| عنوان: | امام احمد رضا اور فنِ شعر و سخن (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد سبطین رضا سبطین |
| پیش کش: | مظفر حسین شیرانی |
صنعاتِ فنِ شاعری
صنائعِ لفظی و صنائعِ معنوی شاعری کے حسن و زیور ہیں جن سے کلام میں جان و لطف پیدا ہوتے ہیں لیکن ان صنعتوں کے استعمال کے لیے بھی ایک خاص دستور و سلیقے کی ضرورت ہوتی ہے، خالی زیور نہ حسن کی آرائش کر سکتا ہے، نہ افزائش۔ جب تک سلیقہ اس کا ساتھ نہ دے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص گلے کا زیور پاؤں میں اور پاؤں کا زیور کان اور ناک میں لٹکا لے یا مناسب مقدار سے زیادہ زیور پہن لے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ یہی حال صنعتوں کا بھی ہے کہ اگر محل اور مقدار کی مناسبت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو ان کا استعمال کلام کا حسن نہیں بلکہ عیب بن جائے گا، علامہ عبد الستار ہمدانی اس کے متعلق لکھتے ہیں:
"فنِ شاعری میں کچھ صنعات متعین کی گئی ہیں اور ہر صنعت کے قواعد و ضوابط مقرر کیے گئے ہیں، شاعر اپنے کلام کے حسن کو نکھارنے کے لیے ان صنعات کا اپنے اشعار میں استعمال اور اہلِ علم سے داد حاصل کرتا ہے، اردو ادب کے شہرہ آفاق شعرا اپنے کلام میں ان صنعات کے استعمال میں کوشاں رہے اور اپنی حسبِ استطاعت ان صنعات کا استعمال کیا، حضرت رضا بریلوی نے اپنے کلام میں ان صنعات کا بھرپور استعمال فرمایا ہے اور اردو ادب میں ایک مثال قائم کر دی کہ نعتیہ شاعری میں ان صنعات کا حسین انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور فنِ ادب کو اجاگر کیا جا سکتا ہے، حضرت رضا نے اپنے نعتیہ اشعار میں ان صنعات کو اتنے حسین پیرائے میں نظم فرمایا ہے کہ اہلِ ذوق کو مجبور ہو کر اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ حضرت رضا کا مقام فن و ادب کے اعتبار سے بھی تمام شعرائے اردو سے بلند و اعلیٰ ہے۔" [فنِ شاعری اور حسان الہند، ص: 54-55]
اب ہم حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اشعار کو صنعتی کسوٹی پر رکھ کر صنائعِ معنوی و صنائعِ لفظی میں سے چند مخصوص صنعتوں کی دلکش و حسین جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش و سعی کرتے ہیں۔ پہلے ہم صنعات میں سے صنائعِ معنوی کے چند مخصوص صنعات کا ذکر کریں گے بعدہٗ صنائعِ لفظی کا وسعت بھر احاطہ کریں گے، اس لیے کہ معنوی خوبی کو لفظی خوبی پر فوقیت حاصل ہے، چنانچہ مرزا امجد رازی صاحب لکھتے ہیں:
"الفاظ معانی کے لیے قوالب ہیں جن کے ذریعے معانی مفہوم ہوتے ہیں۔ تو جب تک ذہن میں روحِ معنی نہ ہوگی تب تک اس کے لیے وجودِ لفظ کو تیار نہ کیا جائے گا۔ بس اسی وجہ سے صنائعِ معنوی کو تقدم حاصل ہے اور صنائعِ لفظی کو تاخر۔" [بدیع الرضا فی مدح المصطفیٰ، ص: 187]
صنائعِ معنوی
صنعتِ طباق: اس کو صنعتِ تضاد اور مطابقت بھی کہتے ہیں۔ یعنی شعر میں دو ایسے الفاظ کا جمع کرنا جو معنوی طور پر ایک دوسرے کی ضد ہوں، جیسے گرمی و سردی، ہنسنا و رونا وغیرہ۔ اس کی دو صورتیں ہیں ایک ایجابی، دوسرا سلبی۔
- طباقِ ایجابی: وہ ہے کہ الفاظِ متضاد کے ساتھ حرفِ نفی نہ ہو جیسے: دوست و دشمن، آیا اور گیا وغیرہ۔
- طباقِ سلبی: وہ ہے کہ ایک ہی مصدر کے دو فعلوں کو جمع کر دیا جائے ان میں سے ایک مثبت ہو اور دوسرا منفی۔ [ملخص: تلخیص بحر الفصاحت، ص: 371-372]
حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے اشعار میں صنعتِ تضاد اتنی کثرت سے پائی جاتی ہے کہ ہر کلام میں قارئین کو چند اشعار ایسے مل جائیں گے جن میں دو الفاظ ایسے ضرور ہوں گے جو معنوی اعتبار سے متضاد و مخالف ہوں، ذیل میں حضور اعلیٰ حضرت کے وہ اشعار جو کہ تضادِ ایجابی و سلبی پر مشتمل ہیں، مشتے نمونہ از خروارے صرف ایک ایک آسان شعر کم خواندہ قارئین کے سمجھنے کے لیے پیش کرتے ہیں۔
تضادِ ایجابی میں اعلیٰ حضرت کا شعر:
دشمنوں کی آنکھ میں بھی پھول تم
دوستوں کی بھی نظر میں خار ہم
اس شعر کے اندر لفظ دشمن اور دوست کا استعمال ہوا ہے جو تضاد کو ظاہر کر رہا ہے۔ نیز لفظ پھول و خار، لفظ ہم اور تم بھی اختلافِ معنی میں تضاد کو ظاہر کر رہے ہیں۔
تضادِ سلبی میں اعلیٰ حضرت کا شعر:
مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعدا تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا
اس شعر میں لفظ مٹ گئے اور نہ مٹا دونوں مصدر "مٹنا" سے مشتق ہیں اور دونوں اثبات و نفی کے ساتھ ہیں۔
صنعتِ تدبیج
صنعتِ طباق ہی کی ایک خاص صورت ہے۔ لغت میں اس کے معنی آراستہ کرنے کے ہیں اور اصطلاح میں یہ ہے کہ کلام میں رنگوں کے معانی پر دلالت کرنے والے الفاظ کا بطریقِ کنایہ تقابل لایا جائے جیسے:
گل کو ہاں زرد کر دے اے رخِ یار
کر کے منھ لال لال آتا ہے
اس شعر میں زرد (پیلا) اور لال کے درمیان تقابل ہے جو کہ رنگوں پر دلالت کرتے ہیں اور مقصود اس سے بطریقِ کنایہ کے حاصل ہوتا ہے اس لیے کہ زرد کنایہ ہے شرمندہ کرنے سے اور منہ لال لال کرنا کنایہ ہے شاد و خرم ہونے سے، اسی مثال میں درج ذیل شعر بھی دیکھیے:
مثلِ گل احباب تیرے اس چمن میں سرخ رو
روئے دشمن زرد یا رب صورتِ بادِ خزاں
اس شعر کے اندر لفظ سرخ رو اور لفظ زرد کا استعمال ہوا ہے، دونوں میں طباق ہے اور مقصود اس سے بطورِ کنایہ کے حاصل ہوتا ہے اس لیے کہ سرخ رو ہونا کنایہ ہے عزت و آبرو اور حرمت حاصل ہونے سے اور زرد رو ہونا کنایہ ہے غمگین و محزون ہونے سے۔ [ملخص: تلخیص بحر الفصاحت، ص: 373]
حدائقِ بخشش میں سیدی سرکار اعلیٰ حضرت نے کس کمال کے ساتھ اس صنعت کو جگہ دی ہے اس کا جواب نہیں، ایک شعر بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں:
سر سبز وصل یہ ہے سیاہ پوش ہجر وہ
چمکی دوپٹوں سے ہے جو حالت جگر کی ہے
اس شعر میں سبز (ہرا) اور سیاہ (کالا) کے درمیان تقابل ہونے سے صنعتِ تدبیج کا ظہور ہوا اور مقصود بطریقِ کنایہ کے حاصل ہو رہا ہے کیوں کہ اعلیٰ حضرت روضہِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کر رہے ہیں کہ گنبدِ خضریٰ ردائے سبز رنگ اوڑھ کر دلہن کی طرح مسرت و شادمانی کا پیکر نظر آ رہا ہے کیوں کہ سرسبز ہونا کنایہ ہے تر و تازہ اور عیش و عشرت میں مصروف ہونے سے، اسی طرح کعبۃ اللہ نے کالا رنگ اوڑھا ہے اور کالا رنگ ہونا کنایہ ہے سوگ و ماتم کرنے سے۔ گویا دونوں دلہنوں کے دوپٹوں نے ان کے دل کی کیفیت کو ظاہر کر دیا ہے کہ روضہِ رسول محبوبِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو پا کر (سبز رنگت کے سبب) خوشیاں منا رہا ہے اور بیت اللہ محبوبِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں (سیاہ غلاف کے سبب) عالمِ سوگ کی کیفیت سے دوچار ہے۔ [بدیع الرضا، ص: 78]
[ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، نومبر 2023ء، ص: 35]
