| عنوان: | فرقہ وہابیہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | ابو احمد محمد انس رضا قادری |
| پیش کش: | ناظمین فاطمہ ردولی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
پہلی عالمی جنگ کے دوران وہابیوں نے انگریزوں کی سرپرستی میں خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازشیں کیں اور ۱۹۲۴ء-۱۹۲۵ء میں امیرِ نجد ابنِ سعود نے مکہ و مدینہ پر حملہ کر کے نجدی و وہابی بادشاہت قائم کر لی۔ اس قبضے کے بعد سے ہی مزاراتِ صحابہ اور مقدس اسلامی مقامات کو مٹانے کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ ان لوگوں نے گنبدِ خضراء تک کو شہید کرنے کی ناپاک کوشش کی تھی۔
وہابیت کا پھیلاؤ اور مالی معاونت
محمد بن عبدالوہاب نجدی کی کتاب 'کتاب التوحید' کا ترجمہ اسماعیل دہلوی نے 'تقویۃ الایمان' کے نام سے کیا، جس نے برصغیر میں وہابی فکر کو فروغ دیا۔ سعودی عرب سے ملنے والی کروڑوں کی مالی امداد نے اس تحریک کو پاکستان اور ہندوستان سمیت دنیا بھر میں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج 'اہلِ حدیث'، 'سلفی تحریک'، 'تحریکِ اہل حدیث' اور 'غرباء اہل حدیث' جیسی جتنی بھی تنظیمیں ہیں، ان سب کا فکری اور مالی مرکز وہی نجدی عقائد ہیں۔
حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں خارجی پہچان
مضمون نگار کے مطابق وہابی، خارجیوں ہی کی عملی تصویر ہیں۔ احادیثِ نبویہ میں جن خارجیوں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں، وہ آج کے وہابیوں پر صادق آتی ہیں:
- فتنوں کا مرکز: حضور ﷺ نے نجد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ ”وہاں سے شیطان کا سینگ (فتنہ) نکلے گا۔“ (صحیح بخاری)
- تکفیرِ مسلمین: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خارجیوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کافروں کے حق میں نازل ہونے والی آیات کو مومنوں پر چسپاں کر دیا ہے۔ اسی طرح آج کے وہابی ہر مسلمان کو مشرک و بدعتی قرار دینے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کرتے ہیں۔
- مسلمانوں کا قتلِ عام: حدیثِ نبوی ﷺ ہے کہ یہ گروہ بت پرستوں کو چھوڑ کر اہل اسلام کو قتل کرے گا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہابیوں کا سارا زور مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانے اور انہیں نشانہ بنانے پر ہے۔
فتنے کا تسلسل
نبی کریم ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ یہ فتنہ پرور لوگ قیامت تک نکلتے رہیں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ مسیحِ دجال کے ساتھ نکلے گا۔ ان کی علامت 'سر منڈوانا' (مختلف صورتوں میں) بیان کی گئی ہے۔ یہ لوگ قرآن تو بہت پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔
(جاری ہے...)
