Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مومن کبھی ظالم سے نہیں ڈرتے

مومن کبھی ظالم سے نہیں ڈرتے
عنوان: مومن کبھی ظالم سے نہیں ڈرتے
تحریر: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

ہندوستان جنت نشاں بھی کہلاتا تھا جس میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور مختلف قومیں و مذاہب کے ماننے والے امن و شانتی سے بستے تھے (لیکن اب یہ جنت نشاں نہیں رہا)۔ جب سے دوسری بار واضح اکثریت سے بی جے پی نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے (قبضہ اس لیے کہ الیکشن کس طرح سے ہوا، دنیا جانتی ہے) بھگوا دھاریوں نے حکومت کی پشت پناہی میں ہجومی تشدد یعنی بھیڑ (Mob Lynching) کے ذریعے مسلمانوں اور دلتوں کو گائے کے نام پر قتل کرنے کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے، ٹرینوں اور سڑکوں پر پورے ملک میں اس طرح کے واقعات باقاعدہ منظم سازش کے تحت کیے جارہے ہیں تاکہ مسلمان پست ہمت ہو جائیں اور آخری درجے کے شہری کے طور پر رہیں۔ مسلمانوں کی پس ماندگی پہلے ہی کیا کم تھی کہ اب ظلم و جبر کے اس ماحول میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ خوف سے لوگ سفر نہیں کر رہے ہیں کہ کب کیا حادثہ پیش آجائے۔

حالیہ واقعہ دھتکی ڈیہہ ضلع سرائے کیلا کھرساواں، جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کا ہے جو انتہائی ظالمانہ اور سفاکانہ قتل ہے۔ کسی اکیلے شخص کو باندھ کر 17 گھنٹے تک بھیڑ کے ذریعے مارنا انتہائی شرمناک اور افسوس ناک ہے جس کی گونج سارے ملک سے لے کر پارلیمنٹ اور پوری دنیا تک پھیل گئی۔ امریکی حکومت تک نے رپورٹ شائع کی اور کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جی کو اس کا احساس نہیں۔ مجرموں کو پکڑنے اور سزا دینے کے اعلان کی بجائے انھیں اس بات کا غم ہے کہ جھارکھنڈ کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کی سفاکی کا منھ بولتا ثبوت ہے جو اُن کو گھٹی میں پلایا گیا ہے۔ آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی کے وہ پروردہ ہیں اور اسی راہ پر گامزن ہیں۔ یہ ملک کے لیے انتہائی شرمناک اور خطرناک ہے۔

ظلم کا انجام ظالم کے لیے بھی خطرناک ہوتا ہے، دنیا کی تاریخ کا مطالعہ فرمائیں۔ قادرِ مطلق، احکم الحاکمین کا یہی فیصلہ ہے کہ وہ ہر ظالم کی پکڑ فرماتا ہے اور بہت سے طریقوں میں یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ ظالم پر اللہ اس سے بڑا ظالم مسلط فرما دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا۔“ [الأنعام: 129] اس آیتِ کریمہ میں رب ذوالجلال نے ظلم کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اگر وہ اپنے ظلم سے باز نہ آئے تو اللہ ان پر ان سے بڑا ظالم (زور آور) مسلط کر دے گا، جو انھیں ذلیل و خوار اور تباہ و برباد کر دے گا۔ [تفسیر قرطبی، ج: 4، ص: 62]

مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ کسی پر ظلم نہ کریں۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ عزوجل سے ڈرو، خدا کی قسم! جو مومن دوسرے مومن پر ظلم کرے گا تو قیامت کے دن اللہ عزوجل اس ظالم سے انتقام (ظلم کا بدلہ) لے گا۔“ [کنز العمال، ج: 2، ص: 202، حدیث: 7621] قرآن مجید میں ظالموں کی پکڑ اور ظالموں کے انجام پر 164 آیاتِ کریمہ موجود ہیں۔

حالات تو یقیناً ناگفتہ بہ ہیں مگر مومن کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اپنے اندر ایمانی قوت اور جذبے کو بیدار رکھیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی بیدار رکھیں، حالات پر کڑی نظر رکھیں، آپس میں میل محبت قائم رکھیں۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ ضرور فرمائیں کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور تمام بزرگانِ دین پر کتنے مظالم ہوئے لیکن وہ ثابت قدم رہے تو اللہ کی مدد آئی۔ قرآن مجید میں جا بجا ذکر آیا ہے کہ آپ مسلمان ہیں، آزمائشوں سے آپ کو گزارا جائے گا۔ قرآن مجید اعلان فرما رہا ہے:

أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ...

ترجمہ: کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم (یوں ہی بلا آزمائش) جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر تو ابھی ان لوگوں جیسی حالت (ہی) نہیں بیتی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، انہیں تو طرح طرح کی سختیاں پہنچیں اور انہیں (اس طرح) ہلا ڈالا گیا کہ (خود) پیغمبر اور ان کے ایمان والے ساتھی (بھی) پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ آگاہ ہو جاؤ کہ بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔ [البقرۃ: 214]

دینِ اسلام کا راستہ کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہا کہ ”آمَنَّا“ کہا اور چین سے لیٹ گئے۔ اس ”آمَنَّا“ کی قدر کا تقاضا ہر زمانے میں یہ رہا ہے کہ آدمی جس دین پر ایمان لایا ہے، اسے قائم کرنے اور اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرے اور جو طاغوت (سرکش شیطان جو خدا سے منحرف ہو) اس راستے میں مزاحم ہو اس کا زور توڑنے میں اپنے جسم و جان کی ساری قوت لگا دے، چاہے اس میں اس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔

جوش کے ساتھ ہوش کو قائم رکھیں

سوئی ہوئی ملت کے لوگ جاگ رہے ہیں تو بہت اچھی بات ہے لیکن ذمہ داران اپنے ماتحت لوگوں کو حکمت کے ساتھ دھرنا، پردَرشن اور بیانات دینے کی بات سمجھائیں کہ ہر شخص میڈیا میں بیان نہ دے۔ حکومت اور دشمن طاقتیں راہ دیکھ رہی ہیں کہ کس طرح لوگوں کو قانون کے شکنجے میں جکڑیں۔ اس لیے قانونی لڑائی میں مضبوطی دکھائیں، فوٹو بازی اور میڈیا سے دور رہیں۔ مسلمانوں میں جوش میں بیان بازی بہت ہوتی ہے لیکن بعد میں مظلومین کی طرف سے قانونی لڑائی میں ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ رشتے دار، پڑوسی اور اس شہر کے لوگ قانونی لڑائی میں مظلوم کے ساتھ ثابت قدمی سے جمے رہیں۔ ضرورت پڑنے پر بڑی جماعتوں (جمعیت علمائے ہند، رضا اکیڈمی، مسلم پرسنل لا بورڈ، جماعت رضائے مصطفیٰ وغیرہ) سے مالی اور قانونی مدد لیں۔ راستے میں ادھوری قانونی لڑائی کو چھوڑ کر نہ بھاگیں، یہ بہت ضروری ہے۔ انصاف تو ویسے ہی مہنگا ہو گیا ہے اور داؤ پیچ میں پھنس کر ختم ہوتا جارہا ہے پھر بھی جو باقی ہے اسے حاصل کرنے کی جدوجہد میں ثابت قدمی ضروری ہے۔ گجرات میں بلقیس بانو کا کیس، یوپی میں ڈاکٹر کفیل کا کیس وغیرہ اس کی مثال ہیں۔

ہمت، صبر اور اعتماد (Confidence) کی سخت ضرورت ہے۔ اپنے بچوں کو جسمانی ورزش، جوڈو، کراٹے، جم وغیرہ ضرور سکھائیں۔ آج کا نوجوان صرف موبائل کا دیوانہ اور حواس باختہ ہو گیا ہے۔ جسمانی و دماغی طور پر مجنوں کی طرح بدحواس اپنے اطراف کی سازشوں سے بے خبر ہے۔ یاد رکھیے کہ دنیا کبھی بزدل اور نامرد کو جینے کا حق نہیں دیتی۔ جو مردانہ طاقت و ذہن کا مضبوط ہوتا ہے وہی حالاتِ زمانہ کے اعتبار سے زندہ رہ سکتا ہے، ”عاقل را اشارہ کافی است“۔ مسلمانوں کو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ بزدلی کی موت مرنا مسلمانوں کے لیے باعثِ شرم ہے۔

جلتی لاشوں کا یہ جنگل ہے درندے ہیں یہاں
آدمی کا دور تک نام و نشاں ملتا نہیں

ظالم کے خلاف ڈٹ جانے کا قرآنی حکم

اسلام میں جہاں ظالم کو معاف کرنے پر اجر و ثواب ہے وہیں ظالم سے بدلہ لینے پر بھی ثواب ہے۔ موب لنچنگ کے واقعات کے پیشِ نظر قرآن کریم کی سورہ شوریٰ کی آیت 39 سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے اس پر غور کریں اور اس پر عمل فرمائیں:

وَالَّذِيْنَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ

ترجمہ: جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ [الشوریٰ: 39]

ظالموں سے لڑنا اہلِ ایمان کی ایک بہترین صفت قرآن مجید نے بتائی ہے۔ اہلِ ایمان ظالموں اور جابروں کے لیے نرم چارہ نہیں ہوتے، ان کی نرم خوئی اور عفو و درگزر کی عادت کمزوری کی بنا پر نہیں ہوتی۔ ایمان والوں کو بھکشوؤں اور راہبوں کی طرح مسکین بن کر رہنا نہیں سکھایا گیا ہے۔ ان کی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ جب غالب ہوں تو مغلوب کے قصور کو معاف کر دیں، جب قادر ہوں تو بدلہ لینے سے درگزر کریں اور جب کسی زبردست یا کمزور آدمی سے کوئی خطا سرزد ہو جائے تو چشم پوشی کر جائیں لیکن جب کوئی طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں ان پر زور زبردستی اور ظلم کرے تو ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور مقابلہ کریں اور اس کے دانت کھٹے کر دیں۔

”مومن کبھی ظالم سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی اس متکبر کے آگے جھکتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کے لیے وہ لوہے کا چنا ہوتا ہے جسے چبانے کی کوشش کرنے والا اپنا ہی جبڑا توڑ لیتا ہے۔“

تبریز انصاری یا اور بھی لوگ جو موب لنچنگ میں شہید ہوئے (مارے گئے)، وہاں ظالموں نے اپنے مذہبی نعرے بھی لگوائے۔ دیدہ دلیری اور بے شرمی کی حد ہو گئی کہ کسی کو مار مار کر اپنے مذہبی نعرے لگوا کر مزے لے رہے ہیں۔ یہ انتہائی سفاکی کی بات ہے، جس کی جان پر بنی ہوئی ہے وہ بے چارہ کیا کرے مجبوری میں نعرے بھی لگاتا ہے۔ ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے جھارکھنڈ کے سانحہ پر پارلیمنٹ میں محض افسوس جتایا، نہ ہی مجرموں پر کوئی کارروائی کی بات کی اور نہ ہی کوئی معاوضہ دیا بلکہ جھارکھنڈ کو بدنام کرنے کا الزام لگا دیا۔ اب پارٹی کی میٹنگ میں پارٹی کی بدنامی کا افسوس جتا رہے ہیں۔ مسلم عورتوں سے جھوٹی ہمدردی دکھانے والا دل کہاں سو گیا؟ شادی کے صرف 57 دن کے بعد ان کے نظریات کے ماننے والوں نے جوان عورت شائستہ کو بیوہ بنادیا۔ پارٹی اور جھارکھنڈ کی بدنامی کا احساس تو صرف دکھاوا ہے۔ جھارکھنڈ تو اب ”لنچستان“ بنا ہوا ہے۔

18 مارچ 2016 لاتیہار (مظلوم انصاری، امتیاز انصاری)، 18 مئی 2017 (شیخ حلیم، سراج خان، ببلو)، سے لے کر 17 جون 2019 تبریز انصاری (سرائے کیلا کھرساواں) تک 19 لوگ موب لنچنگ (ہجومی تشدد) یعنی بھیڑ کے ذریعے شہید کیے جاچکے ہیں (پوری لسٹ گوگل پر موجود ہے)۔ مودی جی اور ان کے ہمنواؤں سے تو ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ:

نہ یہ ظلم و ستم ہوتا نہ یہ بے چارگی ہوتی
حکومت کرنے والوں کی نیت نہ گر بری ہوتی
پہنچنا چاند پر انسان کا ہے مسرور کن لیکن
منور پہلے اپنے دل کی تاریکی تو دور کی ہوتی

حفاظتِ جان اور مقاصدِ شریعہ

ظالموں کی بھیڑ کے ذریعے جب کسی مسلمان کو جان سے مارا جارہا ہو اور اس مظلوم مقتول سے مذہبی نعرے لگوائے جائیں تو مظلوم کے لیے شریعتِ اسلامیہ نے جان و ایمان کے تحفظ کا راستہ بتایا ہے۔ اس سلسلے میں فقہ کی مشہور کتاب ”المدخل الی المذاہب الفقہیہ“ میں مصر کے سابق مفتیِ جمہوریہ ڈاکٹر علی جمعہ نے بہت صراحت کے ساتھ شریعت کے مقاصد کو بیان فرمایا ہے۔ مقاصدِ شرع بیان کرتے ہوئے امام غزالی اور دیگر علما نے حسب ذیل امور کو شمار کرایا ہے:

  1. حفاظتِ دین
  2. حفاظتِ جان
  3. حفاظتِ مال
  4. حفاظتِ عقل

مصر کے مفتیِ جمہوریہ ڈاکٹر علی جمعہ نے پہلے نمبر پر حفاظتِ دین کی بجائے حفاظتِ جان کو کر دیا ہے اور حفاظتِ دین کو دوسرے نمبر پر کر دیا ہے، پھر اس تبدیلی پر ہونے والے شبہات کا تفصیلی جواب دیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ:

  1. اختلافِ ترتیب سے اختلافِ معنی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چونکہ نتیجے کے اعتبار سے سب سے اہم دین ہے، یہ بات متفق علیہ ہے، کیونکہ دراصل دین ہی انسان کی نجاتِ سرمدی کا ضامن ہے۔ اسی طرح یہ امر بھی متفق علیہ ہے کہ جان کی سلامتی کے ساتھ ہی انسان دینِ صحیح پر ثابت قدم رہتا ہے۔ اگر جان ہی نہ ہو تو پھر وہ کس دین کی حفاظت کرے گا؟ یہی وجہ ہے کہ ”حالتِ اضطرار“ میں حرام بھی حلال ہو جاتا ہے اور دل ایمان پر قائم ہو تو زبان سے کفر کے اقرار سے بھی ایمان پر فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح اگر کوئی کافر مسلم ریاست کا وفادار شہری ہے، اگرچہ وہ دین کے اعتبار سے کفر پر ہو، اس کی جان محفوظ رہے گی تب تو وہ آپ کی دعوت کا حق دار ہوگا؟ گویا آغاز کے لحاظ سے جان کی حفاظت اولین شے ہے، دونوں کی اولیت دو الگ الگ جہتوں سے ہے۔
  2. جب دونوں کی ترتیب میں معنوی لحاظ سے کوئی فرق نہیں تو پھر مفتی صاحب نے ترتیب کیوں پلٹ دی؟ اس کا جواب مفتی صاحب نے یہ دیا ہے کہ اگرچہ دونوں ترتیب میں معنوی لحاظ سے کوئی فرق نہیں، تاہم میری جدید ترتیب، جس میں جان کی حفاظت کو پہلا مقام دیا گیا ہے، معاصر ذہن، عصری تقاضے اور دعوتی نقطہ نظر سے زیادہ مفید ہے۔ جب ہم یہ کہیں گے کہ اسلام، دین کی دعوت کو پہلی ترجیح دیتا ہے، تو ایک شبہ ہوگا کہ اسلام حقوقِ انسانی کی بات بعد میں کرتا ہے، اپنے مذہب کی بات پہلے کرتا ہے۔ گویا اسلام کی حفاظت کے لیے دوسروں کی جان لینا بھی اسلام میں جائز ہے؟ اس کے برخلاف جب جان کی حفاظت کو ہم پہلے نمبر پر رکھیں گے تو یہ پیغام جائے گا کہ اسلام سب سے پہلے پوری انسانیت کی حفاظت اور بقا کو ترجیح دیتا ہے اور کسی کی جان بچانے کے لیے اس کے حق میں قبولِ اسلام کو شرط نہیں سمجھتا۔ اسلام پوری انسانیت کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے، صرف مسلمانوں کو تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ غیر مسلموں میں اسلام کی اچھی شبیہ قائم ہوگی اور جدید ذہن کے حق میں اسلامی دعوت کے امکانات وسیع تر ہو جائیں گے۔

موجودہ عہد میں ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں اس ترتیبِ جدید کا ایک اور فائدہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان، ایمانی سطح پر بہت مضبوط مسلمان ہے۔ وہ اپنی جان کی بازی لگا سکتا ہے، مگر دین پر حرف آئے، یہ اسے گوارا نہیں۔ وہ اس جوشِ ایمانی میں عام طور پر اس سے بھی بے خبر ہے کہ مجبوری کے عالم میں زبان پر کلمہِ کفر لا دینے سے بھی ایمان پر حرف نہیں آتا، اگر دل ایمان پر مطمئن ہو۔

اہلِ مکہ ایک دن چند غریب مسلمانوں کو باندھ کر انہیں زدوکوب کرنے لگے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ اسلامی تاریخ میں پہلی موب لنچنگ ہوئی تھی اور اس میں پہلی جان جو شہید ہوئی تھی، وہ حضرت عمار بن یاسر کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ہمارے خداؤں کی جے پکارو! ہبل اور لات منات کا نعرہ لگاؤ! حضرت سمیہ نے نعرہ نہیں لگایا، ظالموں نے انہیں بے رحمی سے شہید کر دیا۔ اب حضرت یاسر کی باری تھی، انہوں نے یہ نعرہ نہیں لگایا، ظالموں نے انہیں بھی شہید کر دیا۔ اب حضرت عمار کی باری تھی۔ اپنی نگاہوں کے سامنے اپنے والدین کا حشر دیکھ چکے تھے، ان پر جان جانے کا خوف طاری ہوا۔ انہوں نے ان باطل خداؤں کی جے پکار دی۔ جب بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے، سہمے ہوئے تھے، آنسوؤں کا سمندر رواں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار کیا ہوا؟“ عرض کیا: ”حضور! میں نے آپ کی شان میں بھی گستاخی کر دی اور باطل خداؤں کی بھی جے کار کر دی۔“ ارشاد ہوا کہ: ”عمار! دل کا کیا حال ہے؟“ عرض کیا: ”حضور! دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔“

نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے بجائے ملامت کرنے کے حضرت عمار کو محبت و رحمت کے ساتھ پھر سے اجازت دے دی کہ: ”عمار! اگر یہ ظالم پھر سے یہ ظلم ڈھائیں تو پھر سے تم کو اس ظاہری کفر کی اجازت ہے۔“

قرآن پاک کی آیتِ کریمہ نازل ہوئی:

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ

ترجمہ: جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے سوائے اس آدمی کے جسے (کفر پر) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو... [النحل: 106]

یعنی حالتِ مجبوری میں، دل اگر ایمان پر قائم ہے تو زبان سے کفری کلمات ادا ہو جانا، قابلِ مواخذہ نہیں۔ آج ہندوستان میں پھر سے اس مکی دور کی آمدِ ثانی ہو چکی ہے۔ آج اہلِ ایمان کو پھر سے اس رخصت کی اجازت ہے۔ مسلمان اپنے دلوں کو ایمان سے لبریز رکھیں اور ظاہری طور پر مجبوری میں کفر بول کر اگر اپنی جان بچانے کا موقع ملے تو بچائیں کیونکہ مسلمانوں کی جانیں بہت قیمتی ہیں۔ شریعت کی وسعت میں ان کے جان و ایمان دونوں کے تحفظ کا راستہ موجود ہے۔ حضرت عمار کا اسوہ مسلمانوں کے لیے رہبر ہے اور نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلماتِ محبت ان کے لیے تسلی و تسکین کا سامان ہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم تمام مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین۔

[ماخوذ از: ماہنامہ کنزالایمان، ستمبر 2019، ص: 21 تا 24]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!