| عنوان: | ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عظمت احادیث کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | مفتیہ عائشہ خاتون امجدی |
| پیش کش: | صغریٰ انجم سعدی حنفی |
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہیں، ان کی ماں کا نام زینب ام رومان ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت ام عبد اللہ ہے، مدارج النبوۃ میں ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کی کنیت مقرر فرمائیں، حضور نے فرمایا: اپنی بہن اسماء بنت ابی بکر کے صاحبزادے سے اپنی کنیت رکھ لو، یعنی عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔ آپ کی عظمت و فضائل میں بہت سی احادیثِ صحیحہ وارد ہیں، صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيْدِ عَلٰى سَائِرِ الطَّعَامِ.
یعنی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت اور تمام کھانوں پر۔ [صحیح بخاری، 3770]
ثرید یعنی روٹی شوربا، بوٹیاں بہترین غذا ہے، ساری غذاؤں سے افضل کہ وہ زود ہضم نہایت ہی مقوی، بہت مزے دار چبانے سے بے نیاز، بہت صفات کی جامع غذا ہے، ایسے ہی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا صورت، سیرت، علم و عمل، فصاحت، فطانت، ذکاوت، عقل و فہم، حضور کی محبوبیت وغیرہ ہزارہا صفات کی جامع ہیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے وہ کمالاتِ روحانیہ ہیں جن کی وجہ سے اُن کا منصب بارگاہِ الٰہی میں نہایت بلند ہے اور جن کے وجود سے اُن کو نورانیت سے بدرجہ اتم منور ہونے کی قابلیت حاصل ہوئی، اس کا ذکر اس حدیثِ پاک میں ملتا ہے:
عَنِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ جُمِعَ عِلْمُ نِسَاءِ هٰذِهِ الْأُمَّةِ فِيْهِنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِلْمُ عَائِشَةَ أَكْثَرَ مِنْ عِلْمِهِنَّ.
یعنی حضرت زہری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس امت کی تمام عورتوں کے جن میں امہات المؤمنین بھی شامل ہیں علم کو جمع کر لیا جائے تو عائشہ کا علم ان سب کے علم سے زیادہ ہے۔ [طبرانی 23 / 184، 299]
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کمالات عظمت و فضیلت پر یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے، جسے بخاری و مسلم میں روایت کیا گیا ہے:
عَنْ أَبِيْ سَلَمَةَ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: يَا عَائِشَةُ، هٰذَا جِبْرِيْلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهٗ، تَرٰى مَا لَا أَرٰى، تُرِيْدُ رَسُوْلَ اللهِ.
یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ جبرئیل تمہیں سلام کہتے ہیں، میں نے جواب دیا: ان پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور برکات ہوں، لیکن آپ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ دیکھ سکتے ہیں وہ میں نہیں دیکھ سکتی۔ [صحیح بخاری: 3557]
اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مسئلہ میں کوئی اشکال ہوتا اور وہ مشکل کہیں حل نہ ہوتی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس حاضر ہوتے، ان کے پاس یا تو اس کے متعلق حدیث ہوتی یا کسی حدیث سے اس مسئلہ کا استنباط مل جاتا، پوری دنیا میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جیسی کوئی عالمہ، فقیہہ پیدا نہ ہوئی۔ آپ کے تبحرِ علمی پر یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں:
عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى، قَالَ: مَا أَشْكَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيْثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا.
یعنی حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جب کبھی بھی کوئی حدیث مشکل ہو جاتی تو ہم ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کے بارے میں پوچھتے تو ان کے ہاں اس حدیث کا صحیح علم پا لیتے۔
آپ علومِ قرآنی، علومِ حدیث کی جامع، بڑی محدثہ اور بڑی فقیہہ تھیں، آپ خلیفہِ دوم امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اور خلیفہِ سوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے دور میں فتویٰ دیا کرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے اکابر حضرات عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما وغیرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں کسی کو بھیج کر حدیثیں پوچھا کرتے تھے:
عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَعْلَمَ بِشِعْرٍ، وَلَا فَرِيْضَةٍ، وَلَا أَعْلَمَ بِفِقْهٍ مِّنْ عَائِشَةَ.
ترجمہ: حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر شعر، فرائض اور فقہ کا عالم کسی کو نہیں دیکھا۔ [اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف 276/5، الرقم 26044]
ایک دوسری روایت میں ہے:
عَنْ مُوْسٰى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ.
یعنی حضرت موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو فصیح نہیں دیکھا۔ [ترمذی: 3884]
ابنِ سعد نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نقل کیا ہے کہ خود عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرمایا کرتی ہیں کہ مجھے تمام ازواجِ مطہرات پر چند ایسی فضیلتیں حاصل ہیں جو دوسری ازواجِ مطہرات کو حاصل نہیں ہوئیں:
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سوا کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا۔
- میرے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں۔
- اللہ تعالیٰ نے میری براءت اور پاک دامنی کا بیان آسمان سے قرآن میں نازل فرمایا۔
- نکاح سے قبل حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلا دی تھی اور آپ تین رات خواب میں مجھے دیکھتے رہے۔
- میں اور حضور ایک ہی برتن میں سے پانی لے لے کر غسل کیا کرتے تھے، یہ شرف میرے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا۔
- میں حضور کے ساتھ لحاف میں ہوتی رہتی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی وحی نازل ہوا کرتی تھی۔ یہ وہ اعزازِ خداوندی ہے جو میرے سوا حضور کی کسی زوجہِ مطہرہ کو حاصل نہیں ہوا۔
- وفاتِ اقدس کے وقت میں حضور کو اپنی گود میں لیے ہوئے بیٹھی تھی اور آپ کا سرِ انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں حضور کا وصال ہوا۔
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری باری کے دن وفات فرمائی۔
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ انور میرے گھر میں بنی۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا حجرہ قیامت تک فرشتوں، انسانوں اور جناتوں کی زیارت گاہ بنا۔ کیوں کہ یہی حجرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ بنا:
جن کا پہلو ہو نبی کی آخری آرام گاہ
جن کے حجرے میں قیامت تک نبی ہوں جاگزیں
فقہ و حدیث کے علوم میں ازواجِ مطہرات کے اندر ان کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔ 2210 حدیثیں انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں، ان کی روایت کی ہوئی حدیثوں میں سے 174 حدیثیں ایسی ہیں، جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں ہیں اور 54 حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری شریف میں ہیں اور 68 حدیثیں وہ ہیں جن کو امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں تحریر کیا ہے، ان کے علاوہ باقی حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میں مذکور ہیں۔
عبادت میں بھی آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے، آپ کے شاگردوں میں صحابہ اور تابعین کی ایک بہت بڑی جماعت ہے، آپ کے فضائل و مناقب میں اور بھی بہت سی حدیثیں وارد ہیں، آپ نے 63 سال کی عمر میں 17 رمضان المبارک 58 ہجری کو مدینہ منورہ میں وصال فرمایا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور وصیت کے مطابق رات میں لوگوں نے آپ کو جنت البقیع کے قبرستان میں دفنایا، آپ دوسری ازواجِ مطہرات کی قبروں کے پہلو میں مدفون ہیں۔ [سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم]
[سنی دنیا بریلی شریف، مارچ 2025ء، ص: 46]
