| عنوان: | حضرات انبیائے کرام اور علومِ عصریہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
علمائے کرام، حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وارث ہیں اور حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام، علومِ شریعت کے بھی مصدر و مرجع ہوا کرتے اور اپنے عہد کے عصری علوم و فنون میں بھی یکتا اور بے نظیر ہوتے۔ وہ جن وسائلِ معاش سے منسلک ہوتے، وہ اس عہد کے تکنیکی فنون (Technical Arts) ہوتے۔ ذیل میں حضرت تاجدارِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے علومِ عصریہ سے واقف و آشنا ہونے کا ذکر ہے۔
حضرت حبیبِ معظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے متنوع الاقسام علوم و فنون
حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علوم و معارف سے متعلق چند ارشاداتِ الٰہیہ درج ذیل ہیں۔
-
رب تعالیٰ نے قرآنِ مقدس سے متعلق ارشاد فرمایا:
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ
ترجمہ: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ [سورۃ النحل، آیت: 89، کنز الایمان]
-
حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں نازل ہوا:
اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ
ترجمہ: رحمن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔ [سورۃ الرحمٰن، آیات: 1-2، کنز الایمان]
-
وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا
ترجمہ: اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔ [سورۃ النساء، آیت: 113، کنز الایمان]
توضیحات
قرآن مجید میں ہر چیز کا بیان ہے اور قرآن کا علم ہمارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا، لہٰذا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو قرآن میں موجود تمام چیزوں کا علم ہے۔ خواہ دینی علم ہو یا دنیاوی علم، کیوں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو تمام قرآنی علوم سے سرفراز کیا گیا۔ قدرے تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔
-
امام محمد بن محمد غزالی شافعی (450ھ-505ھ) نے لکھا:
أَوَمَا بَلَغَكَ أَنَّ الْقُرْاٰنَ هُوَ الْبَحْرُ الْمُحِيْطُ وَمِنْهُ يَتَشَعَّبُ عِلْمُ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ كَمَا يَتَشَعَّبُ عَنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ الْمُحِيْطِ أَنْهَارٌ وَّجَدَاوِلُهَا.
ترجمہ: اور کیا تجھے خبر نہیں پہنچی کہ قرآن بحرِ محیط ہے، اور اس سے اولین و آخرین کے علوم کے چشمے پھوٹتے ہیں جیسا کہ بحرِ محیط کے کناروں سے ندیاں اور نہریں جاری ہوتی ہیں۔ [جواہر القرآن للغزالی، ص: 22]
-
امام غزالی نے تحریر فرمایا:
فَتَفَكَّرْ فِي الْقُرْاٰنِ وَالْتَمِسْ غَرَائِبَهٗ لِتُصَادِفَ فِيْهِ مَجَامِعَ عِلْمِ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ وَجُمْلَةَ أَوَائِلِهٖ وَإِنَّمَا التَّفَكُّرُ فِيْهِ لِلتَّوَصُّلِ مِنْ جُمْلَتِهٖ إِلٰى تَفْصِيْلِهٖ وَهُوَ الْبَحْرُ الَّذِيْ لَا شَاطِئَ لَهٗ.
ترجمہ: پس قرآن میں غور کرو، اور اس کے عجائبات کو تلاش کرو۔ اس میں اولین و آخرین کے علم کے خلاصے اور قرآن سے ماقبل کتابوں کا اجمالی علم ہے، اور قرآن میں غور و فکر کرنا اس کے اجمال سے اس کی تفصیل تک پہنچنے کے لیے ہے، اور قرآن ایسا دریا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ [جواہر القرآن، ص: 47]
-
امام جلال الدین سیوطی شافعی (849ھ-911ھ) نے تحریر فرمایا:
وَقَالَ ابْنُ أَبِي الْفَضْلِ الْمُرْسِيُّ فِيْ تَفْسِيْرِهٖ: جَمَعَ الْقُرْاٰنُ عُلُوْمَ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ بِحَيْثُ لَمْ يُحِطْ بِهَا عِلْمًا حَقِيْقَةً إِلَّا الْمُتَكَلِّمُ بِهَا ثُمَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَا مَا اسْتَأْثَرَ بِهٖ سُبْحَانَهٗ وَتَعَالٰى ثُمَّ وَرِثَ عَنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْظَمَ ذٰلِكَ سَادَاتُ الصَّحَابَةِ وَأَعْلَامُهُمْ مِثْلُ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ وَابْنِ مَسْعُوْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ حَتّٰى قَالَ: لَوْ ضَاعَ لِيْ عِقَالُ بَعِيْرٍ لَّوَجَدْتُّهٗ فِيْ كِتَابِ اللهِ تَعَالٰى ثُمَّ وَرِثَ عَنْهُمُ التَّابِعُوْنَ بِإِحْسَانٍ ثُمَّ تَقَاصَرَتِ الْهِمَمُ وَفَتَرَتِ الْعَزَائِمُ وَتَضَاءَلَ أَهْلُ الْعِلْمِ وَضَعُفُوْا عَنْ حَمْلِ مَا حَمَلَهُ الصَّحَابَةُ وَالتَّابِعُوْنَ مِنْ عُلُوْمِهٖ وَسَائِرِ فُنُوْنِهٖ - فَنَوَّعُوْا عُلُوْمَهٗ وَقَامَتْ كُلُّ طَائِفَةٍ بِفَنٍّ مِّنْ فُنُوْنِهٖ.
ترجمہ: علامہ محمد بن عبد اللہ بن محمد بن ابی الفضل مرسی (م 655ھ) نے اپنی تفسیر میں کہا کہ قرآن نے اولین و آخرین کے علوم کو جمع کر لیا، اس طرح کہ اس کے تمام علم کا احاطہ اس کے متکلم (رب تعالیٰ) کے علاوہ حقیقت میں کسی نے نہ کیا، پھر رب تعالیٰ کے ساتھ مخصوص علم کے علاوہ علوم، حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پائے، پھر حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بڑے حصہ کی وراثت ساداتِ صحابہ و اکابرینِ صحابہ کو ملی جیسے حضرات خلفائے راشدین و حضرت عبد اللہ بن مسعود و حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم، یہاں تک کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر اونٹ کی میری ایک رسی گم ہو جائے تو ضرور میں اسے کتاب اللہ میں پا لوں گا، پھر صحابہ کرام سے ان کے مخلص تابعین نے علومِ قرآن کی وراثت پائی، پھر ہمتیں قاصر ہو گئیں اور ارادے سست پڑ گئے اور اہلِ علم کم ہمت ہو گئے اور اس کے تمام علوم و فنون کا بوجھ اٹھانے میں کمزور پڑ گئے، صحابہ و تابعین نے جن علوم و فنون کا بوجھ اٹھایا تھا، پس لوگوں نے علومِ قرآن کی قسمیں نکالیں اور ہر جماعت فنونِ قرآنیہ میں سے کسی ایک فن کے ساتھ مستقل ہو گئی۔ [الاتقان فی علوم القرآن، ص: 727، الہیئۃ المصریہ، مصر]
قرآن مجید تمام علوم کا سرچشمہ ہے، خواہ دینی علوم ہوں یا دنیاوی علوم۔ علمائے کرام محض دینی علوم کی تعلیم و تعلم تک محدود ہو چکے ہیں۔ دنیاوی علوم سے بھی آشنائی حاصل کریں، کیونکہ یہ علوم بھی قرآن میں اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، نیز علمائے کرام قرآنی علوم کی وسعت کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کریں اور قرآن پاک کی ہمہ گیریت کو ثابت کر سکیں، پھر شریعتِ اسلامیہ جن علوم و فنون سے منع بھی نہ کرتی ہو، اور وہ علوم و فنون فائدہ مند بھی ہوں تو ایسے مفید و غیر ممنوع علوم سے خود کو محروم رکھنا صحیح ہے یا غلط؟ یہ محرومی قابلِ مدح ہے یا قابلِ ذم؟ ہم نے خداوندی نعمتوں کے دروازوں کو خود سے بند کر لیا۔ یہ ضرر رساں حکمتِ عملی ہے۔
-
امام احمد بن ادریس قرافی مالکی مصری (626ھ - 684ھ) اور علامہ ابن حجر ہیتمی مکی شافعی (909ھ - 974ھ) نے لکھا:
ثُمَّ أَصْحَابُهٗ يَكُوْنُوْنَ فِيْ غَايَةِ الْعِلْمِ وَالنُّوْرِ وَالْبَرَكَةِ وَالتَّقْوٰى وَالدِّيَانَةِ، كَأَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوْا بَحْرًا فِي الْعُلُوْمِ عَلٰى أَنْوَاعِهَا مِنَ الشَّرْعِيَّاتِ وَالْعَقْلِيَّاتِ وَالْحِسَابِيَّاتِ وَالسِّيَاسِيَّاتِ وَالْعُلُوْمِ الْبَاطِنَةِ وَالظَّاهِرَةِ حَتّٰى يُرْوٰى أَنَّ عَلِيًّا رَّضِيَ اللهُ عَنْهُ جَلَسَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَّضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَتَكَلَّمُ فِي الْبَاءِ مِنْ بِسْمِ اللهِ مِنَ الْعِشَاءِ إِلٰى أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ، مَعَ أَنَّهُمْ لَمْ يَدْرُسُوْا وَرَقَةً وَّلَا قَرَءُوْا كِتَابًا، وَلَا تَفَرَّغُوْا مِنَ الْجِهَادِ وَقَتْلِ الْأَعْدَاءِ وَإِنَّمَا كَانُوْا عَلٰى هٰذِهِ الْحَالَةِ بِبَرَكَتِهٖ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى قَالَ بَعْضُ الْأُصُوْلِيِّيْنَ: لَوْ لَمْ يَكُنْ لِّرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْجِزَةٌ إِلَّا أَصْحَابُهٗ، لَكَفَوْهُ فِيْ إِثْبَاتِ نُبُوَّتِهٖ.
ترجمہ: پھر اللہ کے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اصحاب علم، نور، برکت، تقویٰ اور دیانت کے انتہائی درجے میں ہوتے ہیں، جیسا کہ حضرت سیدِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مختلف قسم کے علوم میں دریا کی طرح تھے، یعنی علومِ شرعیات و عقلیات، علومِ حسابیات و سیاسیات، علومِ ظاہرہ و علومِ باطنہ میں، یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ بیٹھے اور یہ دونوں بسم اللہ کی ”با“ کے بارے میں عشا سے طلوعِ فجر تک گفتگو کرتے رہے، باوجودیکہ یہ حضرات نہ ایک ورق کا سبق لیے، نہ ہی کوئی کتاب پڑھے اور نہ ہی جہاد اور دشمنوں کے مقاتلہ سے فراغت پائے اور صحابہ کرام، حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت ہی سے اس منزل پر پہنچ گئے، یہاں تک کہ بعض اصولیوں نے کہا کہ اگر صحابہ کرام کے علاوہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کوئی معجزہ نہ ہوتا تو یہی حضرات (اپنے علوم و فنون کے سبب) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتے۔ [انوار البروق فی انواع الفروق، ج: 8، ص: 122 - الاعلام بقواطع الاسلام، ص: 397، استنبول، ترکی]
صحابہ کرام اپنے علوم و فنون کے سبب معجزہ کے قائم مقام ہو گئے، کیونکہ اس قدر دینی و دنیاوی علوم کی تعلیم و تربیت کسی نبیِ صادق سے ہی ممکن ہے، اور چونکہ صحابہ کرام علوم و فنون میں انتہائی بلند ترین منزل پر فائز تھے، اس لیے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں ”آسمانِ ہدایت کے نجوم“ قرار دیا اور غیر مشروط طور پر ان کے اتباع کو ذریعہِ ہدایت قرار دیا۔
-
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْحَابِيْ كَالنُّجُوْمِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ.
ترجمہ: حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت سیدِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں۔ تم ان میں سے جن کی پیروی کرو گے، ہدایت پا جاؤ گے۔ [مشکوٰۃ المصابیح، ص: 554]
مدارسِ اسلامیہ کا نصابِ تعلیم، حالاتِ زمانہ کے موافق نہ ہونے کے سبب فارغین حکومتی ملازمتوں سے بھی محروم قرار پائے اور بہت سے دنیاوی فوائد سے بھی انہیں ہاتھ دھونا پڑا، کیوں کہ بہت سی نعمتوں کے حصول کا ذریعہ دنیاوی تعلیم ہے اور چونکہ یہ محرومی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ اس لیے نہ اس کو صبر کا لقب دینا صحیح ہے، نہ ہی یہ قابلِ اجر و ثواب ہے، اور انہی دنیاوی نعمتوں کے حصول کی خاطر خود علمائے کرام بھی اپنے صاحبزادگان کو دینی تعلیم سے منقطع کر چکے ہیں، حالانکہ ان قومی رہنماؤں کو مدارسِ اسلامیہ کے نصاب و نظام میں تبدیلی لانی چاہیے تھی، تاکہ مدارسِ اسلامیہ، دنیاوی و اخروی ہر دو نوع کی برکات و حسنات کا مرکز بن جاتے اور دنیاوی تعلیم گاہوں کو بھی مدارسِ اسلامیہ پر رشک آ جاتا۔ آج بھی تبدیلی لائیں اور عمدہ نتائج دیکھ لیں اور یہ تبدیلی خود سے کرنی ہوگی۔
[ماہنامہ پیغامِ شریعت، اکتوبر 2016ء، ص: 20]
