمام احکام پر عمل کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت کی سب سے زیادہ معرفت رکھتے ہیں، لازمی بات ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم کی خلاف ورزی نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم کی مخالفت خیانت ہے اور کوئی بھی خائن رسول بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
- کامل اور مسلسل تبلیغ: اللہ تعالیٰ کے رسول کی شان یہ ہے کہ وہ لوگوں کی ناراضگی، ایذا رسانی اور مخالفت کی پروا نہیں کرتے، اگر وہ لوگوں کے دباؤ میں آ کر احکامِ الٰہیہ کی تبلیغ سے کنارہ کش ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کا دعوائے رسالت سچا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا مقام یہ ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہوتے ہیں کسی دوسرے کی رضا یا ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے۔
- عظیم عقل: کیونکہ لوگ آنکھیں بند کر کے اسی ہستی کی پیروی پر آمادہ ہوں گے جس کے بارے میں وہ سمجھتے ہوں کہ وہ عقل کے عظیم ترین مقام پر فائز ہے، تب ہی انہیں اطمینان ہو گا کہ وہ شخصیت ہمیں غلط راستے پر نہیں لے جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی قوم میں سب سے زیادہ عقلمند ہوں، تب ہی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہوئے پیغام اور احکام کے بارے میں اپنی قوم اور خاص طور پر دانشوروں اور پڑھے لکھے لوگوں کو مطمئن کر سکیں گے اور مخالفین کے اعتراضات کے جواب دے سکیں گے۔
جب کسی شخصیت میں یہ چاروں صفات پائی جائیں اور رسول ہونے کی دوسری علامتیں بھی پائی جائیں اور اس شخصیت کی سچائی کو قبول کرنے میں کوئی قطعی مانع بھی نہ پایا جائے تو ماننا پڑے گا کہ وہ واقعی دعوائے رسالت میں سچے ہیں۔
نبی اکرم سرورِ دو عالم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کرنے سے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ چاروں اوصاف آپ کی ذاتِ اقدس میں بدرجہ اتم موجود ہیں، آپ کی صداقت کا اعتراف صرف اپنوں کو ہی نہیں بیگانوں کو بھی تھا۔ آئیے، امام ترمذی روایت کرتے ہیں کہ ابو جہل نے نبی اکرم ﷺ کو کہا کہ:
”ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے ہم تو اس پیغام کو جھٹلاتے ہیں جو آپ لائے ہیں“۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ [الأنعام: 33]
ترجمہ: ”اے حبیب! یہ کافر آپ کی تکذیب نہیں کرتے لیکن ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں“۔
ابو سفیان تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے، جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے شاہِ روم ہرقل کو اسلام کا دعوت نامہ پہنچا، اس نے ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں کو بلا کر چند سوالات کیے، اور آخر میں ان جوابات پر تبصرہ کیا۔ ایک سوال اور اس کے جواب کا تذکرہ کرتے ہوئے شاہِ روم نے کہا:
”میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ دعوائے رسالت سے پہلے آپ ان پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ آپ کا جواب نفی تھا، مجھے اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ انسانوں کے بارے میں تو جھوٹ نہ بولیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ بولیں“۔
دوسری صفت ”قول و فعل کی مطابقت“ کا سب سے زیادہ شاندار مظاہرہ بھی نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ میں ملتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ [الزمر: 66]
ترجمہ: ”بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جاؤ“۔
امام بخاری اور مسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کو اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے پائے اقدس میں ورم آ جاتا، میں نے عرض کیا:
”یا رسول اللہ! آپ اتنی دیر کھڑے ہو کر نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام امور کی مغفرت فرما دی ہے“۔ فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“
- امت کے لیے پانچ نمازیں فرض ہیں، لیکن آپ باقاعدگی کے ساتھ تہجد بھی ادا فرماتے۔
- امت پر رمضان کے روزے فرض ہیں، مگر آپ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے۔
- سفر و حضر میں ایامِ بیض (چاند کی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخوں) کے روزے رکھتے۔
- شعبان کے اکثر روزے رکھتے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ يذكر الله على كل أحيانه ”ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے“۔ حصنِ حصین کا مطالعہ کیجیے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ اقدس کا ایک ایک لمحہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی یاد میں گزرتا تھا۔
تبلیغِ اسلام کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ نے جس محنت اور تسلسل سے کام کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جس قدر تکلیفیں برداشت کیں، دعوت و تبلیغ کی تاریخ میں اس کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ حدیث شریف میں ہے:
ما أوذي نبي مثل ما أوذيت
ترجمہ: ”جتنی تکلیفیں ہمیں دی گئیں کسی نبی کو نہیں دی گئیں“۔
- نبی اکرم ﷺ نے شخصی طور پر لوگوں سے رابطہ کیا۔
- عرب کے مختلف قبیلوں سے ملاقات کر کے اسلام کا پیغام پیش کیا۔
- تبلیغِ دین کے لیے سفر کیا۔
- لوگوں کے اجتماعات میں تشریف لے گئے۔
- اپنے نمائندے بھجوائے۔
- وفود حاضر ہوتے اور مبلغ بن کر واپس ہوتے۔
- سلاطین اور امراء کو اسلام کی دعوت دی۔
- صحابہ کرام کو حکم دیا کہ دین کی تعلیم حاصل کریں اور دوسرے لوگوں کو تعلیم دیں۔
- مجاہدین کو حکم دیا کہ دعوتِ اسلام پیش کرنے سے پہلے جنگ نہ کریں۔
- نیز تمام مسلمانوں کو تبلیغِ اسلام کا حکم دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کا پیغام دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ گیا۔
نبی اکرم ﷺ کا پیغام کیا تھا؟
ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! لا إله إلا الله کہو کامیاب ہو جاؤ گے“۔
یعنی شرک چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود نہ مانو۔ شاہِ روم نے دریافت کیا کہ: ”وہ تمہیں کیا حکم دیتے ہیں؟“ اس کے جواب میں ابو سفیان نے کہا:
”وہ کہتے ہیں، اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، تمہارے آباؤ اجداد جو کچھ کہتے تھے اسے چھوڑ دو، اس کے علاوہ وہ ہمیں نماز، سچائی، پاک دامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں“۔
یہ اعلان اہلِ مکہ کے لیے دھماکے سے کم نہ تھا، ایک ایک فرد دشمنِ جاں بن گیا، عقبہ ابن ابی معیط نے آپ کے گلے میں چادر ڈال کر اس زور سے کھینچی کہ آپ گھٹنوں کے بل زمین پر آ گئے، نماز پڑھتے ہوئے اونٹنی کی اوجھڑی (بچہ دانی) آپ کی پشت پر ڈالی گئی، آپ کو سب و شتم کیا گیا، شاعر، کاہن اور جادوگر کہا گیا، آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، آپ کے صحابہ کرام کو اذیتیں دی گئیں، بعض کو شہید کر دیا گیا، تین سال تک شعبِ ابی طالب میں صحابہ کرام کے ساتھ محصور رہے۔ اس عرصے میں مشرکین نے مکمل بائیکاٹ کیا، طائف والوں کو دعوتِ اسلام دی تو انہوں نے آپ پر پتھر برسائے، یہاں تک کہ جسدِ اقدس لہو لہان ہو گیا، نعلین شریفین خونِ مبارک سے تر ہو گئے۔
نبی اکرم ﷺ عرب کے معزز ترین قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے، خود صداقت و امانت کا پیکر ہیں، عمر شریف ۴۰ سال سے زیادہ ہے، اپنی سابقہ زندگی کو بطور چیلنج پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”تمہیں میری پوری زندگی میں کوئی عیب دکھائی دیا ہے؟“ کسی کو انگشت نمائی کی جرات نہیں ہوتی، پھر مقصد کتنا عظیم ہے کہ اپنی قوم کو جہنم سے بچانا چاہتے ہیں، لیکن قوم ہے کہ پوری ڈھٹائی سے اپنے کفر پر مصر ہے، سب و شتم کرتے ہیں، حملے کرتے ہیں، شہید کرنے کے منصوبے بناتے ہیں، صحابہ کرام کو ناقابلِ برداشت اذیتیں دیتے ہیں، یہ سب کچھ برداشت کرنا اور اپنے مشن پر نہ صرف قائم رہنا بلکہ اسے کامیابی سے ہمکنار کرنا اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہی کا کام ہو سکتا ہے، کوئی دوسرا شخص یہ عظیم کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔
پھر عظیم رہنمائی اور انتہائی قیمتی تعلیم پر کسی قسم کے معاوضے کا مطالبہ نہیں بلکہ صاف ارشاد فرمایا جاتا ہے:
قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ [الشورى: 23]
ترجمہ: ”ہم تبلیغِ دین پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے، ہاں ہماری قرابت اور رشتہ داری کا پاس کرو“۔ یعنی ہماری رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہوئے ہمارے قریب آؤ اور حلقہ بگوشِ اسلام ہو جاؤ، یہ مطلب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا۔
نبی اکرم ﷺ کی دعوت و تعلیم کا ایک انداز یہ ہے کہ صحابہ کرام دنیا کی کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتے تو آپ ان کی توجہ کا رخ کمالِ حکمتِ عملی سے اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دیتے۔ ہوازن کے قیدیوں میں ایک عورت بھی تھی جس کی چھاتی میں دودھ اترا ہوا تھا۔ اسے جو بھی بچہ ملتا اسے سینے سے چمٹا لیتی اور اسے دودھ پلاتی، نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
”تمہارا کیا خیال ہے؟ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟“
صحابہ کرام نے عرض کیا:
”کہ اس کے بس میں ہو تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالے گی“۔
فرمایا: ”یہ عورت اپنے بچے پر جس قدر مہربان ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت اس سے کہیں زیادہ ہے“۔
بعض اوقات صحابہ کرام کسی دنیاوی چیز کی طرف متوجہ ہوتے تو آپ ان کی توجہ آخرت کی طرف مبذول فرما دیتے۔ ایک دفعہ صحابہ کرام ریشمی کپڑے کو چھو کر دیکھ رہے تھے اور اس کی خوبصورتی کی تعریف کر رہے تھے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں“۔
ہاں مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد جہاد کا حکم نازل ہوا، یہ بھی دعوتِ اسلام کا ایک طریقہ تھا، جنگ سے پہلے پیشکش کی جاتی تھی کہ:
”اسلام لے آؤ، یا ذمی بن جاؤ اور اگر ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت کے لیے بھی تیار نہیں ہو تو جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ“۔
مستشرقین کا یہ کہنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے، کیونکہ ذمی جب اسلامی اسٹیٹ سے معاہدہ کر لیتے تھے تو انہیں اپنے دین پر قائم رہنے کی پوری آزادی ہوتی تھی اور انہیں اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا۔ چوتھی صفت ”عقلِ کامل“ ہے، نبی اکرم ﷺ کی کامل ترین عقل کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے جس انقلاب کا منصوبہ پیش کیا تھا اسے آپ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں برپا کر کے دکھا دیا، آپ کی احادیثِ شریفہ کا مطالعہ کیجیے، قرآنِ پاک کے بعد حکمت و دانش کا ایسا خزانہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔
اس میں شک نہیں کہ یونان میں بڑے بڑے مشہور فلاسفہ پیدا ہوئے لیکن وہ سب گفتار کے غازی تھے، ان میں کردار کا غازی کوئی بھی نہ تھا، ان میں:
- اخلاص اور للہیت کے اعتبار سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پائے کا ایک بھی نہ تھا۔
- حق کی سختی کے ساتھ حمایت کرنے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔
- سخاوت میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ۔
- علم و حکمت اور شجاعت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ۔
- زہد میں حضرت ابوذر غفاری اور عبادت و ریاضت میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم جیسی کوئی ہستی یونان والوں میں نہ تھی۔
جس محسنِ انسانیت کے شاگردوں کا یہ عالم ہو، حکمت و دانش میں اس کا مدِ مقابل کون ہو سکتا ہے؟
ماننا پڑے گا کہ حضور سیدِ عالم ﷺ کا اندازِ تبلیغ اور اسلوبِ دعوت سب سے انوکھا، سب سے نرالا اور سب سے زیادہ کامیاب تھا۔ آج اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کا یہ ارشاد ہمیں جھنجھوڑ کر خوابِ غفلت سے جگا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر، بوسنیا، فلسطین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی امداد کے لیے جہاد کا حکم دے رہا ہے:
ترجمہ: ”تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرتے؟ حالانکہ کمزور مرد، عورتیں اور بچے جو کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی کارساز مقرر فرما اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار بنا“۔ [النساء: 75]
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
