| عنوان: | فتنہ دین الٰہی اور حضرت شیخ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | نورین خان علی حق |
| پیش کش: | نسرین فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
ابو المجد حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی (958-1052ھ) نابغہ روزگار ہندوستانی علمائے مشائخ میں ہیں اور بلاشبہ اپنی مجموعی خدمات کے اعتبار سے تفوق و برتری رکھتے ہیں۔ حضرت شیخ نے کسی ایک فن یا علم پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کی۔ اس کے باوجود ان کی کئی کتابیں اب تک مراجع اور مآخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، تجوید، سیر و تذکرہ اور خطوط نویسی تمام علوم و فنون کا کما حقہ حق ادا کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ مؤرخین و محققین ان کی بارگاہ میں اب تک جبیں سائی کرتے نظر آتے ہیں اور مختلف مکاتب فکر کے متشدد علما ان کے علمی آثار و اثاثہ میں اپنے مخصوص ایجنڈوں کے مخالف مواد کی موجودگی کے باوجود انہیں کھینچ تان کر اپنی تصانیف اور تقاریر کی زینت بناتے ہیں۔
حضرت شیخ کی تصانیف میں مدارج النبوۃ، جذب القلوب إلی دیار المحبوب، احوال ائمہ اثنا عشر، خلاصہ اولاد سید البشر، زاد المتقین، اخبار الاخیار، اشعۃ اللمعات اور کتاب المکاتیب والرسائل کو جتنی مقبولیت ملی شاید ہندوستانی علما کی تصانیف کو کم ہی ملی ہوگی۔
حضرت شیخ نے عملی طور پر تفسیر و حدیث کو رواج دینے کا بھی بڑا کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے اس پر آشوب زمانہ میں مدرسہ قائم کیا، جب محمد اور احمد جیسے نام رکھنا بھی بادشاہ کی نظر میں جرم تھا۔
آج کی نئی نسل عہد اکبری کے خاتمہ کی چار صدیوں بعد عالم وجود میں آئی۔ اس دوران اکبری عہد کو مختلف ناحیوں سے دیکھا گیا اور اپنے مقاصد کے حصول اور اپنے ایجنڈے کے مطابق قارئین کے سامنے پیش کیا گیا۔ آئین اکبری، اکبر نامہ از ابوالفضل، منتخب التواریخ از ملا عبدالقادر بدایونی، دربار اکبری از مولانا محمد حسین آزاد، طبقات اکبری از مرزا نظام الدین، آب کوثر و رود کوثر از شیخ محمد اکرام، تاریخ دعوت و عزیمت (جلد چہارم) از ابوالحسن علی حسنی ندوی، سیرت مجدد الف ثانی از پروفیسر محمد مسعود احمد مجددی نقشبندی یہ وہ اہم کتابیں ہیں، جن میں باضابطہ عہد اکبری کو بیان کیا گیا ہے۔ ابوالفضل، مولانا محمد حسین آزاد اور شیخ محمد اکرام کے علاوہ اس فہرست میں موجود اور نقشبندی سلسلہ کے دیگر مؤرخین عام طور پر عہد اکبری سے نالاں نظر آتے ہیں اور اس کی فتوحات اور اچھائیاں بھی انہیں خراب ہی نظر آتی ہیں، جس کی وجہ سے نئی نسل التباس فکری کا شکار ہوتی ہے۔ منتخب التواریخ میں ملا عبدالقادر بدایونی نے شیخ مبارک، فیضی فیاضی اور ابوالفضل کی شاذ و نادر ہی اچھائی بیان کی ہے۔ ان کے نزدیک ان کی تمام باتیں الحاد و بے دینی کا پیکر ہیں۔
مؤرخین کا ایک طبقہ وہ ہے، جو باضابطہ دربار اکبری سے منسلک تھا اور اکبر کے تمام تفردات اور ارتدادات کو اپنے لیے لائق عمل سمجھتا تھا، جس میں ابوالفضل کا نام سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ مغربی مؤرخین نے اس سلسلہ میں جو گل کاریاں کی ہیں، وہ تو اپنی جگہ ہیں ہی۔ ان تاریخوں کو پڑھ کر عام طور پر قاری کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح دربار اکبری میں موجود علما شرعی امور میں کھینچ تان کرتے تھے، وہ سلسلہ ہنوز بند نہیں ہو سکا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان تاریخوں کے مطالعے کے بعد ایک اور طبقہ عالم وجود میں آگیا، جو کسی بھی مؤرخ کی کسی دلیل پر سر تسلیم خم کرنے کو بآسانی تیار نہیں ہے۔ ان میں مولانا محمد حسین آزاد، اور ابوالکلام آزاد ہیں۔ ان میں بھی ابوالکلام آزاد حضرت مجدد الف ثانی پر اس طرح وارفتہ اور شیدا ہیں کہ انہیں حضرت مجدد کے علاوہ کوئی دوسرا نظر ہی نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بعد شیخ محمد اکرام نے نہ صرف ملا عبدالقادر بدایونی اور ابوالفضل سے اختلاف کیا ہے بلکہ ابوالکلام آزاد کے بھی کئی نظریات کا رد کیا ہے۔
امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی کی علمی و فکری اور متصوفانہ خدمات سے سر مو انحراف کی قطعی گنجائش نہیں ہے، اس کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ مسلک سواد اعظم سے کنارہ کش ہونے والوں نے اپنے شجرۂ طریقت پر مبنی لکھی جانے والی تاریخی کتابوں کو زبردستی گراں بار کیا ہے تاکہ خاموشی کے ساتھ اٹھارہویں صدی کی بعض متنازعہ شخصیات بھی اس جدوجہد سے لیس طلائی کڑی کی زینت بن سکیں۔ بالفاظ دیگر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آخری کڑی کو زریں کڑی دکھانے کی فکر میں پچھلی کڑیوں کو بھی ان کے حقیقی رنگ و روغن سے کچھ زیادہ ہی قلعی کردی ہے۔
یہ کوششیں اتنی زیادہ کی گئیں کہ اس زمانہ میں موجود دیگر اہم اور ناقابل فراموش شخصیات بھی ان کے اذہان سے محو ہو گئیں۔ حالانکہ ان شخصیات کی خدمات بھی کچھ کم نہیں تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ نظر انداز کی جانے والی شخصیت کا نام ابوالمجد محقق علی الاطلاق حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ہے۔ حالانکہ شیخ موصوف نے بھی ان تمام امور کی انجام دہی میں بھر پور حصہ لیا، جن کی انجام دہی کا مطلب اس زمانے میں جان ہتھیلی پر رکھنا تھا۔ صرف اتنا ہی ظلم نہیں ہوا کہ شیخ کو نظر انداز کیا گیا، اس کے علاوہ یہ بھی ہوا کہ بعد کے جن مؤرخین نے اس زمانہ کے علمائے راسخین کا تذکرہ کیا، انہوں نے ان کی خدمات کی درجہ بندی بھی کر دی ہے اور باضابطہ یہ بھی لکھا ہے کہ فلاں کے بعد فلاں کا نمبر ہے۔ نہ جانے کس نے انہیں اس ججمنٹ کا حق دیا اور کیوں دیا تھا؟ میرے خیال میں شاید دربار اکبری کے علما بھی کسی مسئلہ پر اسی طرح کے تضادات بیان کرتے ہوں گے، جن کی بنا پر اکبر نہ صرف اس زمانہ کے علما سے بلکہ علمائے متقدمین سے بھی برگشتہ ہو گیا ہوگا۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ فتنہ دین الٰہی کے دوران شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی سرگرمیوں کے بیان سے پہلے اس ماحول کو بیان کر دیا جائے، جو اسلامی ہند میں نہ اس سے پہلے برپا کیا گیا اور نہ ہی اس کے بعد۔
یوں تو اکبر کا ابتدائی زمانہ ایک سنی مسلمان کی حیثیت سے گزرا، وہ بزرگان دین کے مزارات کا قصد کرتا تھا، سجادہ نشینوں کی بارگاہوں میں نذرانے پیش کرتا تھا۔ حضرت شیخ سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی دعا سے شہزادہ سلیم المعروف جہانگیر کی پیدائش ہوئی۔ اس نے اپنی منت پوری کرنے آگرہ سے اجمیر شریف کا پا پیادہ سفر کیا۔ اپنے استاذ صدر الصدور شیخ عبدالنبی کی جوتیاں بھی کئی بار سیدھی کیں۔ عبادت و ریاضت اور تسبیح و تہلیل میں بھی انہماک کا پتہ چلتا ہے۔ البتہ امتداد وقت کے ساتھ اس کا مزاج بدلتا رہا۔ علما کی آپسی رنجشوں، راجپوت گھرانوں سے رشتہ ازدواج، نصرانی و آتش پرست اور ہندو پنڈتوں سے اس کے روابط نے اسے بد دین و ملحد بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اس نے سیاسی مصالح اور ملک کی اکثریت کو رام کرنے کے لیے بہت سارے فیصلے کیے تھے، انہی فیصلوں نے اس کی آخرت تباہ کر دی، بلکہ ہندوستان میں ایک متوازی دین دین الٰہی کے قیام پر بھی ابھارا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہونے والے بادشاہ کے ذریعہ اسلام کا مذاق اڑایا گیا، اس دور کے بعض نام نہاد علما نے بھی اپنی ذاتی خلش مٹانے اور دل میں بھڑکنے والے انتقامی جذبے کی نذر پورے اسلام کو کر دیا۔ محضر نامہ کی ترتیب و تدوین بھی شیخ مبارک نے کر دی تاکہ انہیں بادشاہ وقت کا تقرب حاصل ہو سکے۔ پروفیسر محمد مسعود احمد مجددی رقم طراز ہیں:
لیکن زہد و ورع کے باوجود اس نے ہندو عورتوں سے شادیاں بھی کی تھیں شاید سیاسی مصالح کی بنا پر۔ چنانچہ 970ھ میں جب اکبر اجمیر شریف گیا اور خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ (633ھ) کے آستانے پر حاضری دے کر واپس ہوا تو جے پور میں راجہ بہادر مل نے غالباً اظہار وفاداری کے طور پر اپنی صاحب زادی پیش کی، جو غیر شرعی نکاح کے بعد حرم میں داخل کر لی گئی۔ انہی سیاسی مصالح کی بنا پر اکبر نے 972ھ میں جزیہ بھی معاف کر دیا، جو بہت بعد میں دور عالم گیری میں 1090ھ میں دوبارہ نافذ کیا گیا۔ [سیرت مجدد الف ثانی، ص: 120]
اس اقتباس سے نہ صرف اکبر کی جہالت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے غیر شرعی نکاح کے ذریعہ غیر مسلم خاتون کو حرم میں داخل کیا بلکہ یہ بھی عیاں ہو جاتا ہے کہ راجپوت زادی کے اثرات اکبر پر اس قدر مرتب ہوئے کہ اس نے سال دو سال میں ہی جزیہ معاف کر دیا۔
ہندو گھرانوں سے رشتہ داریوں کے اثرات کو تاریخ دعوت و عزیمت میں یوں بیان کیا گیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام مخالف اعمال کی انجام دہی میں خواتین خانہ کا بڑا رول تھا۔
اکبر کے لیے ایک بڑی آزمائش کی بات اور اسلام سے اس کے مزاج کے منحرف ہونے کا ایک قومی سبب یہ تھا کہ اس نے استحکام سلطنت کے لیے راجپوت راجاؤں کے ساتھ رشتے ناطے کیے اور ان کا اعلیٰ ترین مناصب پر تقرر کیا اور ان کا پورا اعتماد حاصل کرنے اور ان کو شیر و شکر کرنے کے لیے بہت سے ایسے کام کیے، جو اس سے پیشرو سلاطین نے ابھی تک نہیں کیے تھے مثلاً ذبح گاؤ کی ممانعت، آفتاب کے رخ بیٹھ کر جھروکا درشن، داڑھی منڈوانا، بھدرا کروانا، قشقہ لگوانا، ہندو رانیوں کے ساتھ مل کر تمام ہندوانہ رسموں میں حصہ لینا، ان ہندو رانیوں کا اور ان کے واسطہ اور رشتہ سے ان کے بھائیوں اور عزیزوں کا اکبر پر خاصا اثر تھا، اور یہ بالکل قدرتی بات تھی کہ دین کے ایوان میں سب سے پہلا تزلزل جو واقع ہوا وہ اسی تعلق کا نتیجہ تھا۔ [تاریخ دعوت و عزیمت، ج: 4، ص: 107]
ہر زمانے کے علمائے سو اپنے ذاتی مفاد کو اہمیت دیتے ہیں۔ جیسا کہ آج بھی ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ لیکن جب ہم عہد اکبری کے علما پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہا جاتا کہ اس وقت کے علما کے حالات آج سے کچھ بہتر نہیں تھے۔ اس دور میں بھی تجہیل و تکفیر کا بازار گرم تھا۔ اپنے مفاد کی خاطر دامن اسلام کو داغدار کرنے کا انہیں کوئی قلق نہ تھا۔ گو کہ اکبر اپنے ابتدائی زمانہ میں بقول ملا عبدالقادر بدایونی علما کو غزالی و رازی سے بہتر سمجھتا تھا لیکن ان کی یہ سخیف حرکتیں دیکھیں تو علمائے سلف کو بھی انہیں پر قیاس کر کے سرے سے علم ہی کا منکر ہو گیا۔ بھرے دربار میں اکبر کو ملا عبدالقادر بدایونی سے یہ بھی کہنا پڑا کہ علما میں سے، جو دربار کی عزت و ناموس پامال کریں انہیں باہر نکال دیا جائے۔ ایک طرف سازشیں کر کے علما نے شیخ مبارک ناگوری کو دربار بدر کرایا تو دوسری جانب مخدوم الملک ملا عبداللہ سلطانپوری اور صدر الصدور شیخ عبدالنبی آپس میں رقیب و حریف بن گئے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر دربار میں چیختے چلاتے تھے۔
علمائے سو کے غلط رویے، ان کی آپسی چپقلش اور رنجشیں، دوسری طرف حرم میں داخل خواتین کا اصرار اور اپنوں کو قریب کرنے اور اعلیٰ منصب پر مقرر کرنے کی فکر نے آہستہ آہستہ علما کو اکبر سے اور اکبر کو اسلام سے دور کر دیا۔ اب اسے سورج کی پرستش، غیر شرعی رسوم و آداب، قشقہ لگانے اور جنیو پہننے میں مزہ آنے لگا، جس کے خواہاں بہت سے درباری بھی تھے۔ ان میں خود شیخ مبارک ناگوری اور ان کے دونوں ملحد ساز صاحبزادگان شامل ہیں۔ پہلے محضر نامہ اور پھر دین الٰہی کا قیام عمل میں آیا اور آگے ڈاکٹر محمد باقر کا یہ بیان سنیے:
ابو الفضل نے اکبر کے مذہبی عقائد میں اچھا خاصا دخل پیدا کیا چنانچہ جب اکبر نے 982ھ/1575ء میں فتح پور سیکری میں مذہبی علما کے مباحثہ سننے کے لیے عبادت خانہ قائم کیا تو ابوالفضل علما کے ان باہمی مباحثوں میں شریک ہوتا اور ہمیشہ اکبر کے عقائد کی طرف داری کرتا، یہاں تک کہ اس نے اکبر کو یہ سمجھایا کہ مذہب کے متعلق اس کے نظریات معاصر علما سے کہیں افضل اور برتر ہیں اور 1579ء میں دربار شاہی سے ایک محضر جاری کیا، اس کی رو سے مذہبی علما کے اختلافات نپٹانے کے لیے آخری حکم اکبر کو بنا دیا گیا، عبادت خانہ کے مناظروں کے درمیان ہی میں اکبر کو ایک نیا مذہب ایجاد کرنے کا شوق چرایا، اور اس نے 1582ء میں دین الٰہی کی بنیاد رکھی اسے ابو الفضل نے بھی قبول کیا۔ [اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ج: 1، ص: 889-890]
یہ تصور بآسانی کیا جا سکتا ہے کہ جب ایک جاہل کو عالم سے علمیت اور تفقہ دین کی سند مل جائے تو وہ کیا گل کھلائے گا۔ ہوا یہی کہ تینوں باپ بیٹے مفروضہ دین الٰہی پر ایمان لائے اور یہ سلسلہ چل نکلا۔ اس دین میں جوئے، سود، شراب اور لحم خنزیر کو حلال کر دیا گیا اور رسم ختنہ، ذبیحہ گاؤ، قانون نکاح، تدفین و تکفین کو حرام یا ان کے قوانین میں ترمیم کر دی گئی۔ آتش پرستی، آفتاب پرستی، گنگا جل کے استعمال، تصویر کشی، سجدہ تعظیمی پر اصرار ہو گیا۔ اب دربار کا عام رواج اور رجحان دین اسلام کی تحقیر، تاریخ ہجری سے تنفر، مقام نبوت کی اہانت، اسرا و معراج کا استہزا ہو گیا۔ حد تو یہ تھی کہ دیوان خانہ میں نماز ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ اس نے اپنے زمانہ میں “لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَكْبَرُ خَلِيفَةُ اللَّهِ” کا کلمہ بھی ایجاد کر لیا تھا۔
آخری ایام میں اکبر کی دین اسلام کی طرف واپسی کے حوالہ سے بعض مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے مگر حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے تعزیت نامہ، پروفیسر مسعود احمد کا ان اختلافات پر نتائج کا اخذ اور ابوالحسن علی حسنی ندوی کی تحقیق کے مطابق وہ ملحد ہی اس دنیا سے 1014ھ میں واصل جہنم ہوا۔
987ھ میں محضر نامہ کے اجرا کے بعد 1582ء میں دین الٰہی کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی کے والد ماجد حضرت شیخ سیف الدین دہلوی کا انتقال پر ملال 990ھ میں ہوا۔ یہاں تک بات واضح ہے کہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی اپنے والد ماجد کے انتقال تک ان کی بارگاہ میں باریاب رہے۔ 996ھ بمطابق 1587ء میں سفر حج پر روانگی سے پہلے آپ دار السلطنت فتح پور سیکری میں بھی رہے تھے، اس دوران فیضی فیاضی، ابوالفضل، ملا عبدالقادر بدایونی اور مرزا نظام الدین احمد کے شیخ محدث سے مراسم تھے اور خود حضرت شیخ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ان لوگوں نے حضرت شیخ کی خاطر تواضع کی تھی لیکن وہاں کے حالات کو انہوں نے اپنے استاذ و شیخ عبدالوہاب متقی سے بڑے درد ناک لہجہ میں بیان کیا ہے۔
دراصل ہندوستان سے حجاز کا سفر بعجلت تمام اختیار کرنا اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ شیخ موصوف کو بھی ان کی خداداد صلاحیتوں اور خاندانی وجاہت کی وجہ سے دین اکبری کی طرف کھینچا جا رہا تھا اور ایسے ماحول میں رہنا ان کے لیے ایک دشوار ترین کام ہو گیا تھا۔ حضرت شیخ 995ھ میں گجرات پہنچے، وہاں آپ کو معلوم ہوا کہ سفر حجاز کا موسم گزر چکا ہے۔ آپ نے واپس شمال کا رخ نہیں کیا ایک سال تک گجرات میں ہی ٹھہرے رہے۔ ان باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت شیخ یہاں کے ماحول سے کتنے متنفر ہو چکے تھے، حالانکہ فیضی و ابوالفضل مال و زر کی جھولیوں کے دہانے آپ کے لیے کھول سکتے تھے اور آپ بھی دیگر علما کی طرح دربارداری کی روش اختیار کر سکتے تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ حضرت شیخ اپنے مکتوبات میں ہنگامہ آرائی کے زمانہ کو ستر و کتمان کے ساتھ جگہ جگہ بیان فرماتے ہیں۔
ایک جگہ اخبار الاخیار میں لکھتے ہیں:
ترجمہ: بے بسوں کے مددگار اور پریشان حال لوگوں کے راہ نما نے مجھے اپنی طرف بلا لیا اور مجھ بے خانماں کی گردن میں زنجیر شوق ڈال کر اپنے گھر کی طرف کھینچ لیا اور مجھ نامراد کو منزل مراد تک پہنچا دیا۔ یعنی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی درگاہ میں مجھے جگہ دی۔ [اخبار الاخیار، ص: 304]
ملا عبدالقادر بدایونی کی تاریخی غلط بیانیوں کی کئی ایک مؤرخین نے نشاندہی کی ہے، مگر وہ شیخ احمد سرہندی اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے سلسلہ میں غلط بیانیوں کا سہارا نہیں لے سکتے کہ وہ خود ان دونوں شخصیات سے متاثر بھی تھے اور ان سے معاصرانہ چشمک بھی نہیں تھی۔ انہوں نے شیخ عبدالحق محدث کا تذکرہ اپنی منتخب التواریخ میں بڑے معتقدانہ لب و لہجہ میں کیا ہے۔ شیخ کے سفر حج کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے یہ بھی اشارہ کر دیا ہے کہ کچھ راز دارانہ باتیں انہیں بھی معلوم تھیں:
ترجمہ: جب اہل زمانہ کی وضع میں (جو اوقات میں محل اور مکروہات پر مشتمل ہے) فرق آیا اور ملنے والوں کے حالات اعتماد کے قابل نہ رہے اور فلاں و فلاں کی صحبت سازگار نہ ہوئی اور کعبہ شریف جانے کی توفیق رفیق حال ہوئی تو شیخ جذبہ کے عالم بے سر و سامانی کے ساتھ دہلی سے گجرات کو روانہ ہو گئے۔ [منتخب التواریخ، ج: 3، ص: 113]
بہت ممکن ہے کہ بدایونی نے فلاں و فلاں کی تکرار سے فیضی کو ہی ہدف تنقید بنایا ہو، لیکن انہوں نے ساتھ ہی ساتھ زمانہ کی وضع کا بھی تذکرہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے منظر نامہ صاف ہو گیا کہ پورا ماحول ہی خرابی کی طرف مائل تھا۔ اس کے علاوہ جہاں کہیں بدایونی یا خود حضرت شیخ نے سفر حج کا تذکرہ کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیخ محدث کو دین الٰہی کی طرف مائل کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، اور اس سعی بے جا کے لیے زر و مال کا سہارا لیا جا رہا تھا لیکن شیخ محدث پر تصوف کا غلبہ تھا اور ان کے سامنے متقدمین صوفیہ کی مثالیں موجود تھیں اور وہ انہیں لائق تقلید و عمل گمان کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ابنائے زمانہ سے فرار کا راستہ ہی اختیار کیا۔
ایک جگہ خود حضرت شیخ محدث لکھتے ہیں:
ترجمہ: 996ھ میں جذبہ غیب سے پیدا ہو گیا اور دل پر وحشت طاری ہو گئی۔ دیوانگی کی حالت میں سفر کا ارادہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ [زاد المتقین بحوالہ حیات شیخ عبد الحق محدث دہلوی]
اس زمانہ میں بھی ایسے مؤرخین و ناقدین ہمارے معاشرہ کا حصہ ہیں، جنہیں یہ کہنے میں ذرا تامل نہیں ہوگا کہ شیخ نے حالات کا سامنا کر کے اس کی اصلاح نہ کر سکے تو جہد زندگی سے راہ فرار اختیار کر لی، لیکن یہ اعتراض اس لیے بھی بے موقع و بے محل ہوگا کہ مٹھی بھر طاقت کے ذریعہ حکومت وقت سے ٹکرایا نہیں جا سکتا۔ اس کے برعکس اصلاح کے لیے موقع کا منتظر رہا جا سکتا ہے۔ اور موقع پاتے ہی اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ ادا کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ اس عہد کے چند علمائے راسخین نے کیا۔ بصورت دیگر کئی ایک کو عدم کے تہہ خانے میں دفن بھی کر دیا گیا تھا۔
شیخ محدث تین سالوں 999ھ/1590ء تک حجاز مقدس میں رہے۔ اس دوران انہوں نے خود کو سنوارا نکھارا اور احادیث کی اجازت بھی حاصل کی۔ یہاں میں شیخ کے اس بیان کو درج کروں گا، جس سے شیخ کے فتح پور سیکری کے قیام کے حالات کی کسی قدر تفصیل سامنے آسکے گی:
يَا سَيِّدِي أَيْ شَيْخَ عَبْدَ الْوَهَّابِ الْمُتَّقِي، أَنَا امْرُؤٌ نَشَأْتُ مُنْذُ زَمَانِ صِغَرِي فِي الرِّيَاضَةِ لِلتَّعَلُّمِ وَالتَّعَبُّدِ، لَمْ أَعْتَدْ بِصُحْبَةِ النَّاسِ وَالِاخْتِلَاطِ مَعَهُمْ وَالدُّخُولِ فِيهِمْ، وَلَمَّا حَصَلَ لِي بِفَضْلِ اللَّهِ طَرَفٌ صَالِحٌ مِنْ ذَلِكَ، وَقَضَيْتُ وَطَرِي وَحَاجَتِي مِمَّا هُنَالِكَ، دَعَانِي بَعْضُ أَهْلِ الْحُقُوقِ إِلَى الْخُرُوجِ إِلَى أَرْبَابِ الدُّنْيَا، فَأَدْرَكْتُ سُلْطَانَ الْوَقْتِ وَالْأُمَرَاءَ، فَاعْتَنَوْا بِشَأْنِي، وَرَفَعُوا مَكَانِي، وَأَرَادُوا أَنْ يُكَثِّرُوا بِي سَوَادَهُمْ، وَيُحْكِمُوا وَيُعِدُّوا بِهَذَا الضَّعِيفِ صُوَرَهُمْ وَمَوَادَّهُمْ، فَحَمَانِي اللَّهُ وَلَمْ يَتْرُكْنِي مَعَهُمْ، وَأَوْجَدَ فِي قَلْبِ عَبْدِهِ جَذْبَةً هَدَاهَا إِلَى هَذَا الْمَقَامِ الشَّرِيفِ. [كتاب المكاتيب والرسائل، ص: 279]
اور حضرت! (شیخ عبدالوہاب متقی) میں وہ شخص ہوں، جو بچپن ہی سے تحصیل علم اور عبادت گزاری کی محنت اور ریاضت میں پلا ہے۔ میں بھی عام لوگوں کی صحبت اور میل جول کو خاطر میں نہیں لایا اور جب اللہ کے کرم سے مجھے (علم کا) اچھا خاصا حصہ مل گیا اور میں نے اپنی ضروریات یہاں کی چیزوں سے پوری کر لیں تو بعض اہل حقوق نے مجھے دنیا دار لوگوں کی طرف بلایا۔ چنانچہ میں بادشاہ وقت اور امرا کے پاس گیا۔ انہوں نے میری طرف بہت توجہ کی، میرا رتبہ بلند کیا اور یہ ارادہ کیا کہ میرے ذریعہ اپنی جماعت بڑھائیں اور مجھ کمزور سے اپنی طاقت مضبوط کریں۔ بس اللہ نے مجھے محفوظ رکھا اور ان کے ساتھ مجھے نہ چھوڑا۔ اپنے بندہ کے دل میں ایک جذبہ پیدا کیا، جس نے اس مقام شریف تک پہنچایا۔
ظاہر ہے بادشاہوں کی طرف اہل حقوق اور رشتہ دار راغب کرتے ہیں تاکہ انسان دنیا داروں کی طرح افراط مال و زر کو یقینی بنا سکے، ایسا ہی کچھ شیخ کے ساتھ بھی ہوا، جس کا تذکرہ انہوں نے اپنے استاد سے کیا ہے۔ وہ بادشاہ وقت اور امرا کے دربار تک پہنچے بھی اور انہیں عزت و سربلندی سے بھی نوازا گیا، مگر وہ شخص ضمیر فروش تو بہر حال نہیں ہو سکتا، جس کی پرورش و پرداخت ہی اسلامی اور تصوف پسندانہ ماحول میں ہوئی ہو۔ دنیا دار لوگ حضرت شیخ محدث کے ذریعہ اپنی جماعت بڑھانا اور اپنی طاقت مضبوط کرنا چاہتے تھے اور انہیں بھی اپنی طرح ضمیر فروش بنانا چاہتے تھے، جس کا ادراک شیخ کو بر وقت ہو گیا اور انہوں نے سفر حج کا ارادہ کر لیا کہ نہ وہ ہندوستان میں رہیں گے، نہ ہی انہیں بارہا اسباب دنیا اور زر و مال کی طرف راغب کیا جائے گا۔
در اصل اہل زمانہ جو چاہتے تھے، اللہ رب العزت اس کے برعکس چاہتا تھا۔ اس کا مقصد تو یہ تھا کہ شیخ اس کے پسندیدہ شہر میں سکونت پذیر رہ کر آئندہ کی تیاریوں میں مصروف رہیں اور جن جن امور دینی پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں، ان کی تصدیق و توثیق کا ذریعہ بنیں اور ان سے ایک پورا علمی سلسلہ شروع ہو جائے اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و احادیث عوام تک پہنچیں، جنہیں اکبر ایک مخصوص و محدود طبقہ کے لیے متروک قرار دے رہا ہے اور جس صدی کو وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کا خاتمہ قرار دے رہا ہے، اس صدی میں شیخ ہندوستان میں سب سے زیادہ احادیث و سنن اور آثار کی اشاعت کا ذریعہ بنیں۔ مشیت ایزدی پر ذرا غور کریں کہ کہاں اکبر نظریہ الفی پیش کر رہا تھا اور محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور واقعہ معراج کا استہزا کر رہا تھا اور اس کے بعد شیخ کے بارے میں مؤرخ و تذکرہ نگار شیخ عبدالحی بن فخر الدین حسنی رائے بریلوی یہ لکھتے ہیں کہ:
أَوَّلُ مَنْ نَشَرَ عِلْمَ الْحَدِيثِ بِأَرْضِ الْهِنْدِ تَصْنِيفًا وَتَأْلِيفًا. [نزهة الخواطر، ص: 554]
گویا شیخ کی زندگی کا یہ مقصد پہلے ہی درج کیا جا چکا تھا کہ یہ دور اکبری کی ہنگامہ خیزیوں میں حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی نشر و اشاعت کا سب سے بڑا ذریعہ بنیں گے۔
تین سال تک علم ظاہری و باطنی سے آراستہ کرنے کے بعد آپ کے استاذ و شیخ حضرت عبدالوہاب متقی نے وطن واپسی کا حکم دیا، شیخ کے حکم پر آپ آج کے طلبہ کی طرح بوریا بستر باندھ کر گھر کو نہیں بھاگے، بار بار حجاز مقدس میں قیام کی اجازت چاہی۔ طرح طرح کی دلیلیں دیں تاکہ انہیں ہندوستان واپس نہ آنا پڑے، جب شیخ نے کسی طرح مزید قیام کی اجازت نہیں دی تو انہوں نے بغداد میں حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کی بارگاہ میں حاضری کی خواہش ظاہر کر دی۔ اس پر بھی شیخ نہیں مانے اور بار بار حقوق العباد کی یاد دلاتے رہے، جب انہوں نے ہندوستان واپسی پر غور کرنا شروع کیا تو خود فرماتے ہیں:
چوں این فقیر بہ منزل خود می آمد و تنہا می بود، بخود قرار می داد کہ بہ ہندوستان نرود و مطلق این عزیمت فسخ نمود۔
جب فقیر اپنی قیام گاہ آتا تھا اور تنہا ہوتا تھا تو دل میں طے کر لیتا تھا کہ ہندوستان نہیں جاؤں گا اور واپسی کا ارادہ بالکل فسخ کر دیتا تھا۔
ان سطروں کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ ہندوستانی ماحول اور یہاں کی بادشاہت اور علما سے کس قدر متنفر تھے اور نفرت بعید از قیاس بھی نہیں ہے۔ چونکہ دین کو جانے بغیر دین کا استہزا کرنا اور فرمان خداوندی کی تعمیل نہ کرنا الگ ہے اور جان کر بے جا مولویانہ تاویلیں کرنا اور بات ہے۔ قرآن و احادیث کو سامنے رکھ کر اور دلیل کے طور پر پیش کر کے اپنے ناجائز و حرام اعمال کو جائز اور حلال قرار دینا دوسری بات ہے۔
بالآخر حضرت شیخ محدث دہلوی کو اپنے استاذ و شیخ کے اصرار پر 1000ھ میں ہندوستان واپس آنا پڑا، انہوں نے ہندوستان واپسی کے سال کی خود ایک خط میں تعیین کی ہے۔ یہاں یہ بھی یادر ہے کہ اسی 1000ھ کے بعد اکبر کے نظریہ الفی کو عملی جامہ پہنا تھا اور رحمۃ للعالمین محسن انسانیت حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ختم ہونا تھا۔ اس کے بعد اکبر اور اس کے یاران نکتہ داں اپنی طاقت و توانائی جھونکنے والے تھے اور خود شیخ جہاں سے بھاگ کر حجاز پہنچے تھے عین موقع پر دفاعی قوتوں اور “قَالَ اللَّهُ وَقَالَ الرَّسُولُ” کی فضائے خوشگوار سے شاد کام و بامراد کر کے انہیں اسی دلدل میں واپس بھیج رہا تھا تاکہ یہ دوبارہ گلشن خدا اور رسول بن جائے۔ یہ خدائی فیصلہ نہیں تو اور کیا تھا۔ (جاری...)
