| عنوان: | حیاتِ حضرت شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ اور تعلیماتِ رضا |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | حسن آرا |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
گزشتہ 6 ستمبر کو ہماری جماعت اپنے ایک عظیم سربراہ سے محروم ہو گئی۔ علامہ سید شاہ تراب الحق قادری اس رجلِ عظیم کا نام ہے جس نے طوفان کی زد پر محبت کے چراغ جلائے تھے اور اپنی رحلت سے پہلے اسے خوب روشن دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کی شخصیت ”زَادَهٗ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ“ کی خوبصورت تفسیر تھی۔ انہوں نے زندگی کا جو سفر 1944ء میں حیدرآباد دکن میں شروع کیا تھا وہ کراچی میں 2016ء میں مکمل ہوا، مگر اس سفر میں وہ کہاں کہاں گئے؟ کیا کیا خدمات انجام دیں؟ کتنے پتھروں کو موم کیا، کتنی خاردار وادیاں عبور کیں، کتنی کھائیاں پاٹ دیں، شاید اس کا ریکارڈ کسی کے پاس نہ ہو۔ وہ علم و تحقیق کا مخزن تھے، زبان و بیان کے بادشاہ تھے۔ شہرت و عزت خود ان کے در کے گدا تھے، حاضر جوابی کمال کی تھی، اور اندازِ بیان انوکھا تھا۔ غیور باپ کی اولاد نے کبھی حمیت و غیرت کا سودا نہ کیا، مصلحت کوشی کے جراثیم دور دور تک نظر نہ آتے تھے۔ مگر پھر بھی سب کے دلوں کو موہ لیتے تھے۔ موصوف صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا میں اہلِ سنت و جماعت کے قائدین اور سرکردہ علما میں شمار ہوتے تھے، اور یہ قیادت صرف تقریر و خطابت کی حد تک محدود نہ تھی بلکہ مختلف محاذ پر آپ نے اہلِ سنت کی قیادت فرمائی ہے، خصوصاً علمی و تحقیقی میدان میں، اہلِ باطل کے افکار و نظریات کے رد و ابطال میں، صالح افکار کے ابلاغ و ترسیل میں، بیعت و ارشاد میں، اور حسبِ ضرورت سیاسی محاذ پر۔ اور جس محاذ پر آپ نے کام کیا وہاں جماعت کو سرخرو کیا ہے۔ آپ کے علم و تحقیق، اندازِ بیان، حق گوئی، حاضر جوابی اور ظرافت نے مل کر آپ کی شخصیت کو ایک انجمن بنا دیا تھا۔ تاریخ میں بہت کم ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جو عوام اور خواص سب میں یکساں مقبول ہوئے ہوں اور جن کے لیے سب کے دل دھڑکتے ہوں۔ اگر علم و تحقیق کی بنا پر اہلِ علم کسی کے قائل ہوتے ہیں تو عوام کے لیے ان کی باتیں سمجھ سے باہر ہوتی ہیں، اور جو اپنے خوبصورت اندازِ بیان سے عوام کا دل موہ لیتے ہیں کوئی ضروری نہیں کہ علما اور دانشور طبقہ ان سے متاثر ہو۔ مگر حضرت سید شاہ تراب الحق علیہ الرحمہ کی شخصیت اس لحاظ سے بڑی منفرد و ممتاز تھی کہ آپ کے لیے عوام و خواص، ایں قدر تا آں قدر سبھی کے دل کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ آپ کی شخصیت نے بڑے بڑوں کو مرعوب کیا ہے لیکن خود کسی سے مرعوب نہ ہوتے تھے۔ بھرے بدن اور لمبے قد کے ساتھ وجیہہ چہرے پر شاندار عمامہ آپ کی پہچان تھی، لوگوں نے ہمیشہ یوں ہی دیکھا اور ایسا ہی ہمیشہ دیکھنا چاہتے تھے مگر رضائے الٰہی سے اب وہ ہمارے درمیان نہ رہے۔ اپنی پچاس سالہ دعوتی علمی اور تصنیفی خدمات انجام دے کر سرمدی رحمتوں کی آغوش میں جا بسے۔
مسلکِ اعلیٰ حضرت آپ کا مشن:
تاریخ میں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی ایک شخصیت کو حق و باطل کے درمیان وجہِ امتیاز اور خطِ فاصل کا درجہ دیا گیا ہو۔ جس ایک شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے پوری ایک صدی سے حق و صداقت کا معیار قرار دیا ہے وہ شخصیت امام احمد رضا کی ہے۔ ایسا نہیں کہ آپ سے بیعت و ارشاد کا ایک سلسلہ چل نکلا تو مریدین و متوسلین تو سب کچھ سمجھتے ہوں، لیکن باقی دنیا کو ان سے کچھ لینا دینا نہ ہو۔ نہیں، بلکہ انہیں بارگاہِ رسالت سے وہ مرکزیت حاصل ہوئی کہ خواہ سلسلہِ رضویہ ہو یا سلسلہِ اشرفیہ، سلسلہِ قادریہ ہو یا سلسلہِ چشتیہ یا سلسلہِ سہروردیہ یا سلسلہِ نقشبندیہ یا کوئی اور، سبھی امام احمد رضا کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں، بلکہ وہابی نجدی تو تمام سلاسلِ طریقت کو ہی بریلوی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت نے اپنی تصنیفات کے ذریعہ ان تمام عقائد و مسائل میں حق و صداقت کو آفتابِ نیم روز کی طرح عیاں کر دیا جن کی قوم کو ضرورت ہے۔ لہٰذا بعد کے اکابر علمائے کرام و قائدینِ ملت کا یہی طرزِ عمل رہا کہ امام احمد رضا کی تعلیمات کو من و عن اپنا لیا جائے۔ خصوصاً ہند و پاک کے اساطین کا یہی شیوہ رہا۔ حضرت سید شاہ تراب الحق صاحب قبلہ اس گروہ کے سرخیل تھے جو قوم کو امام احمد رضا کی تعلیمات پر گامزن دیکھنا چاہتا تھا۔ اور اس کے لیے ہمہ تن جدوجہد کرتے رہے۔ اس کے لیے آپ کی سرگرمیاں صرف تقریر تک محدود نہ رہیں، بلکہ تنظیمی سطح پر اس کے لیے آپ نے بہت کام کیے۔ اپنوں میں اس کے لیے تنظیمیں بنائیں، تحریکیں چلائیں، جلسے کیے، ملاقاتیں کیں، ذہن سازی کے لیے اپنی فکری و عملی قوتوں کو پورے طور پر بروئے کار لاتے رہے، اور غیروں سے اس کے لیے مناظرے کیے، کھلے ماحول میں سوال و جواب کے سیشن کیے، ملاقاتیں کیں، ہر محاذ پر حق کا اس کے لیے کام کرتے رہے۔ اس کے لیے آپ کی خدمات نصف صدی سے زائد عرصے کو محیط ہیں۔ اس عرصے میں آپ نے دنیا کے بیشتر ملکوں کے دورے کیے، مراکز و مساجد کی بنا ڈالی، نوجوانوں کو تحریک دی، سمجھنے کا شعور دیا، بولنے کا سلیقہ دیا، اور اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کو دور دور تک پہنچایا۔ آپ اپنے بیان میں جب امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کا حوالہ دیتے تو ان کا ذکر کچھ اس شان سے کرتے کہ سامعین پر ان کی عظمت کا سکہ بیٹھ جاتا۔ بیان مختصر ہو یا مفصل اعلیٰ حضرت کا نام اسی شان سے لیتے کہ القاب و آداب میں کوئی کمی نہ کرتے۔
امام احمد رضا قدس سرہ سے اختلاف:
علمی اختلاف تو کسی کا کسی سے بھی ہو سکتا ہے، یہ فطری بات ہے کہ کسی کی سوچ اور فکر وہاں تک نہ پہنچے جہاں تک اعلیٰ حضرت کی پہنچی ہو، اور ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے مبلغِ علم کے مطابق ہی مکلف ہے۔ لیکن امام احمد رضا سے کسی قسم کے اختلاف کو ہمارے بزرگوں نے اچھی نظر سے نہ دیکھا نہ اس کی حوصلہ افزائی کی، اس کی وجہ اولاً تو امامِ اہلِ سنت کی بارگاہِ الٰہی و رسالت پناہی میں مقبولیت ہے، ثانیاً ان کا معیارِ تحقیق۔ فتاویٰ رضویہ کے مسائل و رسائل کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کی کسی سطر پر سوالیہ نشان قائم کرنا تو دور کی بات ہے ٹھیک سے سمجھ لینا بھی آسان نہیں۔ جن علما نے چند باتوں میں اعلیٰ حضرت سے اختلاف کیا ان کے مشائخ و اکابر نے امام احمد رضا قدس سرہ کو تمام علمی امور میں حرفِ آخر مانا، اور کسی ایک نکتے پر بھی سرِمو انحراف کی نہ سوچی، بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے امام احمد رضا کے قلم کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے کہ اس سے کوئی غلط بات صادر ہو۔ حضرت سید شاہ تراب الحق علیہ الرحمہ بھی اعلیٰ حضرت سے کسی اختلاف کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ بلکہ ایسے اختلاف کے شوقین لوگوں کا تحریر و بیان کے ذریعہ رد بھی کرتے، اور ایسی تحریروں کی حوصلہ شکنی کرتے۔ یہ طرزِ عمل آپ نے اپنے اکابر سے سیکھا تھا۔ مگر آپ کی وسعتِ فکر و نظر کا عالم یہ تھا کہ اس قسم کے حساس مسائل کو تقریر کا موضوع نہ بناتے، جیسا کہ آج کل تقریر کے لیے ایسے حساس مسائل کا ہی انتخاب کیا جاتا ہے جو داخلی اختلافات کا نتیجہ ہوتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوریاں بڑھتی جاتی ہیں اور خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی ہے، پھر دو گروہ بن جاتے ہیں اور ہر گروہ اپنے موقف کو حق و باطل کے درمیان نشانِ امتیاز سمجھ کر خوش ہوتا رہتا ہے۔ شاہ صاحب علیہ الرحمہ حساس مسائل کو وہیں حل کرنے کی کوشش کرتے جہاں سے وہ پیدا ہوئے۔ اور عموماً آپ کی تقریر کا موضوع ایسا ہوتا جس سے گمراہ فرقوں کا رد ہو اور اہلِ سنت و جماعت کے نظریات و معمولات کی حقانیت ثابت ہو۔ ان کی علمی خدمات میں اگرچہ ان کے ہزاروں خطابات اور سیکڑوں سوال و جواب کے سیشن آن ریکارڈ ہیں لیکن انہوں نے حسبِ ضرورت تصنیفی خدمات بھی انجام دی ہیں۔ ان میں کچھ تصنیفات خاصی مقبول بھی ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مرقدِ انور پر رحمت و انوار کی بارش فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین علیہ الصلاۃ والتسلیم۔
[ماہنامہ پیغامِ شریعت نومبر 2016ء ص: 6]
