Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

بیوی کا انتخاب احادیث کی روشنی میں

بیوی کا انتخاب احادیث کی روشنی میں
عنوان: بیوی کا انتخاب احادیث کی روشنی میں
تحریر: مولانا محمد اسمعیل حسینی (چترویدی)
پیش کش: بشیر مدنی

نکاح ایک مقدس و پاکیزہ رشتہ ہے جو نسلِ انسانی کی حفاظت و بقا اور انسان کے فطری جذبات کی مناسب تحدید کے لیے وضع ہوا ہے۔ یہ ایسا رشتہ ہے کہ اس سے منسلک ہونے کے بعد دو دل نہیں بلکہ دو خاندانوں میں محبت و قرابت اور اتحاد و اتفاق کی بہاریں ہو جاتی ہیں۔ بنی نوع انسانی کے لیے یہ تحفہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اکثر انبیائے کرام علیہم السلام نے اسے قبولیت سے سرفراز فرمایا۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ، وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاكُ وَالنِّكَاحُ“۔ [سنن ترمذی، باب ماجاء فی فضل التزویج والحث علیہ، ص: ۳۲۸، حدیث: ۱۰۸۲]

یعنی چار چیزیں انبیائے کرام علیہم السلام کی سنتوں سے ہیں:

  1. حیا کرنا
  2. عطر لگانا
  3. مسواک کرنا
  4. نکاح کرنا

امتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کے لیے اس کی اہمیت و افادیت میں مزید چار چاند لگ گئے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنی سنت بھی قرار دیا۔ چناں چہ آپ ﷺ کے تبسم ریز لبِ مبارک گویا ہیں:

النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي“۔ [سنن ابن ماجہ، باب ماجاء فی فضل النکاح، ص: ۱۴۳، حدیث: ۱۸۴۶]

نکاح میری سنت ہے سو جس نے میری سنت پر عمل نہیں کیا وہ مجھ سے نہیں۔

علاوہ ازیں نکاح کے ذریعہ سکون و اطمینان کی بیش قیمت دولت بھی نصیب ہوتی ہے۔ چناں چہ قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ”وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً“۔ [الروم: ۲۱]

ترجمہ: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمھارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی。

مزید یہ کہ نکاح کی لڑی میں شامل ہو جانے سے انسان بد نظری اور بے حیائی جیسے ہلاکت خیز گناہ سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ“۔ [صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم، ص: ۱۲۹۳، حدیث: ۵۰۶۶]

اے جوانو! تم میں جو کوئی نکاح کی استطاعت رکھتا ہے وہ نکاح کرے کہ یہ اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے سے نگاہ کو روکنے والا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس میں نکاح کی استطاعت نہیں وہ روزے رکھے کہ روزہ قاطعِ شہوت ہے۔

نکاح کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی برکت سے ایک مومن کا دو تہائی ایمان محفوظ ہو جاتا ہے اور جب انسان نکاح کے رشتہ میں بندھ جاتا ہے تو انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطانِ لعین حسرت و یاس اور غم و اندوہ کے دریا میں ڈوب کر کفِ افسوس ملتا ہے۔ چناں چہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے حبیب ﷺ نے فرمایا:

إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمْ، عَجَّ شَيْطَانُهُ يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ! عَصَمَ ابْنُ آدَمَ مِنِّي ثُلُثَيْ دِينِهِ“۔ [کنزالعمال، کتاب النکاح، الحدیث: ۴۴۴۵۴، ج: ۱۶، ص: ۲۷۸،]

ترجمہ: جب تم میں کوئی نکاح کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے۔ ہائے افسوس! ابنِ آدم نے مجھ سے اپنا دو تہائی دین بچا لیا。

لیکن نکاح جیسے مقدس رشتہ سے پہلو تہی کرنے والے اور اس کی اہمیت کو نہ سمجھنے والے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے حق میں سخت وعید بیان فرمائی۔ چناں چہ آپ ﷺ فرماتے ہیں:

مَنْ كَانَ مُوسِرًا لِأَنْ يَنْكِحَ فَلَمْ يَنْكِحْ فَلَيْسَ مِنَّا“۔ [المصنف لابن أَبِي شَيْبَةَ، كِتَابُ النِّكَاحِ فِي التَّزْوِيجِ مَنْ كَانَ يَأْمُرُ بِهِ وَيَحُثُّ عَلَيْهِ، ج: ۴، ص: ۲۵۳،]

یعنی جو اتنا مال رکھتا ہے کہ نکاح کرلے، پھر نکاح نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔

ظاہر ہے کہ جس کو نبی کریم ﷺ اپنی سنت قرار دیں اور جسے بد نظری و بے حیائی سے حفاظت کا سبب بتائیں اور جس رشتہ سے بندھ جانے کے بعد شیطانِ لعین آہ و بکا اور رنج و غم میں مبتلا ہو جائے اور سب سے بڑی بات تو یہ کہ استطاعت کے باوجود اس سعادت سے بہرہ ور نہ ہونے والے کے لیے نبی محتشم ﷺ فرمائیں کہ وہ ہم میں سے نہیں تو اس کی اہمیت و افادیت کا کون انکار کر سکتا ہے۔ لیکن اس سنت کی بجا آوری میں شریکِ حیات کے انتخاب میں احتیاط حد درجہ ضروری ہے۔ کیوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان جس کو اپنا شریکِ حیات بنائے اس کے ساتھ زندگی گزارنے میں کوفت کا احساس ہونے لگے اور پھر پوری زندگی اجیرن ہو جائے۔ اس لیے ایک مرد، بیوی کے انتخاب میں کس چیز کو معیار بنائے؟ اور کس خصوصیت کی بنا پر کسی کو شریکِ حیات بنایا جا سکتا ہے؟ اور کس خصوصیت کو ترجیح دے؟

ان سوالات کے جواب احادیثِ رسول ﷺ میں واضح انداز میں موجود ہیں۔ چناں چہ انسان، بیوی کے انتخاب میں کن کن خصوصیات کو معیار بناتا ہے اور ان میں کس کو ترجیح دینی چاہیے، اس کی رہنمائی فرماتے ہوئے نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ“۔ [صحیح مسلم، باب استحباب نکاح ذات الدین، ص: ۶۹۳، حدیث: ۳۵۲۵]

یعنی عورت سے نکاح چار باتوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے (نکاح میں ان کا لحاظ ہوتا ہے):

  1. مال
  2. حسب
  3. جمال
  4. دین کی وجہ سے، اور تو دین والی کو ترجیح دے۔

اسی طرح ایک دوسری حدیث پاک میں نیک عورت کو دنیا کی سب سے بہترین مال و متاع اور ساز و سامان قرار دیا۔ جیسا ذیل کی حدیث پاک سے بالکل عیاں ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ[صحیح مسلم، باب خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحۃ، ص: ۶۹۵، حدیث: ۳۵۳۴]

یعنی اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: دنیا متاع ہے اور دنیا کی بہتر متاع نیک عورت。

مذکورہ احادیثِ مبارکہ میں غور فرمائیں کہ نبی معظم ﷺ نے اپنے مختصر جملے میں انتخابِ زوجہ کے حوالے سے کتنی اہم خصوصیت کی طرف رہنمائی فرمائی۔ یقیناً اگر عورت نیک خصلت ہوگی، بیوی دین کی دولت سے مالا مال ہوگی اور زوجہ تقویٰ کے زیور سے آراستہ ہوگی تو خود بھی دین اور شریعت کے دائرے میں رہے گی، اپنے شوہر کی اطاعت شعار ہوگی، گھر والوں سے ادب و احترام سے پیش آئے گی اور گھر کے معاملات میں بھی دین و شریعت سے تعاون حاصل کرے گی۔ اور پھر گھر امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ لیکن اگر انتخابِ زوجہ میں دینداری، تقویٰ شعاری اور نیکو کاری کا لحاظ نہ کیا جائے تو معاملہ بالکل برعکس ہوگا۔ احادیثِ مبارکہ میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ چناں چہ دینداری اور تقویٰ شعاری کو انتخابِ زوجہ میں معیار نہ بنانے میں جو وبال ہے اس کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ یوں بیان فرماتے ہیں:

سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لِعِزِّهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا ذُلًّا، وَمَنْ تَزَوَّجَهَا لِمَالِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا فَقْرًا، وَمَنْ تَزَوَّجَهَا لِحَسَبِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا دَنَاءَةً، وَمَنْ تَزَوَّجَهَا لَمْ يَتَزَوَّجْهَا إِلَّا لِيَغُضَّ بَصَرَهُ وَيُحْصِنَ فَرْجَهُ أَوْ يَصِلَ رَحِمَهُ، بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهَا وَبَارَكَ لَهَا فِيهِ“۔ [المعجم الاوسط، باب من اسمه إِبْرَاهِيم، ج: ۳، ص: ۲۱، حدیث: ۲۳۴۴]

میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی عورت سے اس کی عزت کے سبب نکاح کیا اللہ تعالیٰ اسے ذلیل بنائے گا۔ جس نے اس کی مال و دولت کی وجہ سے نکاح کیا اللہ عزوجل اسے مزید محتاج کر دے گا۔ جس نے اس کے حسب و نسب کے باعث نکاح کیا اللہ سبحانہ اس کی دناءت میں اضافہ فرمائے گا لیکن جس نے کسی عورت سے صرف اس لیے نکاح کیا کہ نظر اور شرم گاہ کی حفاظت یا صلۂ رحمی کرے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس نکاح میں مرد اور عورت دونوں ہی کے لیے برکت عطا فرمائے گا۔

اور اگر بیوی نیک اور صالحہ ہوگی تو اس کے کیا کیا فوائد ہیں، آقائے کائنات فخرِ موجودات ﷺ کی زبانِ اقدس سے ملاحظہ فرمائیں۔ آپ فرماتے ہیں:

مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللَّهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ، إِنْ أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِنْ أَقْسَمَ عَلَيْهَا أَبَرَّتْهُ، وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ“۔ [ابن ماجہ، کتاب النساء، باب افضل النساء، ص: ۱۴۵، حدیث: ۱۸۵۷]

یعنی تقویٰ کے بعد مومن کے لیے نیک بی بی سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اگر اسے حکم کرتا ہے تو وہ اطاعت کرتی ہے، اگر اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا بیٹھے تو قسم سچی کر دے اور کہیں کو چلا جائے تو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں بھلائی کرے (خیانت و ضائع نہ کرے)۔

ان احادیثِ کریمہ کی روشنی میں ہر ذی علم اور ذی فہم پر واضح ہے کہ بیوی کے انتخاب کا سب سے بہترین معیار دینداری ہے۔ کیوں کہ اگر عورت میں دینداری ہوگی تو وہ اپنے شوہر اور گھر والوں کی اطاعت شعار ہوگی، اپنے شوہرِ سرتاج اور گھر والوں کو خوش رکھے گی اور گھر کو شاد و آباد رکھے گی۔ ہاں! ایک عورت کی طرف نبی کریم ﷺ نے رہنمائی فرمائی جس سے نکاح کیا جائے۔ اور وہ ہے محبت کرنے والی اور بچہ جننے والی عورت۔ یہ اس لیے تاکہ آپ ﷺ بروزِ قیامت اپنی امت کی کثرت پر فخر کا اظہار فرمائیں گے۔ چناں چہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے ایک شخص نے حاضرِ بارگاہ ہو کر سوال کیا:

إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ وَإِنَّهَا لَا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: لَا. ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ[سنن ابوداؤد، باب النہی عن تزوج من لم یلد من النساء، ص: ۳۸۰، حدیث: ۲۰۵۰]

یعنی میں نے عزت و منصب و مال والی ایک عورت پائی، مگر اس کے بچہ نہیں ہوتا کیا میں اس سے نکاح کر لوں؟ حضور ﷺ نے منع فرمایا۔ پھر دوبارہ حاضر ہوکر عرض کی، حضور ﷺ نے منع فرمایا، تیسری مرتبہ حاضر ہوکر پھر عرض کی، ارشاد فرمایا: ”ایسی عورت سے نکاح کرو، جو محبت کرنے والی، بچہ جننے والی ہو کہ میں تمھارے ساتھ اور امتوں پر کثرت ظاہر کرنے والا ہوں“۔

نبی اکرم ﷺ کا ارشادِ مبارک ملاحظہ فرمائیں کہ آپ ﷺ سے عزت، منصب اور مال والی لیکن بچہ نہ جننے والی عورت سے نکاح کے تعلق سے سوال ہوا تو آپ ﷺ نے منع فرماتے ہوئے محبت اور بچہ جننے والی عورت سے نکاح کا حکم فرمایا。

درج بالا تمام احادیثِ مبارکہ سے واضح ہے کہ بیوی کا انتخاب اس کے مال و دولت کے سبب نہ کیا جائے، بیوی کا انتخاب اس کے حسب و نسب کی وجہ سے نہ کیا جائے، بیوی کا انتخاب اس کے منصب و عہدہ کی بنیاد پر نہ کیا جائے اور بیوی کا انتخاب اس کے حسن و جمال کے باعث نہ کیا جائے بلکہ اگر انتخاب کیا جائے تو دینداری کے سبب، تقویٰ شعاری کی بنیاد پر، مطیع و فرماں برداری کی وجہ سے اور نیک اور پرہیزگاری کے باعث کیا جائے۔ ہاں اگر ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ اگر حسب و نسب، مال و دولت اور حسن و جمال والی ہو تو سونے پر سہاگہ، لیکن انتخاب کا اصل معیار صرف اور صرف دینداری ہو۔

ان احادیث سے ان لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں جو انتخابِ زوجہ میں مال و دولت، حسب و نسب، عہدہ و منصب اور زیب و زینت، اور خوبصورتی کو دیکھتے ہیں اور دینداری کا بالکل خیال نہیں کرتے۔ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شادی کرے خانہ آبادی کے لیے لیکن یہ آبادی کے بجائے خانہ بربادی کا سبب بن جائے۔ پھر تو زندگی کا ہر ہر لمحہ امتحان و آزمائش کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

حوالہ: [سہ ماہی سنی پیغام، نیپال اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۷ء، ص: ۴۳، ۴۴، ۳۶]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!