Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

غیر مقلدین اور دیوبندی کے چار طبقات (قسط: سوم)|طارق انور مصباحی

غیر مقلدین اور دیوبندی کے چار طبقات (قسط: سوم)
عنوان: غیر مقلدین اور دیوبندی کے چار طبقات (قسط: سوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: ام الفضل رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

“باقی مسائل متعلقہ انبیا اولیا و غیرہم میں ان کے شرک کی اونچی اڑانیں دیکھیے۔”

منقولہ بالا عبارت سے قبل اور بعد کی عبارتیں بغور ملاحظہ فرمائیں تو واضح ہو جائے گا کہ معمولاتِ اہلِ سنت کو شرک کہنے کے سبب وہابیہ پر کفرِ فقہی کا حکم عائد ہوتا ہے، کیونکہ ان معمولاتِ اہل سنت کو شرک کہنے سے اہل سنت کا مشرک ہونا لازم آتا ہے اور مومن کو تاویلِ فاسد کے سبب مشرک یا کافر کہنا کفرِ فقہی ہے۔ خوارج اسی سبب سے کافر فقہی قرار پائے۔

غیر مقلد وہابیہ کی قسم چہارم:

اور اگر اس سے تجاوز کرکے کوئی وہابی ایسا فرض کیجیے، جو خود بھی ان تمام کفریات سے خالی ہو، اور ان کے قائلین جملہ وہابیہ سابقین و لاحقین سب کو گمراہ و بد مذہب مانتا، بلکہ بالفرض قائلانِ کفریات مانتا اور لازم الکفر ہی جانتا ہو، اس کی وہابیت صرف اس قدر ہو کہ باوصف عامیت تقلید ضروری نہ جانے اور بے صلاحیت اجتہاد پیروی مجتہدین چھوڑ کر خود قرآن و حدیث سے اخذِ احکام روا مانے تو اس قدر میں شک نہیں کہ یہ فرضی شخص بھی آیہ کریمہ قطعیہ:

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

(اگر یہ نہیں جانتے تو اہل ذکر (علما) سے پوچھو۔ ت)، اور اجماع قطعی تمام ائمہ سلف کا مخالف ہے۔

یہ اگر بطور فقہا لزومِ کفر سے بچ بھی گیا تو خارقِ اجماع و تبعِ غیر سبیل المومنین و گمراہ و بددین ہونے میں کلام نہیں ہو سکتا، جس طرح متکلمین کے نزدیک دو قسم پیشین کافر بالیقین کے سوا باقی جمیع اقسام کے وہابیہ۔ [فتاوی رضویہ، ج: 11، رسالہ ازالۃ العار، ص: 382-383، جامعہ نظامیہ، لاہور]

توضیح:

منقولہ بالا عبارت میں غیر مقلد وہابیہ کی چوتھی قسم کا بیان ہے، یعنی جو غیر مقلد وہابی ایسا کوئی عقیدہ نہ رکھتا ہو جو کفرِ کلامی یا کفرِ فقہی ہو۔

اسی طرح صراحت کے ساتھ یعنی نام بہ نام کافرِ کلامی کو کافرِ کلامی اور کافرِ فقہی کو کافرِ فقہی مانتا ہو تو اس کے اندر صرف تقلید کو ضروری نہ سمجھنے اور بلا قوتِ اجتہاد خود سے اجتہاد کرنے کا عیب پایا گیا۔ تقلید پر اجماع ہے، اور یہ شخص اجماعِ مومنین کے انکار کے سبب گمراہ و بد دین ہے۔ کافرِ کلامی یا کافرِ فقہی نہیں۔

اسی طرح جو دیوبندی ایسا کوئی عقیدہ نہ رکھتا ہو جو کفرِ کلامی یا کفرِ فقہی ہو۔ اسی طرح صراحت کے ساتھ یعنی نام بہ نام کافرِ کلامی کو کافرِ کلامی اور کافرِ فقہی کو کافرِ فقہی مانتا ہو تو اس کے اندر صرف شعارِ اہل سنت یعنی فاتحہ و نیاز، میلاد و عرس اور سلام و قیام وغیرہ امورِ مستحبہ کو بدعت اور ناجائز کہنے کا عیب پایا گیا۔

یہ شخص شعارِ اہل سنت کے انکار اور شعارِ دیوبندیت کو اختیار کرنے کے سبب گمراہ و بد مذہب ہے۔ کافرِ کلامی یا کافرِ فقہی نہیں۔

اگر ان معمولات کو ناجائز کی بجائے شرک، یا سنیوں کو بھی مشرک سمجھے تو یہ بھی کافرِ فقہی ہوگا۔ مومن کو مشرک سمجھنے کے سبب کفرِ فقہی کا حکم عائد ہوگا۔

جو لوگ محض نماز و روزہ کی تبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ ہو جاتے ہیں، گرچہ وہ دیابنہ کے کفر و ضلالت سے نا آشنا ہوں، لیکن وہ سلام و قیام، میلاد و عرس، نیاز و فاتحہ وغیرہ مستحب و جائز امور کو بدعت اور غلط کہنے لگتے ہیں۔ ان امور کو غلط اور بدعت کہنا وہابیوں کا شعار ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 6، ص: 154، 170-185]

شعارِ کفر اختیار کرنے والا کافر مانا جاتا ہے، اور کسی مرتد فرقہ یا گمراہ فرقہ کے شعار کو اپنانے والا گمراہ مانا جاتا ہے۔

الحاصل وہ دیوبندی جو کسی ضروریِ دین کا منکر نہیں اور اس کو اشخاصِ اربعہ کی کفریہ عبارتوں کا علم نہیں، اور اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ علمائے عرب و عجم نے اشخاصِ اربعہ کو کافر قرار دیا ہے، ایسے لوگ کافرِ کلامی نہیں۔ احتمال کے سبب کفرِ کلامی کا حکم معدوم ہو جاتا ہے۔

اسی احتمال کا ذکر کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے قسم سوم کے بیان میں رقم فرمایا تھا: “ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اس باب میں قولِ متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروریِ دین کا منکر نہیں، نہ ضروریِ دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتا ہے، اسے کافر نہیں کہتے، مگر یہ صرف برائے احتیاط ہے۔ دربارہِ تکفیر حتی الامکان احتیاط اس میں ہے کہ سکوت کیجیے، مگر وہی احتیاط جو وہاں مانعِ تکفیر ہوئی تھی، یہاں مانعِ نکاح ہوگی۔”

کفرِ فقہی کا معاملہ یہ ہے کہ اگر کفرِ فقہی کا معتقد نہ ہو، یا اس مذہب کے فقہی کفریات سے نا آشنا ہو تو بھی اس پر کفرِ فقہی کا حکم عائد ہوگا، کیونکہ عام طور پر کوئی بد مذہب اپنے مذہب کے پیشواؤں کو ان فقہی کفریات کے سبب کافرِ فقہی قرار نہیں دیتا، بلکہ ان کفریات کی تاویل کرتا ہے، اور ان عبارتوں کو با معنی قرار دیتا ہے۔

قسم ثالث پر کفرِ فقہی کا حکم عائد کرتے ہوئے امامِ اہل سنت نے رقم فرمایا تھا:

احکامِ فقہیہ میں واقعات ہی کا لحاظ ہوتا ہے، نہ احتمالاتِ غیر واقعیہ کا۔

بَلْ صَرَّحُوا أَنَّ أَحْكَامَ الْفِقْهِ تَجْرِي عَلَى الْغَالِبِ مِنْ دُونِ نَظَرٍ إِلَى النَّادِرِ.

ہاں، اگر وہ صراحت کے ساتھ ان فقہی کفریات کے قائلین کو کافرِ فقہی مانتا ہے اور ان کفریاتِ فقہیہ کو نہیں مانتا ہے تو محض شعارِ بد مذہبیت اختیار کرنے کے سبب گمراہ و بد مذہب ہوگا۔ کافرِ فقہی یا کافرِ کلامی نہیں ہوگا۔

بفضلہ تعالیٰ چاروں طبقات کا واضح حکم بیان ہو گیا، تاہم کوئی سوال ہو تو پیش کریں۔ اسی طرح چار طبقات دیگر مرتد فرقے میں ہو سکتے ہیں۔ چونکہ وہابیہ اور دیوبندیہ کی طرح فی الوقت شیعہ فرقہ پایا جاتا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے چار طبقات کا بیان ہوگا۔ عہد حاضر کے روافض کافرِ کلامی، ماقبل کے تبرائی شیعہ کافرِ فقہی اور فرقہ تفضیلیہ گمراہ ہیں۔

ایک ضروری وضاحت:

اس رسالہ میں بیان کردہ ہر طبقے سے متعلق کسی امر کے ماننے یا نہ ماننے کا ذکر ہے۔ کسی بھی امر کے اقرار و انکار کا علم خاص اس شخص کے قول یا تحریر سے ہوگا۔ ایسا نہیں کہ مفتی اپنے ذہن میں ایک مفروضہ قائم کر لے کہ وہ فلاں امر کو مانتا ہے، یا نہیں مانتا ہے اور پھر اپنے مفروضہ کے اعتبار سے شرعی حکم بیان فرمادے، جیسا کہ عہد حاضر میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ دیوبندی عوام کو کچھ بھی معلوم نہیں اور اس مفروضہ کی بنیاد پر حکمِ شرعی بھی بیان کرنے لگے۔

ہر طبقے سے متعلق جن امور کو ماننے یا نہ ماننے کا ذکر ہے، اس کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے، تا کہ مفتی حکم شرعی بیان کرنے سے قبل اس امر پر غور فرمالے۔

پہلا حصہ:

وہابی ہو یا رافضی جو بد مذہب عقائدِ کفریہ رکھتا ہے، جیسے ختمِ نبوت حضور پر نور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار یا قرآن عظیم میں نقص و دخلِ بشری کا اقرار تو ایسوں سے نکاح باجماع مسلمین بالقطع والیقین باطل محض و زنائے صرف ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 11، رسالہ ازالۃ العار، ص: 377، جامعہ نظامیہ، لاہور]

توضیح قسم اول میں اس شخص کا ذکر ہے جو کفریاتِ کلامیہ کو مانتا ہو تو یہ شخص کافرِ کلامی ہوگا۔ کفریاتِ کلامیہ کو ماننے کا ثبوت اس شخص کے قول یا تحریر سے ہوگا۔ لوگوں کے مفروضہ سے نہیں۔

قسم دوم:

اور اگر ایسے عقائد خود نہیں رکھتا، مگر کبرائے وہابیہ یا مجتہدینِ روافض خَذَلَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى کہ وہ عقائد رکھتے ہیں، انھیں امام و پیشوا یا مسلمان ہی مانتا ہے تو بھی یقیناً اجماعاً خود کافر ہے کہ جس طرح ضروریاتِ دین کا انکار کفر ہے یونہی ان کے منکر کو کافر نہ جانا بھی کفر ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 11، رسالہ ازالۃ العار، ص: 378، جامعہ نظامیہ، لاہور]

توضیح قسم دوم کے بیان میں صراحت ہے کہ یہ ایسا فرد ہے جو خود کفریاتِ کلامیہ سے خالی ہو، لیکن ان کفریات کے قائلین کو مومن مانتا ہو تو قائلینِ کفریات کو مومن ماننے کے سبب وہ کافر ہوگا۔ کفریاتِ کلامیہ کے قائلین کو مومن ماننے کا ثبوت اس شخص کے قول و تحریر و دیگر قرائن سے ہوگا، مثلاً اس کی اقتدا میں نماز ادا کرنا۔ لوگوں کے مفروضہ سے نہیں۔

اور اگر اس سے بھی خالی ہے۔ ایسے عقائد والوں کو اگرچہ اس کے پیشوایانِ طائفہ ہوں، صاف صاف کافر مانتا ہے (اگرچہ بد مذہبوں سے اس کی توقع بہت ہی ضعیف اور تجربہ اس کے خلاف پر شاہدِ قوی ہے) تو اب تیسرا درجہ کفریاتِ لزومیہ کا آئے گا۔ [فتاوی رضویہ، ج: 11، رسالہ ازالۃ العار، ص: 378، جامعہ نظامیہ، لاہور]

توضیح قسم سوم کے بیان میں صراحت ہے کہ یہ ایسا فرد ہے جو خود بھی کفریاتِ کلامیہ سے خالی ہو، اور ان کفریات کے قائلین کو کافر مانتا ہو تو کفریاتِ کلامیہ سے خالی ہونے اور قائلینِ کفریات کو کافر ماننے کا ثبوت اس شخص کے قول یا تحریر سے ہوگا۔ لوگوں کے مفروضہ سے نہیں۔

اور اگر اس سے تجاوز کر کے کوئی وہابی ایسا فرض سمجھئے جو خود بھی ان تمام کفریات سے خالی ہو، اور ان کے قائلین جملہ وہابیہ سابقین و لاحقین سب کو گمراہ و بد مذہب مانتا، بلکہ بالفرض قائلانِ کفریات مانتا اور لازم الکفر ہی جانتا ہو۔ [فتاوی رضویہ، ج: 11، رسالہ ازالۃ العار، ص: 382-383، جامعہ نظامیہ، لاہور]

توضیح قسم چہارم کے بیان میں صراحت ہے کہ یہ ایسا فرد ہے جو خود بھی تمام کفریات سے خالی ہو، اور ان کفریات کے قائلین کو گمراہ و بد مذہب، بلکہ قائلینِ کفر و لازم الکفر مانتا ہو تو ان کفریات سے خالی ہونے اور قائلینِ کفریات کو گمراہ و لازم الکفر ماننے کا ثبوت اس شخص کے قول یا تحریر سے ہوگا۔ لوگوں کے مفروضہ سے نہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!