Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

روافض میں کافرِ کلامی، کافرِ فقہی و گمراہ

روافض میں کافرِ کلامی، کافرِ فقہی و گمراہ
عنوان: روافض میں کافرِ کلامی، کافرِ فقہی و گمراہ
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: مسکان فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

جس فرقہ کے بنیادی عقائد کفریہ ہوں، یعنی بنیادی عقائد میں کفرِ کلامی پایا جاتا ہو، اور اس فرقہ کے تمام افراد بابِ عقائد میں اپنے قائدین کے تابع ہوں کہ جو عقائد قائد و پیشوا کے ہوں، وہ ان عقائد کو اپنے حق میں لازم جانتے ہوں۔ اس فرقہ کے تمام لوگ کافر مانے جائیں گے، کیوں کہ اگر کوئی ان کفری عقائد سے ناآشنا بھی ہو تو کم از کم وہ اپنے قائدین کو مومن ضرور مانے گا اور کافرِ کلامی کو مومن ماننا کفرِ کلامی ہے۔

امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز نے عہدِ حاضر کے روافض مجتہدین کے فتاویٰ نقل فرمائے، جو ضروریاتِ دین کے انکار پر مشتمل ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ عہدِ حاضر کے تمام رافضی کافر ہیں، یعنی کافرِ کلامی ہیں، کیوں کہ روافض بابِ عقائد میں اپنے مجتہدین کے مقلد ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی رافضی اپنے اکابر کے کفری عقائد نہ بھی مانتا ہو تو وہ ان کفری عقائد کے سبب اپنے مجتہدوں کو کافر نہیں سمجھتا ہے، بلکہ مومن سمجھتا ہے، اور ضروریاتِ دین کے منکر کو مومن سمجھنا بھی کفر ہے۔ امام احمد رضا کی تحریر مندرجہ ذیل ہے:

”روافض علی العموم اپنے مجتہدوں کے پیروکار ہوتے ہیں۔ اگر بفرضِ غلط کوئی جاہل رافضی ان کھلے کفروں سے خالی الذہن بھی ہو تو فتوائے مجتہدان کے قبول سے اسے چارہ نہیں، اور بفرضِ باطل یہ بھی مان لیجیے کہ کوئی رافضی ایسا نکلے جو اپنے مجتہدین کے فتوے بھی نہ مانے تو الاقل اتنا یقیناً ہوگا کہ ان کفروں کی وجہ سے اپنے مجتہدوں کو کافر نہ کہے گا، بلکہ انہیں اپنے دین کا عالم و پیشوا و مجتہد ہی جانے گا اور جو کسی کافر منکرِ ضروریاتِ دین کو کافر نہ مانے، خود کافر و مرتد ہے۔“ [رسالہ رد الرفضہ: فتاویٰ رضویہ، جلد: 14، ص: 265، جامعہ نظامیہ لاہور]

توضیح: منقولہ بالا اقتباس سے واضح ہو گیا کہ جس فرقہ کے بنیادی عقائد میں کفریاتِ کلامیہ ہوں، اور اس فرقہ کے تمام افراد بابِ عقائد میں خود کو اپنے پیشواؤں کے تابع قرار دیتے ہوں تو اس فرقہ کے تمام افراد کو کافرِ کلامی تسلیم کیا جائے گا۔ امام احمد رضا نے رسالہ کے اخیر میں فیصلہ کن عبارت رقم فرمائی، وہ مندرجہ ذیل ہے۔

امام احمد رضا نے رقم فرمایا: ”بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکمِ یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام، بلکہ خالص زنا ہے۔ معاذ اللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہرِ الٰہی ہے۔ اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو، جب بھی ہرگز نکاح نہ ہوگا۔ محض زنا ہوگا۔ اولاد ولد الزنا ہوگی۔ باپ کا ترکہ نہ پائے گی۔ اگرچہ اولاد بھی سنی ہی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔ عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی، نہ مہر کی کہ زانیہ کے لیے مہر نہیں۔

رافضی اپنے کسی قریب حتیٰ کہ باپ بیٹے، ماں، بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پا سکتا۔ سنی تو سنی کسی مسلمان، بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حصہ نہیں۔ ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول، سلام کلام، سب سخت کبیرہ اشد حرام، جو ان کے ان ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر، پھر بھی انہیں مسلمان جانے، یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے، باجماعِ تمام ائمہِ دین خود کافر بے دین ہے، اور اس کے لیے بھی یہی سب احکام ہیں، جو ان کے لیے مذکور ہوئے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس فتوے کو بگوشِ ہوش سنیں، اور اس پر عمل کر کے سچے پکے مسلمان بنیں۔“ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 14، ص: 268، جامعہ نظامیہ لاہور]

توضیح: منقولہ بالا عبارت میں ”علی العموم کفار مرتدین ہیں“ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ کفرِ کلامی کا عمومی حکم ہے۔ ہر ایک فرد کے لیے یہ شخصی حکم نہیں۔ جو اس فرقہ کے کفریاتِ کلامیہ کا صریح انکار کرے، اور ان کے معتقدین کو کافرِ کلامی مانے، اس کا حکم بدل جائے گا۔

عہدِ حاضر کے روافض ضروریاتِ دین کے انکار کے سبب کافرِ کلامی ہیں۔ عہدِ ماقبل کے تبرائی روافض جو کسی ضروری دینی کا مفسر انکار نہیں کرتے تھے، وہ کافرِ فقہی تھے۔ شیعوں کا فرقہِ تفضیلیہ محض گمراہ ہے، یعنی کافرِ فقہی یا کافرِ کلامی نہیں۔ امام احمد رضا قادری نے ایک ہی فتوے میں گمراہ، کافرِ فقہی و کافرِ کلامی تینوں کی نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم بیان فرما دیا ہے۔

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہلِ شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھنا اہلِ سنت و جماعت کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کسی قومِ سنت و جماعت نے نماز کسی شیعہ کے جنازہ کی پڑھی تو اس کے لیے شرع میں کیا حکم ہے؟

الجواب: اگر رافضی ضروریاتِ دین کا منکر ہے، مثلاً قرآنِ کریم میں کچھ سورتیں یا آیتیں یا کوئی حرف صرف امیر المومنین عثمان ذی النورین غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا اور صحابہ خواہ کسی شخص کا گھٹایا ہوا مانتا ہے، یا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم خواہ دیگر ائمہِ اطہار کو انبیائے سابقین علیہم الصلاۃ والتسلیم میں کسی سے افضل جانتا ہے۔

اور آج کل یہاں کے رافضی تبرائی عموماً ایسے ہی ہیں۔ ان میں شاید ایک شخص بھی ایسا نہ نکلے جو ان عقائدِ کفریہ کا معتقد نہ ہو جب تو وہ کافر مرتد ہے، اور اس کے جنازہ کی نماز حرامِ قطعی و گناہِ شدید ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:

وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَاتُوْا وَهُمْ فٰسِقُوْنَ ۝

ترجمہ: کبھی نماز نہ پڑھ ان کے کسی مردے پر، نہ اس کی قبر پر کھڑا ہو، انہوں نے اللہ و رسول کے ساتھ کفر کیا اور مرتے دم تک بے حکم رہے۔ [سورۃ التوبہ، آیت: 84]

اگر ضروریاتِ دین کا منکر نہیں، مگر تبرائی ہے تو جمہور ائمہ و فقہا کے نزدیک اس کا بھی وہی حکم ہے: كَمَا فِي الْخُلَاصَةِ وَفَتْحِ الْقَدِيْرِ وَتَنْوِيْرِ الْأَبْصَارِ وَالدُّرِّ الْمُخْتَارِ وَالْهِدَايَةِ وَغَيْرِهَا عَامَّةِ الْأَسْفَارِ. اور اگر صرف تفضیلیہ ہے تو اُس کے جنازے کی نماز بھی نہ چاہیے۔

متعدد حدیثوں میں بدمذہبوں کی نسبت ارشاد ہوا:

إِنْ مَّاتُوْا فَلَا تَشْهَدُوْهُمْ. وہ مریں تو ان کے جنازہ پر نہ جائیں۔

وَلَا تُصَلُّوْا عَلَيْهِمْ. ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو۔

نماز پڑھنے والوں کو توبہ، استغفار کرنی چاہیے۔

اور اگر صورت پہلی تھی یعنی وہ مردہ رافضی منکرِ بعض ضروریاتِ دین تھا اور کسی شخص نے باآں کہ اُس کے حال سے مطلع تھا، دانستہ اس کے جنازے کی نماز پڑھی، اُس کے لیے استغفار کی جب تو اُس شخص کو تجدیدِ اسلام اور اپنی عورت سے از سرِ نو نکاح کرنا چاہیے۔

فِي الْحِلْيَةِ نَقْلًا عَنِ الْقَرَافِيِّ وَأَقَرَّهٗ: الدُّعَاءُ بِالْمَغْفِرَةِ لِلْكَافِرِ كُفْرٌ لِّطَلَبِهٖ تَكْذِيْبَ اللهِ تَعَالٰى فِيْمَا أَخْبَرَ بِهٖ.

ترجمہ: حلیہ میں قرافی سے نقل کیا اور اسے برقرار رکھا کہ: کافر کے لیے دعائے مغفرت کفر ہے، کیوں کہ یہ خبرِ الٰہی کی تکذیب کو طلب کرنا ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد چہارم، ص: 53، رضا اکیڈمی، ممبئی]

وَمَا تَوْفِيْقِيْ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ ۝ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ ۝ وَاٰلِهِ الْعَظِيْمِ ۝

[حوالہ: فرقہِ وہابیہ، ص: 121]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!