Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

ٹوپی، کرتا، پائجامہ صرف عام لباس یا اسلامی شعار

ٹوپی، کرتا، پائجامہ صرف عام لباس یا اسلامی شعار
عنوان: ٹوپی، کرتا، پائجامہ صرف عام لباس یا اسلامی شعار
تحریر: غلام مصطفیٰ فیضانی

ٹوپی، کرتا، پائجامہ برصغیر ہند و پاک میں مسلمانوں کے لیے اسلامی شناخت، تہذیب کا آئینہ اور ثقافت کا نمونہ ہے۔ جوں جوں ٹوپی، کرتا، پائجامہ عام ہوتا گیا توں توں اس کی قدر و منزلت بھی عام ہوتی گئی، آج سے چند دہائیاں قبل عموماً صرف علما، فضلا و طلبا اس لباس میں ملبوس نظر آتے تھے تو اس لباس کی عظمت و رفعت ہر خاص و عام تھی لیکن جیسے ہی یہ لباس مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ ہر ایرے غیرے نے زیبِ تن کر لیا ویسے ہی اس کی عظمت و رفعت زوال پذیر ہونے لگی اور یوں اس کا حلیہ ہی بگڑ گیا۔ اور بگڑتا بھی کیوں نہیں جہاں علما و فضلا کی بلند اخلاقی، اعلیٰ علمی و روحانیت و نورانیت زیرِ سایہ تھی وہاں بد اخلاقی، کم علمی و دنیا داری اس کا مقدر ہونے لگی۔ اسی بنا پر معاشرے میں بہت حد تک علما بیزاری پھیل چکی ہے اور جاہلوں کے ذہنوں میں ہر داڑھی، ٹوپی، کرتا، پائجامہ والا علما کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے خواہ ابجد خوانی بھی نہ کی ہو، اور علومِ عقلیہ، نقلیہ، نحو و صرف، ادب و بلاغت، فقہ، حدیث و تفسیر، منطق و فلسفہ و علمِ کلام کا نام تک نہ سنا ہو۔

یہاں پر یہ مغالطہ نہ ہو کہ میں اس لباس کا مخالف ہوں بلکہ ٹوپی، کرتا و پائجامہ زیبِ تن کرنا بذاتِ خود امرِ مستحسن ہے چوں کہ اس لباس میں جس طرح ستر کا پہلو پنہاں ہے اسی طرح تن بدن کی سہولت عیاں ہے، نیز یہ حلیہ اسلامی اقدار کی عکاسی بھی کرتا ہے، بہر کیف لباس زیبِ تن کرنے سے قبل اسلامی تعلیمات سے آشنائی و ان پر عمل پیرائی از حد ضروری ہے ورنہ ٹوپی، کرتا و پائجامہ میں ملبوس جہلا کی اسلامی تعلیمات سے ناآشنائی و غیر اسلامی کرتوتوں کے باعث افراد و معاشرے میں علم و علما بیزاری پروان چڑھتی ہے جو کہ مسلم معاشرے میں ایک عظیم خسارہ ہے۔

اس مقام پر امام غزالی علیہ الرحمہ کا ایک قول نقل کرتا چلوں کہ:

(مَنْ لَمْ يَعْرِفْ أَحْوَالَ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ)

یعنی جو شخص اپنے زمانے کے حالات سے معرفت و آگاہی نہ رکھے تو وہ جاہل ہے۔ اگر اس مقولے کی تشریح و تحقیق کی جائے تو خاصا مواد جمع ہو جائے مگر ان میں چند ایک نکات سے ہم بھرپور افادہ و استفادہ کر سکتے ہیں۔

جیسے ہمارے یہاں پر خاصی تعداد نظر آتی ہے جو بینک کے فارمز، ٹکٹ فارمز، و دیگر حکومتی کاغذاتی کارروائیوں میں کوتاہ فہم و کورے معلوم ہوتے ہیں، اسی طرح بنیادی دنیوی امور سمجھنے اور انھیں سرانجام دینے سے قاصر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مخالفین پھبتی کستے نہیں تھکتے اور معترضین کی عیب جوئیوں کا نوالہ بن جاتے ہیں، جو کہ شرمناک حالت ہے اور یوں اس قول کے غیر ارادی طور پر مصداق بن جاتے ہیں، اور ناقدین کی چہ میگوئیوں کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا احوالِ زمانہ کی معرفت، اور ہر طرح کے کارآمد علوم و فنون کی بنیادی جانکاری ہر حال میں ناگزیر ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!