Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

حج و زیارت، پاسپورٹ، ویزہ، لائسنس وغیرہ کے لئے فوٹو کھنچوانا جائز ہے کہ نہیں؟ ایک فتویٰ کا تعاقب! (قسط دوم)

حج و زیارت، پاسپورٹ، ویزہ، لائسنس وغیرہ کے لئے فوٹو کھنچوانا جائز ہے کہ نہیں؟ ایک فتویٰ کا تعاقب! (قسط: دوم)
عنوان: حج و زیارت، پاسپورٹ، ویزہ، لائسنس وغیرہ کے لئے فوٹو کھنچوانا جائز ہے کہ نہیں؟ ایک فتویٰ کا تعاقب! (قسط: دوم)
تحریر: محمد اصحاب نبی بخش اشرفی
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

الجواب:

فتویٰ ملاحظہ ہوا، سوالِ مذکور کا جواب ہمارے مفصل فتویٰ سے روشن ہوگا، اس کی نقل ہمراہ روانہ ہے۔ رہا پیشِ نظر جواب وہ محلِ نظر ہے اور اس میں جو نظیر ہے وہ ہمارے سوالات سے واضح ہے، اس فتویٰ پر سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. فاضلِ مجیب نے فرمایا کہ: ”اگر کسی جاندار کی تصویر کے ایسے عضو کاٹ دیا جائے یا مٹا دیا جائے جس کے بغیر زندگی ناممکن ہو تو باقی حصہ غیر جاندار اور جمادِ محض کے حکم میں ہے، اس کا بنانا اور رکھنا سب کچھ جائز ہے، یہ قول صاحبِ درمختار کا ہے۔“ مجیب پر اس قول کی تصحیحِ نقل لازم تھی۔
  2. خیر جب نہ کی، اب سہی۔ مجیبِ لبیب بتائیں کہ عبارتِ درمختار کا وہ کون سا لفظ ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ ”اس کا بنانا جائز ہے“؟
  3. اگر اس عبارت کا یہی مفاد ہے جو مجیب نے سمجھا تو محشیِ درمختار علامہ شامی و فاضل طحطاوی کیونکر اس سے غافل رہے کہ شامی نے فرمایا: وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها الخ (۱) طحطاوی علی الدر میں فرمایا: وظاهر كلام النووي في شرح المسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بوعيد شديد وهو ما في الصحيحين عنه صلى الله عليه وسلم أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم وقال سواء صنعه لما يمتهن أو بغيره فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم أو دينار أو إناء أو حائط وغيرها اهـ (۲) شامی میں مزید فرمایا: هذا كله في اقتناء الصورة وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى كما مر (۳)
  4. اور مجیب نے یہ جو تحریر فرمایا کہ ”چونکہ صاحب درمختار کا اپنے فتویٰ سے رجوع ثابت نہیں اس لئے میرے نزدیک بزرگوں کی بارگاہ میں سعادت مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس قول کو درست نہ سمجھنے اور اس پر عمل نہ کرنے کے باوجود اس پر طعن و تشنیع نہ کی جائے اور اس کے قائل کی تجہیل و تحمیق یا تفسیق و تضلیل نہ کی جائے۔“ اس میں کیا حکمت ہے؟
  5. اس کا قائل کون ہوا یا ہونے والا ہے جس کی تجہیل و تحمیق سے منع کیا جا رہا ہے۔
  6. یہی صاحب درمختار اپنے اسی درمختار میں فرما گئے: ”الفتيا بالقول المرجوح جهل وخرق للإجماع“ (۴) اور صاحبِ درمختار کا وہ قولِ مذکور مرجوح ہے۔ چنانچہ خود مجیب کو مسلم ہے تو مرجوح کا قائل ہونا خود بحکمِ صاحبِ درمختار جہل و خلافِ اجماع ہے تو بعدِ تبیینِ مرجوحیت کوئی اس کا قول کرے تو اس کی تجہیل صاحبِ درمختار کے حکم کی تعمیل ہے، یہ کیوں ممنوع ہوگی؟ میرے نزدیک تو بزرگوں کی بارگاہ میں سعادت مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے قول پر عمل کیا جائے۔
  7. صاحبِ درمختار کے قولِ مذکور کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ جاندار کی تصویر کا اگر کوئی ایسا عضو مٹا دیا جائے جس کے بغیر وہ جاندار زندہ نہ رہے تو اس صورت میں نماز میں کراہت نہ ہوگی۔ فاضلِ مجیب سلمہ القریب المجیب بتائیں کہ عدمِ کراہتِ نماز و جوازِ تصویر میں کون سا علاقہ ہے کہ جب کسی تصویر ذی روح سے کسی خاص صورت میں نماز مکروہ نہ ہو تو اس کا بنانا بھی جائز ٹھہرے اور اگر کوئی علاقہ نہیں تو اگر کوئی شخص ان صورتوں کو جنہیں صاحبِ درمختار وغیرہ نے کراہتِ نماز کا حکم نہ دیا۔ مثلاً اتنی چھوٹی تصویر جسے زمین پر رکھیں تو اس کے تفاصیلِ اعضاء معلوم نہ ہوں، حجت بنا کر یہ کہے کہ ان صاحبوں کا قول ہے کہ ایسی تصویریں بنانا جائز ہے، اس کا یہ قول خلافِ واقع و جہلِ نامقبول ہوگا کہ نہیں؟
  8. مجیبِ لبیب حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ”پہلی صورت میں جس طرح کی تصویروں کی حرمت ظاہر کی گئی ہے اگر حجِ فرض ادا کرنے کے لئے پاسپورٹ وغیرہ میں لگانے کے لئے بھی بنائی جائیں تب بھی حرام ہیں لہٰذا اگر پاسپورٹ پر تصویر لگائے بغیر فریضہ حج ادا نہ کیا جا سکے تو حج کو ترک کر دیا جائے گا مگر تصویر نہیں کھنچوائی جائے گی، حج اگرچہ فرض ہے مگر ادائیگی کی راہ میں تصویر خود ایک مانعِ شرعی ہے۔“ پھر فرماتے ہیں: ”ویسے تو تصویر کشی کی حرمت کا وہی حال ہے جو پہلی صورت سے ظاہر ہے مگر فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے اگر تصویر کھینچانا ناگزیر ہو تو پھر وہ جائز ہے اور الضرورات تبیح المحظورات میں داخل ہے، اس لئے کہ حج کی فرضیت قطعی ہے اور تصویر کشی کی حرمت ظنی ہے، الخ۔“ اس سے ظاہر کہ مجیبِ فاضل مدظلہ کے نزدیک یہ قولِ اخیر راجح ہے، مجیبِ فاضل پر لازم ہے کہ وجہِ ترجیح ایسی بیان فرمائیں کہ پہلا قول مندفع ہو جائے اور اس کا مرجوح ہونا ظاہر ہو جائے۔ فقط یہ کہہ دینا کہ ”الضرورات تبيح المحظورات“ میں داخل ہے، کافی نہیں، کہ ضرورتِ شرعیہ کا تحقق محل منع میں ہے تو جب تک ضرورتِ شرعیہ متحقق نہ ہو جائے، حکمِ حرمت باقی۔ اور وہ مذہب کہ پہلے نقل کیا، واجب العمل اور اس سے عدول ناجائز۔
  9. ضرورتِ شرعیہ کی تعریف فرمائی جائے۔
  10. کیا ضرورتِ شرعیہ سے ہمیشہ محظور مباح ہو جاتا ہے؟ یا یہ حکم مقید ہے؟ برتقدیرِ اول اس دعویٰ کی دلیل دیجیے اور برتقدیرِ ثانی وہ قید کیا ہے؟ بیان فرمائیے۔
  11. ایک شخص کی جان جاتی ہے اور حرام و حلال کوئی غذا نہیں جس سے وہ دفعِ ہلاکت کرے، کوئی کہتا ہے میرے جسم سے گوشت کی بوٹی کاٹ کر کھا لے، کیا یہ جائز ہوگا؟ اور الضرورات تبيح المحظورات میں داخل ہوگا یا ناجائز؟ یا اس قریب المرگ کو اجازت ہوگی کہ اپنے جسم سے بوٹی کاٹ کر کھا لے؟ برتقدیرِ اول دلیلِ جواز کتبِ معتمدہ سے لکھیے اور برتقدیرِ ثانی عدمِ جواز کی وجہ سوائے ضررِ بدنی کے کیا ہے؟ یہ بھی بتائیے کہ ضررِ بدنی تو شرعاً مدفوع ہوا اور ضررِ دینی کو شریعت دفع نہ فرمائے بلکہ ارتکابِ حرام کو لازم ٹھہرائے۔ کیا یہ معقول و مقبول ہے؟
  12. جی، ”تصویر کشی کی حرمت ظنی ہے“ یہ کس عالم کا قول ہے؟ اور کس کس نے اسے قبول کیا ہے؟ بیان کیجیے۔
  13. سیدی ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں فرماتے ہیں: ”قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث سواء صنعه في ثوب أو بساط أو درهم أو دينار أو غير ذلك وأما تصوير صورة الشجر والرجل والجبل وغير ذلك فليس بحرام هذا حكم نفس التصوير اهـ“ و مثله فى فتح البارى والزواجر نقلا عن شرح مسلم للنووى۔ (۱) مجیب فاضل بتائیں: ”قال أصحابنا وغيرهم من العلماء“ سے ذی روح کی تصویر بنانے پر اجماعِ ائمہ ظاہر ہوتا ہے یا نہیں؟ نیز بتائیں: ”شديد التحريم“، ظنی ہی کے لئے کہا جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کتبِ مستندہ سے ثبوت دیں ورنہ ظنی کہنا کیا معنیٰ؟
  14. مجیب نے قاعدہ ذکر کیا کہ ”جب کبھی فرضِ قطعی کے مقابلے میں حرمتِ ظنی آئے تو فرض کو ترجیح دی جائے گی“۔ اس پر معروض ہے کہ برائے کرم اس قاعدہ کا ثبوت کتبِ معتمدہ سے دیجئے۔
  15. ایک شخص کسی کو دھمکی بے وجہ شرعی دیتا ہے کہ تجھے قتل کردوں گا، اگر اپنی جان بخشی چاہتا ہے تو فلاں کو جماعتِ شرعیہ سے نماز پڑھنے سے روک دے۔ کیا ایسی صورت میں اس شخص پر اس فلاں شخص کو جماعت سے روکنا فرض ہوگا؟ اور اگر وہ نہ روکے اور قتل ہوجائے تو کیا گناہ گار مرے گا کہ جان بچانا فرضِ قطعی ہے اور ترکِ جماعت کی حرمت ظنی؟ اور ”جب کبھی فرضِ قطعی کے مقابلے میں حرمتِ ظنی آئے تو فرض کو ترجیح دی جائے گی“۔
  16. کیا حجِ نفل بھی فرض ہے کہ اس کے لئے پاسپورٹ پر تصویر لگانا ناگزیر ہو تو بوجہ ضرورت اس کی اجازت ہو؟ نہیں تو یہ دلیل کہ ”حج کی فرضیت قطعی ہے الخ“، حجِ نفل میں کب جاری ہے؟ اس کے لئے کوئی اور دلیل چاہئے۔
  17. کیا ضرورتِ شرعیہ کا مفہوم اختلافِ زمانہ سے بدل گیا ہے؟

ان سوالات سے اس جواب میں جو نظر ہے وہ ظاہر ہوئی اور نمبر (۵) کی جو حالت ہے وہ بھی ہمارے تفصیلی فتویٰ سے ظاہر ہوگی جو ہمراہ روانہ ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ سیدنا محمد و آلہ وصحبہ وبارک وسلم

فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہ
شب ۹ ربیع الآخر ۱۴۰۵ھ

[حوالہ: فتاویٰ تاج الشریعہ، ج: 10، ص: 46 تا 50]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!