Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

نجدی حکومت کا ظالمانہ اقدام

نجدی حکومت کا ظالمانہ اقدام
عنوان: نجدی حکومت کا ظالمانہ اقدام
تحریر: قاری عبد الرحمن خان قادری
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ملتِ اسلامیہ کے لیے کتنے غم و افسوس کی بات ہے کہ کئی صحابہ کرام کی مقدس قبروں پر مشتمل تاریخی ”قبا قبرستان“ کو رمضان المبارک سے قبل سعودی عرب کی ظالم و ستمگر اور آثارِ اسلامیہ کی دشمن نجدی حکومت نے بلڈوزر چلوا کر مسمار کر دیا۔ اس عاقبت نا اندیش حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ایسے ایسے ظالمانہ اور دل آزار اقدام کیے جس کے تصور ہی سے اہلِ سنت و جماعت سخت اضطراب و اضمحلال میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

جنت البقیع، جنت المعلیٰ اور شہدائے بدر و احد کے مزارات و قبابات کا انہدام اہلِ ایمان کے لیے کس قدر تشویش ناک اور روحِ سنیت کے لیے کتنا تکلیف دہ ہے۔ مزاراتِ مقدسہ، مقاماتِ متبرکہ اور آثارِ اسلامیہ کی زیارت ان کے نزدیک غیر اسلامی عمل ہے۔ قابلِ غور ہے کہ جب نجدی دھرم میں آقائے کائنات، مختارِ دو جہاں، افضل المرسلین، محبوبِ پروردگار، شفیع المذنبین، ہادیِ برحق جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے روضہِ پاک کی زیارت تو بعد کی بات ہے زیارت کے لیے سفر کرنا تک درست نہیں ہے تو ان کے باطل مذہب میں دیگر بزرگوں کے مزارات پر حاضری کیونکر جائز اور وجہِ سعادت ہو سکتی ہے۔

قرآن و سنت پر عمل کا دعویٰ کرنے والے نجدی ملا بتائیں کہ یہ نظام اور اسلاف کے قبرستان کی مسماری کون سا مذہب اور کون سی شریعت ہے؟ دیگر مذہبوں کے ماننے والے اپنے مذہبی پیشواؤں کی نشانیاں سلامت رکھیں اور آپ اسلاف کی یادگاریں مٹائیں، یہ کون سا طریقہ ہے؟ کون سا دین ہے؟ قرآنِ کریم کی کس آیت میں قبریں ڈھانے کا حکم ہے؟ پیغمبرِ اسلام نے کہاں قبریں مسمار کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ ان کے ماننے کا دعویٰ بھی کریں اور ان کی سنتوں کے خلاف چال چلیں، یہ کون سا انصاف ہے؟ رسولِ پاک کی مبارک زندگی اہلِ اسلام کے لیے نمونہِ عمل ہے۔ کیا نجدیوں کو معلوم نہیں؟ کیا پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت نہیں کی ہے؟ آپ اپنی والدہ محترمہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قبرِ پاک پر تشریف نہیں لے گئے؟ سرکار کے عہدِ پاک میں نہ کوئی قبر مسمار کی گئی، نہ مسماری کا حکم دیا گیا۔ لہٰذا قبروں پر جانا سنت اور مسمار کرنا سنت سے فرار اور شریعت سے عداوت ہے۔

حضرت آمنہ کو معاذ اللہ کافرہ کہنے اور لکھنے والے دریدہ دہن اور خدا ناترس نجدی سوچیں کہ معاذ اللہ! اگر وہ کافرہ ہوتیں تو اللہ کے نبی ان کی قبر پر تشریف کیوں لے جاتے؟ نبی معصوم ہوتے ہیں اور کسی کافر کی قبر پر حاضری گناہ۔ یہ نبی سے ممکن نہیں۔

ماضیِ قریب میں قبا قبرستان پر بلڈوزر چلا کر ڈھا دینا اور وہاں پارکنگ بنانا کتنا تکلیف دہ اور تشویش ناک سانحہ ہے۔ اہلِ عشق و عرفان سے پوچھیے؟ پھر ہر طرف اس سانحہ کے بعد خاموشی یہ مزید تکلیف دہ ہے۔ نجدی حلقوں میں خاموشی ان کی بد عقیدگی، رسول دشمنی اور اسلاف بیزاری کا زندہ ثبوت ہے۔ وہ کیوں احتجاج کریں؟ جو ہوا ہے وہ ان کے باطل مذہب کے عین مطابق اور ان کے جھوٹے دین کے موافق ہوا ہے۔ افسوس اہلِ سنت کے سکوت پر بھی ہے۔ جس پیمانے پر احتجاج ہونا چاہیے ویسا نہیں ہوا۔ کچھ حلقوں سے آواز اٹھی اور اٹھ کر رہ گئی۔ مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف کی جانب سے اپیل کی جاتی ہے کہ اہلِ سنت اس موضوع پر بیدار ہوں اور اپنے اپنے طور پر روحانی خانقاہوں سے لے کر مدارسِ دینیہ تک، منبر کے خطیب سے لے کر مسجد کے امام تک ہر خوش عقیدہ زندہ دل اور باحمیت مسلمان اس سلسلہ میں اپنے اپنے انداز میں احتجاج کرے۔ اہلِ قلم اخبارات و جرائد میں اپنے غم و غصے کا اظہار کریں۔ غرض کہ ہر جانب، ہر جماعت، ہر مشرب اور ہر حلقے سے غم و غصے کا اظہار بھی ہو اور پُرزور احتجاج بھی۔ اپنی حکومت کے ذریعہ سعودی حکومت سے قبا قبرستان کی بحالی نیز دیگر آثارِ مقدسہ کی تعمیر کا مطالبہ کریں۔ سعودی سفارت خانہ پر پُرامن احتجاج اور اپنے جائز اسلامی مطالبات کا میمورنڈم بھی دیں۔ اگر سکوت کا قفل نہیں توڑا گیا اور احتجاج کا نقارہ نہیں بجایا گیا تو خطرہ ہے کہ مستقبل میں کہیں گنبدِ خضریٰ کی طرف بھی غلط نگاہیں نہ اٹھنے لگیں۔

یہ قاتل آج بھی شعلہ بکف ہے
بچاؤ دوستو اس سے نشیمن

فتنوں کی یلغار

اہلِ سنت کی صفوں کا انتشار آج کل آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ جدھر دیکھیے رسہ کشی، جہاں جائیے اختلاف و تفرقہ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اہلِ سنت کے علما و مشائخ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر گستاخانِ رسالت اور منکرینِ عظمتِ اولیاء کا زبردست مقابلہ و محاصرہ کرتے۔ مگر بجائے اس کے یہ خود آپس میں دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ کسی کو کسی کا عروج و کمال اور ترقی و فلاح گوارا نہیں۔ بجائے امدادِ باہمی کے، تعاقبِ پے در پے میں مبتلا۔ نہ خانقاہوں میں اتحاد، نہ مدارس میں ایکا۔ حالات اتنے ناگفتہ بہ کہ خود اپنوں میں ہی خلافِ سنت حرکات کی بہتات نظر آنے لگی۔ روحانی خانقاہوں میں غیر اسلامی حرکات اور خلافِ سنت اعمال کی کثرت صاف صاف دیکھیے۔ گانے باجے اور ڈھول تاشے کا رواج، اور عورتوں کا اژدہام، باہم مرد و زن کا اختلاط یہ وہ حرکاتِ قبیحہ ہیں جن کی احادیثِ کریمہ میں شدت کے ساتھ مذمت کی گئی۔ عام جگہوں پر جب ان خرافات کی مذمت آئی ہے تو روحانی خانقاہوں میں یہ حرکتیں کس قدر قابلِ مذمت، لائقِ ملامت اور بزرگوں کے نزدیک تکلیف دہ اور خلافِ مسلکِ حق ہوں گی؟

ذرا غور کیجیے! وہ خانقاہیں جو روحانیت اور کرامات کا سرچشمہ اور صداقت و حقانیت کی علمبردار ہوتی ہیں۔ جن کے فیضانِ عام سے عام و خاص کے صحنِ قلب میں انوار و تجلیات کی برسات ہوتی ہے۔ دنیا دار خانقاہوں اور مکار و واہیات صوفیوں نے آج انہی خانقاہوں کو دنیوی عیش و عشرت کی آماجگاہ اور اپنی شیطانی ہوس کی تکمیل کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ بنامِ سنیت کتنی دکانیں کھل گئیں، کتنے بازار گرم ہو گئے، کتنی سودا بازی ہونے لگی، کتنے نئے نئے راستے نکالے گئے یہ اہلِ ہوش و خرد اور جہاں دیدہ افراد پر مخفی نہیں۔ کوئی مسلکِ اعلیٰ حضرت کا مخالف، کوئی اصطلاحِ مسلکِ اعلیٰ حضرت کا منکر، کوئی تعلیماتِ اعلیٰ حضرت سے گریزاں، کوئی ان کی تحقیقی کتابوں کے مقابل نئی تحقیق کا جویاں، کوئی تمام مذاہبِ عالم کے اتحاد کا حامی۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ تمام اہلِ سنت باہم ایک ہو کر امامِ اہلِ سنت کی ہی تعلیمات کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں۔ وہ امامِ اہلِ سنت جس نے عقیدہ و ایمان کا تحفظ کیا۔ جس نے سنیت کے ٹمٹماتے چراغ میں عشقِ رسول کا روغن ڈال کر اس کی بجھتی ہوئی لو کو تیز کیا۔ جس نے گستاخانِ رسالت کا قلمِ حق رقم کی تیغِ آبدار سے زبردست مقابلہ کر کے سنت اور سنیت کا دفاع کیا۔ اسے اپنا قائد و امام و پیشوا مان کر اس کے مسلکِ حق کو (جو اس دور میں مسلکِ اہلِ سنت کا ہی دوسرا نام ہے) اپنا نمونہِ عمل اور راہ نمائے کامل مان لیتے، مگر اس کے برخلاف بہت سے مدارسِ دینیہ، خانقاہانِ سنیہ سے کیسی کیسی دل خراش آوازیں آ رہی ہیں۔

بات کہنے کی نہیں حال برا ہے اپنا

طاہر القادری کی بے راہ روی، اسلام دشمن عیسائیوں کے ساتھ کھلے عام میل ملاپ، گلے میں کفری صلیب، حرام کو حلال اور حلال کو حرام، بڑے بڑے ہندو پجاریوں اور مذاہبِ باطلہ کے علمبرداروں کو دعوتِ اتحاد دینا کس پر ظاہر نہیں۔ علمائے حق، علمائے ہند و پاک نے کن وجوہ کی بنا پر حکمِ شرع بشکلِ کتاب منظرِ عام پر رکھا، کون نہیں جانتا۔ اس کے باوجود بہت سے لوگوں کا طاہر القادری سے تعلقِ خصوصی، اس پر اعتماد و اعتبار، اس کے ادارے سے ہزاروں کی وابستگی آخر کیوں؟ یہ بات قابلِ غور ہے۔

جامِ نور کی غیر مسلکی روش، اس کے ساتھ ساتھ ایک اور فتنہ "سید سراواں" جو تکفیر کے قائل ہی نہیں، اور اس طرح کی درجنوں مذموم حرکتوں کی یلغار اور جذبہِ انانیت سے سرشار ہو کر اعلیٰ حضرت کے مقبول و صادق مسلکِ حق سے فرار۔ ایسے تشویش ناک ماحول میں علما و مشائخ کو چاہیے کہ جذبہِ دینی سے سرشار ہو کر حمیتِ اسلامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام و سنیت کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر میدانِ عمل میں اتریں اور "انا"، "کو" "فا" کے گھاٹ اتار کر تحفظِ سنیت کے لیے پرخلوص دعوت و اصلاح و ارشاد کا فریضہِ منصبی انجام دیں۔

ایک ہو جاؤ تو بن سکتے ہو خورشیدِ مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے

جلسے جلوس

آج کل جلسوں اور جلوسوں کی بڑی کثرت ہے۔ جلسے واقعی عوام الناس کی اصلاح اور تبلیغ و ارشاد کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ جلسے کی بدولت ایک وقت میں ہزاروں افراد کو اجتماعی طور پر سنت کی تعلیم دی جا سکتی ہے۔ زمانہِ ماضی میں جلسوں کی اتنی کثرت نہیں تھی مگر ان کا فائدہ صاف صاف نمایاں طور پر نظر آتا تھا۔ ہر جلسے کی برکت سے اصلاح ہوتی تھی۔ لوگ توبہ کرتے تھے۔ نمازی بنتے تھے۔ علم و عمل کا شوق بیدار ہوتا تھا۔ چہروں پر داڑھیاں آتی تھیں اور صحبتِ اغیار سے لوگ باز آتے تھے۔ پہلے کی بہ نسبت آج جلسوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہے مگر فائدہ اتنا نہیں جتنا ہونا چاہیے۔

آج کے جلسوں میں کچھ غیر مناسب اور ناپسندیدہ حرکات در آئی ہیں۔ فلمی گانوں کی طرز پر نعتِ رسول پڑھنا اور لمبی لمبی تانیں کھینچ کر اپنا رنگ جمانا۔ نہ لباسِ اسلامی نہ چہرہ با شرع۔ پھر کیسے برکات و حسنات کے ثمرات نظر آئیں۔ بعض خطبا بھی ایسے جن کے حالات قابلِ نفرت، جن کے شب و روز عملِ خیر سے خالی۔ جن کی تقریر سنجیدگی اور شرافت سے دور۔ جن کے بیان میں غیر مستند اور موضوع روایات۔ جھوٹے اور غیر مفید لطیفوں کی بھر مار۔ جن پر اہلِ اسٹیج اور سامعین کی قہقہہ باری کا طومار۔ ہفتوں پہلے خوبصورت، دیدہ زیب پوسٹر منظرِ عام پر آیا۔ جس میں مقاماتِ مقدسہ کے خوش منظر نقشے اور قبہ جات بھی۔ قرآنی آیات اور اسلامی عبارات بھی، اسمائے مبارکہ بھی اور دیگر اسلامی چیزیں بھی۔ اکثر یہ پوسٹر وہاں چسپاں کیے جا رہے ہیں جہاں ان کی بے حرمتی کا امکان قوی سے قوی تر ہے۔

راستوں اور چوراہوں پر اور نالیوں کے اوپر دیواروں پر، چند ایام کے بعد جب یہ بوسیدہ ہو کر گرتے ہیں تو سیدھے گندی اور غلیظ نالی میں۔ کتنے پھٹے ہوئے پوسٹروں کو راقم الحروف نے گندی جگہوں پر پڑے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ نے بھی بارہا دیکھا ہوگا۔ بارش ہوتی ہے تو ان پوسٹروں کا پانی کہاں جاتا ہے؟ ذرا سوچیے! ان حالات میں اگر پوسٹر شائع کیے جائیں تو ان کی حفاظت اور بے حرمتی سے بچاؤ کی تدابیر بھی ہونا چاہیے۔ اندرونِ خانہ مساجد و مدارس میں پوسٹر لگائے جائیں اور خیال رکھیں کہ اسمائے طیبہ، نقوشِ مزاراتِ مقدسہ اور اسلامی عبارات کی بے حرمتی نہ ہو۔ پوسٹر کے علاوہ تشہیر کے اور بھی بہت سے ذرائع ہیں انہیں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

ہم کوشش کریں کہ ہمارے جلسے زیادہ سے زیادہ بافیض، مفید و کارگر اور مؤثر و نفع بخش ثابت ہوں۔ جھوٹی تعریف اور بے جا ستائش سے بچیں۔ مسلکِ اعلیٰ حضرت کی روشنی میں پیغامِ حق عوام تک پہنچانے کا جذبہ رکھیں۔ خالص اصلاح کے لیے جلسے کیے جائیں۔ نام و نمود اور شہرت و ریاکاری سے اجتناب کریں۔ جلسے نے عوام کو کیا پیغام دیا اسے بھی پوسٹر یا فولڈر کی شکل میں شائع کر کے عام سے عام تر کرنے کی کوشش کریں۔ جلسہ کرنے والی کمیٹیاں پہلے خود عمل کی خوگر بنیں۔ اس لیے کہ داعی جب خود باعمل ہوتا ہے تو اس کی زبان و عمل میں بے شمار برکتیں پیدا ہوتی ہیں۔

داعیِ قوم کو خود راہ پہ آنا ہوگا
تاکہ یہ قوم بھی منزل کا منارا پائے

[ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی شریف، جنوری 2017ء، ص: 5]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!