Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خلق (قسط: دوم)|صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ

خلق (قسط: دوم)
عنوان: خلق (قسط: دوم)
تحریر: صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
پیش کش: سائرہ الطاف کشمیر

انگریزی تعلیم

انگریزی تعلیم کا یہ ثمرہ ہے کہ ہمارے نوجوان شب و روز اسی فکر میں غلطاں ہیں کہ کسی طرح مذہب کو ناپید کر ڈالیں اور ایک ایک کر کے تمام احکام کو بدل کر یورپ کی جیسی لادینی میں گرفتار ہوں۔ پہلے ہی خبر دے دی گئی ہے کہ میری امت نافہم لڑکوں کے ہاتھوں برباد ہوگی، آج یہ ہی دیکھا جا رہا ہے کہ ہمارے نو عمر بچے جن سے ہمیں بڑی امیدیں تھیں کہ وہ کسی قابل ہوں گے تو ہمارے کام آئیں گے، اپنی قابلیت سے دین اور اہل دین کو قابل قدر مدد پہنچائیں گے۔ افسوس وہ دشمنوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ روز مرہ اسلام پر انہیں کے ہاتھوں حملے ہوتے ہیں۔ پردہ کی مخالفت میں وہ سرگرم ہیں۔ آباء و اجداد سے ترکہ میں پائی ہوئی غیرت و حمیت کو انہوں نے بے قدری سے ٹھکرا دیا۔ آج ان کی بیبیاں، بیٹیاں بے پردہ بے حجاب سڑکوں اور سیر گاہوں میں پھرتی نظر آتی ہیں جن کی کنیز تک کا چہرہ کل تک کسی کو دیکھنا نصیب نہ تھا۔ نامور خاندانوں کی لڑکیاں غیر مردوں سے ہاتھ ملانے اور اختلاط کرنے میں دلیر پائی جاتی ہیں اور یہ بات ان کی نظر میں عیب ہی نہیں معلوم ہوتی۔ لڑکیوں کا مدرسہ میں جانا اور بے قیدی کی تعلیم حاصل کرنا تو معمولی بات ہوگئی ہے بلکہ اب تو ایک خاص جماعت ایسی ہو گئی ہے جو عورتوں کے لیے مدارس کی تعلیم کو صرف معمول ہی نہیں سمجھتی بلکہ ضروری قرار دیتی ہے۔ اس طرح زمانہ بدل رہا ہے اور دین میں رخنے پیدا ہو رہے ہیں۔

خورد سالی کے نکاح

آج کل ایک اور فتنہ برپا ہے۔ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ شریعت اسلامیہ نے جو ولایت کا قانون نافذ فرمایا ہے اور اولیاء کو صغیر و صغیرہ کے نکاح کا اذن و اختیار دیا ہے اس کو باطل کیا جائے اور ایسی کوشش کی جائے کہ حکومت کے قانون رائج الوقت میں اولیاء کا یہ شرعی حق جرم قرار دیا جائے اور اسی طرح دین محمدی کے قانون کو مٹایا جائے، کوئی شخص اپنی صغیر سن اولاد کی شادی نہ کر سکے اور اگر جب ایسا کرنا چاہے تو مجرم قرار دیا جائے۔ تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوں۔ لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہو کر تو اپنی مرضی سے شادی کیا کریں اور ایک غیرت سوز، شرمناک زندگی کی ذلت و رسوائی میں مسلمانوں کو گرفتار کیا جائے۔

ایک معزز شخص بستر مرگ پر پڑا ہے، اس کے سامنے اس کی نور نظر بچیاں ہیں جن کا کوئی نگراں اس کو اپنے بعد نظر نہیں آتا۔ بیماری سے زیادہ اس شخص کو یہ رنج و قلق بے چین کر رہا ہے کہ اس کے بعد اس کی عزت و ناموس کی حفاظت کس طرح ہوگی۔ اس حال میں وہ اپنی تسکین خاطر کے لیے یہ تدبیر کرتا ہے کہ ایک معزز خاندان کے ہونہار لڑکوں کے ساتھ وہ اپنے جگر پاروں کا رشتہ کر دے، ایسا کر کے وہ مطمئن ہو جاتا ہے کہ جس خاندان میں لڑکیوں کا عقد کر دیا ہے وہ اپنی عزت کی حفاظت کے لحاظ سے ان کی کافی نگرانی کریں گے اور لڑکیاں اس کے بعد بے کسی کی ذلیل زندگی اور خطرات سے محفوظ رہیں گی۔ صغیر سنی کے نکاح کو جرم قرار دینے کی تجویز مجبور کرے گی کہ آدمی مرتے دم اپنے ساتھ اپنی بے آبروئی اور ناموس کے خطرات کا ایک روح تڑپا دینے والا داغ بھی اپنے دل پر لے جائے۔

یہ ایک مثال تھی، آپ غور کیجیے تو صغیر سنی کے نکاح میں بکثرت مصالح ہیں۔ اور اس کو جرم قرار دینے والے مسلمانوں کی زندگی، مال و آبرو سب خطرے میں پڑتے ہیں۔ اور ان سب سے بڑھ کر یہ کیسی مصیبت ہے کہ شریعت طاہرہ کا قانون مٹایا جاتا ہے۔ مسلمان موت گوارا کر سکتے ہیں مگر ایسا قانون گوارا نہیں کر سکتے۔

علمائے اسلام

اے حامیان ملت دین! دین کی حفاظت آپ کا سب سے مقدم فرض ہے۔ آپ کے لیے اسی قدر کافی نہیں ہے کہ مدارس میں درس دے کر طلبہ کو کتب متداول پر عبور کرا دیجیے یا کسی مجلس میں تقریر کر کے خاموش ہو جائیے یا گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر نماز وظیفہ میں اپنے تمام اوقات صرف کر ڈالیے۔ بے شک آپ کے یہ تمام کام دین کی اعلیٰ خدمتیں ہیں اور اللہ رب العزت عز و جلالہ آپ کو اس کے بہترین صلے عطا فرمائے گا، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ آپ پر یہ بھی فرض ہے کہ آپ دیکھیے کہ آج دنیا اسلام کو مٹا ڈالنے کے لیے کیا کر رہی ہے اور دین کی حفاظت کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہیے۔

اے رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے نائبوا اپنے خلوت خانوں سے قدم نکالو اور اسلام کی کشتی سنبھالو! اس قانون کے مخالف شرع ہونے کا اعلان کر دو اور گورنمنٹ کو بتا دو کہ یہ قانون اسلام کو مٹانے کی ایک تجویز ہے جس نے تمام عالم اسلام کو بے چین کر دیا ہے۔ ہم ایک لمحہ کے لیے اس کو گوارا نہیں کر سکتے، گورنمنٹ ایسا قانون منظور کرنے اور ہمارے دین و ملت میں رخنے ڈالنے سے پرہیز کرے۔ علمائے دین جلد سے جلد بے تاخیر اپنی مجالس میں اس مضمون کی تجویزیں منظور کر کے گورنمنٹ کے پاس بھیجیں اور اخبارات میں شائع فرمائیں۔

ساتھ میں یہ بھی واضح کر دیجیے کہ کونسل کے ممبر اور ہمارے نمائندے کوئی ایسا مسئلہ جس کا تعلق شریعت طاہرہ سے ہو، علمائے دین سے استصواب کیے بغیر ہرگز نہ پیش کریں! اگر ایسا کریں گے تو وہ ہمارے نمائندے نہیں، ان سے ہمارے دین کو ضرر ہے۔ چنانچہ ضرورت ہے کہ اس مقصد کے لیے جلسے کر کے گورنمنٹ کو مسلمانوں کے تحفظ دین کی ضرورت سے آگاہ کیا جائے اور اس میں تاخیر روا نہ رکھی جائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!