| عنوان: | امام مہدی کون ہیں؟ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
کتبِ احادیث میں قیامت کی کئی نشانیوں کا ذکر ہے، جن میں سے اکثر ظاہر ہو چکیں، جبکہ بعض بڑی علامات کا ظہور ابھی باقی ہے، ان میں سے خاص طور پر قابل ذکر حسبِ ذیل ہیں:
- امام مہدی کا ظہور
- تین جگہ خسف ہونا (یعنی زمین کے دھنسنے کے واقعات): مشرق کے علاقہ میں، مغرب کے علاقہ میں اور جزیرہِ عرب کے علاقہ میں زمین کا دھنسنا۔
- دھواں ظاہر ہونا (1)
- دجال (2) کا خُروج
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا (آسمان سے زمین پر) اترنا
- دابۃ الارض (3) کا نکلنا
- یاجوج ماجوج کا نکلنا
- سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
- اور آخری نشانی جو سب کے بعد ظاہر ہوگی، وہ آگ ہے جو یمن (Yemen) کی طرف سے نمودار ہوگی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی (4) یہاں محشر سے مراد ارضِ شام ہے اور یہ معاملہ قیامت سے پہلے ہو گا۔ (5)
زیرِ نظر تحریر میں ہمارا موضوع علاماتِ قیامت میں سے پہلی بڑی علامت ”سیدنا امام مہدی کا ظہور“ ہے، اس کے بعد پے در پے قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی اور پھر قیامت قائم ہوگی۔
امام مہدی کا ظہور اس دور میں ہوگا جب معاشرے میں ناانصافی اور گمراہی عام ہوگی، غلط افکار و نظریات اور فتنے ہر سو پھیل چکے ہوں گے اور مسلمان شدید ظلم و ستم کا شکار ہوں گے۔
- آپ دینِ اسلام کو ازسرِ نو زندہ کریں گے۔
- ناانصافی کا خاتمہ کریں گے۔
- زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
- بیت المقدس کو آزاد کروائیں گے۔
- جہاد کے ذریعے مسلمانوں کو فتوحات اور اُن کا کھویا ہوا مقام واپس دلائیں گے۔
- ان کا عز و وقار بحال کرائیں گے۔
- اور عالمِ اسلام کو اقوامِ عالم پر غلبہ دلائیں گے۔
سیدنا امام مہدی کے تعارف، حالات، واقعات اور قربِ قیامت میں آپ کے ظہور کے بارے میں متعدد احادیثِ مبارکہ شاہد ہیں، ان میں واضح طور پر مذکور ہے کہ آپ کا اسمِ گرامی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے مطابق ”محمد بن عبد اللہ“ ہوگا، آپ کا تعلق اہلِ بیتِ کرام سے ہوگا اور آپ حسنی حسینی سید ہوں گے۔
امام مہدی نہایت وجیہہ شخصیت کے حامل ہوں گے، آپ کی رحمدلی اور سخاوت اپنی مثال آپ ہوگی، امام مہدی مظلوموں کی فریاد رسی فرمائیں گے، آپ اپنے دورِ خلافت میں لوگوں کو بے حساب مال عطا فرمائیں گے، آپ کی تشریف آوری حق ہے اور ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
آپ یمن کی ایک بستی ”کَرِعَہ“ سے نکلیں گے، البتہ باقاعدہ ظہور آپ کا بیت اللہ شریف میں ہو گا۔ آپ کو گھر بیٹھے بادشاہت عطا ہوگی، آپ کو پہچاننے کے بعد لوگ بیت اللہ شریف میں آپ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کریں گے۔ آپ کی خلافت کی خبر عام ہونے پر ملکِ شام سے ایک لشکر آپ کے خلاف جنگ کے لیے روانہ ہوگا، جسے مکہ و مدینہ کے درمیان مقامِ بیداء (6) میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا، اس لشکر کی عبرتناک ہلاکت کے بعد ملکِ شام کے ابدال اور عراق کے اولیاء حاضر ہو کر امام مہدی کے دستِ مبارک پر بیعت کریں گے پھر ایک سفیانی شخص (عبد اللہ بن یزید) (7) جس کا ننہیال قبیلہ بنی کلب سے ہوگا، امام مہدی اور ان کے مددگاروں سے جنگ کرے گا، اس میں فتح امام مہدی کے لشکر کی ہوگی۔
امام مہدی کے ہاتھ پر ابتداءً بیعتِ خلافت کرنے والوں کی تعداد 313 ہوگی، نیز اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں امام مہدی میں خلافت و امارت کے پیچیدہ امور کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کی صلاحیت پیدا فرما دے گا۔ آپ کے دور میں مسلمان انتہائی خوشحال ہو جائیں گے، نیز ظلم و ستم کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا۔ اہلِ مشرق سیدنا امام مہدی کی خلافت و امارت کو تسلیم کر لیں گے، آپ کا ساتھ دیں گے اور بیت المقدس فتح کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
مختلف روایات کے مطابق امام مہدی پانچ، سات یا نو سال تک حکومت کریں گے، اس مختصر دورِ حکومت میں آپ کفار و مشرکین سے کئی بار جہاد کر کے، ان کے شہروں اور ملکوں کو فتح کریں گے۔ ”غزوہِ ہند“ بھی امام مہدی کے دورِ خلافت میں ہو گا لشکرِ مہدی اس میں فتح حاصل کرے گا۔ ”جنگِ عظیم“ (World War)، دوبارہ فتحِ قسطنطنیہ (استنبول) اور خُروجِ دجال کے واقعات بھی سیدنا امام مہدی کے دورِ خلافت میں پیش آئیں گے۔
حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی امام مہدی کے دورِ خلافت میں آسمان سے نازل ہوں گے، پھر دجال کا خاتمہ فرمائیں گے، نیز اللہ تعالیٰ نے جس طرح اس اُمت کا آغاز حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا، اسی طرح اسے امام مہدی پر ختم فرمائے گا۔
امام مہدی کا ظہور کب ہوگا؟ اس بارے میں کتبِ احادیث میں متعدد علامات مذکور ہیں، ان میں سورج کے ساتھ کسی اور نشانی کا طلوع، مشرق کی طرف سے دمدار ستارے کا طلوع اور رمضان کے مہینے میں دو بار چاند گرہن جیسی علامتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مذکورہ بالا تمام باتیں کتبِ احادیث میں واضح طور پر مذکور ہیں، ان کی تفصیل حسبِ ذیل بالترتیب بیان کی جاتی ہے:
امام مہدی کا نام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی کے مطابق ہوگا
امام مہدی کا نام حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی کے مطابق ہوگا، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتّٰى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ بَيْتِيْ، يُوَاطِئُ اسْمُهٗ اسْمِيْ.
(8) ”دنیا ختم نہیں ہوگی جب تک میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ نہ بن جائے، اُس کا نام میرے نام کے موافق (یعنی محمد بن عبد اللہ) ہوگا۔“
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی (ت 1971ء/1391ھ) فرماتے ہیں کہ ”اس حدیثِ پاک سے ان روافض کا رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ امام مہدی پیدا ہو چکے ہیں، ان کا نام محمد بن حسن عسکری ہے، یہ غلط ہے، بلکہ وہ پیدا ہوں گے اور (ان کا نام) محمد بن عبد اللہ ہوگا۔“ (9)
امام مہدی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسلِ پاک سے ہوں گے
حضرت امام مہدی ”سید“ ہوں گے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
اَلْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِيْ، مِنْ وَّلَدِ فَاطِمَةَ.
(10) ”مہدی میری اولاد، اولادِ فاطمہ سے ہے۔“
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں کہ ”اس (حدیثِ پاک) سے معلوم ہوا کہ امام مہدی ”سید“ ہوں گے، مرزا قادیانی مرزا ہو کر امام مہدی بنتا ہے تعجب ہے۔“ (11)
امام مہدی کا نسبی تعلق خاندانِ اہلِ بیت سے ہوگا
امام مہدی کا نسبی تعلق خاندانِ اہلِ بیت سے ہوگا، سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
نَبِيُّنَا خَيْرُ الْأَنْبِيَاءِ وَهُوَ أَبُوْكِ، وَشَهِيْدُنَا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ وَهُوَ عَمُّ أَبِيْكِ حَمْزَةُ، وَمِنَّا مَنْ لَّهٗ جَنَاحَانِ يَطِيْرُ بِهِمَا فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيْكِ جَعْفَرٌ، وَمِنَّا سِبْطَا هٰذِهِ الْأُمَّةِ: الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَهُمَا ابْنَاكِ وَمِنَّا الْمَهْدِيُّ.
(12) ”ہمارا نبی تمام انبیاء سے بہتر ہے اور وہ آپ کے والد ہیں، ہمارا شہید تمام شہداء سے بہتر ہے اور وہ آپ کے والد کے چچا حمزہ ہیں اور ہم میں سے ہی وہ شخص ہے جس کے دو پر ہیں، وہ جنت میں جہاں چاہتا ہے اُڑتا ہے، اور وہ آپ کے والد کے چچا زاد بھائی جعفرِ طیار ہیں، اور ہم میں سے ہی اس اُمت کے بہترین نواسے حسن و حسین ہیں، اور وہ آپ کے دو بیٹے ہیں، اور ہم میں سے ہی مہدی بھی ہوں گے۔“
ایک اور مقام پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مِنَّا السَّفَّاحُ، وَمِنَّا الْمَنْصُوْرُ، وَمِنَّا الْمَهْدِيُّ.
(13) ”سفاح ہم میں سے ہے، منصور ہم میں سے ہے، اور مہدی بھی ہم میں سے ہے۔“
امام مہدی حسنی حسینی سید ہوں گے
امام مہدی والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طرف سے حسینی سید ہوں گے، حضرت ابو اسحاق ہمدانی (14) نے فرمایا کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے شہزادے امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر فرمایا:
إِنَّ ابْنِيْ هٰذَا سَيِّدٌ، كَمَا سَمَّاهُ النَّبِيُّ، وَسَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهٖ رَجُلٌ يُّسَمّٰى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ يُشْبِهُهٗ فِي الْخُلُقِ، وَلَا يُشْبِهُهٗ فِي الْخَلْقِ - ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً - يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا.
(15) ”میرا یہ بیٹا سردار ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سردار قرار دیا ہے، اس کی اولاد میں حضور اکرم کا ہم نام ایک شخص ظاہر ہوگا، وہ اخلاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہوگا، مگر شکل و صورت میں نہیں۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔“
امام ابن حجر مکی (ت 974ھ / 1567ء) فرماتے ہیں کہ ”امام مہدی والد کی طرف سے سیدنا امام حسن اور والدہ کی طرف سے سیدنا امام حسین کی نسلِ پاک سے ہوں گے۔“ (16)
امام مہدی کا حلیہ مبارکہ
سیدنا امام مہدی کی پیشانی روشن اور ناک خوبصورت اور بلند ہوگی، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلْمَهْدِيُّ مِنِّيْ، أَجْلَى الْجَبْهَةِ، أَقْنَى الْأَنْفِ، يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَّعَدْلًا، كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَّظُلْمًا، يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِيْنَ.
(17) ”مہدی مجھ سے ہیں (یعنی میری اولاد میں سے ہیں) روشن پیشانی اور خوبصورت بلند ناک والے ہیں، زمین کو عدل و انصاف سے ایسا بھر دیں گے جیسے پہلے وہ ظلم و ستم سے بھر چکی ہوگی، وہ سات سال تک حکومت کریں گے۔“
ایک اور مقام پر سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَيَبْعَثَنَّ اللهُ مِنْ عِتْرَتِيْ رَجُلًا أَفْرَقَ الثَّنَايَا، أَجْلَى الْجَبْهَةِ، يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا، يَفِيْضُ الْمَالَ فَيْضًا.
(18) ”اللہ تعالیٰ ضرور میری اولاد میں سے ایک ایسے شخص کو بھیجے گا، جس کے سامنے کے دانتوں میں فاصلہ ہوگا، کشادہ پیشانی والا ہوگا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور مال کو عام کرے گا، یعنی خوب سخاوت کرے گا۔“
امام مہدی کی سخاوت
سیدنا امام مہدی کی سخاوت اپنی مثال آپ ہوگی! آپ لوگوں کو اُن کی خواہش کے مطابق بے حساب مال عطا فرمائیں گے۔ حضرت ابو نضرہ تابعی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے کہ انہوں نے فرمایا: ”وہ وقت قریب ہے جب اہلِ شام کے پاس نہ دینار لائے جا سکیں گے نہ اناج۔“ ہم نے پوچھا: یہ بندش کن لوگوں کی جانب سے ہوگی؟ حضرت جابر نے فرمایا: ”رومیوں (19) کی جانب سے۔“ پھر کچھ دیر خاموش رہ کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
يَكُوْنُ فِيْ آخِرِ أُمَّتِيْ خَلِيْفَةٌ يَّحْثِي الْمَالَ حَثْيًا، لَا يَعُدُّهٗ عَدَدًا.
(20) ”میری اُمت کے آخری دور میں ایک خلیفہ (مہدی) ہوگا، جو لوگوں کو لبالب بھر کر مال دے گا اور (اپنی دریا دلی اور سخاوت کے باعث) اُسے شمار تک نہیں کرے گا۔“
امام مہدی سے لوگوں کی محبت و عقیدت
سیدنا امام مہدی لوگوں کو بڑے محبوب ہوں گے، حضرت ابو رؤبہ نے فرمایا:
اَلْمَهْدِيُّ كَأَنَّمَا يَلْعَقُ الْمَسَاكِيْنُ الزُّبْدَ.
(21) ”مہدی لوگوں کے ہاں ایسے محبوب ہوں گے جیسے مسکینوں کے ہاں مکھن۔“
امام مہدی اور مظلوموں کی دادرسی
امام مہدی ظلم، جبر اور ناانصافی کا خاتمہ کر کے مظلوموں کی دادرسی فرمائیں گے، حضرت جعفر بن سیار شامی سے روایت ہے:
يَبْلُغُ مِنْ رَّدِّ الْمَهْدِيِّ الْمَظَالِمَ، حَتّٰى لَوْ كَانَ تَحْتَ ضِرْسِ إِنْسَانٍ شَيْءٌ انْتَزَعَهٗ حَتّٰى يَرُدَّهٗ.
(22) ”امام مہدی مظالم کو دور کریں گے، یہاں تک کہ اگر (کسی مظلوم کا حق) کسی انسان کی داڑھ کے نیچے بھی چھپا ہوگا، تو وہاں سے بھی مظلوم کو اس کا حق واپس دلائیں گے۔“
امام مہدی کے دور میں حسبِ خواہش مال عطا ہوگا
امام مہدی کے دورِ خلافت میں خیر و برکت اور مال کی اتنی فراوانی ہوگی، کہ لوگوں کو حسبِ خواہش مال عطا کیا جائے گا۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وقوعِ حوادث سے متعلق حضور سے پوچھا کہ آپ کے بعد کیا ہوگا؟ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ فِيْ أُمَّتِي الْمَهْدِيَّ يَخْرُجُ يَعِيْشُ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا - زَيْدٌ الشَّاكُّ - قَالَ: قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سِنِيْنَ. قَالَ: فَيَجِيْءُ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَيَقُوْلُ: يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِيْ أَعْطِنِيْ. قَالَ: فَيَحْثِيْ لَهٗ فِيْ ثَوْبِهٖ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَّحْمِلَهٗ.
(23) ”میری امت میں مہدی ہو گا جو پانچ، سات یا نو سال تک حکومت کرے گا (راوی کو مدتِ حکومت میں شک ہے) میں نے پوچھا کہ اس عدد سے کیا مراد ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس عدد سے مراد) خلافت کے سال ہیں (ان کا زمانہ ایسی خیر و برکت والا ہوگا کہ) ایک شخص ان سے آکر مانگے گا، اور کہے گا کہ اے مہدی! مجھے کچھ دیجیے، مجھے کچھ دیجیے! تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی اسے بھر بھر کر اتنا مال دیں گے کہ وہ اٹھا نہیں پائے گا۔“
امام مہدی کی تشریف آوری حق ہے
امام مہدی کی تشریف آوری حق ہے اور ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ حضرت قتادہ بن دعامہ سدوسی سے روایت ہے، کہ میں نے حضرت سیدنا سعید بن مسیّب سے پوچھا کہ کیا امام مہدی کے تشریف لانے والی بات حق ہے؟ انہوں نے فرمایا: حَقٌّ ”برحق ہے“ میں نے پوچھا: وہ کن میں سے ہوں گے؟ انہوں نے فرمایا: مِنْ قُرَيْشٍ ”قریش سے ہوں گے“ میں نے پوچھا: وہ قریش کے کس قبیلہ سے ہوں گے؟ فرمایا: مِنْ بَنِيْ هَاشِمٍ ”بنو ہاشم سے“ میں نے پوچھا: بنو ہاشم کی کس شاخ سے؟ فرمایا: مِنْ بَنِيْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ”بنو عبد المطلب سے“ میں نے پھر پوچھا: بنو عبد المطلب کے کس خاندان سے؟ تو انہوں نے فرمایا: مِنْ وَّلَدِ فَاطِمَةَ (24) ”سیدہ فاطمہ کی اولاد سے ہوں گے۔“
امام مہدی یمن کی بستی ”کَرِعَہ“ سے نکلیں گے
امام مہدی یمن (Yemen) کی ایک بستی ”کَرِعَہ“ سے نکلیں گے، جبکہ اُن کا باقاعدہ ظہور بیت اللہ شریف میں ہوگا، سیدنا عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ مِنْ قَرْيَةٍ بِالْيَمَنِ يُقَالُ لَهَا: كَرِعَةُ.
(25) ”مہدی یمن کی اس بستی سے نکلیں گے جسے 'کَرِعَہ' کہا جاتا ہے۔“
قیامت سے پہلے امام مہدی کا ظہور بہر صورت ہو کر رہے گا
قیامت سے پہلے امام مہدی کا ظہور بہر صورت ہو کر رہے گا، سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ، لَبَعَثَ اللهُ رَجُلًا مِّنْ أَهْلِ بَيْتِيْ، يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا.
(26) ”اگرچہ قیامت قائم ہونے میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے، تب بھی اللہ تعالیٰ میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص کو ضرور بھیجے گا، جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ پہلے ظلم و ستم سے بھر چکی ہوگی۔“
بیعت کا آغاز حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے پاس ہوگا
امام مہدی کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کا سلسلہ حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے پاس شروع ہوگا، ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَكُوْنُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيْفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الْمَدِيْنَةِ هَارِبًا إِلٰى مَكَّةَ، فَيَأْتِيْهِ نَاسٌ مِّنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُوْنَهٗ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايِعُوْنَهٗ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِّنَ الشَّامِ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ، فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذٰلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ، وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَيُبَايِعُوْنَهٗ. ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِّنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهٗ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا، فَيَظْهَرُوْنَ عَلَيْهِمْ وَذٰلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ، وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَّمْ يَشْهَدْ غَنِيْمَةَ كَلْبٍ، فَيَقْسِمُ الْمَالَ، وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهٖ إِلَى الْأَرْضِ، فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِيْنَ، ثُمَّ يُتَوَفّٰى وَيُصَلِّيْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ.
(27) (28) (29) (30) ”ایک حاکم (بادشاہ) کی وفات کے وقت (نئے خلیفہ کے انتخاب میں اہلِ مدینہ کا) اختلاف ہوگا، ایک شخص (یعنی امام مہدی اس خیال سے کہ کہیں لوگ مجھے خلیفہ نہ بنا دیں) مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چلے جائیں گے، وہاں مکہ کے کچھ لوگ انہیں بحیثیت مہدی پہچان کر ان کے پاس آئیں گے اور انہیں گھر سے باہر نکلنے اور حکومت سنبھالنے کے لیے مجبور کریں گے، لیکن امام مہدی اس منصب کو ناپسند کریں گے، اس کے بعد وہ لوگ رکن (یعنی حجرِ اسود) (31) اور مقامِ ابراہیم کے درمیان امام مہدی کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کریں گے (جب ان کی خلافت کی خبر عام ہوگی) تو ملکِ شام سے ایک لشکر (امام مہدی سے جنگ کے لیے) بھیجا جائے گا، جو (آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی) مکہ و مدینہ کے درمیان مقام ”بیداء“ میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا۔ (اس لشکر کی عبرتناک ہلاکت کے بعد) شام کے ابدال اور عراق کے اولیاء اللہ حاضر ہو کر آپ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کریں گے۔ پھر ایک قرشی النسل شخص (سفیانی) (32) جس کا ننہیال قبیلہ بنو کلب سے ہوگا، امام مہدی اور ان کے مددگاروں سے جنگ کے لیے ایک لشکر بھیجے گا مگر امام مہدی کا لشکر اس لشکر پر غالب آئے گا اور یہ لشکر بنو کلب کا ہوگا اور اس شخص کے لیے خسارہ ہے جسے قبیلہ بنو کلب سے حاصل شدہ غنیمت سے حصہ نہ ملے! اس فتح کے بعد امام مہدی خوب مال تقسیم کریں گے اور لوگوں کو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلائیں گے، اس زمانے میں اسلام مکمل طور پر مستحکم اور غالب ہو جائے گا! بحالتِ خلافت امام مہدی دنیا میں سات اور بعض روایات کے مطابق نو سال رہیں گے، پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ ادا کریں گے۔“
فتنہِ سفیانی
حدیث شریف میں سفیانی نام کے ایک شخص کا ذکر ہے، جو حضرت ابو سفیان کی اولاد میں سے ایک اُموی شخص ہوگا، اس کا نام عبد اللہ بن خالد بن یزید (33) بن ابی سفیان ہوگا، جبکہ والدہ کی طرف سے اس کا تعلق قبیلہ بنو کلب سے ہوگا، اس شخص کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو سخت تکالیف اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے دورِ حکومت میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوگا، لیکن یہ فتنہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا؛ کیونکہ امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہوگا۔
سفیانی دمشق کے نواحی علاقوں میں ایک وادی سے خُروج کرے گا، اس جگہ کا نام ”وادیِ یابس“ (34) ہوگا۔ ابتداءً اس کے ساتھ صرف سات لوگ ہوں گے، ان میں سے ایک کے پاس جھنڈا بھی ہوگا، جو شخص اس جھنڈے کو سرنگوں کرنے کی کوشش کرے گا وہ شکست سے دوچار ہو گا۔ (35)
سفیانی کا حکم ملکِ شام اور مصر وغیرہ کے اطراف میں چلے گا، اس کی مدتِ حکومت کے بارے میں روایات مختلف ہیں: ایک روایت کے مطابق ساڑھے تین سال (36) اور دوسری روایت کے مطابق 7 یا 9 ماہ ہوگی (37)۔ دمشق اور کوفہ میں قتل و غارت گری کے بعد سفیانی کا لشکر مدینہ منورہ کی طرف رُخ کرے گا اور اہلِ بیت کے کچھ لوگوں کو پکڑ کر کوفہ لے جائے گا، اسی دوران امام مہدی مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں گے۔ (38)
سفیانی کے لشکر کا زمین میں دھنسایا جانا
سفیانی حضرت امام مہدی کو پکڑنے کے لیے ایک لشکر روانہ کرے گا، لیکن اللہ جل جلالہٗ کی طرف سے اس لشکر کو مکہ و مدینہ کے درمیان مقام ”بیداء“ میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَخْرُجُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: السُّفْيَانِيُّ فِيْ عُمْقِ دِمَشْقَ، وَعَامَّةُ مَنْ يَّتْبَعُهٗ مِنْ كَلْبٍ، فَيَقْتُلُ حَتّٰى يَبْقَرَ بُطُوْنَ النِّسَاءِ، وَيَقْتُلَ الصِّبْيَانَ، فَتَجْمَعُ لَهُمْ قَيْسٌ فَيَقْتُلُهَا حَتّٰى لَا يُمْنَعُ ذَنَبُ تَلْعَةٍ، وَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ بَيْتِيْ فِي الْحَرَّةِ فَيَبْلُغُ السُّفْيَانِيَّ، فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ جُنْدًا مِّنْ جُنْدِهٖ فَيَهْزِمُهُمْ، فَيَسِيْرُ إِلَيْهِ السُّفْيَانِيُّ بِمَنْ مَّعَهٗ حَتّٰى إِذَا صَارَ بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ، فَلَا يَنْجُوْ مِنْهُمْ إِلَّا الْمُخْبِرُ عَنْهُمْ.
(39) ”ایک شخص دمشق سے نکلے گا جس کو سفیانی کہا جائے گا، اس کی تابعداری کرنے والے قبیلہ بنو کلب کے لوگ ہوں گے (کیونکہ اُس کا ننہیال قبیلہ بنو کلب سے ہو گا (40)) وہ لوگوں کو قتل کرے گا یہاں تک کہ عورتوں کے پیٹ چاک کر دے گا، اور بچوں کو بھی قتل کرے گا، قبیلہ قیس کے لوگ ان کے مقابلے میں جمع ہو جائیں گے، وہ انہیں بھی قتل کر دے گا، یہاں تک کہ (ان میں سے) کوئی باقی نہیں رہے گا، پھر میرے اہلِ بیت سے ایک شخص (مہدی) نکلے گا ”حَرَّہ“ کے مقام پر سفیانی اس (مہدی) کے مقابلے کے لیے فوج بھیجے گا، مہدی ان کو شکست دے گا، پھر سفیانی خود اپنے سب لشکر لے کر مہدی کے مقابلے کے لیے آئے گا، یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام تک پہنچے گا تو زمین ان سب (یعنی سفیانی کی فوج) کو نگل چکی ہوگی اور اس لشکر کے بارے میں (امام مہدی اور سفیانی کو) خبر دینے والوں کے سوا، ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا۔“
اس لشکر کا زمین میں دھنسنا ”فتنہِ سفیانی“ کی نشانی ہے اور سفیانی کا خروج ظہورِ امام مہدی کی علامت ہے۔ اس واقعہ کے بعد لوگ مکہ مکرمہ میں امام مہدی کے دستِ مبارک پر بیعتِ خلافت کریں گے، پھر امام مہدی 12 ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر لے کر بیت المقدس آئیں گے، جہاں سفیانی حضرت امام مہدی کے دستِ مبارک پر بیعت کرے گا، لیکن پھر قبیلہ بنو کلب کی حمایت ملنے پر بیعت توڑ کر بغاوت و سرکشی پر اتر آئے گا (41) تب امام مہدی اس کے قتل کا حکم دیں گے اور اُسے اس کی دغا بازی اور بغاوت کے باعث قتل کر دیا جائے گا۔ (42)
ظہورِ امام مہدی کے وقت بیعت کرنے والوں کی تعداد
امام مہدی کے ظہور کے وقت اُن کی بیعت کرنے والوں کی تعداد اصحابِ بدر و اصحابِ طالوت کے برابر 313 ہوگی۔ حضرت سیدنا امام محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا علی المرتضیٰ کی بارگاہ میں حاضر تھے، کسی نے ان سے امام مہدی کے بارے میں پوچھا، تو مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ذَاكَ يَخْرُجُ فِيْ آخِرِ الزَّمَانِ إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: اَللهَ اَللهَ قُتِلَ، فَيَجْمَعُ اللهُ تَعَالٰى لَهٗ قَوْمًا قُزَعًا كَقُزَعِ السَّحَابِ، يُؤَلِّفُ اللهُ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ لَا يَسْتَوْحِشُوْنَ إِلٰى أَحَدٍ، وَلَا يَفْرَحُوْنَ بِأَحَدٍ، يَدْخُلُ فِيْهِمْ عَلٰى عِدَّةِ أَصْحَابِ بَدْرٍ، لَمْ يَسْبِقْهُمُ الْأَوَّلُوْنَ، وَلَا يُدْرِكُهُمُ الْآخِرُوْنَ، وَعَلٰى عَدَدِ أَصْحَابِ طَالُوْتَ الَّذِيْنَ جَاوَزُوْا مَعَهُ النَّهَرَ.
(43) ”مہدی کا ظہور زمانے کے آخر (یعنی قربِ قیامت) میں ہوگا (اُس دور میں بے دینی کا اس قدر غلبہ ہوگا کہ) اللہ کا نام لینے والوں کو قتل کر دیا جائے گا (امام مہدی کے ظہور کے وقت) اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو ان کے پاس اس طرح اکٹھا کر دے گا، جس طرح بادل کے متفرق ٹکڑوں کو جمع فرما دیتا ہے اور ان میں باہم یگانگت و الفت پیدا کر دے گا (ان کے اخلاص اور باہمی ربط و ضبط کا یہ عالم ہوگا کہ) نہ کسی سے خوفزدہ ہوں گے، نہ کسی کے انعام کو دیکھ کر خوش ہوں گے، مہدی کے پاس جمع ہونے والوں کی تعداد اصحابِ بدر کی تعداد کے مطابق (313) ہوگی، اس جماعت کو ایک ایسی خاص فضیلت حاصل ہوگی جو نہ ان سے پہلے والوں کو حاصل ہوئی نہ بعد والوں کو ہوگی، نیز اس جماعت کی تعداد اصحابِ طالوت کی تعداد کے برابر (313) ہوگی، جنہوں نے (بادشاہ) طالوت کے ہمراہ دریائے اردن (Jordan River) عبور کیا تھا۔“
صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی (ت 1367ھ / 1948ء) سیدنا امام مہدی کے ظہور کا اجمالی واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں جب سب جگہ کفر کا تسلط ہوگا، اُس وقت تمام ابدال بلکہ تمام اولیاء سب جگہ سے سمٹ کر، حرمین شریفین کو ہجرت کر جائیں گے، صرف وہیں اسلام ہوگا اور ساری زمین کفرستان ہو جائے گی، رمضان شریف کا مہینہ ہوگا، ابدال طوافِ کعبہ میں مصروف ہوں گے اور حضرت امام مہدی بھی وہاں ہوں گے، اولیائے کرام انہیں پہچانیں گے، ان سے درخواستِ بیعت کریں گے، وہ انکار کریں گے، دفعتاً غیب سے ایک آواز آئے گی کہ ”یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے، اس کی بات سنو اور اس کا حکم مانو!“ تمام لوگ ان کے دستِ مبارک پر بیعت کریں گے، وہاں سے سب کو اپنے ہمراہ لے کر ملکِ شام کو تشریف لے جائیں گے۔“
اللہ رات بھر میں امام مہدی کو خلافت کا اہل بنا دے گا
اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں امام مہدی کو خلافت و امارت کی ایسی صلاحیت عطا فرما دے گا، کہ لوگ ان کی خلافت پر متفق ہو جائیں گے۔ (44) حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللهُ فِيْ لَيْلَةٍ.
(45) ”مہدی ہمارے اہلِ بیت میں سے ہوگا، اللہ ایک ہی رات میں اُس کی اصلاح (یعنی خلافت و امارت کی صلاحیت) عطا فرما دے گا۔“
[ماہنامہ سنی دنیا، جنوری 2026ء، ص: 7 تا 13]
