| عنوان: | اے بنتِ حوا! تم کہاں جا رہی ہو؟ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا غیاث الدین مصباحی |
| پیش کش: | ام ماجد، فاؤنڈر نالج آف اسلام اکیڈمی |
میں اس وقت ٹک ٹاک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فحاشی پھیلانے والی مسلم بچیوں سے مخاطب ہوں، کیا تم اسلام کو ماننے والی ہو، یا مذہبِ اسلام کو بدنام کرنے والی؟ کیوں کہ اسلام تو عورتوں کو عزت دینے اور ان کے وقار کو محفوظ کرنے والا مذہب ہے، اسلام نے تو اپنے ماننے والوں کو حیا کے زیور سے مزین کیا اور حیا کے متعلق فرمایا:
الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ
یعنی حیا سراپا خیر ہے۔ [صحیح مسلم، باب شعب الایمان، 1/ 48]
لیکن! بڑا المیہ یہ ہے کہ تم تو ٹک ٹاک پر غیروں کی نقالی میں بے حیائی کو فروغ دے رہی ہو، پھر بتاؤ تم کس اسلام کو ماننے والی ہو؟ اسلام نے تو حیا کو ایمان کا شعبہ قرار دیا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے:
الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ النِّفَاقِ
حیا ایمان کا حصہ ہے اور بے حیائی نفاق کا حصہ ہے۔ [جامع الترمذی، 20/ 23]
خدارا ہوش کے ناخن لو، خوابِ غفلت سے بیدار ہو جاؤ، اپنے مردہ ضمیر کو جھنجھوڑ کر زندہ کرو، اور خود ٹھنڈے دماغ سے سوچو کہ ٹک ٹاک وغیرہ پر ہونٹ ہلا کر ایکٹرز (actors) کی ایکٹنگ (acting) اپنا کر ویڈیو اپلوڈ کرنے سے کیا تم کبھی باعزت و باحیا بن سکتی ہو؟ اگر باحیا نہیں بن سکتی تو (مکمل طور سے) اسلام کو ماننے والی کیسے بن سکتی ہو؟ سوچو ذرا تم کہاں جا رہی ہو؟
پوری دنیا میں اپنی بے حیائی کی وجہ سے ناپاک نظروں کی قیدی بن رہی ہو، نامراد مردوں کے ذریعے اپنی عزتِ نفس کی دھجیاں اڑا رہی ہو، ذرا تم ایک بار اسلامی تعلیمات کے دامن میں آ جاؤ پھر دیکھو کہ دنیا والے کیسی تمہاری عزت کی حفاظت کرتے ہیں، تم کیسے نامراد مردوں کی ہوس کا شکار بننے سے محفوظ رہتی ہو، بس ضرورت ہے کہ دوسروں کو کوسنے سے پہلے خود اپنے کردار پر نظر ثانی کر لو، کیا تم مسلمہ ہو یا مسلم خواتین کی عزت کو پامال کرنے والی؟
کیوں کہ آج تک ٹک ٹاک کے بارے میں غیروں (non-muslims) کی زبانی یہ حقیقت بیانی سننے کو مل رہی ہے کہ ٹک ٹاک پر بے حیائی پھیلانے والیوں میں مسلم خواتین بھی شامل ہیں (العیاذ باللہ) اور حقیقت بھی ہے، لیکن تم سے کہنا یہ ہے کہ تم جب ٹک ٹاک پر نیم برہنہ لباس پہن کر، اپنے حسن کو دنیا والوں کے سامنے بکھیرتی ہو تو، دنیا والے صرف تمہیں ہی بے حیا و بے غیرت نہیں کہتے ہیں، بلکہ تمام امتِ مسلمہ کو بے غیرت اور بے حیا کہتے ہیں۔
ٹک ٹاک اور اس جیسے ایپس کا سب سے خطرناک نقصان موسیقی سے لگاؤ اور بے حیائی کی لت کی شکل میں ہوتا ہے، گانا اور موسیقی شریعت میں ممنوع ہیں، نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم موسیقی سے سخت نفرت کرتے تھے، حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے؟ میں نے کہا نہیں! تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکال لیں اور فرمایا: ”میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا“۔ [سنن ابو داؤد، حدیث: 4924]
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا کاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے۔ کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر (اپنے بنگلوں میں جائیں گے) چرواہے، ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے، ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کے جائے گا تو وہ اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ رات کو ان کو ہلاک کر دے گا، پہاڑ کو ان پر گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔ [صحیح بخاری، حدیث: 5590]
ٹک ٹاک اور میوزیکلی (Musically) سے بے حیائی و فحاشی عام ہو رہی ہے، ان ایپس کا سہارا لے کر عورتیں بے پردگی کا خوب مظاہرہ کرتی ہیں، خوب بن سنور کر ویڈیو بناتی ہیں پھر پھیلاتی ہیں اور لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں، جبکہ قرآنِ مجید میں اس سے منع کیا گیا ہے، قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو۔ [سورۃ الاحزاب: 33]
کتاب و سنت میں بے پردگی اور بد نظری سے منع کیا گیا ہے۔
ٹک ٹاک جیسے ایپس کے ذریعے بے پردگی کو ہوا دی جا رہی ہے، جبکہ خواتین کے لیے پردہ شرعی فریضہ ہے، نوجوان بچیاں غیر مسلم لڑکوں سے اشتراک کر کے خوب بے پردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، اسلام میں مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے اور خواتین کو پردے کی تاکید ہے۔ [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، ص: 40]
