Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شانِ امہات المؤمنین اور شیخ البانی

شانِ امہات المؤمنین اور شیخ البانی
عنوان: شانِ امہات المؤمنین اور شیخ البانی
تحریر: مولانا کوثر امام قادری
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

تمام انبیاء و مرسلین صلوات اللہ علیہم اجمعین کی ازواجِ مطہرات جملہ مومنین و مسلمین کی ماں ہیں۔ اپنی ماؤں سے زیادہ ان کا ادب و احترام واجب و ضروری ہے۔ ان کے بارے میں حسنِ ظن، حسنِ عقیدت ایمان کی نشانی ہے، اور ان کے بارے میں بدظنی و بدخیالی نفاق کی علامت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے خاص محبوبین، انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام کے لیے ان کا انتخاب فرمایا تو انہیں ان تمام اوصافِ قبیحہ سے حفاظت و عصمت بخشی جن کے ارتکاب سے دعویِ نبوت پر حرف آئے، اور انسانی سماج میں وقارِ نبوت مجروح ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ازواجِ مطہرات کو ایسے افعالِ قبیحہ سے محفوظ فرما دیا جس سے معاشرہ گھن کرتا ہے اور جو بارگاہِ نبوت و رسالت سے لوگوں کو متنفر کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔

آج چودہ سو سال کا زمانہ گزر گیا، بڑے بڑے بدتمیز، ذی استعداد، قابل افراد، اصحابِ فکر و قلم پیدا ہوئے، گستاخانِ رسالت جنم لیے لیکن کسی نے بھی امہات المؤمنین کے بارے میں یہ نہیں لکھا کہ ان سے زنا کا صدور شرعاً صحیح ہے۔ لیکن عرب کا یہ طوفانی محقق جس نے نہ جانے کتنے فتنے پیدا کیے اور خدمتِ حدیث کے نام پر دجل و فریب کا بازار گرم کر کے عرب کا شیخ الکل فی الکل بن گیا، صاف صاف لکھتا ہے کہ جتنے جرائم و بدکاریوں کا صدور دوسری عورتوں سے ہوتا ہے، ازواجِ مطہرات یعنی امہات المؤمنین بھی ان میں مبتلا ہو سکتی ہیں۔

حضرات امہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے متعلق ایسے خیالات کا اظہار یقیناً ان پاکیزہ ہستیوں کی سخت بے ادبی ہے۔ کسی امر کا امکان الگ ہے اور اس کا صدور الگ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان پاک دامن امہات المؤمنین کو ایسے گناہوں سے محفوظ فرما دیا ہے تو حفاظتِ الٰہی کے سبب ان سے ایسے امور کا صدور نہیں ہو سکتا۔ شیطان یا نفسِ انسانی حفاظتِ الٰہی کے حصار کو توڑ کر بندوں کو گناہوں میں مبتلا کرنے پر قادر نہیں۔ یہ البانی کی دریدہ دہنی ہے کہ اس نے گناہوں کے امکانِ وقوعی کو اس انداز میں بیان کیا ہے کہ اس سے بے ادبی مترشح ہونے لگی۔ کسی امر کا عقلی طور پر ممکن بالذات یا ممکن الوقوع ہونا الگ ہے اور اس کا صدور اور بندوں کا اس میں مبتلا ہونا الگ ہے۔

البانی کے تین اقتباس ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں۔ ان سے البانی کا نظریہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ وہ حضرات اہلِ بیتِ کرام اور امہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے لیے فواحش اور گناہوں کا صدور صرف عقلی طور پر ممکن اور ممکن الوقوع ہی نہیں مانتا ہے، بلکہ فواحش میں مبتلا ہونے کا بھی قائل ہے، حالانکہ امہات المؤمنین کے لیے عصمت و حفاظت ثابت ہے۔ البانی کی تحریریں صاف بتا رہی ہیں کہ البانی حضرات امہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے حق میں حفاظتِ الٰہی کو تسلیم نہیں کرتا۔ بلکہ اقتباسِ دوم میں البانی نے حضرات امہات المؤمنین کے حق میں حفاظتِ الٰہی کا صریح انکار کیا اور حفاظتِ الٰہی کے قائلین کو بدعتی قرار دیا۔

البانی کے خود ساختہ نظریات

محققِ طوفانی شیخ البانی کے الفاظ پر نگاہ ڈالیں:

وَالْحَدِيْثُ نَصٌّ صَرِيْحٌ فِيْ أَنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ يَجُوْزُ فِيْهِمْ مَا يَجُوْزُ فِيْ غَيْرِهِمْ مِّنَ الْمَعَاصِيْ إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللهُ تَعَالٰى.

ترجمہ: اور حدیث نصِ صریح ہے اس بات پر کہ اہلِ بیت کے لیے وہ سارے گناہ ممکن ہیں جو دوسری خواتین کے لیے ممکن ہیں، مگر اللہ تعالیٰ جسے محفوظ رکھے۔

فَهُوَ كَقَوْلِهٖ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ فِيْ قِصَّةِ الْإِفْكِ: يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهٗ قَدْ بَلَغَنِيْ عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيْئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللهَ وَتُوْبِيْ إِلَيْهِ - أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ - فَفِيْهَا رَدٌّ قَاطِعٌ عَلٰى مَنِ ابْتَدَعَ الْقَوْلَ بِعِصْمَةِ زَوْجَاتِهٖ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

[سلسلہ احادیث صحیحہ، ج: 4، ص: 529]

ترجمہ: وہ دلیل قصہِ افک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرمانا ہے کہ اے عائشہ! مجھے تیرے بارے میں ایسی ایسی باتیں پہنچی ہیں۔ اگر تم اس سے بری ہو تو عنقریب اللہ تعالیٰ تیری برأت ظاہر فرما دے گا اور اگر کوئی گناہ سرزد ہو گیا تو اللہ سے توبہ و استغفار کرو۔ اس حدیث کو امام مسلم نے تخریج کی ہے اور اسی میں زبردست رد ہے ان لوگوں کا جنہوں نے ازواجِ مطہرات کی عصمت کے قول کی بدعت نکالی ہے۔

نیز لکھتا ہے:

وَإِنْ كَانَ وُقُوْعُ ذٰلِكَ مُمْكِنًا مِّنَ النَّاحِيَةِ النَّظَرِيَّةِ لِعَدَمِ وُجُوْدِ نَصٍّ بِاسْتِحَالَةِ ذٰلِكَ مِنْهُنَّ وَلِهٰذَا كَانَ مَوْقِفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِصَّةِ مَوْقِفَ الْمُتَرَيِّثِ الْمُتَرَقِّبِ نُزُوْلَ الْوَحْيِ الْقَاطِعِ لِلشَّكِّ فِيْ ذٰلِكَ الَّذِيْ يُنْبِئُ عَنْهُ قَوْلُهٗ فِيْ حَدِيْثِ التَّرْجَمَةِ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ اٰدَمَ، إِلَخْ.

إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْطَعْ بِبَرَاءَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَّا بَعْدَ نُزُوْلِ الْوَحْيِ فَفِيْهِ إِشْعَارٌ قَوِيٌّ بِأَنَّ الْأَمْرَ فِيْ حَدِّ نَفْسِهٖ مُمْكِنُ الْوُقُوْعِ.

[سلسلہ احادیث صحیحہ، ج: 6، ص: 27]

ترجمہ: اگرچہ اس فاحشہ کا وقوع عقلی اعتبار سے ممکن ہے، ان کی طرف سے وقوعِ زنا کے محال ہونے پر نص نہ ہونے کی وجہ سے اور یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف مؤخر کرنا اور انتظار کرنا تھا نزولِ وحی کا جو شک کو دور کرنے والا ہے، جس کی خبر حدیثِ ترجمہ میں ان کا قول ”إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ اٰدَمَ“ دیتا ہے۔

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نزولِ وحی سے قبل برأتِ عائشہ کا یقین نہ تھا تو اس میں واقعی خبر ہے، اس بات کی کہ معاملہ بذاتہِ ممکن الوقوع ہے۔

حاصلات

  1. ازواجِ مطہرات سے ان تمام گناہوں کا صدور ہوتا ہے، جن کا صدور دوسری عورتوں سے ہوتا ہے۔
  2. ان کی پاکدامنی پر کوئی نص نہیں۔
  3. حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں شک تھا۔
  4. جب وحی نازل ہو گئی، تب آپ کو ان کی پاکدامنی کا یقین ہوا۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شک کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ ام المؤمنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زنا کا صدور اور اس میں مبتلا ہونا شرعاً درست ہے، اور ان کے لیے عصمت و حفاظت ثابت نہیں۔ مَعَاذَ اللهِ مِنْ تِلْكَ الْخُرَافَاتِ الْأَلْبَانِيَّةِ.

علمائے حق کا نظریہ

البانی کے مذکورہ خیالاتِ فاسدہ پر گفتگو سے قبل ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ حضرات امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن زنا و بدکاری اور اس قسم کے فواحش اور افعالِ قبیحہ سے معصوم و محفوظ ہیں۔ غیر نبی کی عصمت نبی کی عصمت کی طرح تو نہیں ہے، لیکن غیر انبیاء کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے گناہوں میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے آبائے کرام، امہاتِ کریمات، ازواجِ مطہرات اور بناتِ طیبات فواحش اور نفرت انگیز حرکات و اعمال سے محفوظ ہوتی ہیں۔

اقوالِ علمائے اہلِ سنت و جماعت

علامہ بدایونی فرماتے ہیں: وَهَا أَنَا أَذْكُرُ مَا يَجِبُ لَهُمْ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَمِنْهُ الْبَرَاءَةُ فِي النَّسَبِ أَيْ سَلَامَتُهٗ مِنْ دَنَاءَةِ الْآبَاءِ وَعُهْرِ الْأُمَّهَاتِ، لَا السَّلَامَةُ مِنَ الْكُفْرِ وَنَحْوِهٖ فَإِنَّهٗ لَيْسَ بِشَرْطٍ.

ترجمہ: اب میں ان چیزوں کو ذکر کرتا ہوں جو انبیائے کرام علیہم السلام کے لیے واجب ہیں تو ان میں سے نسب میں پاکیزہ ہونا ہے، یعنی باپوں کا کمینگی سے اور ماؤں کا بدکاری سے محفوظ ہونا ہے، نہ کفر وغیرہ سے محفوظ ہونا، کیوں کہ یہ شرط نہیں ہے۔

اس کے تحت امام احمد رضا محدثِ بریلوی فرماتے ہیں: بَلْ وَالْأَزْوَاجِ أَيْضًا كَمَا رَأَيْتُ التَّصْرِيْحَ بِهٖ - وَالدَّلِيْلُ هُوَ نَفْيُ التَّعْيِيْرِ يَشْتَمِلُ الْبَنَاتِ وَأَمْثَالَهُنَّ أَيْضًا وَهُوَ الْوَاقِعُ - وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ. [المعتقد المنتقد مع المعتمد المستند، ص: 76 تا 80]

ترجمہ: بلکہ ازواجِ مطہرات کا بھی زنا سے محفوظ ہونا واجب ہے، جیسا کہ میں نے اس کی صراحت دیکھی ہے اور دلیل وہی نفیِ عار ہے جو شامل ہے بنات وغیرہ کو بھی اور یہی امرِ واقعہ ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے۔

انبیاء علیہم السلام کے لیے نفیِ عار واجب ہے تو اس کی ضد ان کے حق میں محال ہے۔

وہابیہ کے معتمد اور ابنِ تیمیہ کے شاگرد ابنِ کثیر نے لکھا: قَالَ الضَّحَّاكُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَّضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: مَا بَغَتِ امْرَأَةُ نَبِيٍّ قَطُّ. [تفسیر ابنِ کثیر، ج: 7، ص: 73]

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ کسی نبی کی زوجہ نے کبھی بدکاری نہیں۔

ابنِ کثیر نے کہا: فَإِنَّ نِسَاءَ الْأَنْبِيَاءِ مَعْصُوْمَاتٌ عَنِ الْوُقُوْعِ فِي الْفَاحِشَةِ لِحُرْمَةِ الْأَنْبِيَاءِ كَمَا قَدَّمْنَا فِيْ سُوْرَةِ النُّوْرِ. [تفسیر ابنِ کثیر، ج: 4، ص: 393]

ترجمہ: ازواج انبیائے کرام علیہم السلام فاحشہ میں واقع ہونے سے معصوم ہیں، انبیائے کرام کی حرمت کی وجہ سے جیسا کہ ہم نے سورہِ نور کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔

حضرت امام سیوطی فرماتے ہیں: أَخْرَجَ ابْنُ عَسَاكِرَ عَنْ أَشْرَسَ الْخُرَاسَانِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْفَعُهٗ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: مَا بَغَتِ امْرَأَةُ نَبِيٍّ قَطُّ. [درِ منثور، ج: 6، ص: 245]

ترجمہ: حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی نبی کی زوجہ نے کبھی بدکاری نہیں کی۔

امام ابو اللیث سمرقندی فرماتے ہیں: لِأَنَّ نِسَاءَ الْأَنْبِيَاءِ مُعَافَاتٌ مَّعْصُوْمَاتٌ عَنِ الْفَوَاحِشِ فَلَا يَجُوْزُ أَنْ يُّظَنَّ بِهِنَّ أَنَّ الشَّيْطَانَ يَقْرَبُهُنَّ وَهُوَ الْأَصَحُّ. [تفسیر سمرقندی، ج: 1، ص: 104]

ترجمہ: اس لیے کہ ازواج انبیائے کرام علیہم السلام فواحش سے محفوظ و معصوم ہیں، تو جائز نہیں یہ گمان کرنا کہ شیطان ان کے قریب ہوتا ہے، اور یہی صحیح مذہب ہے۔

امام رازی فرماتے ہیں: إِنَّمَا وَصَفَ اللهُ تَعَالٰى ذٰلِكَ الْكَذِبَ إِفْكًا لِأَنَّ الْمَعْرُوْفَ مِنْ حَالِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خِلَافُ ذٰلِكَ لِوُجُوْهِ: أَحَدُهَا أَنَّ كَوْنَهَا زَوْجَةً لِّلرَّسُوْلِ الْمَعْصُوْمِ يَمْنَعُ مِنْ ذٰلِكَ، لِأَنَّ الْأَنْبِيَاءَ مَبْعُوْثُوْنَ إِلَى الْكُفَّارِ لِيَدْعُوْهُمْ وَيَسْتَعْطِفُوْهُمْ فَوَجَبَ أَنْ لَّا يَكُوْنَ مَعَهُمْ مَا يُنَفِّرُهُمْ عَنْهُمْ وَكَوْنُ الْإِنْسَانِ بِحَيْثُ تَكُوْنُ زَوْجَتُهٗ مُسَافِحَةً مِّنْ أَعْظَمِ الْمُنَفِّرَاتِ. [مفاتیح الغیب، ج: 6، ص: 240]

ترجمہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس کذب کو بہتان فرمایا، اس لیے کہ حضرت عائشہ کے احوال چند وجوہ سے اس کے خلاف تھے۔ اول ان کا رسولِ معصوم کی زوجہ ہونا اس فاحشہ کو روکتا ہے، کیوں کہ انبیائے کرام کفار کی طرف بھیجے جاتے ہیں، تا کہ انہیں حق کی دعوت دیں، تو واجب ہے کہ انبیا کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ ہو جو کفار کو ان سے متنفر کر دے۔ اور انسان کی بیوی کا بدکار ہونا یہ تو بڑی ہی نفرت انگیز چیز ہے۔

علامہ محمد امین شنقیطی نے حضرت نوح و حضرت لوط علیہما السلام کی ازواج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: أَجْمَعَ الْمُفَسِّرُوْنَ هُنَا عَلٰى أَنَّ الْخِيَانَةَ لَيْسَتْ زَوْجِيَّةً - وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نِسَاءُ الْأَنْبِيَاءِ مَعْصُوْمَاتٌ وَّلٰكِنَّهَا خِيَانَةٌ دِيْنِيَّةٌ بِعَدَمِ إِسْلَامِهِنَّ وَإِخْبَارِ أَقْوَامِهِنَّ بِمَنْ يُّؤْمِنُ مَعَ أَزْوَاجِهِنَّ. [اضواء البیان، ج: 8، ص: 381]

ترجمہ: مفسرین کا اجماع ہے کہ خیانت سے مراد خیانتِ زوجیت نہیں ہے اور ابنِ عباس نے فرمایا کہ انبیا علیہم السلام کی ازواج معصومات ہیں۔ ہاں خیانت سے مراد خیانتِ دینیہ ہے، یعنی ان کا کافر ہونا اور ان کا اپنی کافر قوم کو ان لوگوں کے بارے میں خبر پہنچا دینا جو انبیا پر ایمان لائے۔

شیعہ لوگ بھی فواحش سے ازواج انبیائے کرام کی عصمت و حفاظت کے قائل ہیں۔ ایک شیعہ محسن الامین العاملی نے لکھا: خُلَاصَةُ عَقِيْدَةِ الشِّيْعَةِ الْمُتَّفَقِ عَلَيْهَا فِيْ نِسَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ عَامَّةً وَفِيْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِيْنَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً - يَعْتَقِدُ الشِّيْعَةُ وُجُوْبَ تَنْزِيْهِ الْأَنْبِيَاءِ عَنْ جَمِيْعِ الْعُيُوْبِ وَالنَّقَائِصِ سَوَاءٌ كَانَ ذٰلِكَ فِيْ أَفْعَالِهِمْ كَالْأَكْلِ عَلَى الطَّرِيْقِ وَمُجَالَسَةِ الْأَرَاذِلِ أَوْ صِنَاعَاتِهِمْ كَكَوْنِهٖ حَجَّامًا أَوْ زَبَّالًا أَوْ أَخْلَاقِهِمْ كَالْحِقْدِ أَوِ الْحَسَدِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ أَوْ فِيْ أَجْسَامِهِمْ كَالْبَرَصِ وَالْجُذَامِ أَوْ عُقُوْلِهِمْ كَالْجُنُوْنِ وَالْبَلَهِ أَوْ فِي الْخَارِجِ عَنْهُمْ كَدَنَاءَةِ الْآبَاءِ وَعُهْرِ الْأُمَّهَاتِ أَوِ الْأَزْوَاجِ. [اعیان الشیعہ، ج: 1، ص: 120]

ترجمہ: شیعہ کے متفقہ عقائد کا خلاصہ ازواجِ انبیا کے بارے میں بالعموم اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج، امہات المؤمنین کے بارے میں بالخصوص یہ ہے کہ انبیائے کرام کی تنزیہ و برأت واجب ہے تمام عیوب و نقائص سے، خواہ وہ فعلی ہوں جیسے راستہ میں کھانا اور گھٹیا لوگوں کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا۔ خواہ وہ پیشہ سے متعلق ہوں مثلاً ان کا حجام ہونا یا کوڑا جھاڑنے والا ہونا۔ یا ان کے اخلاق سے متعلق ہو، مثلاً کینہ، حسد، بزدلی، بخالت۔ یا ان کے جسموں سے متعلق ہو جیسے سفید داغ، کوڑھ۔ یا ان کی عقل سے متعلق ہو، جیسے پاگل پن، بیوقوفی۔ یا خارجی چیزوں میں جیسے آبا و اجداد کا گھٹیا ہونا، ماؤں اور بیویوں کا بدچلن ہونا۔

عصمت کی بحث

اللہ تعالیٰ نے تمام انسان و جنات کو ہر قسم کی نیکی، بدی، اچھائی، برائی، کی قدرت و اختیار عطا کی ہے خواہ انبیا و مرسلین ہوں، اولیا و صالحین ہوں یا فساق و فجار، سب کے اندر یہ طاقت و قوت رکھی گئی ہے اور وہ اپنی مرضی و اختیار سے ہر قسم کے امور انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے بعض حکمتوں و مصلحتوں کے سبب اپنے کچھ بندوں کو قدرت و اختیار کے باوجود گناہوں سے محفوظ رکھا ہے، یعنی انہیں عصمت کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ عصمت کا مطلب یہ نہیں کہ گناہ کی قدرت ہی ختم ہو جائے، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا۔

علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: حَقِيْقَةُ الْعِصْمَةِ أَنْ لَّا يَخْلُقَ اللهُ تَعَالٰى فِي الْعَبْدِ الذَّنْبَ مَعَ بَقَاءِ قُدْرَتِهٖ وَاخْتِيَارِهٖ. [شرح عقائد نسفی، ص: 109]

ترجمہ: عصمت کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ میں اس کی قدرت و اختیار کے باوجود گناہ پیدا نہ کرے۔

علامہ شمس الدین خیالی فرماتے ہیں: هِيَ مَلَكَةُ اجْتِنَابِ الْمَعَاصِيْ مَعَ التَّمَكُّنِ فِيْهَا. [حاشیہ خیالی، ص: 146]

ترجمہ: گناہوں پر قدرت کے باوجود گناہوں سے بچنے کے ملکہ کو عصمت کہتے ہیں۔

امام قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں: وَالْجُمْهُوْرُ قَائِلٌ بِأَنَّهُمْ مَّعْصُوْمُوْنَ مِنْ ذٰلِكَ مِنْ قِبَلِ اللهِ تَعَالٰى مُعْتَصِمُوْنَ بِاخْتِيَارِهِمْ وَكَسْبِهِمْ إِلَّا حُسَيْنًا النَّجَّارَ فَإِنَّهٗ قَالَ: لَا قُدْرَةَ لَهُمْ عَلَى الْمَعَاصِيْ أَصْلًا. [شفا شریف، ج: 2، ص: 125]

ترجمہ: جمہور اس نظریہ کے قائل ہیں کہ انبیاء علیہم السلام اپنے کسب و اختیار سے اللہ کی طرف سے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں، اس کے برخلاف حسین نجار معتزلی نے کہا کہ انبیاء علیہم السلام کو گناہوں پر بالکل قدرت نہیں ہوتی۔

یہ عصمت کن لوگوں کو حاصل ہوتی ہے تو اس سلسلے میں واضح یہی ہے کہ یہ انبیا و غیر انبیا دونوں کو حاصل ہوتی ہے، لیکن حصول میں فرق ہے۔ انبیا کو واجبی طور پر حاصل ہے یعنی ان کے لیے عصمت کا ثبوت واجب و قطعی ہے اور غیر انبیا کے لیے اس کا ثبوت جائز اور ظنی ہے۔

حافظ ابنِ حجر عسقلانی فرماتے ہیں: وَعِصْمَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَنَبِيِّنَا عَلَيْهِمُ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ حِفْظُهُمْ مِّنَ النَّقَائِصِ وَتَخْصِيْصُهُمْ بِالْكَمَالَاتِ النَّفِيْسَةِ وَالنُّصْرَةِ وَالثَّبَاتِ فِي الْأُمُوْرِ وَإِنْزَالِ السَّكِيْنَةِ، وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ غَيْرِهِمْ أَنَّ الْعِصْمَةَ فِيْ حَقِّهِمْ بِطَرِيْقِ الْوُجُوْبِ وَفِيْ حَقِّ غَيْرِهِمْ بِطَرِيْقِ الْجَوَازِ. [فتح الباری، ج: 11، ص: 502]

ترجمہ: ہمارے نبی اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی عصمت یہ ہے کہ وہ نقائص سے محفوظ ہوں اور کمالاتِ نفیسہ، نصرتِ الٰہی و ثابت قدمی اور انزالِ سکینہ کے ساتھ مختص ہوں۔ انبیا اور غیر انبیا میں فرق یہ ہے کہ انبیا کے لیے عصمت کا ثبوت واجب ہے (کیوں کہ یہ قطعی الثبوت ہے) اور غیر انبیا کے حق میں جائز ہے۔

امام بدر الدین عینی حنفی فرماتے ہیں: وَالْفَرْقُ بَيْنَ عِصْمَةِ الْمُؤْمِنِ وَعِصْمَةِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ أَنَّ عِصْمَةَ الْأَنْبِيَاءِ بِطَرِيْقِ الْوُجُوْبِ وَفِيْ حَقِّ غَيْرِهِمْ بِطَرِيْقِ الْجَوَازِ. [عمدۃ القاری، ج: 23، ص: 155]

ترجمہ: انبیائے کرام اور مومن کی عصمت میں فرق یہ ہے کہ انبیا کی عصمت کا ثبوت واجب ہے اور ان کے غیر کی عصمت جائز ہے۔

امامانِ حافظان نے انبیا و غیر انبیا دونوں کے لیے عصمت مانی کسی کے لیے بطور وجوب اور کسی کے لیے بطور جواز، لیکن حضرت علامہ فضل رسول بدایونی فرماتے ہیں: اَلْعِصْمَةُ وَهِيَ مِنْ خَصَائِصِ النُّبُوَّةِ عَلٰى مَذْهَبِ أَهْلِ الْحَقِّ. [المعتقد والمنتقد مع المعتمد، ص: 76]

ترجمہ: عصمت اور وہ اہلِ حق کے مذہب پر نبوت کی خصوصیات میں سے ہے۔

بات دراصل یہ ہے کہ انبیائے کرام کی عصمت اور غیر انبیا یعنی اولیائے کرام و خلفائے راشدین و ازواجِ مطہرات کی عصمت میں فرق ہے۔ انبیائے کرام کے لیے عصمت واجب ہے۔ انبیائے کرام کے لیے قبل اعلانِ نبوت و بعد اعلانِ نبوت ہر حال میں عصمت ضروری ہے۔ انبیائے کرام کے لیے ہر قسم کے گناہ اور ارادہِ گناہ سے عصمت ضروری ہے۔ گویا انبیائے کرام کی عصمت عصمتِ مطلقہ واجبہ ہے۔

اولیائے کرام کے لیے عصمت جائز ہے۔ اولیا کے لیے عصمت قبلِ ولایت نہیں، بلکہ بعد ولایت جائز ہوتی ہے۔ اولیا کے لیے ہر قسم کے گناہ سے عصمت ضروری نہیں، بلکہ بعض سے عصمت ہو، اور بعض سے نہ ہو۔ گویا اولیائے کرام کی عصمت عصمتِ مقیدہ ممکنہ ہے۔

اسی فرق کی بنیاد پر اولیائے کرام کی عصمت کو ”حفاظت“ سے تعبیر کرتے ہیں اور انہیں معصوم کے بجائے محفوظ کہا جاتا ہے۔ جب یہ بات واضح ہو گئی تو اب تعارض دور ہو گیا۔ علامہ بدایونی نے جو کہا کہ عصمت خاصہِ نبوت ہے۔ اس سے مراد عصمتِ مطلقہ واجبہ ہے اور ماقبل میں ازواجِ مطہرات کو معصومہ کہا گیا اور ان کے لیے عصمت مانی گئی تو اس سے مراد عصمتِ مقیدہ ممکنہ ہے، وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.

[ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی فروری 2021ء، ص: 11 تا 15]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!