| عنوان: | امت کا درد اور ہمارا کردار |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ ام الورع ایوبی |
| پیش کش: | ندائے قلم، ایوبیہ اکیڈمی للبنات |
امتِ مسلمہ کا درد کوئی معمولی آہ نہیں، یہ ایک ایسا سوز ہے جو دلوں کی گہرائیوں میں سلگتا ہے، ایک خاموش فریاد جو فضاؤں میں گونجتی ہے مگر سننے والے کم ہیں۔ کہیں مظلوم کی چیخ ہے، کہیں بے بسی کی تصویر، کہیں ایمان کی حرارت ماند پڑتی ہوئی، یہ سب مل کر ایک ایسا دردناک منظر پیش کرتے ہیں کہ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل بوجھل سا ہو جاتا ہے۔ یہ درد کسی ایک خطے، ایک قوم یا ایک طبقے کا نہیں بلکہ پوری امت کے وجود میں دوڑتا ہوا وہ لہو ہے جو ہمیں ایک جسم بناتا ہے۔ مگر افسوس! آج یہی جسم اپنے ہی زخموں سے ناواقف، اپنی ہی کمزوریوں میں گرفتار نظر آتا ہے۔ ہم نے اتحاد کی ڈور کو خود ہی کمزور کیا، محبت کے چراغ خود ہی بجھائے اور پھر اندھیروں کا شکوہ بھی ہم ہی کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اپنے اندر جھانک کر دیکھا ہے؟ کیا ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ امت کے اس زوال میں ہمارا اپنا حصہ کیا ہے؟ ہم دوسروں کے حالات پر آنسو تو بہاتے ہیں، مگر اپنے اعمال کی اصلاح سے کتنی بار گریز کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ امت کا بگاڑ باہر سے کم اور اندر سے زیادہ پیدا ہوتا ہے، اور جب دلوں میں اخلاص کی جگہ ریا لے لے اور نیتوں میں خلوص کے بجائے مفاد آ جائے تو اجتماعی کمزوری ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امت کی تعمیر کا آغاز فرد کی اصلاح سے ہوتا ہے۔ جب ایک دل سنور جاتا ہے تو ایک گھر سنور جاتا ہے اور جب گھر سنور جائیں تو معاشرہ خود بخود نکھرنے لگتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں تقویٰ کو جگہ دینی ہوگی، اپنے معاملات میں دیانت کو اپنانا ہوگا اور اپنے تعلقات میں نرمی اور درگزر کو شامل کرنا ہوگا۔ یہی وہ چھوٹے چھوٹے اعمال ہیں جو مل کر ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد بنتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری صرف آہ و زاری تک محدود نہیں بلکہ ہمیں اپنے کردار کی شمع روشن کرنی ہے، ہمیں وہ چراغ بننا ہے جو خود جل کر بھی دوسروں کو روشنی دے۔ اگر ہر فرد اپنے اندر اخلاص، تقویٰ اور ایثار کی ایک چنگاری جگا لے تو یہی چنگاری امت کے اندھیروں کو روشنی میں بدل سکتی ہے۔
آج کا دور ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ صرف جذبات کافی نہیں بلکہ شعور اور حکمت بھی ضروری ہیں۔ ہمیں علم کے نور سے اپنے راستے کو روشن کرنا ہے تاکہ ہم صرف درد محسوس کرنے والے نہ رہیں بلکہ درست سمت میں قدم بڑھانے والے بھی بن سکیں، کیونکہ بے سمت جذبہ کبھی منزل تک نہیں پہنچاتا بلکہ ٹھوکر کا سبب بن جاتا ہے۔
پھر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دعا اور عمل کا ساتھ ناگزیر ہے۔ صرف ہاتھ اٹھانا کافی نہیں بلکہ قدم اٹھانا بھی ضروری ہے۔ جب دعا کی تاثیر عمل کے اخلاص سے ملتی ہے تبھی حالات بدلتے ہیں اور تقدیریں سنورتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کے آئینے کو صاف کریں، نفرتوں کی گرد کو جھاڑیں اور محبت و اخوت کے رنگ سے اپنی زندگی کو سنواریں۔ ہمیں وہ لہجہ اپنانا ہے جو دلوں کو جوڑ دے، وہ عمل کرنا ہے جو ٹوٹے رشتوں کو بحال کر دے اور وہ سوچ اپنانی ہے جو امت کو ایک لڑی میں پرو دے۔ امت کا درد دراصل ایک امانت ہے، ایک مقدس امانت جو ہر صاحبِ ایمان کے دل میں رکھی گئی ہے۔ اگر ہم نے اس امانت کا حق ادا کر دیا تو تاریخ ہمارے کردار کو سنہرے حروف میں لکھے گی اور اگر ہم غفلت میں رہے تو یہی درد ہمارے لیے سوال بن کر کھڑا ہوگا۔ آخرکار ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ درد مایوسی کا نہیں بلکہ بیداری کا پیغام ہے، یہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے، ہمیں ہمارے فرض کی یاد دلاتا ہے، اور ہمیں عمل کی طرف بلاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وجود کو امت کے لیے وقف کر دیں، اپنے کردار کو مثال بنا دیں، اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیں کہ ہم صرف درد محسوس کرنے والے نہیں، بلکہ درد کا مداوا کرنے والے بھی ہیں۔
