| عنوان: | رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نسلِ پاک |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری |
| پیش کش: | بنت سلیم عطاریہ |
1. سب سے افضل گھرانہ
کیا بات رضا اس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
شعوب و قبائل سے بھری اس دنیا میں سب سے اعلیٰ، سب سے اولیٰ، سب سے افضل، سب سے بالا نبیِ محترم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان و خانوادہ ہے۔ قیامت تک کوئی بھی گھرانا اس کنبے کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ قرآن و حدیث میں ان کی بلند رتبی کی بہت آیتیں اور روایتیں موجود ہیں۔ اب جس کی عظمت و فضیلت، بڑائی و رفعت کا خطبہ قرآنِ مجید پڑھے، حدیثِ نفیس بیان کرے، اس کا جواب کہاں سے کوئی لا سکتا ہے۔
2. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان کائنات میں افضل ترین
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس جبریلِ امین آئے اور کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔ میں زمین کے مشرق و مغرب، نرم زمین اور پہاڑوں میں پھرا، تو میں نے عرب سے افضل کوئی خاندان نہیں پایا۔ پھر مجھے حکم فرمایا تو میں عرب میں پھرا۔ مجھے مضر سے افضل کوئی قبیلہ نہیں ملا۔ پھر مجھے حکم دیا تو میں مضر میں پھرا، تو میں نے کنانہ سے افضل کوئی قبیلہ نہیں پایا۔ پھر مجھے حکم فرمایا۔ میں قریش میں پھرا تو میں نے بنی ہاشم سے افضل کوئی قبیلہ نہ پایا، پھر مجھے ان میں سے کسی کے منتخب کرنے کا حکم دیا تو میں نے آپ سے افضل کسی کو نہ پایا“۔ [برکاتِ آلِ رسول، ص: 29]
3. اعلیٰ حضرت کا اندازِ بیاں
کتنی عقیدت افروز اور حقیقت افروز ترجمانی کی ہے، امام احمد رضا فرماتے ہیں:
یہی بولے سدرہ والے چمنِ جہاں کے تھالے
سبھی میں نے چھان ڈالے تیرے پائے کا نہ پایا
تجھے یک نے یک بنایا تجھے یک نے یک بنایا
4. قرآنِ مجید اور شانِ اہلِ بیت
قرآنِ مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ اہلِ بیتِ کرام کی عظمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
اے اہلِ بیت! یعنی اے نبی کے گھر والو! اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔ [سورۃ الاحزاب: 33]
5. آیتِ تطہیر کی روشنی میں اہلِ بیت سے مراد
اس آیتِ کریمہ میں اہلِ بیت سے کون لوگ مراد ہیں؟ اس بارے میں مفسرین کا بہت بڑا گروہ مثلاً امام بغوی، خازن، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہم اجمعین فرماتے ہیں کہ اہلِ بیت سے مراد آلِ عبا ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت امام حسن، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ [ایضاً، ص: 32]
6. مولانا حسن رضا خاں کی محبتِ اہلِ بیت
استاذِ زمن حضرت حسن بریلوی فرماتے ہیں:
ان کی پاکی کا خدائے پاک کرتا ہے بیاں
آیۂ تطہیر سے ظاہر ہے شانِ اہلِ بیت
7. اہلِ بیت کی محبت واجب ہے
اہلِ بیتِ کرام کے درجات و مراتب کا کیا کہنا کہ ان کی سرفرازی کا عالم تو یہ ہے کہ ان کی محبت ہم پر واجب ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ
تم فرما دو کہ میں اس پر (یعنی تبلیغِ رسالت اور ارشاد و ہدایت پر) کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت (یعنی میں تم سے قرابت کی محبت کا مطالبہ کرتا ہوں)۔ [سورۃ الشوریٰ: 23]
8. قرابت میں شامل رشتہ دار
قرابت سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کون سے رشتہ دار مراد ہیں؟ علامہ جلال الدین سیوطی اور دیگر بہت سے مفسرین نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ صحابۂ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے وہ کون سے رشتہ دار ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: علی، فاطمہ اور ان کی اولاد رضی اللہ عنہم۔
9. شیخ سعدی کی اہلِ بیت کے وسیلے سے دعا
اسی اہمیت و انفرادیت کے پیشِ نظر حضرت شیخ سعدی اہلِ قرابت کے واسطے سے ایمان پر خاتمے کی دعا مانگتے ہیں اور بڑے ناز سے کہتے ہیں:
خدایا بحقِ بنی فاطمہ
کہ بر قولِ ایماں کنم خاتمہ
اگر دعوتم رد کنی ور قبول
من و دست و دامانِ آلِ رسول
[بوستان]
10. حدیثِ ثقلین اور شانِ اہلِ بیت
آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن اس حال میں کہ آپ اونٹنی پر سوار تھے اور خطبہ دے رہے تھے، ارشاد فرمایا کہ:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللّٰهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي.
یعنی اے لوگو! میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ دی ہیں کہ اگر تم ان کو پکڑے رہو گے گمراہ نہیں ہو گے اور وہ چیز ایک تو کتاب اللہ ہے اور دوسری چیز میری اولاد اور ذریت میرے اہلِ بیت ہیں۔ [مشکوٰۃ شریف، ص: 569]
11. حدیثِ ثقلین، اہلِ بیت کی بقا پر دلیل
اس حدیث میں ایک چیز یہ بھی بڑے پتے کی ہے کہ آپ نے کتاب اللہ کے ساتھ صحابہ کا ذکر نہ فرمایا بلکہ اپنے اہلِ بیت کا ذکر فرمایا۔ چونکہ صحابہ کی جماعت کو ختم ہونا تھا، ایسے میں اگر قرآن کو صحابہ کے ساتھ جمع فرماتے تو صحابہ کے بعد قرآن کا کیا ہوتا؟ دوسری چیز یہ کہ قرآن کے ساتھ اپنے اہلِ بیت کا ذکر فرما کر ضمانت دے دی کہ جس طرح قیامت تک خدا کی کتاب باقی رہے گی، ایسے ہی میری اولاد بھی باقی رہے گی۔
12. کامل مومن کی نشانی
طبرانی شریف میں ہے کہ سرورِ کون و مکان صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”کوئی بندہ مومنِ کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ مجھے اپنی جان سے، میری اولاد (حسن و حسین) کو اپنی اولاد سے، میرے اہلِ کو اپنے اہلِ سے اور میری ذات کو اپنی ذات سے زیادہ محبوب نہ رکھے“۔
13. اہلِ بیت کشتیِ نوح کی مثل ہیں
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کعبہ شریف کا دروازہ پکڑ کر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
أَلَا إِنَّ مَثَلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ.
[مشکوٰۃ شریف، ص: 573]
یعنی آگاہ ہو جاؤ کہ میرے اہلِ بیت تم لوگوں کے لیے نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہیں، جو شخص کشتی میں سوار ہوا اس نے نجات پائی اور جو کشتی میں سوار ہونے سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہوا۔
14. صحابۂ کرام ستاروں کی مثل
اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ.
[مشکوٰۃ شریف، ص: 554]
یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تو ان میں سے تم جس کی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
15. اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ
ان دونوں حدیثوں کو سامنے رکھ کر حضرت علامہ فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے بڑا لطیف نکتہ خاص فرمایا ہے، فرماتے ہیں کہ: ”بحمد اللہ تعالیٰ ہم اہلِ سنت و جماعت محبتِ اہلِ بیت کی کشتی پر سوار ہیں اور ہدایت کے چمکتے ہوئے ستارے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہدایت یافتہ ہیں، لہٰذا ہم لوگ قیامت کی ہولناکیوں سے اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں گے“۔ [مرقاۃ شرح مشکوٰۃ، ج: 5، ص: 60]
16. اعلیٰ حضرت اور عقیدۂ اہلِ سنت
تبھی تو اعلیٰ حضرت مچل گئے اور یقین و اطمینان کے نور میں شرابور ہو کر پکار اٹھے:
اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
17. فضائلِ اہلِ بیتِ عظام
امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں، تفسیر کشاف کے حوالے سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز میں اپنے اہلِ بیت کی عزت و شوکت بیان کی ہے۔ اس مبارک حدیث کا پہلا حصہ ہے:
مَنْ مَاتَ عَلَىٰ حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ شَهِيدًا
جو اہلِ بیت کی محبت پر فوت ہوا، اس نے شہادت کی موت پائی۔
اور فرمایا:
أَلَا وَمَنْ مَاتَ عَلَىٰ حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ مَغْفُورًا لَهُ
آگاہ ہو جاؤ، جو شخص اہلِ بیت کی محبت میں فوت ہوا وہ اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے گناہ بخش دیے گئے۔
وَمَنْ مَاتَ عَلَىٰ حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ تَائِبًا
خبردار ہو کر سن لو، جو شخص اہلِ بیت کی محبت میں فوت ہوا وہ تائب ہو کر فوت ہوا۔
اور فرمایا:
أَلَا وَمَنْ مَاتَ عَلَىٰ حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ مُؤْمِنًا مُسْتَكْمِلَ الْإِيمَانِ
خبردار ہو کر سن لو، جو شخص اہلِ بیت کی محبت پر فوت ہوا وہ مکمل ایمان کے ساتھ فوت ہوا۔
اور اسی حدیث کا آخری ٹکڑا ہے:
وَمَنْ مَاتَ عَلَىٰ حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ عَلَى السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ
خبردار ہو کر سن لو، جو شخص اہلِ بیت کی محبت پر فوت ہوا وہ مسلکِ اہلِ سنت و جماعت پر فوت ہوا۔ [تفسیرِ کبیر، ج: 7، ص: 390]
18. اعلیٰ حضرت کے دعائیہ اشعار
اسی لیے تو اعلیٰ حضرت اہلِ بیت کی محبت میں ڈوب کر گنگناتے ہیں:
حبِ اہلِ بیت دے آلِ محمد کے لیے
کر شہیدِ عشق حمزہ پیشوا کے واسطے
دو جہاں میں خادمِ آلِ رسول اللہ کر
حضرتِ آلِ رسولِ مقتدا کے واسطے
19. اہلِ بیت کی امتیازیت
اور اہلِ بیت کی ایک بہت بڑی شان، امتیازیت و انفرادیت یہ ہے کہ وہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی اولاد ہونے کے باوجود رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی اولاد کہلاتے ہیں اور صحیح نسب کے ساتھ آپ ہی کی طرف منسوب ہیں۔ امام طبرانی نے حدیث بیان کی ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی اولاد ان کی پشت میں رکھی اور میری اولاد علی ابنِ ابی طالب کی پشت میں رکھی“۔ اور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”ہر ماں کی اولاد اپنے پدری رشتہ داروں کی طرف منسوب ہوتی ہے، ماسوا اولادِ فاطمہ کے کہ میں ان کا ولی ہوں اور ان کا عصبہ ہوں“۔ [برکاتِ آلِ رسول، ص: 110]
20. حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی امتیازی خصوصیت
اسعاف الراغبین میں ہے کہ یہ خصوصیت حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی اولاد کے لیے ہے، دوسری صاحبزادیوں کی اولاد کے لیے نہیں۔ یعنی اگر ان کی اولاد زندہ رہتی تو ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جاتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے باپ ہیں اور وہ آپ کے بیٹے ہیں، جس طرح کہ یہ بات حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی اولاد کے لیے کہی جاتی ہے۔ [مصدرِ سابق]
21. حضور اور آپ کی نسلِ مبارکہ نور ہے
کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں، نور کی شہزادی حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا اور ان کے شہزادے حضرات حسنین کریمین نور ہیں، تو اعلیٰ حضرت کہتے ہیں:
تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عینِ نور، تیرا سب گھرانہ نور کا
22. سید کی تعظیم واجب ہے
ساداتِ کرام اتنے عظیم المرتبت اور رفیع الشان ہیں کہ حضور سیدی و مرشدی مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان رقمطراز ہیں: ”سید سے جب تک کفر صادر نہ ہو واجب التعظیم ہے“۔ [حجۃ واہرہ، ص: 11]
23. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلِ بیت پر نظرِ رحمت
ساداتِ کرام چونکہ آلِ رسول ہیں، تو جس طرح میرے نبی زندہ، اسی طرح ان کی ہر نسبت زندہ ہے۔ آلِ رسول سید حضرات دنیا میں چاہے جہاں کہیں ہوں، ہر وقت یہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک توجہ کے زیرِ سایہ ہیں۔ ان کے ہر دکھ اور سکھ کی حضور کو خبر ہے۔
24. سید عبد الوہاب شعرانی کا سید سے متعلق واقعہ
سید عبد الوہاب شعرانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سید شریف نے حضرت خطاب رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں بیان کیا کہ کاشف البحیرہ نے ایک سید کو مارا، تو اسی رات خواب میں اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حال میں زیارت ہوئی کہ آپ اس سے اعراض فرما رہے تھے۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا کیا گناہ ہے؟ فرمایا: تو مجھے مارتا ہے، حالانکہ میں قیامت کے دن تیرا شفیع ہوں۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ کو مارا ہو، آپ نے فرمایا: کیا تو نے میری اولاد کو نہیں مارا؟ اس نے عرض کیا: ہاں۔ تو آقا نے ارشاد فرمایا: تیری ضرب میری ہی کلائی پر پڑی ہے۔ پھر آپ نے اپنی کلائی نکال کر دکھائی، جس پر ورم تھا جیسے کہ شہد کی مکھی نے ڈنک مارا ہو۔ [برکاتِ آلِ رسول، ص: 267]
25. اعلیٰ حضرت کا تعظیمِ سادات کا خوبصورت انداز
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قول و عمل سے احترامِ سادات کا جو تصور مردہ ہو گیا تھا، اسے پھر سے نئی زندگی عطا کی۔ شہزادۂ سید العلماء شاہ آلِ رسول نظم مارہروی نے بیان فرمایا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مارہرہ شریف تشریف لائے۔ خاص مقام پر آپ کے آرام کرنے کے لیے چارپائی بھی بچھائی گئی۔ اعلیٰ حضرت تھوڑی دیر آرام فرمانے کے بعد اپنے مرشدانِ عظام کی بارگاہوں میں حاضری کے لیے چلے گئے۔ اور جب واپس لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ اس چارپائی پر حضرت سید العلماء آلِ مصطفیٰ رضی اللہ عنہ جن کی عمر ابھی تقریباً تین سال کی تھی، خالی چارپائی پا کر سو گئے۔ مجددِ اعظم امام احمد رضا نے جب انہیں سوتا پایا، تو شہزادے کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ صاحبِ سجادہ حضرت سید مہدی حسن میاں رحمۃ اللہ علیہ جب تشریف لائے تو دیکھا کہ شہزادہ سو رہا ہے اور وقت کے مجدد ادب و احترام کا مجسمہ بن کر چارپائی کے قریب شہزادے کے روبرو کھڑے ہیں۔ حضرت سید مہدی حسن میاں رحمۃ اللہ علیہ نے شہزادے کو ڈانٹ کر جگانا چاہا، کہنے لگے: تم سو رہے ہو اور اعلیٰ حضرت کھڑے ہیں۔ حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بڑے ادب سے عرض کیا کہ حضور! شہزادے کو سونے دیا جائے، اس لیے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے اس ادب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ میرے درجات بلند فرما رہا ہے۔ خود اعلیٰ حضرت کہتے ہیں:
اللہ رے ان کے جسمِ منور کا معجزہ
وابستہ جو ہوا، اسے پرنور کر دیا
26. جھوٹی سیادت کی مذمت
اس زمانے کا ایک بڑا حادثہ و سانحہ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں میں جو چھوٹی ذات کے لوگ تھے، خاص کر شاہ برادری کے اشخاص، وہ دھڑلے سے اپنے نام کے ساتھ ”سید“ لکھنے لگے۔ شاید انہیں خبر نہیں ہے کہ اپنا نسب بدلنا اپنے آپ کو حرامی کہنا تو ہے ہی، اس کے علاوہ یہ کتنا بڑا جرم اور کتنی بڑی محرومی ہے۔
27. نسب بدلنے پر وعید
حدیث کی تمام مشہور کتابوں میں حضرت علیِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو اپنے باپ کے علاوہ دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے، اس پر خدا اور سب فرشتوں اور آدمیوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ فرض قبول کرے گا، نہ نفل“۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 5، ص: 667]
28. سادات کی کرامت
مجدد حضرت سید میر عبد الواحد بلگرامی نے اپنی کتاب ”سبع سنابل“ کے پہلے سنبلہ میں تحریر فرمایا ہے: شہنشاہِ بابر کے زمانۂ حکومت میں چند مغل پیرِ دستگیر حضرت مخدوم صفی قدس سرہ کی ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ سیادت کی صحت میں بات چھڑ گئی۔ مغل اس بات پر اصرار کرنے لگے کہ ہندوستان میں کوئی سید نہیں، ہر چند مخدوم نے انہیں بہت سمجھایا اور ملامت کی مگر وہ نہ مانے اور بہت گفتگو کے بعد کہنے لگے کہ ہمارے ملک میں سادات ثابت النسب، پرہیزگار اور عبادت گزار ہیں۔ ان کی سیادت کی صحت کی علامت یہ ہے کہ ان کے بال کو لوگ جلتی ہوئی آگ میں رکھتے ہیں مگر جلتے نہیں۔ مخدوم نے جواب دیا: ہندوستان میں بھی ایسے ہی سید موجود ہیں۔ مغلوں کو بہت تعجب ہوا اور دل میں کہنے لگے کہ مخدوم شیخ نے شیخی سے یہ بات کہی ہے۔ پھر کہنے لگے: ان میں سے ایک کو بلائیے۔ آپ نے مؤلف (میر عبد الواحد بلگرامی) کے چچا کو جن کا نام طاہر تھا اور جنہیں لوگ طاہا کہتے تھے، بلایا۔ چونکہ جسمِ مبارک طاہر تھا، لہٰذا آپ کا ایک مبارک بال لے کر دیر تک آگ میں رکھا، ذرہ برابر بھی اسے آگ نہ لگی۔ اور جب آگ سے نکالا، اسی طرح ٹھنڈا تھا، اسے گرمی نہ پہنچی۔ تمام مغل پشیمان اور شرمندہ ہوئے، کبھی حضرت مخدوم کا مبارک پاؤں پکڑتے، کبھی میرے چچا کے قدموں پر ملتے اور بہت عذر و معذرت کرتے۔ سبحان اللہ!!
29. اہلِ بیت کی کرامت پر نقلی و عقلی دلیل
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے دسترخوان سے اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم صاف کر لیں تو اسے آگ نہ جلائے، تو پھر وہ ساداتِ کرام جو جزوِ رسول ہیں، جن کی رگوں میں سیدۂ کائنات کا خون دوڑ رہا ہے، آگ کی کیا مجال کہ ان کا بال بھی بیکا کر سکے۔
30. حاصلِ کلام
ساداتِ کرام کے مدارج و مراتب میں، قرآن و حدیث اور اقوالِ علماء و مشاہداتِ عرفاء کی روشنی میں جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے، ان سے ان کے تفوق و برتری کا خوب پتہ چلتا ہے۔ بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ان کا اکرام و احترام کرتے اور رضائے خدا و مصطفیٰ کے حقدار بنتے ہیں۔ الحمد للہ! ہم اپنی متاعِ حیات، متاعِ فکر، متاعِ لوح و قلم ان کے مبارک قدموں پر نچھاور کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ:
شابان چہ عجب گر بنوازند گدا را
