Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ اور زیارت حرمین شریفین

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ اور زیارت حرمین شریفین
عنوان: حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ اور زیارت حرمین شریفین
تحریر: مفتی محمد یونس رضا مونس اویسی جامعۃ الرضا
پیش کش: بنت جمال الدین اشرفی

ہر مومن بالخصوص عاشق صادق کی تمنا ہوتی ہے کہ حرمین شریفین کی زیارت سے خود کو مشرف کرے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور تاج الشریعہ کو اس شرف سے بھی خوب نوازا ہے۔ آپ نے چھ حج کیے ہیں۔ پہلا حج ۱۳۰۳ھ مطابق ۳ ستمبر ۱۹۸۳ء، دوسرا حج ۱۳۰۵ھ مطابق ۱۹۸۷ء، تیسرا حج ۱۳۰۷ھ مطابق ۱۹۸۸ء، چوتھا حج ۱۴۲۹ھ مطابق ۲۰۰۸ء، پانچواں حج ۱۴۳۰ھ مطابق ۲۰۰۹ء، چھٹا حج ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۰۱۰ء میں کیا۔ اس کے علاوہ ان گنت بار آپ نے عمرہ کیا اور مدینہ منورہ کی حاضری دی۔ کبھی کبھی سال میں دو چار بار مدینہ منورہ حاضر ہو جاتے ہیں۔ علامہ کے اندر ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی لیڈر، حکومت کے رعب و دبدبے سے نہیں ڈرتے۔ مسائل حقہ کا اظہار برملا کر دیتے ہیں۔ انجام کی پرواہ نہیں کرتے۔ دوسرے حج کے موقع پر مولانا کو بعض مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ حضور تاج الشریعہ اپنی اہلیہ کے ساتھ حج و زیارت کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ عرفات سے واپس لوٹنے کے بعد سعودی حکومت نے رات کے وقت مکہ معظمہ میں آپ کو قیام گاہ سے گرفتار کر لیا۔ بلاوجہ گیارہ دن جیل میں رکھ کر بغیر مدینہ شریف کی زیارت کرائے ہندوستان بھیج دیا۔ بمبئی ۱۳ ستمبر ۱۹۸۷ء بروز اتوار ابراہیم مرچنٹ روڈ مینارہ مسجد کے قریب رضا اکیڈمی ممبئی کے زیر اہتمام حضور تاج الشریعہ کے مکہ مکرمہ میں بے جا گرفتاری پر سعودی حکومت کے خلاف ایک شاندار اجلاس منعقد ہوا۔ اس کی صدارت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ رضوی امجدی نے فرمائی۔ ممبئی کے علاوہ ائمہ مساجد کے علاوہ باہر سے آئے ہوئے اکابر علماء نے شرکت فرمائی۔ مجمع تقریباً پچاس ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ مجمع جوش احتجاج میں سعودی حکومت کے خلاف نعرے بلند کرتا رہا۔ اخیر میں حضور تاج الشریعہ نے سعودی حکومت میں اپنی گرفتاری اور زیارت مدینہ منورہ کے بغیر واپس کیے جانے سے متعلق اپنا یہ مختصر سا بیان دیا۔

”۳۱ اگست ۱۹۸۷ء شب میں تین بجے اچانک سعودی حکومت کے سی آئی ڈی پولیس کے لوگ میری قیام گاہ پر آئے اور مجھے بیدار کر کے پاسپورٹ طلب کیا۔ پھر میرے سامان کی تلاشی کا مطالبہ کیا۔ میرے ساتھ میری پردہ نشین بیوی تھیں۔ میں نے انہیں باتھ روم میں بھیج دیا۔ پھر سی آئی ڈی نے باتھ روم کو باہر سے مقفل کر دیا، اور وہ لوگ سپاہیوں کے ساتھ میرے کمرے میں داخل ہوئے۔ مجھے دیوار کے ساتھ لگنے پر حرکت نہ کرنے کی وارننگ دی۔ میرے سامان کی تلاشی لی۔ میرے پاس حضرت مولانا سید علوی مالکی مدظلہ کی دی ہوئی چند کتابیں اور کچھ کتابیں اعلیٰ حضرت کی اور دلائل الخیرات تھیں، ان تمام کتابوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ مجھ سے ٹیلیفون کی ڈائری مانگی۔ جو میرے پاس نہ تھی۔ میرا، میری بیوی کا اور میرے ساتھیوں کے پاسپورٹ ضبط کر کے اور وہ کتابیں ہمراہ لے کر مجھے سی آئی ڈی آفس لائے اور یکے بعد دیگرے میرے رفقاء محبوب اور یعقوب کو بھی اٹھا لائے۔ مجھ سے رات میں کی گئی گفتگو کے بعد پہلا سوال کیا آپ جمعہ کہاں پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا میں مسافر ہوں میرے اوپر جمعہ فرض نہیں۔ لہذا میں نے اپنے گھر میں ظہر پڑھی۔ مجھ سے پوچھا تم حرم میں نماز نہیں پڑھتے ہو؟ میں نے کہا میں حرم سے دور رہتا ہوں، حرم میں طواف کے لیے جاتا ہوں۔ اسی لیے میں حرم میں نماز نہیں پڑھ سکتا۔ مجھ سے کہا آپ کیوں اپنے محلے کی مسجد میں نماز نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کہ بہت سے لوگ ہیں جنہیں میں دیکھتا ہوں کہ وہ محلے کی مسجد میں نماز نہیں پڑھتے اور بہت سے لوگوں کے متعلق مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سرے سے نماز ہی نہیں پڑھتے تو مجھ سے ہی کیوں باز پرس کرتے ہیں؟ مجھ سے پھر بھی اصرار کیا گیا تو میں نے کہا کہ میرے مذہب میں اور آپ لوگوں کے مذہب میں اختلاف ہے، آپ حنبلی کہلاتے ہیں اور میں حنفی ہوں۔ اور حنفی مقتدی کی رعایت غیر حنفی امام اگر نہ کرے تو حنفی کی نماز صحیح نہیں ہو گی۔ اس وجہ سے میں نماز علیحدہ پڑھتا ہوں۔ مجھ سے حضرت علامہ سید علوی مالکی مدظلہ کی کتابوں کے متعلق پوچھا کہ یہ تمہیں کیسے ملیں؟ میں نے کہا یہ مجھے کتابیں انہوں نے چند روز پہلے دی ہیں، جب میں ان سے ملنے گیا تھا۔ مجھ سے سوال کیا کہ کیا یہ پہلی ملاقات تھی۔ میں نے کہا ہاں! پہلی ملاقات تھی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کی چند کتابیں دیکھ کر جو فقہ اور مسائل حج کے متعلق تھیں پوچھا ان سے تمہارا کیا رشتہ ہے؟ میں نے کہا وہ میرے دادا تھے۔ اس مختصر انکوائری کے بعد مجھے رات گزر جانے کے بعد فجر کے وقت جیل بھیج دیا گیا۔ دس بجے پھر سی آئی ڈی سے گفتگو ہوئی، اس نے مجھ سے پوچھا کہ ہندوستان میں کتنے فرقے ہیں، میں نے شیعہ، قادیانی وغیرہ چند فرقے گنائے اور میں نے واضح کیا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ نے قادیانیوں کا رد کیا ہے، اور اس کے رد میں چھ رسالے جزاء اللہ عدوہ، قہر الدیان، السوء العقاب وغیرہ لکھے ہیں۔ ہم پر کچھ لوگ یہ تہمت لگاتے ہیں اور آپ کو یہ بتایا ہے کہ ہم اور قادیانی ایک ہیں، یہ غلط ہے۔ اور وہی لوگ ہمیں بریلوی کہتے ہیں۔ جس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ بریلوی کسی نئے مذہب کا نام ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ ہم اہل سنت و جماعت ہیں۔“

سی آئی ڈی کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ نے کسی نئے مذہب کی بنیاد نہیں ڈالی بلکہ ان کا مذہب وہی تھا جو سرکار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور صحابہ و تابعین کا اور ہر زمانے کے صالحین کا مذہب ہے۔ اور یہ کہ ہم اپنے آپ کو اہل سنت و جماعت کہلوانا ہی پسند کرتے ہیں۔ اور ہمیں اس مقصد سے بریلوی کہنا کہ ہم کسی نئے مذہب کے پیرو ہیں، ہم پر بہتان ہے۔ سی آئی ڈی کے پوچھنے پر میں نے وہابی اور سنی کا فرق مختصر طور پر واضح کیا۔ میں نے کہا کہ وہابی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے علم غیب، اور ان کی شفاعت، اور ان سے توسل، اور استمداد اور انھیں پکارنے کے منکر ہیں۔ اور ان امور کو شرک بتاتے ہیں۔ جب کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے توسل جائز ہے، اور انھیں پکارنا بھی، اور یہ کہ وہ سنتے بھی ہیں، اور اللہ کے بتائے سے غیب کو جاننے بھی ہیں، اور اللہ نے ان کو شفاعت کا منصب عطا فرمایا ہے، اور علم غیب پر سی آئی ڈی کے پوچھنے پر آیات قرآنی سے میں نے دلیلیں قائم کیں اور یہ ثابت کیا کہ نبوت اطلاع علی الغیب ہی کا نام ہے، اور نبی وہی ہے جو اللہ کے بتانے سے علم غیب کی خبر دے اور یہ کہ نبی کے واسطے سے ہر مومن غیب جانتا ہے جیسا کہ قرآن مقدس میں منصوص ہے۔ سی آئی ڈی کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد وصال بھی غیب کی خبر ہے۔ اس لیے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت باقی ہے اور نبوت غیب جاننے ہی کو کہتے ہیں۔ پھر یہ کہ آیتوں میں ایسی قید نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ بعد وصال سرکار صلی اللہ علیہ وسلم علم غیب نہیں جانتے ہیں۔ ایک اور نشست میں سی آئی ڈی کے مطالبہ پر میں نے توسل کی دلیل میں وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ [المائدۃ: 35] آیت پڑھی اور یہ بتایا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے توسل من جملہ اعمال صالحہ ہے، اور یہ کہ کسی عمل کا صالح ہونا اور وسیلہ ہونا اس شرط پر موقوف ہے کہ وہ مقبول ہو، اور سرکار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ مقبول بارگاہ الوہیت ہیں بلکہ سید المقبولین ہیں، تو ان سے توسل بدرجہ اولیٰ جائز ہے اور توسل شرک نہیں ہے۔

سی آئی ڈی کے کہنے پر میں نے مزید کہا کہ کسی سے اس طور پر مدد مانگنا کہ اللہ کے سوا اس کو مستقل اور فاعل سمجھے شرک ہے اور ہم اس طور پر کسی سے مدد مانگنے کے قائل نہیں ہیں۔ ہاں اللہ کی مدد کا وسیلہ جان کر کسی مقبول بارگاہ سے مدد مانگنا ہرگز شرک نہیں ہے۔ سی آئی ڈی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم میں اور وہابیوں میں یہ فرق ہے کہ وہ ہمیں توسل وغیرہ امور کی بنا پر کافر و مشرک بتاتے ہیں لیکن ہم ان کو محض اس بنا پر کافر و مشرک نہیں کہتے (یعنی اس کے وجوہات اور ہیں)۔

دوسرے دن میرے ان بیانات کی روشنی میں سی آئی ڈی نے میرے لیے ایک اقرار نامہ اس نے خود لکھ کر مجھے سنایا جو یوں تھا ”میں فلاں بن فلاں بریلوی مذہب کا مطیع ہوں“ میں نے اعتراض کیا کہ میں بارہا یہ کہہ چکا ہوں کہ بریلوی کوئی مذہب نہیں ہے اور اگر کوئی نیا مذہب بنام بریلوی ہے تو میں اس سے بری ہوں۔ آگے اقرار نامہ میں اس نے یوں لکھا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کا پیرو ہوں اور بریلویوں میں سے ایک ہوں، اور ہمارا عقیدہ ہے کہ سرکار سے توسل، استغاثہ اور ان کو پکارنا جائز ہے۔ اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں، اور وہابی ان امور کو شرک بتاتے ہیں اور یہ کہ میں ان کے پیچھے اس وجہ سے نماز نہیں پڑھتا ہوں کہ وہ ہم سنیوں کو مشرک بتاتے ہیں۔ اقرار نامہ کے آخر میں میرے مطالبے پر اس نے یہ اضافہ کیا کہ بریلویت کوئی نیا مذہب نہیں ہے، اور ہم لوگ اپنے آپ کو اہل سنت و جماعت کہلوانا ہی پسند کرتے ہیں۔ پھر مختلف نشستوں میں بار بار وہی سوالات دہرائے، بعد میں مجھ سے میرے سفر لندن کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ کیا وہاں آپ نے کسی کانفرنس میں شرکت کی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ کانفرنس حکومت کے پیمانے اور سیاسی سطح پر ہوتی ہے، ہم لوگ نہ سیاسی ہیں نہ کسی حکومت سے ہمارا رابطہ ہے۔

سی آئی ڈی کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ لندن کے اس اجلاس میں جس میں شریک تھا، بنام بریلویت مسائل پر مباحثہ نہ ہوا، بلکہ اتحاد اسلام اور تنظیم المسلمین پر تقاریر ہوئیں، اور اس جلسہ کا خرچ وہاں کے سنی مسلمانوں نے اٹھایا، اور اس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ امام احمد رضا فاضل بریلوی کے پیرو اہل سنت و جماعت کو رابطہ عالم اسلامی میں نمائندگی دی جائے۔ جس طرح ندویوں وغیرہ کو رابطہ میں نمائندگی حاصل ہے۔

سی آئی ڈی کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ یہ تجویز بالاتفاق رائے پاس ہو گئی تھی۔ تیسری نشست میں جب دو نشستوں کی تفتیش ختم ہو چکی اور میرا اقرار نامہ خود تیار کر چکے، تو مجھ سے ایک بڑے سی آئی ڈی آفیسر نے کہا کہ میں آپ کا آپ کے علم، عمر اور شخصیت کی وجہ سے احترام کرتا ہوں، اور آپ سے مخصوص اوقات میں دعاؤں کا طالب ہوں۔ گرفتاری کا سبب میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ آپ کا کیس معمولی ہے، ورنہ اس وقت جب سپاہی ہتھکڑی ڈال کر آپ کو لایا تھا، میں آپ کی ہتھکڑی نہ کھلواتا۔

مختصر یہ کہ مسلسل سوالات کے باوجود میرا جرم میرے بار بار پوچھنے کے بعد بھی مجھے نہ بتایا، بلکہ یہی کہتے رہے کہ میرا معاملہ اہمیت نہیں رکھتا لیکن اس کے باوجود میری رہائی میں تاخیر کی اور بغیر اظہار جرم مجھے مدینہ منورہ کی حاضری سے موقوف رکھا۔ اور گیارہ دنوں کے بعد جب مجھے جدہ روانہ کیا گیا تو میرے ہاتھوں میں جدہ ایئرپورٹ تک ہتھکڑی پہنائے رکھی، اور راستہ میں نماز ظہر کے لیے موقع بھی نہ دیا گیا اس وجہ سے میری نماز ظہر بھی قضا ہو گئی۔ [فتاوی تاج الشریعہ، ج: اول، ص: 52 تا 56]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!