| عنوان: | حضرات انبیائے کرام اور علومِ عصریہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
ارشادِ ربانی ہے:
إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۗ
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔ [سورۃ الرعد، آیت: 11، کنز الایمان]
ذٰلِكَ بِأَنَّ اللهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۙ وَأَنَّ اللهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ
ترجمہ: یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی، بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں اور بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔ [سورۃ الانفال، آیت: 53، کنز الایمان]
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
جسے نہ ہو خیال خود ہی اپنی حالت بدلنے کا
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے فرمایا تھا کہ بندگانِ الٰہی اگر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں تو انہیں زمین کی خلافت و سلطنت، حکومت و بادشاہت عطا کی جائے گی۔ حضرات خلفائے راشدین، مسلمانوں کے امیر المومنین، قوم کے بادشاہ اور سلطنتِ اسلامیہ کے حاکم و سلطان بھی تھے اور مذہبِ اسلام کے بہت بڑے عالم و فقیہ بھی تھے۔ ہندوستان میں سلطنتِ مغلیہ کے عہد تک علمائے اسلام معزز عہدوں پر فائز رہے اب کون سی غلطی ہو گئی کہ ایمانِ صحیح عملِ صالح کے باوجود علمائے کرام غربت و افلاس اور تنگ دستی کے شکار ہیں۔ ضرور کہیں کوئی مشکل درپیش آیا ہے۔ درحقیقت سلطنتِ مغلیہ اور ماقبل سلاطین کے عہد میں علمائے کرام ان علوم سے مزین ہوا کرتے تھے، حکومتی عہدوں پر فائز ہونے کے لیے جن علوم و فنون کی ضرورت تھی۔ اب جن علوم کی ضرورت ہے، ان علوم سے علمائے کرام کنارہ کش ہو چکے ہیں، پس ان کے لیے صرف مساجد و مدارس کے دروازے کھلے ہوتے ہیں، باقی بند۔
وَعَدَ اللهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ
ترجمہ: اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان کے پہلوں کو دی۔ [سورۃ النور، آیت: 55، کنز الایمان]
اللہ تعالیٰ نے بندوں کو دنیاوی و اخروی ہر قسم کی نعمتوں کے حصول کی ترغیب دی اور اسی قسم کی دعا کی تعلیم بندوں کو دی گئی۔ اب لامحالہ ہر قسم کی نعمتوں کے ذرائع کو بروئے کار لانا ہوگا۔ بصورتِ دیگر محرومی درپیش ہوگی اور اس محرومی کو صبر کا نام دینا غلط ہوگا۔ تعلیمِ الٰہی ہے:
رَبَّنَا اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ
ترجمہ: اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذابِ دوزخ سے بچا۔ [سورۃ البقرۃ، آیت: 201، کنز الایمان]
رب تعالیٰ نے بندوں کو دنیاوی نعمتوں کی حصولیابی کی جانب بھی ترغیب دلائی ہے:
فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
ترجمہ: پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ، اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو بہت یاد کرو، اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔ [سورۃ الجمعہ، آیت: 10، کنز الایمان]
آیتِ کریمہ میں دنیا و آخرت کی بھلائیوں کی تحصیل کا طریقہ بتا دیا گیا کہ بندگانِ الٰہی، رب تعالیٰ کی طاعت و عبادت کریں، تاکہ اخروی فلاح پا سکیں اور دنیاوی نعمتوں کی تلاش بھی کریں، تاکہ مادی فوائد حاصل کر سکیں۔ خیال رہے کہ فقرِ اضطراری از قسمِ عذاب ہے۔
فقہائے اسلام نے فرمایا: مَنْ لَّمْ يَعْرِفْ أَهْلَ زَمَانِهٖ فَهُوَ جَاهِلٌ. یعنی جو اپنے اہلِ زمانہ کو نہ جانے، وہ جاہل ہے، پس لازم ہے کہ علمائے کرام کو اہلِ زمانہ کی معرفت ہو، اور زمانہ کے نشیب و فراز پر ان کی نظر ہو۔ رب تعالیٰ نے بندوں کو تعلیم فرمایا کہ بندہ مجھ سے دنیاوی بھلائیاں بھی طلب کرے اور آخرت کی بھلائیاں بھی۔ اب دونوں مقام کی بھلائیوں کے جو شرائط و لوازم ہیں، انہیں ضرور پوری کرنی ہوں گی اور دنیاوی بھلائیوں کے شرائط و لوازم سے طلبائے مدارس کو منقطع کر دینا ایک غیر مدبرانہ اقدام ہوگا۔
حضرات انبیا و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام اور عصری علوم
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ.
ترجمہ: علمائے دین، حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وارث ہیں۔ [سنن ابی داؤد باب الحث علی طلب العلم، جامع الترمذی ج 2 باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، سنن ابن ماجہ باب فضل العلماء، صحیح ابن حبان ج 1 ص 289]
رب تعالیٰ نے حضرات انبیا و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام کو علومِ شرعیہ کے علاوہ زمانے کے اعتبار سے معجزات عطا فرمایا، مثلاً حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو ایسا معجزہ عطا ہوا، جو اس زمانہ کی مروج جادوگری کو مات دے سکے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عہدِ مسعود میں طبابت کا چرچا تھا تو حضرت روح اللہ علیہ السلام کو دستِ شفا دے کر بھیجا گیا۔ آپ مادر زاد اندھوں کی آنکھوں پر دستِ مبارک پھیرتے تو اس کی آنکھیں منور ہو جاتیں۔ حضرت حبیبِ محتشم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں فصاحت و بلاغت کا شہرہ تھا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو قرآنِ مقدس جیسی فصیح و بلیغ کتاب عطا کی گئی کہ آج تک فصحائے عرب و عجم اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہیں، پس جو فرد یا جماعت وارثِ انبیا ہو، یقیناً اس کو اپنے زمانہ کے مروجہ علوم و فنون سے واقف ہونا چاہیے، تاکہ وہ قوم کے سامنے اس کے دنیاوی علم و فضل کے سبب مرعوب نہ ہو سکے، بلکہ دنیاوی تعلیم یافتگان پر ان کے علمِ فضل کا دوہرا رعب طاری ہو۔ دینی تعلیمات کا بھی، اور دنیاوی علم و فضل کا بھی۔ پس کیا تاثیرِ تبلیغ کے باب میں یہ ایک نسخہِ کیمیا نہیں؟
حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے علومِ عصریہ سے مزین ہونے کی صراحت
رب تعالیٰ نے فصحائے عرب کو قرآن کے کسی ایک سورہ کے مماثل لانے کا چیلنج دیا اور فرمایا:
وَإِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۖ وَادْعُوْا شُهَدَاءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللهِ إِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ
ترجمہ: اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ، اور اللہ کے سوا اپنے سب حمایتیوں کو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔ پھر اگر نہ لا سکو، اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہرگز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ تیار رکھی ہے کافروں کے لیے۔ [سورۃ البقرۃ، آیات: 23-24، کنز الایمان]
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
