| عنوان: | فتنہ دین الٰہی اور حضرت شیخ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | نورین خان علی حق |
| پیش کش: | نسرین فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
سفر حج سے حضرت شیخ کی واپسی کے بعد اکبر (وفات: 1014ھ) چودہ برس تک زندہ رہا۔ ان چودہ برسوں میں حضرت شیخ نے نہ کبھی دربار کا رخ کیا اور نہ ہی اس کے دیگر گمراہ ساتھیوں سے رسم و راہ رکھی۔ حضرت شیخ محدث نے گوشہ نشینی کو دربار داری کی ہنگامہ آرائیوں پر فوقیت دی، لیکن گوشہ نشینی ایسی نہیں تھی کہ انہوں نے خود کو معطل کر لیا ہو۔ وہ تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے تھے، مدرسہ میں درس و تدریس کا کارنامہ بھی انجام دے رہے تھے اور شیخ مرتضیٰ فرید خان، عبدالرحیم خان خاناں کو حکومت و سلطنت کی اصلاح کے لیے بھی ابھار رہے تھے، البتہ فیضی سے قطع تعلق کر چکے تھے۔ حالانکہ وہ حضرت شیخ سے اشتیاق ملاقات رکھتا تھا۔ ایک خط میں حضرت شیخ کو لکھتا ہے کہ:
“مجھے بال و پر ہوتے تو پرواز کر کے اس حجرہ کی چھت پر آ بیٹھتا اور نکات محبت کی ریزہ چینی کرتا اور والہانہ گیت گاتا۔ اب اور کیا لکھوں، آپ کی طرف سے ہی ساری تاخیر اور رکاوٹ ہے۔ خدارا مجھ پر اپنے اسرار کے قافلہ کی راہ تو بند نہ کیجیے۔ واضح رہے کہ اگر یہ راستہ اس طرف سے بند ہوگا بھی تو ادھر سے بند نہیں کیا جائے گا، کھلا ہی رہے گا۔” [منتخب التواریخ، ص: 626]
یہ حضرت شیخ سے فیضی کا شوق ملاقات ہے مگر اس میں اپنے کیے پر ندامت کہیں نہیں ہے۔ وہ حضرت شیخ محدث کی بے اعتنائی کا تذکرہ تو کر رہا ہے لیکن وہ یہ بھول رہا تھا کہ یہ قطع تعلق دنیاوی مفاد پرستی کے لیے نہیں تھا بلکہ بغضاً للہ کا معاملہ تھا، جہاں راہیں مسدود ہو چکی تھیں۔ وہ آسمان و زمین کے قلابے ملا دیتا پھر بھی شیخ اس کی طرف توجہ نہیں فرماتے تھے۔ اس کے پورے حالات کا غائرانہ مطالعہ کرنے کے بعد حضرت شیخ محدث نے اس پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ فہرس التوالیف میں لکھتے ہیں:
فیضی اگرچہ کہ در فصاحت و بلاغت و متانت و رصانتِ سخن ممتاز روزگار بود ولیکن حیف کہ بہ جہت وقوع و ہبوط در ہاویہ کفر و ضلالت رقمِ انکار و ادبار بر ناصیۂ احوال خود کشیدہ۔ [حیات شیخ عبد الحق محدث دہلوی، ص: 243]
شیخ کا انصاف بھی یہاں قابل ملاحظہ ہے۔ آج اگر کسی شخص سے کوئی اختلاف کسی سے ہو جاتا ہے تو اس کی تمام خدمات و کمالات ایک طرف کر دیے جاتے ہیں، مگر شیخ تمام تر ناقابل برداشت اسلام مخالف رویوں کے باوجود فیضی کی سخن وری کی تعریف کر رہے ہیں اور اس کی ضلالت و گمراہی پر کف افسوس بھی مل رہے ہیں۔
اکبر نے اپنے عہد حکومت میں ایک متوازی دین، دین الٰہی کا قیام کیا تھا، اسی عہد میں حضرت شیخ نے ہندوستان کا سب سے بڑا دار العلوم قائم کیا، جہاں سے سیکڑوں طالبان علوم و طریقت سیراب ہو رہے تھے۔ ٹکراؤ سے ہٹ کر حضرت شیخ اپنی دینی ذمہ داری بڑی تنظیم اور ذہانت سے سر انجام دے رہے تھے۔ اس زمانہ میں یہ آتش نمرود میں کودنا تھا۔ ہندوستانی سلاسل تصوف کے معتبر مؤرخ پروفیسر خلیق احمد نظامی حضرت شیخ محدث کے مدرسہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
“شمالی ہندوستان میں اس زمانہ میں یہ پہلا مدرسہ تھا، جہاں سے شریعت و سنت کی آواز بلند ہوئی۔” [حیات شیخ عبد الحق محدث دہلوی، ص: 125]
دوسری جگہ اساتذہ و طلبہ کی تعداد اور مدرسہ کی امتیازی شان کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
“درس و تدریس کا یہ ہنگامہ شیخ محدث نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک برپا رکھا۔ ان کا مدرسہ دہلی ہی میں نہیں، سارے شمالی ہندوستان میں ایک امتیازی شان رکھتا تھا۔ سیکڑوں کی تعداد میں طلبہ استفادہ کے لیے جمع ہوتے تھے اور متعدد اساتذہ درس و تدریس کا کام انجام دیتے تھے۔” [ایضاً، ص: 126]
حضرت شیخ نے اپنی توجہ کسی ایک نکتہ پر مرکوز نہیں کی تھی۔ انہوں نے اپنے حواس کھلے رکھے تھے اور دین الٰہی کے فتنوں کے سد باب کے لیے مختلف حربے اور طریقے اختیار کر رہے تھے۔ اگر انہوں نے مدرسہ قائم کر کے قرآن و احادیث اور دین کی تکمیل کی توثیق و تصدیق کرنے والے بیدار مغز علما پیدا کیے، تو انہوں نے خواص کے لیے درجنوں اہم تصانیف بھی چھوڑیں، جن کے مطالعہ کے دوران دین اکبری کے خلاف نادر و نایاب بحثیں ملتی ہیں۔ حضرت شیخ اور اس دور کے دیگر اکابر کی جانکاہ کوششوں کا ہی نتیجہ تھا کہ اکبر کی موت کے ساتھ ہی دین الٰہی بھی ہباءً منثوراً ہو گیا۔
انہوں نے اپنی اہم تصنیف مدارج النبوۃ میں کئی جگہوں پر پورے شد و مد کے ساتھ اکبری گمراہیوں اور اس کے ذریعہ پھیلائی جانے والی بدعت و ارتداد کی تردید کی ہے۔ مدارج النبوۃ کی تصنیف کا مقصد ہی یہ تھا کہ اس کے ذریعہ نظریہ الفی اور دین الٰہی کی مخالفت ہو۔ لکھتے ہیں:
از خصائص کاملہ، ایں خیر الامم آنست کہ شریعتِ او اکمل است از جمیع شرائع متقدمہ و ایں عیاں است کہ محتاج نیست بہ بیان و واضح است کہ خفا نیست دراں و چوں آں حضرت مبعوث است برائے تتمیم مکارم اخلاق و محامد افعال لاجرم دین و شریعتِ او اتم و اکملِ ادیان و شرائع باشد۔ [مدارج النبوۃ، ج: 1، ص: 171]
یہاں شیخ نے قرآن پاک کی آیت:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا [سورۃ المائدة: 3]
کی بہترین تفسیر کرنے کے ساتھ ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکارم اخلاق کا تذکرہ بھی کیا ہے اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ دین اسلام دربار اکبری میں موجود علمائے سو کی تشریحات و توضیحات اور تاویلات کا محتاج نہیں ہے۔
بات یہیں ختم نہیں کرتے، چونکہ دین الٰہی کا ایک فتنہ یہ بھی تھا کہ ایمان کی تکمیل صرف توحید پر اعتقاد سے ہی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اسی سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا واجب ہے اور جس کے بغیر اسلام کا حصول ممکن ہی نہیں ہے۔
اشعۃ اللمعات میں ایمان کی بحث کرتے ہوئے اکبر کی بتوں کے سامنے سجدہ ریزی اور زنار وغیرہ کے استعمال کو بھی بیان کیا ہے، اور ایسا کرنے والوں کو پورے اعتماد کے ساتھ ڈنکے کی چوٹ پر کافر قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس فتویٰ کی حیثیت آج بھی برقرار ہے۔ فرماتے ہیں:
“یہاں تو تصدیق و اقرار کے باوجود بعض ایسی چیزیں بھی لوگ کرتے ہیں جسے شریعت کفر گردانتی ہے، مثلاً سجدہ صنم اور زنار پہننا اور اسی طرح کی دیگر چیزیں، ان امور کے مرتکب حکم شریعت کی رو سے کافر ہیں۔ اگرچہ وہ تصدیق و اقرار کرتے ہوں۔” [اشعۃ اللمعات، ج: 1، ص: 40]
حضرت شیخ زندگی کے آخری لمحات تک خدمت دین اور دین الٰہی کے خاتمہ کے درپے رہے۔ انہوں نے سلطان جہانگیر کے لیے رسالہ نوریہ سلطانیہ بھی لکھا، اور شاہ جہاں کے لیے انہوں نے ایسی چالیس احادیث اکٹھا کیں، جن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو ہدایات کی ہیں۔ اکبر کے بعد جہانگیر اور شاہ جہاں کے لیے کتابیں تصنیف کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ان کے دلوں میں بھی شوق اکبری نہ چرائے، اور یہ راہ راست پر گامزن رہیں۔ اس سلسلہ میں حضرت شیخ کا ایک خط بھی ہے، جس میں حضرت شیخ نے اکبر کی ایک ایک گمراہیوں کا تذکرہ اپنے مخصوص انداز و اسلوب اور مثالوں کے ذریعہ کیا ہے، اور جہانگیر کو متنبہ کیا ہے کہ وہ انہی گمراہیوں کا اعادہ نہ کرے، جس کی وجہ سے ملت ماضی قریب میں پریشان حالی کا شکار ہو چکی ہے۔ اس میں شیخ نے بشارتیں بھی دی ہیں اور وعیدیں بھی سنائی ہیں۔ اس خط کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کی ابتدا شیخ نے کلمہ طیبہ “لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ” سے کی ہے، تاکہ جہانگیر تک یہ بھی پیغام پہنچ جائے کہ اکبر کے کلمہ کی کوئی حیثیت و وقعت نہیں ہے اور اصل کلمہ یہ ہے۔ ایک جگہ باپ کی موت کے فوراً بعد یہ لکھتے ہیں:
مخبران صادق کہ حضرات انبیا اند صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، خبر آن عالم می رسانند و انوار علم و ہدایت می نمایند اما مردم چنان در ظلمات نفس و طبیعت افتادہ اند کہ قطعاً گوش نمی نہند و قدم نمی زنند۔ حقیقت حال بعد از مردن منکشف گردد کہ چیست۔
اس اقتباس کا آخری جملہ انتہائی باریک بینی اور مختلف ناحیوں سے دیکھے جانے کا مستحق ہے کہ “حقیقت حال بعد از مردن منکشف گردد”۔ ایسا بیان وہ بھی بادشاہ باپ کی موت کے بعد بادشاہ وقت بیٹے کے لیے بھیجنا آسان کام نہیں ہے۔ یہ کام کوئی مرد قلندر ہی کر سکتا ہے، یہ جملہ “قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا” اور “كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ” کی سچی تصویر ہے اور اس کے نتیجے میں جو مژدہ سنایا گیا ہے اس کا حقیقی مستحق بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جلال پادشاہی کے زمانہ میں جمال درویشی نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں، جن کی نظیر نہیں ملتی۔ [حوالہ: پیغامِ شریعت، ستمبر 2016، ص: 28]
