| عنوان: | حج کی فرضیت اور اس کی قسمیں |
|---|---|
| تحریر: | فقیہ ملت الحاج مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | بنت جمال الدین اشرفی |
حج کی فرضیت اور اس کی قسمیں
حج بھی نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی طرح اسلام کا ایک اہم فریضہ اور پانچواں رکن ہے۔ نماز روزہ جسمانی عبادت ہیں۔ زکوٰۃ مالی عبادت ہے اور حج جسمانی و مالی عبادت کا مجموعہ ہے۔ صاحب استطاعت عاقل، بالغ مسلمان مرد و عورت پر عمر میں ایک بار حج کرنا فرض ہے۔ پارہ چہارم کے پہلے رکوع میں ہے: وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا [آل عمران: 97] یعنی اور اللہ کے لیے لوگوں پر بیت اللہ شریف کا حج فرض ہے جو شخص کہ اس تک راستے کی طاقت رکھے۔ اور حدیث شریف میں ہے جس کو اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے حج کیا اور رفث یعنی فحش کلام نہ کیا اور فسق نہ کیا تو گناہوں سے پاک ہو کر ایسا لوٹا جیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ [بخاری، مسلم] اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ حاجی اپنے گھر والوں میں سے چار سو کی شفاعت کرے گا اور گناہوں سے ایسا نکل جائے گا کہ جیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ [رواہ البزار] اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا کہ جسے حج کرنے سے نہ مرض کا مانع ہوئی نہ ظالم بادشاہ اور نہ کوئی ایسا مرض جو روک دے پھر وہ حج کے بغیر گیا تو چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔ [دارمی]
جس طرح ہر مسلمان پر نماز و روزہ کے مسائل اور مالک نصاب پر زکوٰۃ کے مسائل سیکھنا واجب ہے اسی طرح جب کوئی مسلمان حج کا ارادہ کرے تو اس پر حج کے مسائل سیکھنا ضروری ہے تاکہ حج صحیح طور پر ادا ہو۔ سفر کی عنت مشقت اور روپیہ بیکار نہ جائے۔ پہلے حاجی اپنی نیت درست کر لے یعنی اس مبارک سفر سے حج کی ادائیگی اور اللہ و رسول کی خوشنودی مدنظر ہو۔ حاجی کہلانے، ملک عرب کی تفریح یا تجارت وغیرہ کوئی دنیوی مقصد نہ ہو کہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ [بخاری، مسلم] واضح ہو کہ حج ادا کرنے کے تین طریقے ہیں یعنی حج کی تین قسمیں ہیں: قران، تمتع، افراد۔ ان میں قران سب سے افضل ہے پھر تمتع اور پھر افراد۔
- قران: حج قران کرنے والے کو قارن کہتے ہیں۔ قارن میقات پر پہنچ کر احرام باندھنے کے لیے حج اور عمرہ دونوں کی نیت ایک ساتھ کرتا ہے۔ قران کی نیت یہ ہے: اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اُرِيْدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهُمَا لِيْ وَتَقَبَّلْهُمَا مِنِّيْ ترجمہ: اے اللہ! میں حج و عمرہ دونوں کی نیت کرتا ہوں پس تو دونوں کو میرے لیے آسان فرما اور ان دونوں کو میری طرف سے قبول فرما۔ قارن مکہ معظمہ پہنچ کر عمرہ کا طواف رمل و اضطباع کے ساتھ کرتا ہے (رمل و اضطباع داہنا کندھا کھول کر پہلوان کی طرح چھوٹا قدم رکھے اور اکڑتا چلاتے ہوئے جلد جلد چلے کو کہتے ہیں جس کی تفصیل آگے آئے گی) کعبہ شریف کا طواف پورا کرنے کے بعد سعی کرتا ہے یعنی صفا و مروہ کے درمیان سات پھیرے لگاتا ہے۔ اس طرح قران کا ایک جز یعنی عمرہ پورا ہو جاتا ہے مگر اس کے بعد حلق نہیں کرواتا اور نہ احرام اتارتا ہے بلکہ اس کے بعد طواف قدوم کرتا ہے اور طواف قدوم کا وقوف عرفات سے پہلے کرنا مسنون ہوتا ہے۔ اگر اس طواف کے بعد طواف زیارت کی سعی کرنا چاہتا ہے تو طواف قدوم میں رمل و اضطباع بھی کرتا ہے اور اگر طواف زیارت کی سعی نہیں کرنا چاہتا ہے تو طواف قدوم میں رمل و اضطباع نہیں کرتا۔ اس طواف کے بعد سعی نہیں ہوتی اس میں رمل و اضطباع نہیں ہوتا۔ قارن عمرہ اور طواف قدوم سے فراغت کے بعد مکہ معظمہ میں احرام کے ساتھ رہتا ہے اور جس قدر ہو سکتا ہے نفل طواف کرتا رہتا ہے پھر آٹھویں ذی الحجہ کو اسی احرام کے ساتھ منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور رمی جمار سارے مشاعر حج کے تمام ارکان ادا کرتا ہے اور قربانی کرنے کے بعد سر منڈاتا ہے یا کترواتا ہے اور پھر احرام اتار دیتا ہے اس کے بعد مکہ شریف پہنچ کر طواف زیارت کرتا ہے۔ اس طرح سے حج قران کیا جاتا ہے۔ انتباہ: درمیان میں اگر احرام کی چادر کسی وجہ سے بدلنا چاہتا ہے تو بدل بھی سکتا ہے۔
- تمتع: حج تمتع کرنے والے کو متمتع کہتے ہیں۔ متمتع میقات پر پہنچ کر صرف عمرہ کی نیت سے احرام باندھتا ہے۔ عمرہ کی نیت یہ ہے: اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اُرِيْدُ الْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهَا لِيْ وَتَقَبَّلْهَا مِنِّيْ ترجمہ: اے اللہ! میں عمرہ کی نیت کرتا ہوں پس تو اسے میرے لیے آسان کر دے اور اسے میری طرف سے قبول فرما۔ متمتع مکہ شریف پہنچ کر عمرہ کا طواف رمل و اضطباع کے ساتھ کرتا ہے پھر سعی کرتا ہے اس کے بعد حلق یا قصر کر کے احرام کھول دیتا ہے۔ اس طرح عمرہ پورا ہو جاتا ہے اور جب تک مکہ معظمہ میں رہتا ہے جس قدر چاہتا ہے نفل طواف کرتا رہتا ہے پھر آٹھویں ذی الحجہ کو حج کی نیت سے احرام باندھتا ہے اور حج کے تمام ارکان ادا کر کے قربانی کرتا ہے پھر حلق یا قصر کرواتا ہے اور احرام اتار کر طواف زیارت کرتا ہے اس طرح حج تمتع کیا جاتا ہے جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
- افراد: حج افراد کرنے والے کو مفرد کہتے ہیں۔ مفرد میقات پر پہنچ کر صرف حج کی نیت سے احرام باندھتا ہے اور نیت اس طرح کرتا ہے: اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اُرِيْدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِيْ وَتَقَبَّلْهُ مِنِّيْ ترجمہ: اے اللہ! میں حج کی نیت کرتا ہوں پس تو میرے لیے اس کو آسان فرما دے اور اسے میری طرف سے قبول فرما لے۔ مفرد مکہ شریف پہنچ کر رمل و اضطباع کے ساتھ طواف قدوم کرتا ہے پھر سعی کرتا ہے لیکن اس کے بعد نہ حلق کرواتا ہے اور نہ احرام کھولتا ہے بلکہ اسی طرح مکہ معظمہ میں رہتا ہے اور اس درمیان میں جس قدر چاہتا ہے نفل طواف کرتا رہتا ہے۔ پھر آٹھویں ذی الحجہ کو اسی احرام کے ساتھ حج کے لیے نکل جاتا ہے اور اس کے تمام ارکان ادا کرتا ہے مگر قربانی اس کے لیے مستحب ہوتی ہے واجب نہیں ہوتی یعنی اگر نہیں کرتا ہے تو گناہ گار نہیں ہوتا اور اگر کرتا ہے تو بہت ثواب پاتا ہے۔ اس کے بعد حلق یا قصر کروا کر احرام اتار دیتا ہے اور طواف زیارت کرتا ہے اس طرح حج افراد ادا کیا جاتا ہے۔
تینوں قسم کے حج میں شریعت کے احکام تقریباً ایک ہی ہیں صرف چند باتوں میں فرق ہے جو مذکورہ بیان سے اچھی طرح واضح ہے۔ [حج و زیارت، حج کی فرضیت اور اس کی قسمیں، ص: 10 تا 16]
