| عنوان: | نفرت کی آگ میں گھی ڈال رہی سیاست |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد زاہد المرکزی |
| پیش کش: | ثمن فردوس امجدی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
سپریم کورٹ نے ملک میں ہجوم کے ہاتھوں بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ستمبر 2017 میں کہا تھا کہ گائے کے تحفظ یا بچوں کے اغوا کے شبے میں کیا جانے والا اجتماعی تشدد ایک سنگین جرم ہے اور اسے روکنا بھی ریاستوں کی ذمے داری ہے۔
عدالت عظمیٰ نے یہ ریمارکس راجستھان، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں کے خلاف توہین عدالت کی ایک درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ ان ریاستوں نے ہجومی تشدد روکنے کے لیے عدالت عظمیٰ کی ہدایات پر عمل نہیں کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ستمبر میں یہ حکم دیا تھا کہ ماب لنچنگ روکنے کے لیے ملک کے ہر ضلع میں ایک اعلیٰ پولیس افسر مقرر کیا جائے جو اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے حالات پر گہری نظر رکھے۔
دراصل گایوں کی حفاظت کے نام پر کچھ لوگوں نے گوشالائیں کھول رکھی ہیں، جس کی وجہ سے غنڈہ گردی کی جارہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اکثر گائے کے محافظین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان کا کسی بھی جاندار کا گوشت کھانا ان میں تشدد کو جنم دیتا ہے مگر دیکھیے یہ گورکشک تو ویجیٹیرین ہیں پھر ان میں تشدد کہاں سے آیا؟ کیا گائے کے نام پر مسلمانوں، دلتوں، کسانوں کو مار دینا یہ تشدد نہیں؟ وہ خود تو متشدد ہیں اور دعویٰ ہے کہ گوشت استعمال کرنے والے لوگ تشدد پسند ہوتے ہیں اور رات میں سڑکوں میں چیکنگ کرتے ہیں اور گائے ملنے پر بلا سوچے سمجھے مارتے پیٹتے ہیں، یہی نہیں بسا اوقات تاجروں کو گوبر اور پیشاب کو ملا کر کھلایا بھی ہے اور جب اس سے بھی جی نہیں بھرتا تو اس شخص کا قتل بھی کر دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ ہندوستان میں تو بہت پہلے سے چل رہا ہے مگر اس میں تیزی 2007 کے بعد آئی۔ 2014 کے بعد تو اس میں اس قدر اضافہ ہوا کہ سپریم کورٹ کو بھی ریاستوں کے نام حکم نامہ جاری کرنا پڑا، یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ آئیے! اعداد و شمار کے مطابق جان لیتے ہیں اس طرح کے رونما ہونے والے حادثات سے متعلق جہاں بھیڑ یا گورکشکوں نے بے بنیاد الزام لگا کر سیکڑوں افراد کا قتل کر دیا۔
- ستمبر 2014 اتر پردیش کے دادری میں محمد اخلاق کو صرف اس لیے خونی بھیڑ نے مار دیا کہ کسی نے کہہ دیا تھا کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت ہے، یہ معاملہ انٹرنیشنل میڈیا پر بھی بہت اچھلا اور ساری دنیا نے اس واقعے کی مذمت کی۔
- اکتوبر 2014 ہماچل پردیش کے ”لا واس“ گاؤں میں بجرنگ دل کے افراد نے ایک بے قصور شخص پر گائے کی تسکری کا الزام لگا کر قتل کر دیا۔
- 1 اکتوبر 2014 میں کشمیر کے ”اودھم پور“ میں بھی انہیں گورکشکوں نے ایک بے گناہ ٹرک کلینر کو قتل کر دیا۔
- 2 جنوری 2016 پنجاب کے ضلع ”روپ نگر“ میں بھینسوں کی چربی لے جانے والے دو ٹرکوں پر گوشت کا جھوٹا الزام لگا کر جلا دیا۔
- 13 جنوری 2016 مدھیہ پردیش کے ”خرقیہ“ ریلوے اسٹیشن پر گورکشکوں نے ایک مسلم پر گائے کا گوشت لے جانے کا الزام لگا کر خوب پیٹا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ گوشت گائے کا نہیں تھا۔
- 4 مارچ 2016 ہریانہ کے ”کرو چھیتر“ میں گورکشکوں نے سہارنپور کے ایک شخص کا قتل کر دیا۔
- 11 مارچ 2016 راجستھان کے ”میواڑ“ یونیورسٹی میں گورکشکوں نے کشمیری طلبہ پر گائے کا گوشت کھانے کا جھوٹا الزام لگا کر انہیں مارا اور گرفتار کروا دیا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ گوشت بھی گائے کا نہیں تھا۔
- 17 مارچ 2016 جھارکھنڈ کے ”لا تیہار“ میں ”گور کشا سمیتی“ کے افراد نے دو تاجروں کو مار کر ان کی لاشیں درخت پر لٹکا دیں۔
- 27 مارچ 2016 پنجاب کے روپ نگر ”کرالی روڈ“ پر گورکشکوں نے ٹرک ڈرائیور ملیکار سنگھ کی پٹائی کر دی جب کہ وہ گائے نہیں بھینس کی چربی لے جارہا تھا۔
- 31 جولائی 2016 پنجاب کے ہی ”مکسر“ ضلع میں گورکشکوں نے ”راکیش کمار“ نامی شخص پر گوشت کا الزام لگا کر جم کر پیٹا۔
- 31 مئی 2016 راجستھان میں نیشنل ہائی وے 13 پر ایک سو چالیس لوگوں نے تین ٹرک ڈرائیوروں کو روک کر جم کر پیٹا، پولیس کے روکنے پر پولیس کی بھی پٹائی کر دی اور ٹرک کو آگ لگا دی۔
- 2 جون 2016 ہریانہ کے ”کرنال“ گورکشکوں نے ایک شخص کو قتل کر دیا۔
- 10 جون 2016 گورکشکوں نے رضوان مختار نامی شخص پر گائے کا گوشت بیچنے کا الزام لگا کر گوبر کھلایا۔
- 11 جولائی 2016 گجرات کے ”اونا“ ضلع کے ”موٹا سا دھیہ“ گاؤں میں طبعی موت سے مری ہوئی گائے کی کھال اتار رہے سات دلتوں کو 34 گورکشکوں نے بے دردی سے لوہے کی راڈ سے پیٹا اور ان کے ہاتھ باندھ کر ان پر کوڑے برسائے، ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا، اس کی مخالفت میں دلتوں نے مظاہرے کیے جس میں ایک شخص کی جان چلی گئی۔
- 26 جولائی 2016 گورکشکوں نے مدھیہ پردیش کے ”مندسور“ ریلوے اسٹیشن پر ایک مسلم عورت کو گائے کا گوشت لے جانے کے الزام میں کھلے عام سر بازار پیٹا۔
- 6 اگست 2016 کو مدھیہ پردیش ہی کے ”رائے سین“ میں ایک سڑک حادثے میں ایک ٹرک سے تین گائیں ٹکرا گئیں، ٹرک ڈرائیور منو بھائی اور کبیر حسن خونی بھیڑ مارنے پہنچ گئے، جان کی حفاظت کے لیے انہیں ”برنا“ ندی میں چھلانگ لگانا پڑی جس کی وجہ سے ٹرک ڈرائیور کی موت ہو گئی۔
- 5 اپریل 2019 کو گجرات میں ایک دلت کو لوہے کی راڈ سے پیٹ کر مار ڈالا گیا۔
- 7 اپریل 2019 کو آسام میں ایک شخص کو گائے کے گوشت کو بیچنے کی وجہ سے سخت زدو کوب کیا گیا، ساتھ ہی خنزیر (سور) کا گوشت بھی جبراً کھلایا گیا اور ویڈیو بھی وائرل کیا گیا ہے۔
28 ستمبر 2015 سے 7 اپریل 2019 تک 190 افراد ماب لنچنگ کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں راجستھان میں افرازل، پہلوخان، دادری کے محمد اخلاق، حافظ جنید وغیرہ کے معاملات نے کافی طول پکڑا، یہاں تک کہ پردھان منتری کو بیان دینا پڑا لیکن گورکشکوں پر اس کا کچھ خاص اثر نہ ہوا اور برابر اس قسم کے واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ امید ہے کہ آنے والے وقت میں ان میں کمی ہوگی، کیونکہ یہ ماحول دیش اور دنیا دونوں کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔
