Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ وہابیہ (قسط: سوم)

فرقہ وہابیہ (قسط: سوم)
عنوان: فرقہ وہابیہ (قسط: سوم)
تحریر: ابو احمد محمد انس رضا قادری
پیش کش: ناظمین فاطمہ ردولی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پیش گوئی فرمائی کہ گمراہ فرقے ہر دور میں نکلتے رہیں گے، تو یقینی بات ہے کہ آج بھی ان کا وجود موجود ہے۔ اگر ہم آج کے فرقوں کے عقائد و اعمال کا موازنہ خارجی دور کے عقائد سے کریں، تو وہابی فرقے کے سوا کوئی ایسا گروہ نہیں ملے گا جس کی عادات و اطوار خارجیوں سے مشابہت نہ رکھتی ہوں۔ بات بات پر شرک کے فتوے لگانا اور جہاد کی غلط تعریف کرنا ان کا خاصہ ہے۔ وہابی اپنے آپ کو خارجی مانیں یا نہ مانیں، حقیقت میں یہی خارجیوں کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں۔ جس طرح انہوں نے ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل) کی تقلید کو حرام قرار دیا، تو سزا کے طور پر انہیں ابنِ تیمیہ جیسا امام ملا۔

ابنِ تیمیہ: ایک مختصر تعارف

ابنِ تیمیہ (پیدائش: ۶۶۱ھ - وفات: ۷۲۸ھ) کو وہابی/غیر مقلدین اپنا امام مانتے ہیں، مگر علماءِ حق نے اسے گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا قرار دیا ہے۔ اس نے بہت سے مسائل میں اجماعِ امت کی مخالفت کی ہے۔ مثلاً:

  • حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے مدینہ طیبہ کے سفر کو گناہ قرار دیا۔
  • اس کا عقیدہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مرتبہ نہیں ہے۔
  • یہ بھی عقیدہ رکھا کہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں تغیر و تبدل ہوتا ہے۔

علماءِ حق کی آراء

  • امام شیخ احمد صاوی مالکی رحمۃ اللہ علیہ: آپ نے تفسیرِ صاوی میں تحریر فرمایا کہ ابنِ تیمیہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔
  • علامہ شہاب الدین ابنِ حجر مکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ: آپ نے اپنے فتاویٰ حدیثیہ میں لکھا کہ ابنِ تیمیہ کا یہ کہنا کہ جہنم فنا ہو جائے گی اور انبیاء کرام معصوم نہیں ہیں، سراسر باطل ہے۔
  • ابو عبداللہ ابنِ بطوطہ (مورخ): اپنے سفرنامہ میں لکھتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ کے دماغ میں کسی قدر فتور آ گیا تھا۔

وہابی سے 'اہلِ حدیث' تک: ایک تاریخی حقیقت

بعض لوگ کہتے ہیں کہ 'وہابی' تو اللہ تعالیٰ کا نام ہے، حالانکہ اللہ کا نام 'وہاب' ہے، وہابی نہیں (جو محمد بن عبدالوہاب نجدی کی طرف نسبت ہے)۔ اس نام کی بدنامی سے بچنے کے لیے غیر مقلدین کے سرکردہ رہنما مولوی محمد حسین بٹالوی نے انگریز حکومت سے بڑی کوششوں کے بعد 'وہابی' کے بجائے 'اہلِ حدیث' نام منظور کروایا۔ خود غیر مقلدین کی ویب سائٹس اور کتب (جیسے ماثرِ صدیقی، ترجمانِ وہابیہ، سیرتِ ثنائی، اخبار اہل حدیث امرتسر، ۲۶ جون ۱۹۰۸ء) میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ پہلے ان کا نام 'جماعتِ موحدین' تھا، بعد میں برطانوی حکومت سے 'اہلِ حدیث' کا لقب الاٹ کروایا گیا۔

حوالہ جات برائے مزید مطالعہ: وہابیت، مبانی فکری و کارنامہ عملی (آیت اللہ العظمیٰ سبحانی)، تاریخِ مغل، اور سیفِ چشتیاں (پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی)۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!