| عنوان: | استقبال رمضان المبارک |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
استقبال رمضان المبارک
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ عنقریب دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے، رحمتوں والے مہینے رمضان شریف کی آمد آمد ہے، رمضان المبارک میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تعلیمات و برکات دوسروں تک پہنچانے کے بے شمار مواقع میسر آتے ہیں۔ روزہ، نماز، قرآن پاک، نوافل اور دیگر اذکار و اوراد، انسان کے اندر تقویٰ اور خوف الہی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ آئیے ہم سب مل کر رمضان المبارک کا استقبال کریں اور اس کے مبارک لمحات بہترین انداز سے گزارنے کا عہد کریں۔
روزے کی فرضیت و تعریف
روزوں کی فرضیت کا بیان کرتے ہوئے، خالق کائنات جل جلالہ ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ
”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔“ (۱)
اس آیت مبارکہ میں روزے کی فرضیت کا بیان ہے، روزہ شریعت اسلامیہ میں اس بات کا نام ہے کہ مسلمان چاہے مرد ہو یا عورت، صبح صادق سے غروب آفتاب تک، بہ نیت عبادت، کھانا پینا اور مجامعت ترک کر دے۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ روزہ عبادت قدیمہ ہے، زمانہ سیدنا آدم علیہ السلام سے تمام شریعتوں میں فرض ہوتا چلا آیا ہے، اگرچہ ایام و احکام مختلف تھے، مگر اصلاً روزے سب امتوں پر لازم رہے۔ (۲)
روزے کی فرضیت کا مقصد
روزہ ہجرت نبوی کے دوسرے سال فرض ہوا، روزہ تقویٰ و پرہیزگاری کا ایک اہم ذریعہ ہے؛ کیونکہ گناہوں کا ایک سبب نفس امارہ ہے اور روزہ رکھنے سے نفس امارہ کمزور پڑ جاتا ہے، لہٰذا فرضیت صوم کی اس پیاری حکمت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
”تا کہ تم متقی و پرہیزگار بن جاؤ۔“ (۳)
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ”روزے کا مقصد اعلیٰ اور اس سخت ریاضت کا پھل یہ ہے، کہ تم متقی اور پاکباز بن جاؤ، روزے کا مقصد یہ نہیں کہ صرف کھانے پینے اور جماع سے پرہیز کرو، بلکہ تمام برے اخلاق اور اعمال بد سے انسان مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرے۔ تم پیاس سے تڑپ رہے ہو، تم بھوک سے بے تاب ہو رہے ہو، تمہیں کوئی دیکھ بھی نہیں رہا، ٹھنڈا پانی اور لذیذ کھانا پاس رکھا ہے، لیکن تم ہاتھ تو کجا، آنکھ اٹھا کر ادھر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے، اس کی وجہ صرف یہی ہے نا، کہ تمہارے رب کا یہ حکم ہے! اب جب حلال چیزیں اپنے رب کے حکم سے تم نے ترک کر دیں، تو وہ چیزیں جن کو تمہارے رب تعالیٰ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا ہے، مثلاً چوری، رشوت، بددیانتی وغیرہ حرام کاریاں، اگر یہ خیال پختہ ہو جائے، تو کیا تم ان کا ارتکاب کر سکتے ہو؟ ہرگز نہیں۔
مہینہ بھر کی اس مشقت کا مقصد یہی ہے کہ تم سال کے باقی ۱۱ ماہ بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے حرام سے اجتناب کرو، لہٰذا جو لوگ روزہ تو رکھ لیتے ہیں، لیکن جھوٹ، غیبت، بد نظری، فحش کلامی اور گالی گلوچ وغیرہ برائیوں سے باز نہیں آتے، ان سے متعلق سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں فرما دیا:
مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ
”جس نے (روزہ رکھنے کے باوجود) جھوٹ اور اُس پر عمل نہیں چھوڑا، رب تعالیٰ کو اُس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔“ (۴، ۵)
روزے میں جہاں مسلمان کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے اپنے آپ کو روکتا ہے، وہیں اسے چاہیے کہ جھوٹ، غیبت وغیرہ گناہوں سے بھی باز رہے؛ تاکہ تقویٰ و پرہیزگاری حاصل ہو، اور یہی روزے کا مقصد ہے۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
إِنَّ الصِّيَامَ لَيْسَ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، وَلَكِنْ مِنَ الْكَذِبِ وَالْبَاطِلِ وَاللَّغْوِ
”روزہ صرف کھانے پینے سے باز رہنے کا نام نہیں، بلکہ روزہ جھوٹ، گناہوں اور بے کار چیزوں سے بھی بچنے کا نام ہے۔“ (۶)
لہٰذا چاہیے کہ ہم ابھی سے رمضان شریف کی تیاری شروع کر دیں، نمازوں کی پابندی، اپنی زبان کی حفاظت کریں، غیبت و چغلی، گالی گلوچ، سخت کلامی اور بد نگاہی سے اجتناب کریں، حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
إِذَا صُمْتَ فَلْيَصُمْ سَمْعُكَ وَبَصَرُكَ وَلِسَانُكَ عَنِ الْكَذِبِ وَالْمَحَارِمِ، وَدَعْ أَذَى الْخَادِمِ، وَلْيَكُنْ عَلَيْكَ وَقَارٌ وَسَكِينَةٌ يَوْمَ صِيَامِكَ، وَلَا تَجْعَلْ يَوْمَ فِطْرِكَ وَصَوْمِكَ سَوَاءً
”جب تم روزہ رکھو تو اپنے کان، آنکھ اور زبان کو جھوٹ اور دیگر تمام گناہوں سے روکے رکھو اور اپنے خادم و ملازم کو اذیت دینے سے باز رہو، روزے میں وقار و اطمینان سے رہو! رمضان اور غیر رمضان میں ایک جیسے مت رہو۔“ (۷)
یعنی ایسا نہ ہو کہ روزہ رکھ کر انسان دوسروں کے لیے اذیت کا باعث، یا دوسروں پر بوجھ بن جائے، نہ صرف دن میں ٹائم پاس کرنے کے لیے، موبائل فونز وغیرہ کے ذریعے، فضولیات و بے حیائی کے ذرائع، فحش و منکرات پر مبنی لٹریچر، آڈیو یا ویڈیو کلپس وغیرہ سننے اور دیکھنے سے اجتناب کرنا ہے، بلکہ رمضان المبارک کی راتوں میں بھی ایسے کاموں سے بچنا ہے، جو لوگوں یا خود اپنی آخرت کے لیے نقصان اور اذیت کا باعث ہوں۔ جیسا کہ بعض شہری علاقوں میں باقاعدہ کرکٹ، فٹ بال وغیرہ کے میچز کی زینت بننا، خود کھیلنا یا تماشائی بن کر کھیلنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا، شور شرابا کر کے کسی کے آرام، یا کسی کی عبادت میں خلل انداز ہونا قابل مذمت ہے، یہ وہ کام ہیں جن کے باعث روزہ کی برکات زائل ہو جاتی ہیں، بلکہ روزے کا زندگی پر یہ اثر ہو، کہ نرمی و آسانی، عفو و درگزر کا مظاہرہ کرے؛ تاکہ اللہ و رسول کی نافرمانی سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے، خالق کائنات جل جلالہ ارشاد فرماتا ہے:
أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ
”گنتی کے دن ہیں۔“ (۸)
یعنی انتیس یا تیس دن (تقریباً ایک ماہ فقط) اس لیے گھبرانا مت، جس رب تعالیٰ نے تمہیں گیارہ ماہ کھلایا پلایا، اگر ایک ماہ، وہ بھی صرف دن کے وقت، کھانے پینے سے منع فرما دے، تو ضرور اُس کی اطاعت کرو اور اس میں بھی تمہارا ہی فائدہ ہے۔
روزہ اور صحت انسان
بعض لوگ رمضان المبارک کے روزے رکھنے میں بھی حیلے بہانوں سے کام لیتے ہیں کہ ”ہم سے نہیں رکھے جاتے، ہماری ڈیوٹی سخت ہے، روزہ رکھنا بہت مشکل کام ہے، ہم روزہ رکھتے ہیں تو بیمار پڑ جاتے ہیں“ وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے حیلے بہانے کر کے، رحمت الہی سے خود ہی محروم رہتے ہیں، جبکہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
صُومُوا تَصِحُّوا
”روزہ رکھو، صحت مند ہو جاؤ گے۔“ (۹)
اس سے معلوم ہوا کہ خرابی صحت کے اندیشے سے، روزہ نہ رکھنے کی سوچ غلط اور خام خیالی ہے، اس طرح بندہ خالق کائنات جل جلالہ کی رحمت سے دُور ہو جاتا ہے، لہٰذا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، کہ بدبختی و محرومی کو گلے لگائیں، یا پھر رب ذوالجلال کے حکم اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان صحت نشان پر عمل کرتے ہوئے، روزے کی برکتیں و رحمتیں حاصل کر کے، نیک بختی و سعادت مندی، کامیابی و کامرانی اور صحت کو اپنے دامن میں سمیٹ کر، اُن کے پیارے بن جائیں。
بیمار اور مسافر کے لیے روزے کی رخصت
جو شخص ایسا بیمار ہو کہ روزہ نہ رکھ سکتا ہو، اس کے لیے دین اسلام میں رخصت ہے، ارشاد خداوندی ہے:
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ
”تو تم میں سے جو کوئی بیمار، یا سفر میں ہو، تو اتنے روزے اور دنوں میں پورے کرے۔“ (۱۰)
یعنی ایسا بیمار ہو کہ روزہ اُسے شدید نقصان دے، تو اسے صحت یابی تک روزہ مؤخر کرنے کی اجازت ہے، لیکن جس بیمار کو روزہ شدید نقصان نہ دے، اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں اور وہ سفر جس پر شرعی احکام مرتب ہوں، یعنی ۹۲ کلومیٹر مسافت طے کرنے کی اور وہاں جا کر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت سے چلا ہو، یا اس کے علاوہ اگر کوئی اور شرعی عذر ہے، یا حاملہ، یا دودھ پلانے والی خاتون، تو ان تمام خواتین و حضرات کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، ان کے جتنے روزے چھوٹیں، وہ رمضان کے بعد ان کی قضا کر لیں، لیکن پھر بھی رمضان شریف میں روزہ رکھنا ہی ان کے حق میں بہتر ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
”اگر تم جانو تو روزہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ بھلا ہے۔“ (۱۱)
تو معلوم ہوا کہ مسافر کو اگرچہ روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے، مگر روزہ رکھ لینا اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔
رمضان شریف کی آمد
ہمارے گھر، خاندان اور معاشرے میں کئی افراد ایسے تھے، جو پچھلے رمضان المبارک میں ہمارے ساتھ تھے، لیکن آج وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، وہ حضرات اپنی منزل کو پہنچ چکے ہیں، یقیناً ہم سب کو بھی ایک دن اس دار فانی سے دار آخرت کی طرف کوچ کرنا ہے، لہذا جسے یہ مبارک مہینہ نصیب ہو، وہ بڑا ہی خوش بخت اور سعادت مند ہے، حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ
”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے، تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔“ (۱۲)
رمضان شریف اور نزول قرآن کریم
اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک کو بہت سے فضائل و خصوصیات کے ساتھ، دیگر مہینوں سے ممتاز مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے، اس مبارک ماہ میں قرآن مجید کا نزول ہوا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
”رمضان وہ مبارک مہینہ ہے، جس میں قرآن پاک اتارا گیا۔“ (۱۳)
روزے سے متعلق مسائل و احکام سیکھنا
اس ماہ مبارک کے استقبال کی ایک صورت یہ بھی ہے، کہ ہم اس کی آمد سے پہلے ہی روزے سے متعلق مسائل و احکام سیکھ لیں، چنانچہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ
”جب کوئی روزہ دار بھول کر کھا پی لے، تو وہ اپنا روزہ پورا کرے؛ کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا۔“ (۱۴)
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ”یہی حکم ہر اس چیز کا ہے، جو دوا یا غذا نہ ہو اور بلا قصد و اختیار حلق میں اتر جائے، جیسے دھواں اور غبار وغیرہ۔ البتہ قصدًا دھواں وغیرہ نگلنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے، جیسے حقہ، سگریٹ، بیڑی، بخور، اگربتی وغیرہ کا دھواں، اس میں قضا بھی ہے اور کفارہ بھی“ (۱۵) یعنی رمضان شریف کے بعد اس روزہ کی قضا کے طور پر ایک روزہ اور کفارہ کے ساتھ ۶۰ روزے مسلسل رکھنے ہوں گے۔
روزہ دار کی شان
روزہ دار کے لیے خوشخبری ہے، حضرت سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، فِيهَا بَابٌ يُسَمَّى الرَّيَّانَ، لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا الصَّائِمُونَ
”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک کا نام ریان ہے، اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔“ (۱۶)
روزے کی جزا
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
”جو ایمان کے ساتھ، ثواب کی خاطر رمضان کے روزے رکھے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔“ (۱۷)
برکت والا مہینہ
ان شاء اللہ العزیز ہم سب مسلمان عنقریب رمضان المبارک کے استقبال کی سعادت حاصل کریں گے، یہ ایسا مبارک مہینہ ہے جس میں برکات عام ہوتی ہیں، رحمتیں نازل ہوتی ہیں، نیکیوں کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، لغزشیں معاف کی جاتی ہیں، دعائیں قبول کی جاتی ہیں، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ لہٰذا آپ سب کو یہ عظیم مہینہ مبارک ہو! اور آپ تمام مسلمانوں کے لیے خوشخبری ہو، جو اللہ رب العزت نے آپ حضرات کے اعزاز میں دی ہے، جس کی بشارت ہمارے پیارے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کرام کو دی۔ مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ، لِلَّهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ
”تمہارے پاس رمضان کا مبارک مہینہ آیا، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں، اس مہینے میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شریر جن و شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں، اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی بابرکت رات ہے، جو ہزار مہینوں سے افضل و بہتر ہے یعنی شب قدر، تو جو اس کے ثواب سے محروم رہا وہ حقیقۃً محروم ہے۔“ (۱۸، ۱۹)
اجر عظیم
بلا شبہ ماہ رمضان کا تشریف لانا، رب تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، لہٰذا ہم سب پر لازم ہے کہ اس سے وہ فوائد حاصل کریں، جو ہمارے لیے دنیا و آخرت میں بھلائی کا باعث ہوں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قَالَ اللَّهُ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرَحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آدمی کا ہر عمل اُس کی اپنی ذات کے لیے ہے سوائے روزے کے؛ کہ وہ میرے لیے ہے اور اُس کا بدلہ میں خود دوں گا، روزہ عذاب سے بچانے والی ڈھال ہے اور جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو، تو نہ فحش بات کرے اور نہ کسی سے جھگڑے، اگر اُسے کوئی گالی دے یا جھگڑے، تو اُس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بُو، اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے اُسے فرحت ہوتی ہے: ایک افطار کی خوشی، اور دوسری اپنے رب تعالیٰ سے ملاقات کی خوشی۔“ (۲۰)
جہنم سے آزادی
ہم سب مسلمان اس عظیم موسم عبادات و برکات کے اشتیاق میں ہیں؛ تاکہ بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اجر عظیم پائیں۔ تو کون ہے جو اپنے رب تعالیٰ کی جنت کا امیدوار ہے؟! اور کوشش کرتا ہے کہ اسے جہنم سے آزاد کردہ لوگوں میں شمار کر لیا جائے؟! سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النِّيرَانِ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ! وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ! وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ
”جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیاطین اور سرکش جنات کو بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی دروازہ نہیں کھولا جاتا، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک منادی پکارتا ہے کہ اے طالب خیر آگے بڑھو! اور اے شر کے متلاشی باز آ جاؤ! اور اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور اسی طرح کا معاملہ رمضان کی ہر رات میں رہتا ہے۔“
چاند دیکھ کر پڑھنے کی دعا
جب ہم اس مبارک ماہ کو پائیں اور اس مہینے کا چاند دیکھیں، تو اس وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے، ہمارے آقا رحمت عالمیاں صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ
”الٰہی! اس نئے چاند کا طلوع ہونا ہمارے لیے امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کا ذریعہ بنا، اے چاند! میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔“ (۲۱)
لہذا ہمیں رمضان کا بہترین استقبال کرنا ہے، اس میں خوب عبادات و اعمال صالحہ کرنے ہیں، اللہ و رسول کو خوب راضی کرنا ہے اور اس ماہ مبارک کی آمد سے پہلے ہی نیک کاموں کی طرف رجوع و سبقت کرنی ہے، ان شاء اللہ!
اے اللہ! شعبان کے ان بقیہ لمحات میں ہمارے لیے برکت دے، اور ہمیں بخیر و عافیت رمضان تک پہنچا دے، روزوں اور نماز تراویح میں ہماری مدد فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما، ہمیں ملک و قوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد و اتفاق اور محبت و الفت کو اور زیادہ فرما، ہمیں احکام شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہ بے کس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی و چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اتار دے، ہمارے بیماروں کو شفا یاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما، ہمارے رزق حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت و اطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خلق خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہٰی! ہمارے اخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمال حسنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، دنیا کے تمام مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو ان کے حق میں خیر و برکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا رب العالمین۔
وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ وَنُورِ عَرْشِهِ سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا وَحَبِيبِنَا وَقُرَّةِ أَعْيُنِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
حوالہ جات
- پ ۲، البقرۃ: ۱۸۳
- تفسیر خزائن العرفان، پ ۲، البقرۃ، زیر آیت ۱۸۳، ص ۴۹ ملتقطاً
- پ ۲، البقرۃ: ۸۳
- صحیح البخاری کتاب الصوم، ر: ۱۹۰۳، ص ۳۰۶
- تفسیر ضیاء القرآن، البقرۃ، زیر آیت ۱۸۳، ۱/ ۱۲۳، ۱۲۴ بتصرف
- السنن الکبریٰ للبیہقی، کتاب الصیام، ۴/ ۲۰۹
- شعب الایمان، باب فی الصوم، ر: ۳۶۴۹، ۳/ ۱۳۴۴
- پ ۲، البقرۃ: ۱۸۴
- المعجم الاوسط، باب المیم، بقیہ اسم میم، ر: ۸۳۱۲، ۶/ ۱۴۷
- پ ۲، البقرۃ: ۱۸۴
- تفسیر نور العرفان، البقرۃ، زیر آیت ۱۸۴، ص ۴۲
- صحیح البخاری، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، ر: ۳۲۷۷، ص ۵۴۶
- پ ۲، البقرۃ: ۱۸۵
- صحیح البخاری، کتاب الصوم، ر: ۱۹۳۳، ص ۳۱۰
- نزہۃ القاری، باب الصائم اذا اکل او شرب ناسیاً، تحت ر: ۱۹۳۳، ۵/ ۵۰۴ و بہار شریعت، کن چیزوں سے روزہ نہیں جاتا، حصہ ۵، ۱/ ۹۸۲
- صحیح البخاری، باب صفۃ ابواب الجنۃ، ر: ۳۲۵۷، ص ۵۴۳
- صحیح البخاری، کتاب الصوم، ر: ۱۹۰۱، ص ۳۰۶
- سنن النسائی، کتاب الصیام، ر: ۲۱۰۲، الجزء ۴، ص ۱۳۱-۱۳۲
- صحیح البخاری، کتاب الصوم، ر: ۱۹۰۴، ص ۳۰۶
- سنن الترمذی، باب ما جاء فی فضل شہر رمضان، ر: ۶۸۲، ص ۱۷۴
- سنن الترمذی، باب ما یقول عند رؤیۃ الہلال، ر: ۳۴۵۱، ص ۷۸۸
ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، اپریل ۲۰۲۵ء، ص ۶
