Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور فن شعر و سخن(قسط:اول)

امام احمد رضا اور فنِ شعر و سخن (قسط: اول)
عنوان: امام احمد رضا اور فنِ شعر و سخن (قسط: اول)
تحریر: مولانا محمد سبطین رضا سبطین
پیش کش: مظفر حسین شیرانی

شعر و شاعری صرف قافیہ پیمائی یا خوبصورت الفاظ اور شعلہ بداماں جملوں کے استعمال کا نام نہیں؛ بلکہ اس میں حسنِ صورت کے ساتھ ساتھ حسنِ معنی بھی ہو، صنائعِ لفظی کے ساتھ ساتھ صنائعِ معنوی بھی ہو، ہمارے رہبر و رہنما امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری رضی اللہ عنہ جہاں علمِ دین کے چراغ کو اپنے خون و جگر دے کر روشن کیے تخمیناً ایک ہزار کے قریب قریب رسائل و کتب تصنیف فرمائیں، علاوہ ازیں سینکڑوں کتب پر حواشی لکھے وہیں آپ کو شعر و شاعری میں بھی وہ دسترس و مہارتِ تامہ کاملہ حاصل تھی جس کی نظیر نہیں ملتی۔

آپ کے اشعار میں وارداتِ قلب کی کیفیات، رموزِ عشق کی تفاسیر اور مشاہداتِ حسن کی رعنائیوں کے علاوہ آپ کی فکری و شعوری صلاحیتوں کا ایسا بھرپور اظہار ہے جسے غزل کا طرہِ امتیاز سمجھا جاتا ہے، آپ وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے نظم و نثر دونوں میں اردو کے بے شمار محاورات استعمال کر کے اپنی علمیت سے اردو شاعری میں چار چاند لگا دیے، آپ کے کلام سے پہلے تاثر جو پڑھنے والوں پر قائم ہوتا ہے وہ آپ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ وابستگی ہے، آپ کے شاعری کا محورِ خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی و سیرت ہے، آپ نے مجازی راہِ سخن سے ہٹ کر صرف نعتِ رسول کو اپنے افکار کا موضوع بنایا تشبیہوں و استعاروں کا برحل استعمال آپ کی شاعری کی جان ہے۔

آپ کے قادر الکلام شاعر ہونے کا ایک بدیہی ثبوت یہ بھی ہے کہ آپ اردو کلام کے علاوہ فارسی میں بھی جہاں شاعر کا علوِ تخییل کام نہیں کرتا ہے، پوری شد و مد کے ساتھ آپ نہایت بے تکلفی و بے ساختگی سے گزرتے ہوئے حقیقت کی تہ تک پہنچ جاتے ہیں، آپ نے اپنے نعتیہ کلام کو تبلیغِ حق و تبلیغِ عشق کا ذریعہ بنایا، غیر ممکن ہے کہ کسی جگہ آپ رضی اللہ عنہ کا کلام پڑھا جائے اور محفل پر انوار نہ برسیں، محبوبِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی ثنا گستری نے آپ کو امام بوصیری کا مقام عطا کر دیا اور آپ حالتِ بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے، آپ اپنی خداداد اعلیٰ صلاحیتوں اور فنی کمالات کی وجہ سے دیگر اساتذہِ فن کے مقابلہ میں ایک ایسی لاثانی و منفرد حیثیت کے حامل تھے کہ آپ کے معاصرین و مخالفین بھی آپ کی شاعرانہ عظمت کے صدقِ دل سے مداح و معترف نظر آتے ہیں۔

حضرت علامہ بدر الدین احمد قادری علیہ الرحمہ حدائقِ بخشش کی بابت تحریر کرتے ہیں:

"آپ کا نعتیہ دیوان حدائقِ بخشش حمد و نعت، دعا و التجا، سلام و منقبت عشق و محبت، حقیقت و معرفت، معجزات و کرامات، شرحِ آیات و احادیث وغیرہ مضامین کا ایک ایسا بحرِ زخار ہے جس کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ کرنا اہلِ بصیرت حضرات ہی کا کام ہے، جس طرح آپ امامِ اہلِ سنت ہیں اسی طرح آپ کا کلام بھی کلام و سخن کا امام ہے، چنانچہ آپ کے دیوان حدائقِ بخشش پر "کلام الامام امام الکلام" کا مقولہ حرف بحرف صادق آتا ہے اور کیوں نہ صادق آئے کہ حدائقِ بخشش حسان العصر، خسروے اقلیم و سخن، شہنشاہِ نعت گویاں اعلیٰ حضرت عبدِ مصطفیٰ احمد رضا کے عشق بھرے دل کی آواز اور مداحانِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے شمعِ ہدایت ہے۔" [سوانح اعلیٰ حضرت، ص: 349-350]

آپ کے فنِ شاعری میں قادر الکلامی کے متعلق حضرت علامہ عبد الستار ہمدانی مصروف برکاتی صاحب قبلہ لکھتے ہیں:

"آپ (اعلیٰ حضرت) نے فنِ شاعری کو حیاتِ نو بخشی ہے اور فنِ شاعری صنعات میں آپ نے اپنی قادری الکلامی کا سکہ بٹھاتے ہوئے جو کمال دکھایا ہے اس کو دیکھ کر دنیائے اردو ادب کے بڑے بڑے شعراء اور ماہرین انگشت بدندان ہیں۔" [فنِ شاعری اور حسان الہند، ص: 54]

ابتدائے شعر و سخن

حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نے کس سنہ سے شعر و شاعری کی ابتدا کی اس کو عصری یا زمانی قیود میں مقید نہیں کیا جا سکتا، آپ ایک سچے عاشقِ رسول تھے جب کبھی بھی عشقِ رسول کا درد آپ کو بے چین کرتا آپ شاعری کرنے لگتے، حضرت علامہ بدر الدین احمد قادری علیہ الرحمہ آپ کی شاعری کے بارے میں لکھتے ہیں:

"آپ عام اربابِ سخن کی طرح صبح سے شام تک اشعار کی تیاری میں مصروف نہیں رہتے تھے بلکہ جب پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تڑپاتی اور دردِ عشق آپ کو بیتاب کرتا تو از خود زبان پر نعتیہ اشعار جاری ہو جاتے اور یہی اشعار آپ کی سوزشِ عشق کی تسکین کا سامان بن جاتے، چنانچہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جب سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تڑپاتی ہے۔ تو میں نعتیہ اشعار سے بے قرار دل کو تسکین دیتا ہوں ورنہ شعر و سخن میرا مذاقِ طبع نہیں۔" [سوانح اعلیٰ حضرت ص: 350]

جبھی تو آپ فرماتے ہیں:

ثنائے سرکار ہے وظیفہ قبولِ سرکار ہے تمنا
نہ شاعری کی ہوس نہ پروا روی تھی کیا کیسے قافیے تھے

احتیاطِ نعت گوئی

اصنافِ ادب میں نعت سے زیادہ لطیف و نازک اور مشکل کوئی صنف نہیں اور اس سے پوری طرح عہدہ بر آ ہونا ممکن بھی نہیں، نعت میں دو حدیں متعین ہیں، ایک تو یہ کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اتنا مبالغہ نہ کیا جائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشریت سے نکال کر الوہیت سے ملصق کر دے اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں قطعاً ایسے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں جو آپ کی شان کے موافق نہ ہوں، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اتنا نہ بڑھے کہ شرک کا الزام عائد ہو اور نہ ہی اتنا گھٹے کہ کفر کی حد تک پہنچے، خود امامِ اہلِ سنت اس معاملہ میں فرماتے ہیں:

"حقیقتاً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے، جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے، اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے۔" [الملفوظ: 145]

امام احمد رضا کی نعتیہ دیوان حدائقِ بخشش اس بات پر شاہد ہے کہ آپ نے کس قدر حزم و احتیاط کو مشعلِ راہ بنایا تھا، آپ کے حزم و احتیاط کی ایک جھلک کا اندازہ درج ذیل تحریر سے لگا سکتے ہیں:

"نعت کے ڈانڈے اور اس کی حدیں ایک طرف تو عبد سے اور دوسری طرف معبود سے ملتی ہیں اور اگر نعت نگار غلو سے کام لیتے ہوئے ان حدودِ معبود میں داخل ہوتا ہے تو بھی عذاب و عتاب کا مستحق قرار پاتا ہے اور اگر فکرِ اسفل کا استعمال کرتا ہے تو بھی تنقیص کا مرتکب قرار پاتا ہے اور دونوں اعتبار سے بارگاہِ مصطفیٰ کا مجرم و گستاخ ٹھہرتا ہے جس کا نتیجہ یہ آمد ہوتا ہے کہ اس کے اعمال تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ مگر ایک تیسری بات جو قابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ نعت نگار کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ہمارے نبی کی طرح کسی دوسرے نبی کی توہین بھی نہ کرے، بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب نعت نگار ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور ان کے کمالات کا دیگر انبیائے کرام کے معجزات و کمالات سے موازنہ کرتا ہے تو دوسرے انبیا کی تنقیص کا مرتکب ہو جاتا ہے۔"

چنانچہ ایک بار ایک صاحب نے بارگاہِ احمد رضا خاں بریلوی میں حاضر ہو کر نعتیہ اشعار سنانے کی تمنا ظاہر کی، آپ نے فرمایا: میں اپنے چھوٹے بھائی حسن میاں یا حضرت کافی مرادآبادی کا کلام سنتا ہوں اس لیے کہ ان کا کلام میزانِ شریعت میں تلا ہوا ہوتا ہے اگرچہ حضرت کافی کے یہاں لفظ "رعنا" کا استعمال موجود ہے، اگر وہ اپنی اس غلطی پر آگاہ ہو جاتے تو یقیناً اس لفظ کو بدل دیتے۔ پھر خیالِ خاطر احباب کے پیشِ نظر ان صاحب کو کلام سنانے کی اجازت مرحمت فرما دی ان کا ایک مصرع یہ تھا:

"شانِ یوسف جو گھٹی ہے تو اسی در سے گھٹی"

آپ نے فوراً شاعر موصوف کو روک دیا اور فرمایا: حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کسی نبی کی شان گھٹانے کے لیے نہیں بلکہ انبیائے کرام کی عظمت و بزرگی میں چار چاند لگانے کے لیے تشریف لائے تھے، مصرع یوں بدل دیا جائے:

"شانِ یوسف جو بڑھی ہے تو اسی در سے بڑھی"

[امام احمد رضا خاں کی نعتیہ شاعری، ص: 166]
جاری.....
[ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف، نومبر 2023ء، ص: 33]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!