| عنوان: | اعلیٰ حضرت اور نیوٹن (Newton) کی کششِ ثقل (Gravity) (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: |
محمد ہاشم رضا قادری امجدی
خادم التدریس: طیبۃ العلماء جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
کچھ دنوں قبل ”مکالمہ“ نامی ایک ویب سائٹ (Website) پر ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں حضور سیدی اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رسالے ”فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین“ پر بنامِ مسلم ایک شخص نے جو کہ اپنے آپ کو بظاہر فزکس (Physics) کا عالم کہہ رہا تھا، ایک لمبی چوڑی تحریر پوسٹ کی جس میں اس نے کہا کہ: ”میں نے ایک عالم کی تقریر میں سنا کہ اعلیٰ حضرت نے زمین کی حرکت کے رد میں ایک رسالہ بنام ”فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین“ تحریر کر کے سائنسدانوں کا منہ بند کر دیا۔ مجھے شوق ہوا کہ اس کتاب کا مطالعہ کروں، لہٰذا میں نے اس کتاب کی پی ڈی ایف (PDF) فائل ڈاؤنلوڈ کر کے مطالعہ کرنا شروع کیا لیکن اس کی اردو سے یہ اندازہ ہو چلا کہ یہ کتاب سمجھنے کے لیے نہیں لکھی گئی ہے۔ پھر میں نے اس کا انگلش ایڈیشن ڈاؤنلوڈ کر کے مطالعہ کرنے کی کوشش کی پھر بھی کوئی بات سمجھ میں نہ آئی سوائے اس کے کہ مولانا نے اس میں عظیم سائنسدانوں جیسے نیوٹن، کیپلر، آئن سٹائن وغیرہ کو گالیوں سے نوازا ہے اور پاگل و مجنوں جیسے القابات سے یاد کیا ہے“۔ بالآخر تھوڑے بہت صفحات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ کہہ کر اس نے کتاب بند کر دی کہ ”جو نقصان میرے علمِ فزکس کو اس کتاب کے مطالعے سے پہنچا ہے اس کے کفارے کے طور پر اے بریف ہسٹری آف ٹائم (A Brief History of Time) دوبارہ پڑھوں گا (جو کہ اسٹیفن ہاکنگ کی ایک کتاب ہے)“۔
اس پورے مضمون کو پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موصوف نے اپنی کم فہمی کو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان کے علم کے ساتھ جوڑ دیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اعلیٰ حضرت کا یہ رسالہ صرف ان سائنسدانوں کی ہجو پر مبنی ہے۔ اس سے یہ تو ثابت ہوتا ہی ہے کہ اعلیٰ حضرت کی اردو سمجھنا بھی ہر کس و ناکس کا کام نہیں، ساتھ ہی اعلیٰ حضرت کی علمِ سائنس پر دقتِ نظر کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کا ایک مضمون ”الف یار“ نامی ویب سائٹ پر بھی پڑھنے کو ملا۔ اس طرح کے مضامین کو پڑھنے کے بعد ضرورت تھی کہ اعلیٰ حضرت کے اس رسالے کے کچھ مباحث اور اس کے کچھ پہلوؤں کو آسان لب و لہجے میں قارئین کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ علومِ جدیدہ میں اعلیٰ حضرت کے تبحرِ علمی، دقتِ نظر، وسعتِ مطالعہ کی کیا شان ہے۔
آج تقریباً پوری دنیا میں زمین کے متحرک ہونے کے نظریے کو تسلیم کر لیا گیا ہے لیکن یہ نظریہ اسلامی نظریے کے خلاف ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ حرکت نہ کریں۔ [سورۃ الفاطر: 41]
اس کے علاوہ اور بھی بہت سی آیتیں اس پر شاہد ہیں، اس لیے اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر کئی رسالے تحریر فرمائے لیکن خاص اس رسالے میں زمین کی حرکت کے ابطال پر 105 دلائل قائم کیے اور وہ سارے دلائل اُس دور کے جدید علمِ سائنس کی رو سے ذکر فرمائے، تاکہ مسلمانوں کے عقیدے کا تحفظ ہو سکے۔ ہم صرف ایک دلیل کو یہاں پر ذکر کریں گے، جس کو شوق ہو وہ اعلیٰ حضرت کے اس رسالے کا دقتِ نظر سے مطالعہ کرے۔ سب سے پہلے ہم اس فاسد نظریے سے متعلق جدید سائنسی تجزیہ پیش کرتے ہیں پھر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا اس پر رد ذکر کریں گے۔
1665ء یا 1666ء میں ایک برطانوی سائنسدان آئزک نیوٹن (Isaac Newton) نے ایک نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق کائنات میں پائے جانے والے ہر مادی جسم کے درمیان کشش ہوتی ہے جس کے سبب ایک جسم دوسرے جسم کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور جو جسم جتنا بڑا ہوگا اس میں کشش بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی اور ان دو جسموں کے درمیان فاصلہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ کشش بھی کمزور پڑ جاتی ہے اور اگر فاصلہ کم ہو تو کشش بھی زیادہ ہوگی۔ نیوٹن کے اس نظریے نے کششِ ثقل یعنی گریویٹی (Gravity) کی بنیاد ڈالی، جو کہ زمین کے متحرک ہونے پر سب سے بڑی بنیادی دلیل ہے۔
اسی کششِ ثقل کے تحت سارا نظامِ شمسی قائم ہے اور سولر سسٹم کے سیارے اسی کشش کے سبب سورج کے گرد محوِ گردش ہیں اور سائنس کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ہر دو مادی جسم کے درمیان دو قوتیں ہوتی ہیں، ایک اٹریکشن (Attraction) اور دوسری ریپلشن (Repulsion) یعنی ہر دو مادی جسم کے درمیان دو ایسی قوتیں ہوتی ہیں جس کے ذریعے جسم ایک دوسرے کے قریب اور دور ہونا چاہتا ہے۔
Attraction is a force between two or more dissimilar or unlike charges. Two charges of dissimilar characteristics pull towards each other.
Repulsion is a force between two or more similar or like charges. Two charges of similar characteristics pull away from each other.
[Image demonstrating attraction and repulsion forces in physics, showing how like charges repel and opposite charges attract]
موجودہ سائنس کے نظریۂ گردشِ زمین کا سارا نظام اسی کششِ ثقل (Gravity) پر مبنی ہے لہٰذا اگر کششِ ثقل کو باطل کر دیا جائے تو یہ نظریہ خود بخود باطل قرار پائے گا۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس رسالے میں خصوصیت کے ساتھ کشش (Attraction)، کششِ ثقل یا جاذبیت (Gravity) اور نافریت (Repulsion) تینوں کا رد فرمایا اور اس باطل نظریے کو ایک مجنوں کی خام خیالی قرار دیا۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”ہر جسم میں دوسرے کو اپنی طرف کھینچنے کی ایک قوتِ طبعی ہے جسے جاذبہ یا جاذبیت کہتے ہیں۔ اس کا پتہ نیوٹن کو 1665ء میں اس وقت چلا جب وہ وبا سے بھاگ کر کسی گاؤں گیا، باغ میں تھا کہ درخت سے سیب ٹوٹا اُسے دیکھ کر اسے سلسلۂ خیالات چھوٹا جس سے قواعدِ کشش کا بھبوکا پھوٹا۔ اقول: سیب گرنے اور جاذبیت کا آسیب جاگنے میں علاقہ بھی ایسا لزوم کا تھا کہ وہ گرا اور یہ زمین تھی اُس کا جذب خیال میں آیا اور اوپر دیکھا تو سیب شاخ سے بھاگتا پایا، یوں نافرہ کا ذہن لڑایا حالانکہ نیچے لانے کو ان میں ایک کافی ہے دو کس لیے۔“ [فوزِ مبین]
اعلیٰ حضرت نے جاذبیت کے رد میں اوج و حضیضِ شمس کا قاعدہ ذکر فرمایا، اس قاعدے کی رو سے ہم سال بھر مشاہدہ کرتے ہیں کہ سورج کبھی زمین سے انتہائی قریب تو کبھی انتہائی دور ہو جاتا ہے، جس کے سبب سے موسم میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، کبھی بعض علاقوں میں شدت کی ٹھنڈ تو بعض میں جھلسا دینے والی گرمی اور کبھی اس کے برعکس ہوتا ہے۔ سورج سے زمین کے اسی غایتِ بعد کو اوج (Apogee or Aphelion) اور غایتِ قرب کو حضیض (Perigee or Perihelion) کہتے ہیں۔ اوجِ شمس 3 یا 4 جولائی کو جبکہ حضیضِ شمس 3 یا 4 جنوری کو ہوتا ہے۔
(جاری ہے...) [ماخوذ از: سہ ماہی امجدیہ، جولائی تا ستمبر 2023ء]
