Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

تبلیغ اسلام کی صعوبتیں اور ہمارا کردار

تبلیغ اسلام کی صعوبتیں اور ہمارا کردار
عنوان: تبلیغ اسلام کی صعوبتیں اور ہمارا کردار
تحریر: عبدالصمد قادری
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

تقریباً چودہ سو سال پہلے کی بات ہے جب ہر چہار سو کفر و شرک نے اپنا اڈا جما رکھا تھا، اس کفر و شرک کے درمیان ایک امید کی کرن نبی محتشم محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے جنہوں نے اسلام کی ترویج و اشاعت میں اپنی پوری زندگی سرف کر دی اور اس کے سبب نہ جانے آپ پہ کیسے کیسے ظلم و ستم کے بازار گرم کیے گئے، مگر آپ کا ان کے معاملے میں رویہ یہ ہوتا کہ آپ ان کو بھی ہدایت کی دعائیں دیتے، اور کبھی بھی اپنی زبان پہ حرفِ شکوہ نہ لاتے اور یہی کردار اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوا کرتا تھا۔

علمِ سیرت کے جاننے والوں پہ یہ بات مخفی نہیں کہ دعوتِ اسلام کے سلسلے میں انبیاء و رسل پہ سب سے زیادہ ظلم و ستم ڈھائے گئے جب کہ وہ اللہ پاک کے مقرب بندے ہیں، اس سے یہ بات واضح ہو چکی کہ تبلیغِ اسلام میں صعوبتوں اور مصیبتوں کا آنا یقینی اور تحصیلِ قربِ الٰہی کا ایک عظیم ذریعہ ہے جب کہ ہم اس پر صبر و شکر سے کام لیں۔

حضرت زکریا علیہ السلام کا ستایا جانا

چنانچہ امام محمد بن محمد غزالی علیہ رحمۃ الرحمن نے ایک دل دہلانے والا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ جب زکریا علیہ الصلاۃ والسلام نے یہودیوں کو دینِ اسلام کی دعوت پیش کی تو وہ آپ کے جان کے دشمن بن کر آپ کو شہید کرنے کی فکرمندی میں ہمہ تن رہنے لگے۔ اسی غرض سے ایک مرتبہ حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کو یہودیوں نے محاصرہ کرنے کے لیے پیچھا کیا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام اس کے حملے سے بچنے کے لیے شہر سے باہر نکلے، کہ کہیں روپوش ہو جائیں تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے قریب ایک درخت دیکھا تو آپ نے اس کو حکم دیا کہ تو مجھے اپنے اندر سما لے۔ چنانچہ وہ درخت چر گیا اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو اپنے اندر روپوش کر لیا۔ چونکہ یہودی بھی آپ کے پیچھے تھے، جب یہودی وہاں پہنچے تو شیطان نے ساری باتیں بتلائیں اور ایک غلیظ مشورہ دیا کہ اس درخت کو آری سے دو ٹکڑے کر دو۔ چنانچہ یہودیوں نے اس کی بات پہ عمل کرتے ہوئے اس کو دو ٹکڑے کر دیے اور اس طرح آپ بھی اس کے ساتھ شہید ہو گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ جب آری آپ کے دماغ تک پہنچی تو آپ کی زبانِ مبارک سے آہ کی آواز نکلی تو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اے زکریا علیہ الصلوۃ والسلام! مصائب پر پہلے صبر کیوں نہیں کیا؟ جو اب فریاد کرتے ہو، اگر اب دوبارہ زبان سے آہ کی آواز نکلی تو دفترِ صابرین سے تمہارا نام خارج کر دیا جائے گا۔ [مکاشفۃ القلوب]

اس لیے ہر عقل مند کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ صبر و شکر سے کام لے، پھر اس کا اجر کیا ملتا ہے؟ اس کو صابروں میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس کے لیے خود ربِ غفار خوشخبری سناتا ہے کہ ان کے لیے تو ایسے ایسے باغات ہیں جس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں، ان کے لیے غلمان ہوں گے اور وہ ہمیشہ خوش رہیں گے، اس پہ غمگینی کبھی نہیں آئے گی۔

بعض اوقات اسلامی ذہنیت کے لوگ کچھ یوں کہتے معلوم ہوتے ہیں کہ ہم تو ترویجِ اسلام کے لیے ہی کوششیں کر رہے ہیں تو ہم پہ تکالیف کیسی؟ ان سے میری عرض ہے، اللہ پاک سب سے زیادہ اسی بندے کو آزماتا ہے جو قربِ الٰہی میں سب سے زیادہ قریب تر ہو۔ چونکہ یہ سنتِ الٰہی ہے کہ اسلام کے راستے میں لوگوں کو مصیبتوں اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے نبیِ رحمت، شفیعِ امت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دعوتِ اسلام کے راستے میں سب سے زیادہ تکلیف دیے گئے اور ستائے گئے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم و ستم

چنانچہ جب نبیِ رحمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فاصدع بما تؤمر پر عمل کرتے ہوئے اعلانیہ دعوتِ اسلام شروع کی تو کفارِ قریش نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پہ کیسے کیسے ظلم و ستم ڈھائے، یہاں تک کہ آپ کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ بھی کیا اور آپ کو اور آپ کے اصحاب کو جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، سب کو ایک گھاٹی جس کا نام شعبِ ابی طالب تھا، اس میں آپ سب کو محصور کیا اور آپس میں معاہدہ کر لیا کہ ان تک کسی قسم کی کوئی کھانے پینے کی چیز اور تجارتی مال نہ پہنچائیں تاکہ اس خوف سے وہ اپنی تبلیغِ اسلام سے باز آ جائیں، اور یہ سلسلہ تقریباً تین سال تک چلتا رہا، مگر سلام ہے ان جان نثار صحابہ پر جنہوں نے نہ اپنا اسلام چھوڑا بلکہ ترویجِ اسلام میں پہلے سے زیادہ کوشش کرنے لگے، تو ان کا ثمرہ کیا ملا کہ صبحِ قیامت تک تاریخ ان کو یاد کرے گی اور ان کا ذکر صابر و شاکر میں ہو گا۔ [فقہ السیرہ]

اسی طرح جب بھی ہمیں دین کی راہ میں کوئی تکلیف آئے یا کوئی مصیبت پہنچے تو اپنے ذہن کو منتشر کرنے کے بجائے نبیِ رحمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سفرِ طائف کا واقعہ اپنے ذہن میں تصور کریں کہ جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پہ تبلیغِ اسلام کی وجہ سے کفارِ قریش نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم طائف کی طرف قبیلہ بنو ثقیف کے پاس اس غرض سے کہ ان کی حمایت حاصل ہو اور اس امید سے کہ وہ پیغامِ حق کو تسلیم کریں گے، حاضر ہوئے، تو جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم طائف پہنچے تو آپ نے ایک گروہ کو پایا جو قبیلہ بنو ثقیف کا سردار تھا، آپ ان کی مجلس میں بیٹھے اور انہیں اللہ وحدہ لا شریک کی دعوت پیش کی اور اپنے آنے کا مقصد بیان فرمایا، مگر ظالموں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مذاق اڑانا شروع کر دیا اور بدتمیزی کا بازار گرم کرنے لگے اور کچھ اچھا جواب نہ دیا اور ایسی غلیظ گفتگو کی جس کی توقع اور امید نہ تھی۔

چنانچہ جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہاں سے مایوس ہو کے لوٹنے لگے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرا یہاں پہ آنا قریش سے چھپا کے رکھنا، مگر اس بات کا بھی کچھ مثبت جواب نہ دیا۔ قبیلہ بنو ثقیف کا ظلم و ستم صرف یہیں تک محدود نہ رہا بلکہ جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہاں سے آنے لگے تو بنو ثقیف کے سرداروں نے اپنے علاقے کے اوباش لڑکوں اور غلاموں کو آپ کے پیچھے لگا دیا، وہ بدطینت لوگ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پہ چیختے چلاتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو پتھر مارتے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدمینِ شریفین لہو لہان ہو گئے مگر ظالموں کو رحم نہ آیا۔

اللہ اللہ! اتنے ظلم و ستم کے بعد بھی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ان کے معاملے میں رویہ کیا تھا کہ جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تکلیف سے بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اللہ پاک کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگنے لگے کہ: اے مولا! میں اپنی طاقت کی کمزوری، عملی قوت کی کمی اور لوگوں کی نگاہوں میں اپنی بے بسی کا شکوہ تیری بارگاہ میں کرتا ہوں، اے ارحم الراحمین! تو سب کمزوروں کا رب ہے اور تو میرا بھی رب ہے، تو مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کیا کسی بیگانے کے حوالے کرتا ہے جو مجھ سے ترش روئی سے پیش آئے، یا کیا تو نے میرا معاملہ کسی دشمن کے حوالے کر دیا ہے؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو پھر مجھے ان تکلیفوں کی کوئی پرواہ نہیں، مگر تیری طرف سے عافیت اور سلامتی مجھے مل جائے تو یہ میرے لیے دل کشا ہے، میں پنا ہ مانگتا ہوں تیری ذات کے نور کے ساتھ جس سے تاریکیاں روشن ہو جاتی ہیں اور دنیا اور آخرت کے کام سنور جاتے ہیں، تو مجھے اس سے محفوظ رکھ کہ تیرا مجھ پہ غضب نازل ہو یا مجھ پہ اپنی ناراضگی اتارے، میں تیری رضا کا طلبگار ہوں حتیٰ کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے، تیری طاقت اور زور کے علاوہ کوئی طاقت نہیں۔ [فقہ السیرہ]

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ذرا آپ غور کریں، امام الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہو کر بھی آپ پر کیسے کیسے ظلم و ستم اور مشکلات آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے معاملے میں رویہ کیا تھا؟ اگر آپ چاہتے تو ان کے لیے بددعا کر کے ان کو نیست و نابود فرما دیتے مگر آپ نے یہ گوارا نہ کیا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنی زبانِ مبارک پہ حرفِ شکوہ نہ لائے، بلکہ صبر و شکر اور تحمل کے ساتھ ان کے لیے ہدایت کی دعا کی اور اللہ پاک کی بارگاہ میں اپنی عاجزی اور انکساری کو پیش کر کے مدد طلب کی۔

اس واقعے سے یہ بات واضح ہو چکی کہ صبر و شکر کرنا اور مشکلات و شدائد کا مقابلہ کرنا بھی اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک بنیادی اصول ہے۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا سفرِ طائف میں مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا صرف اور صرف تعلیمِ امت کے لیے تھا تاکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعد آنے والوں پر اگر تبلیغِ دین و ترویجِ اسلام کے راستے میں کوئی مصیبت یا تکالیف پیش آئیں تو اس کا خوشی خوشی مقابلہ کریں اور اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اس عظیم سنت پہ عمل کریں۔

ترغیب کے لیے ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے: ہمارا قافلہ شہر کاٹھمانڈو سے تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر دوری پر ایک جگہ پر قافلے کے ساتھ جانا ہوا جس میں تقریباً سات اسلامی بھائی تھے، جب ہم اس شہر میں پہنچے تو تقریباً ظہر کا وقت ہو چکا تھا، ہم نماز سے فارغ ہو کر علاقائی دورے پر نکلے اور لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں، لوگوں نے بہت ساتھ دیا مگر جب مغرب کا وقت قریب آیا تو کچھ لوگوں نے ہمیں مسجد سے یہ سمجھ کر نکال دیا کہ یہ قافلہ غیر مقلدین، وہابی یا دیوبندیوں کا ہے، ہم نے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر ماحول کنٹرول میں نہ آیا اور وہیں کے کچھ لوگ آپس میں ہی ہاتھا پائی کر بیٹھے، ماحول کافی خراب ہو گیا تو ہم نے حکمتِ عملی کے ساتھ اور دعوتِ اسلامی کے طریقہ کار کے مطابق اپنا ساز و سامان مسجد سے باہر لا کر سڑک پہ ڈال دیا اور انتظار کرنے لگے کہ اللہ پاک کوئی مددگار بھیجے گا اور اللہ پاک سے یہ دعائیں کرنے لگے کہ کوئی ہمارا مددگار بھیج۔

بہرکیف اللہ پاک نے ہماری دعا قبول کی اور وہیں کے ایک اسلامی بھائی نے ہماری حمایت کی اور اس اندھیری رات میں ہمارے ساتھ جو ساز و سامان تھا، اٹھا کر پھر سے مسجد میں لا کر رکھ دیا اور ہماری خیر خواہی کرنے لگے۔ پھر اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہوا ایسا کہ وہیں کے لوگ ہم سے متاثر بھی ہوئے اور ہم سے یہ کہنے لگے کہ آپ دوبارہ قافلہ لے کے یہاں پہ تشریف لائیں۔

یہ ہے اللہ پاک کی راہ میں تکالیف سہنے کا ثمرہ کہ جہاں ہمارا رہنے سے بھی تکلیف تھی، پھر بعد میں وہیں کے لوگ ہمارے لیے ناشتے بھی لا رہے ہیں، کھانے بھی لا رہے ہیں، چائے بھی لا رہے ہیں اور دیگر ضروریات بھی پوری کر رہے ہیں، یہ تو پھر دنیاوی فائدے ہیں اور آخرت میں ان کے لیے کیا ہے؟ امام غزالی اپنی کتاب مکاشفۃ القلوب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جو بندہ مصائب پر صبر کرے تو بروزِ قیامت اللہ پاک اس کو ۷۰۰ درجے ایسے عطا فرمائے گا کہ ہر درجے کا فاصلہ تحت الثریٰ سے عرشِ بریں کے برابر ہو گا۔

اللہ پاک سے دعا گو ہوں کہ ہمیں بھی مصائب پر صبر و تحمل سے کام لینے اور اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!